بائبل کی تشریح

رومیوں 14

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

آپ کون ہیں کہ کسی اَور کے غلام کا فیصلہ کریں؟ یہ سوال باب کے بیچ میں نہیں، شروع ہی میں آ جاتا ہے، اور یہ پولس رسول کا لہجہ بدل دیتا ہے۔ روم کی جماعت میں دو گروہ تھے: ایک وہ جو ہر چیز کھاتے تھے، دوسرے وہ جو صرف سبزیاں کھاتے اور بعض دنوں کو خاص قرار دیتے تھے۔ پولس کسی کو خوراک کا فیصلہ نہیں سناتے بلکہ دونوں کا رُخ اُس تخت کی طرف موڑ دیتے ہیں جس کے سامنے ہم سب کھڑے ہوں گے۔ پھر وہ طاقتور کو ایک عجیب حکم دیتے ہیں: اپنے حق سے دستبردار ہو جاؤ، تاکہ تمہارا بھائی ٹھوکر نہ کھائے، کیونکہ "مسیح نے اُس کے لئے اپنی جان دی ہے۔"

مرکزی بات

یہاں اصل مسئلہ گوشت یا سبزی نہیں، بلکہ مالکیت ہے۔ "غرض ہم خداوند ہی کے ہیں، خواہ زندہ ہوں یا مُردہ۔" جب میں کسی ایماندار بھائی پر فیصلہ سناتا ہوں تو میں دراصل ایک ایسے نوکر کے بارے میں حکم جاری کر رہا ہوں جو میری ملکیت ہی نہیں۔ اللہ نے اُسے قبول کیا ہے؛ میری منظوری اُس کی حیثیت میں کچھ اضافہ نہیں کرتی اور میری ناراضی اُس سے کچھ گھٹاتی نہیں۔ اِس لئے پولس بادشاہی کی تعریف نئے سرے سے کرتے ہیں: "اللہ کی بادشاہی کھانے پینے کی چیزوں پر قائم نہیں ہے بلکہ راست بازی، صلح سلامتی اور روح القدس میں خوشی پر۔" یعنی ایمان کی پختگی کا پیمانہ آزادی کا دائرہ نہیں بلکہ محبت کی صلاحیت ہے۔ جو زیادہ جانتا ہے، اُس پر زیادہ جھکنے کی ذمہ داری ہے۔

بڑی کہانی سے تعلق

پرانے عہد میں پاک اور ناپاک خوراک کی تمیز اسرائیل کی شناخت کی حفاظت کرتی تھی: ایک قوم جو قوموں کے درمیان الگ رہے۔ مسیح کے آنے سے وہ دیوار اپنا مقصد پورا کر چکی، اِس لئے پولس بےجھجک لکھتے ہیں کہ "کوئی بھی کھانا بذاتِ خود ناپاک نہیں ہے۔" مگر وہ پاکیزگی کو ختم نہیں کرتے، اُسے منتقل کرتے ہیں: اب پاکیزگی برتن میں نہیں، ضمیر میں ہے۔ اور آیت 9 اِس پورے باب کی ریڑھ کی ہڈی ہے: مسیح اِسی مقصد کے لئے مُوا اور جی اُٹھا کہ وہ مُردوں اور زندوں دونوں کا مالک ہو۔ صلیب اور قیامت صرف ہمیں بچاتی نہیں، وہ ہمیں ایک دوسرے پر حکم چلانے کے حق سے بھی محروم کر دیتی ہیں۔ جو مالک بنا، اُس نے یہ قیمت دے کر بنا۔

آئینہ

ایمانداری سے دیکھئے: آپ کے دل میں کس کا چہرہ آتا ہے جس کی روحانیت کو آپ خاموشی سے کمتر سمجھتے ہیں؟ وہ جو پرانے گیت گاتا ہے، وہ جو فلمیں نہیں دیکھتی، وہ جو ہر بات میں "یہ دنیاوی ہے" کہتا ہے، یا اُلٹا، وہ جو آپ کی نظر میں بہت ڈھیلا ہے؟ پولس دونوں رویّوں کو الگ الگ نام دیتے ہیں: "حقیر جاننا" اور "مجرم ٹھہرانا"۔ پہلا ہنسی ہے، دوسرا فتویٰ۔ دونوں میں وہی خود پسندی چھپی ہے جو اپنے ضمیر کو پیمانہ بنا لیتی ہے۔ اور یہاں باب کاٹتا ہے: اگر آپ اپنی آزادی اُس بھائی کے سامنے استعمال کرتے ہیں جس کے لئے مسیح نے جان دی، اور وہ لڑکھڑا جاتا ہے، تو آپ درست تو ہیں مگر محبت میں نہیں چل رہے۔ درست ہونا اور محبت کرنا ایک چیز نہیں۔

