اعمال کی کتاب کا تعارف اور کلیسیا کی ابتدا
تعارف
روم کے ایک کرائے کے مکان میں، ایک قیدی بیٹھا ہے۔ اُس کی کلائی میں زنجیر ہے اور زنجیر کا دوسرا سرا ایک رومی سپاہی کے ہاتھ میں۔ لوگ آتے ہیں، جاتے ہیں، سوال کرتے ہیں، بحث کرتے ہیں، اور یہ قیدی دو سال تک بلا روک ٹوک خدا کی بادشاہی کا اعلان کرتا رہتا ہے۔ اور پھر... کہانی رُک جاتی ہے۔ نہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ کیا ہوا، نہ یہ کہ پولس رسول رِہا ہوا یا شہید، نہ کوئی "اور یوں یہ کہانی تمام ہوئی" جیسا جملہ۔ لوقا اپنی قلم رکھ دیتا ہے، بیچ سانس میں۔
یہ اچانک خاموشی کوئی بھول نہیں ہے۔ یہ دعوت ہے۔ اِس صفحے پر آپ اعمال کی کتاب کا مصنف، زمانہ، ساخت، بنیادی موضوعات اور اہم آیات تفصیل سے دیکھیں گے، مگر ایک خاص زاویے سے: کہ یہ ادھوری کتاب آج بھی لکھی جا رہی ہے، اور آپ اُس کے صفحات میں شامل ہیں۔
اس رہنما کا زاویہ
اکثر لوگ اعمال کی کتاب کو "ابتدائی کلیسیا کی تاریخ" کہہ کر ایک بند باب سمجھ لیتے ہیں۔ ہم اِسے دوسرے رُخ سے پڑھیں گے: اعمال ایک جان بوجھ کر ادھوری چھوڑی گئی کتاب ہے۔ اِس کا آخری لفظ "بغیر کسی رکاوٹ" ہے، اختتامیہ نہیں بلکہ کھلا دروازہ۔ لوقا نے کہانی وہاں چھوڑی جہاں سے قاری کا حصہ شروع ہوتا ہے۔ اِس زاویے سے ہر باب بدل جاتا ہے: خداوند یسوع مسیح کا صعودِ آسمانی رخصتی نہیں بلکہ کارِ عظیم کا آغاز ہے، روحُ القدس ماضی کی یادگار نہیں بلکہ آج کی قوت ہے، اور کلیسیا کوئی ادارہ نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا گواہ ہے۔ اِسی لیے یہ کتاب تسلی بھی دیتی ہے اور بےچین بھی کرتی ہے۔
بائبل اعمال کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
اعمال کی کتاب اپنا تعارف خود کراتی ہے۔ پہلی آیت میں لکھا ہے: "اَے تھِیُفِلُس مَیں نے پہلا رِسالہ اُن سب باتوں کے بیان میں لِکھا جو یِسُوع شرُوع میں کرتا اور سِکھاتا رہا۔" یعنی یہ کسی نئی کتاب کا آغاز نہیں، بلکہ ایک دو حصوں والی تحریر کا دوسرا حصہ ہے۔ پہلا حصہ لوقا کی انجیل ہے، اور اُس کا مخاطب بھی وہی تھیفلس ہے۔ اِس لیے مسیحی کلیسیا نے شروع ہی سے مانا کہ مصنف لوقا ہے، وہی طبیب جسے پولس رسول اپنا ساتھی کہتا ہے۔ کتاب میں کئی مقامات پر بیان اچانک "وہ" سے "ہم" میں بدل جاتا ہے، مثلاً اعمال 16:10، اعمال 20:5 اور اعمال 27:1 کے سفروں میں۔ یہ ایک چشم دید گواہ کی آواز ہے، جو خود جہاز پر سوار تھا، خود طوفان میں تھا۔
تحریر کا زمانہ زیادہ تر عالِم پہلی صدی کی چھٹی یا ساتویں دہائی میں رکھتے ہیں، اُس وقت جب پولس رسول قید میں تھا یا کچھ ہی بعد۔ کتاب یروشلیم کی ہیکل کی تباہی (سن ستّر) کا ذکر نہیں کرتی، نہ نیرو کے ظلم کا، نہ پولس کی موت کا، اور یہ خاموشی معنی رکھتی ہے۔ لوقا لکھ رہا ہے جب کہانی چل رہی ہے، ختم نہیں ہوئی۔
مقصد کیا تھا؟ لوقا اپنی انجیل کے آغاز میں کہتا ہے کہ اُس نے سب کچھ ترتیب سے لکھا تاکہ تھیفلس کو اُن باتوں کی پکّی خبر ہو جن کی تعلیم اُس نے پائی ہے۔ یہی مقصد اعمال کا بھی ہے: یقین دلانا۔ یقین کہ ناصرت کا یسوع واقعی جی اُٹھا اور اب تختِ آسمانی پر حکمران ہے، یقین کہ روحُ القدس کا کام قصے کہانی نہیں، اور یقین کہ غیر قوموں کے ایمان لانے میں خدا کا وہی پرانا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔
