رومیوں 7
متن
پولس رسول پہلے شادی کی ایک مثال دیتے ہیں: بندھن اُس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک شوہر زندہ ہے، اور موت اُس بندھن کو توڑ دیتی ہے۔ اِسی طرح ایمان دار مسیح کے بدن کا حصہ بن کر مر گئے، شریعت کے اختیار سے آزاد ہوئے اور اُس کے ساتھ پیوست ہو گئے جسے مُردوں میں سے زندہ کیا گیا۔ پھر رسول ایک نازک سوال اُٹھاتے ہیں: تو کیا شریعت خود گناہ ہے؟ ہرگز نہیں؛ شریعت مُقدّس ہے، مگر گناہ نے اُس کے حکم کو ہتھیار بنا لیا۔ اور آخر میں وہ ایک ایسے "مَیں" کی آواز میں بولتے ہیں جو نیکی چاہتا ہے مگر کر نہیں پاتا، یہاں تک کہ باب ایک چیخ اور ایک شکرگزاری پر ختم ہوتا ہے۔
دل کی بات
"ہائے، میری حالت کتنی بُری ہے! مجھے اِس بدن سے جس کا انجام موت ہے کون چھڑائے گا؟" یہ آیت اِس باب کی سب سے ایمان دار سطر ہے۔ پولس یہ نہیں کہتے کہ شریعت خراب ہے؛ وہ صاف کہتے ہیں: "شریعت خود مُقدّس ہے اور اِس کے احکام مُقدّس، راست اور اچھے ہیں۔" مسئلہ آئینے میں نہیں، چہرے میں ہے۔ اور یہی وہ بات ہے جس پر ہم جلدی سے پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہمیں صحیح ہدایت مل جائے تو ہم صحیح کام کریں گے۔ پولس کہتے ہیں: نہیں۔ حکم آیا اور "گناہ میں جان آ گئی"۔ علم بچاتا نہیں، صرف روشنی ڈالتا ہے۔ نجات کسی بہتر ہدایت سے نہیں، ایک شخص سے آتی ہے۔
سنہری تار
غور کریں کہ رسول کس لفظ سے آزادی کو بیان کرتے ہیں: موت۔ نہ کوشش، نہ اصلاح، نہ تدریجی ترقی، بلکہ "آپ مر کر شریعت کے اختیار سے آزاد ہو گئے"۔ یہی وہ تار ہے جو کتابِ مقدّس میں شروع سے بچھی ہوئی ہے: قربانی کے جانور کی موت، بحرِ قُلزم میں مصر کی طاقت کا دفن ہونا، اور آخر میں صلیب۔ خدا گناہ کے نظام کی مرمت نہیں کرتے، اُسے قبر تک لے جاتے ہیں۔ اور پھر ایک نئی چیز شروع ہوتی ہے: "روح القدس کی نئی زندگی"۔ باب ۷ کا "مَیں" اکیلا لڑ رہا ہے؛ باب ۸ میں روح آتے ہیں۔ شاید اِس باب کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اکیلے لڑنے والا ایمان دار ہمیشہ آیت ۲۴ پر پہنچتا ہے۔
آئینہ
کون اِس تجربے سے ناواقف ہے؟ آپ نے رات کو فیصلہ کیا تھا کہ کل صبح بچوں پر نہیں چلّائیں گے۔ آپ نے طے کیا تھا کہ اُس رشتہ دار کے بارے میں مزید کوئی بات نہیں کریں گے۔ آپ نے ارادہ کیا تھا کہ فون رات کو دوسرے کمرے میں رکھیں گے۔ اور پھر: "مَیں وہ کام نہیں کرتا جو کرنا چاہتا ہوں بلکہ وہ جس سے مجھے نفرت ہے۔" یہاں ہمارا غرور ٹوٹتا ہے، اور اچھا ہے کہ ٹوٹے۔ کیونکہ جب تک ہم اپنی اصلاح کو اپنا منصوبہ سمجھتے ہیں، ہم مسیح کو نجات دہندہ نہیں بلکہ مشیر بناتے ہیں۔
آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک کام لکھیں جسے آپ بار بار کرتے ہیں اور جس سے آپ کو نفرت ہے، اور اُس کاغذ پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز سے آیت ۲۵ کے الفاظ کہیں: "خدا کا شکر ہے جو ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے یہ کام کرتا ہے۔"