آج ہی یہ کیجئے: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھئے جسے آپ روحانی طور پر اپنے سے کم سمجھتے ہیں، اور اُس نام کے نیچے یہ جملہ لکھ کر بلند آواز میں پڑھئے: "اللہ نے اُسے قبول کیا ہے۔"

ایک تفصیل

آیت 15 میں ایک لفظ ہے جو باقی سب کو جھنجھوڑ دیتا ہے: "ہلاک"۔ پولس یہ نہیں کہتے کہ تمہارا بھائی ناراض ہو جائے گا یا بدمزہ ہو گا؛ وہ کہتے ہیں "اپنے بھائی کو اپنے کھانے سے ہلاک نہ کریں۔" ایک پلیٹ گوشت اور کسی کی تباہی، یہ تناسب جان بوجھ کر بےتکا رکھا گیا ہے۔ پولس چاہتے ہیں کہ ہم اُس کمزور ایمان والے کی اندرونی حالت دیکھیں: اگر وہ دباؤ میں آ کر اپنے ضمیر کے خلاف کھاتا ہے، تو اُس نے شک کرتے ہوئے کھایا، اور "جو بھی عمل ایمان پر مبنی نہیں ہوتا وہ گناہ ہے۔" یعنی آپ نے اُسے آزاد نہیں کیا، آپ نے اُسے اپنے خداوند کے ساتھ ایک کھوکھلے رشتے میں دھکیل دیا۔ اِسی لئے اگلی ہی سانس میں صلیب کا ذکر آتا ہے۔

پہلے سننے والے

روم کی جماعت میں یہودی ایماندار وہ لوگ تھے جنہیں شہنشاہ کلودیوس نے شہر سے نکالا تھا اور جو چند سال بعد واپس آئے تو جماعت غیریہودیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اُن کے لئے بعض کھانوں سے پرہیز اور سبت کا احترام محض عادت نہیں، صدیوں کی وفاداری اور شہادت کی یاد تھا۔ غیریہودی ایمانداروں کے لئے بازار کا گوشت بُتوں کے مندروں سے آتا تھا، اور اُن کے نزدیک آزادی مسیح کی فتح کا اعلان تھی۔ دونوں کے پاس دلیل تھی، دونوں کے پاس زخم تھے۔ جب پولس نے لکھا کہ "ہر ایک اُسے پورے یقین کے ساتھ رکھے"، تو اُنہوں نے سنا کہ جیتنے والی کوئی جماعت نہیں ہو گی، میز پر دونوں بیٹھیں گے۔

مرکزی کردار

اِس باب کا اصل کردار خداوند مسیح ہے، اور وہ دو بار سامنے آتے ہیں: ایک بار مالک کے طور پر جو اپنے غلام کو سنبھالتا ہے، "کیونکہ خداوند اُسے قائم رکھنے پر قادر ہے"، اور ایک بار اُس کے طور پر جس نے کمزور بھائی کے لئے جان دی۔ غور کیجئے کہ وہ کمزور کو مضبوط بنا کر عزت نہیں دیتا؛ وہ کمزور کو کمزوری سمیت قبول کرتا ہے اور تھام لیتا ہے۔ مسیح کی مالکیت ڈنڈے والی نہیں، صلیب والی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اُس کے پیروکاروں کے درمیان فیصلہ سنانے کی گنجائش نہیں رہتی۔ جو مالک اپنی جان دے کر مالک بنا، اُس کے خاندان میں بڑائی کا راستہ جھکنے سے گزرتا ہے۔

غور و فکر

میں اپنی روحانی آزادی کو کہاں محبت کے بجائے برتری ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتا ہوں؟

اگر مجھے کل کسی بھائی یا بہن کی خاطر اپنا کوئی جائز حق چھوڑنا پڑے، تو مجھے سب سے زیادہ تکلیف کس چیز کے چھوڑنے میں ہو گی، اور یہ میرے دل کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Romans 14 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

رومیوں 14 کا کیا مطلب ہے؟
آپ کون ہیں کہ کسی اَور کے غلام کا فیصلہ کریں؟ یہ سوال باب کے بیچ میں نہیں، شروع ہی میں آ جاتا ہے، اور یہ پولس رسول کا لہجہ بدل دیتا ہے۔ روم کی جماعت میں دو گروہ تھے: ایک وہ جو ہر چیز کھاتے تھے، دوسرے وہ جو صرف سبزیاں کھاتے اور بعض دنوں کو خاص قرار دیتے تھے۔ پولس کسی کو خوراک کا فیصلہ نہیں سناتے بلکہ دونوں کا رُخ اُس تخت کی طرف موڑ دیتے ہیں جس کے سامنے ہم سب کھڑے ہوں گے۔ پھر وہ طاقتور کو ایک عجیب حکم دیتے ہیں: اپنے حق سے دستبردار ہو جاؤ، تاکہ تمہارا بھائی ٹھوکر نہ کھائے، کیونکہ "مسیح نے اُس کے لئے اپنی جان دی ہے۔"
رومیوں 14 کس بارے میں ہے؟
پرانے عہد میں پاک اور ناپاک خوراک کی تمیز اسرائیل کی شناخت کی حفاظت کرتی تھی: ایک قوم جو قوموں کے درمیان الگ رہے۔ مسیح کے آنے سے وہ دیوار اپنا مقصد پورا کر چکی، اِس لئے پولس بےجھجک لکھتے ہیں کہ "کوئی بھی کھانا بذاتِ خود ناپاک نہیں ہے۔" مگر وہ پاکیزگی کو ختم نہیں کرتے، اُسے منتقل کرتے ہیں: اب پاکیزگی برتن میں نہیں، ضمیر میں ہے۔ اور آیت 9 اِس پورے باب کی ریڑھ کی ہڈی ہے: مسیح اِسی مقصد کے لئے مُوا اور جی اُٹھا کہ وہ مُردوں اور زندوں دونوں کا مالک ہو۔ صلیب اور قیامت صرف ہمیں بچاتی نہیں، وہ ہمیں ایک دوسرے پر حکم چلانے کے حق سے بھی محروم کر دیتی ہیں۔ جو مالک بنا، اُس نے یہ قیمت دے کر بنا۔
رومیوں 14 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی یہ کیجئے: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھئے جسے آپ روحانی طور پر اپنے سے کم سمجھتے ہیں، اور اُس نام کے نیچے یہ جملہ لکھ کر بلند آواز میں پڑھئے: "اللہ نے اُسے قبول کیا ہے۔"
رومیوں 14 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
روم کی جماعت میں یہودی ایماندار وہ لوگ تھے جنہیں شہنشاہ کلودیوس نے شہر سے نکالا تھا اور جو چند سال بعد واپس آئے تو جماعت غیریہودیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اُن کے لئے بعض کھانوں سے پرہیز اور سبت کا احترام محض عادت نہیں، صدیوں کی وفاداری اور شہادت کی یاد تھا۔ غیریہودی ایمانداروں کے لئے بازار کا گوشت بُتوں کے مندروں سے آتا تھا، اور اُن کے نزدیک آزادی مسیح کی فتح کا اعلان تھی۔ دونوں کے پاس دلیل تھی، دونوں کے پاس زخم تھے۔ جب پولس نے لکھا کہ "ہر ایک اُسے پورے یقین کے ساتھ رکھے"، تو اُنہوں نے سنا کہ جیتنے والی کوئی جماعت نہیں ہو گی، میز پر دونوں بیٹھیں گے۔
رومیوں 14 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر مجھے کل کسی بھائی یا بہن کی خاطر اپنا کوئی جائز حق چھوڑنا پڑے، تو مجھے سب سے زیادہ تکلیف کس چیز کے چھوڑنے میں ہو گی، اور یہ میرے دل کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Romans 14 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 14

پولس کو پورا یقین تھا: "کوئی چیز فی نفسہ ناپاک نہیں ہوتی۔" مگر وہ اپنے اِس یقین کو ہتھیار نہیں بناتا۔ جہاں دوسرے بھائی کا ضمیر کمزور ہے، وہاں وہ رُک جاتا ہے۔ سوچ کر دیکھ، تیری آزادی کس کو ٹھوکر کھلا رہی ہے؟ حق پر ہونا کافی نہیں، محبت میں چلنا بھی ضروری ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