سامعین کی تصویر
روم کی کلیسیا میں یہودی اور غیریہودی ایمان دار ساتھ بیٹھے تھے، اور شریعت کا سوال اُن کے درمیان زندہ آگ تھا۔ یہودی ایمان داروں کے لیے شریعت صرف قانون نہیں، اُن کی قومی عزت اور خدا کے ساتھ رشتے کی نشانی تھی۔ جب پولس کہتے ہیں کہ ہم شریعت کے بندھن سے آزاد ہو گئے، تو اُن کے کانوں میں یہ ایک خطرناک جملہ تھا: کیا تم موسیٰ کی شریعت کو گناہ کہہ رہے ہو؟ اِسی لیے رسول فوراً جواب دیتے ہیں: "ہرگز نہیں!" اور غیریہودی سننے والوں کے لیے دوسرا خطرہ تھا: اگر شریعت کا اختیار ختم ہوا تو کیا اب سب جائز ہے؟ پولس دونوں راستے بند کرتے ہیں: آزادی گناہ کی اجازت نہیں، بلکہ نئے مالک کی خدمت ہے تاکہ "ہم اللہ کی خدمت میں پھل لائیں"۔
کتابِ مقدّس کی گونج
آیت ۲۲ میں پولس کہتے ہیں کہ "اپنے باطن میں تو مَیں خوشی سے اللہ کی شریعت کو مانتا ہوں"۔ یہ زبور ۱۱۹ کی زبان ہے، اُس شخص کی زبان جو خدا کی شریعت کو شہد سے میٹھا کہتا ہے۔ یعنی یہ کسی باغی کی آواز نہیں بلکہ ایک عاشق کی آواز ہے جو اپنی بےبسی سے حیران ہے۔ اور دوسری گونج آگے ہے: رومیوں ۸ اُسی سانس میں اعلان کرتی ہے کہ جو مسیح میں ہیں اُن پر اب کوئی سزا کا حکم نہیں، کیونکہ روح کی شریعت نے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کر دیا۔ باب ۷ کا قیدی باب ۸ میں بیٹا بن جاتا ہے۔ اِن دو باتوں کے درمیان مت رکیں، مگر آیت ۲۴ کی چیخ کو جلدی سے خاموش بھی نہ کریں۔
پس منظر
یہ خط تقریباً ۵۷ عیسوی میں لکھا گیا، غالباً کُرِنتھس سے، ایک ایسی کلیسیا کے نام جسے پولس نے قائم نہیں کیا تھا اور جہاں وہ ابھی گئے بھی نہ تھے۔ روم سلطنت کا مرکز تھا؛ وہاں گھروں میں جمع ہونے والے ایمان داروں میں غلام، آزاد کیے گئے لوگ، اور بےدخلی کے بعد لوٹنے والے یہودی شامل تھے۔ اِس ماحول میں "غلامی" اور "آزادی" محض تصورات نہیں تھے؛ مجلس میں بیٹھا آدھا کمرہ جانتا تھا کہ خریدے اور بیچے جانے کا کیا مطلب ہے۔ اِسی لیے آیت ۱۴ کے الفاظ "مجھے گناہ کی غلامی میں بیچا گیا ہے" اُن کے جسم میں اُترتے تھے۔ اور شادی کی مثال بھی ویسی ہی حقیقی تھی: بیوہ عورت کی آزادی ایک قانونی، نظر آنے والی سچائی تھی، خیالی نہیں۔
غور و فکر کے سوالات
آپ اپنی ناکامی کے کس حصے کو اب تک اپنی کوشش سے سنوارنے کی امید رکھتے ہیں، اور آیت ۲۴ کی چیخ کو زبان پر لانے سے کیا چیز روکتی ہے؟
اگر شریعت مُقدّس ہے مگر بچا نہیں سکتی، تو خدا کے احکام آپ کی روزمرہ زندگی میں کس مقصد کے لیے موجود ہیں؟
Romans 7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 7 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 7 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Romans 7 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