کتاب کا نقشہ خداوند یسوع مسیح کے ایک ہی جملے سے کھینچا گیا ہے۔ اعمال 1:8 میں فرمایا: "لیکن جب روحُ القُدس تُم پر نازِل ہوگا تو تُم قُوّت پاؤ گے اور یروشلیم اور تمام یہُودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمِین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہوگے۔" غور کیجیے، یہ حکم بھی ہے اور پیش گوئی بھی، اور اِس میں ایک ادھورا فقرہ چھپا ہے: "زمین کی انتہا تک۔" کتاب روم پر ختم ہوتی ہے، مگر روم زمین کی انتہا نہیں تھا۔ لوقا ہمیں نقشے کے کنارے پر لا کر چھوڑ دیتا ہے۔
پھر پینتِکُست کا دن آتا ہے۔ اعمال 2:4 کہتی ہے: "اور وہ سب رُوحُ القُدس سے بھر گئے اور غَیر زبانیں بولنے لگے جِس طرح رُوح نے اُن کو بولنے کی طاقت بخشی۔" یہ صرف ایک روحانی تجربہ نہیں، ایک نئی سرحد کا اعلان ہے۔ خدا نے اپنے کلام کو ہر آدمی کی اپنی زبان میں پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ کلیسیا کی پیدائش کسی عمارت میں نہیں، کسی زبان کے قید خانے میں نہیں، بلکہ ایک ایسے کمرے میں ہوئی جہاں سے آواز باہر گلیوں تک گئی۔
اور جب پطرس رسول کو عدالت کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے، تو وہ نجات کا سارا دائرہ ایک نام میں سمیٹ دیتا ہے۔ اعمال 4:12 میں لکھا ہے: "اور کِسی دُوسرے کے وسِیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمِیوں کو کوئی دُوسرا نام نہیں بخشا گیا جِس کے وسِیلہ سے ہم نجات پا سکیں۔" یہ اعمال کا دھڑکتا دل ہے۔ کتاب کا موضوع کلیسیا کی کامیابی نہیں، مسیح کا نام ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
اعمال کی کتاب کو اکیلا پڑھنا اُسے آدھا سمجھنا ہے۔ لوقا مسلسل پرانے عہدنامے کی گونج سنا رہا ہے۔ بابل میں انسان نے اپنی شہرت کے لیے مینار بنایا اور خدا نے زبانیں الگ کر دیں (پیدائش باب گیارہ)۔ پینتِکُست پر خدا نے زبانوں کو مٹایا نہیں، بلکہ اُن سب کو اپنے بڑے کاموں کے اعلان کے لیے استعمال کیا۔ جو تقسیم انسان کے تکبر سے پیدا ہوئی، اُسے روحُ القدس نے فضل کے ذریعے پُل بنا دیا۔
ابرہام سے وعدہ ہوا تھا کہ اُس کے وسیلے سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی۔ صدیوں تک یہ وعدہ ایک قوم کے اندر بند لگتا رہا۔ یسعیاہ نبی نے خدا کے خادم کے بارے میں لکھا کہ وہ قوموں کے لیے نور ہوگا اور خدا کی نجات زمین کے کناروں تک پہنچائے گا۔ یوایل نبی نے فرمایا کہ خدا اپنی روح ہر بشر پر ڈالے گا۔ داؤد کو وعدہ ملا کہ اُس کی نسل کا تخت ہمیشہ قائم رہے گا۔ اعمال کی کتاب میں یہ سب دھاگے اکٹھے ہو کر ایک ہی گِرہ میں بندھتے ہیں۔ پطرس رسول پینتِکُست کے دن یوایل کی پیش گوئی پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ وہی ہے۔ وہ زبور سے داؤد کے تخت کا حوالہ دے کر ثابت کرتا ہے کہ جی اُٹھا ہوا یسوع ہی وہ بادشاہ ہے۔
پرانا عہدنامہ سوال تھا، مسیح جواب ہے۔
اِس کے بعد کتاب کا سارا سفر ایک ہی سمت میں ہے: اندر سے باہر۔ ابتدا میں ہیکل کے صحن، پھر سامریہ کے قصبے، پھر ایک حبشی خواجہ سرا سنسان راستے پر، پھر ایک رومی صوبیدار کرنیلیس کا گھر، پھر انطاکیہ کا رنگا رنگ شہر جہاں پہلی بار شاگردوں کا نام مسیحی پڑا، اور آخر میں سلطنت کا دارالحکومت۔ ہر قدم پر وہ دیواریں گرتی ہیں جنہیں مذہبی لوگ مقدس سمجھتے تھے۔
نئے عہدنامے کے اندر اعمال کا مقام بھی خاص ہے۔ یہ چاروں انجیلوں اور خطوں کے درمیان پُل ہے۔ اگر یہ کتاب نہ ہوتی تو ہمیں معلوم نہ ہوتا کہ کُرِنتھِیوں، فِلِپّیوں، تھِسّلُنیکیوں اور اِفسیوں کی کلیسیائیں کیسے وجود میں آئیں، نہ یہ کہ رومیوں کے نام خط لکھنے والا آدمی کون تھا اور اُس کی زندگی کیسے پلٹی۔ اعمال ہمیں خطوں کے پیچھے کے آنسو، سفر، مار پیٹ اور راتوں کی دعائیں دکھاتی ہے۔
اور یہ سب مسیح میں مکمل ہوتا ہے۔ لوقا نے پہلی جلد میں لکھا کہ یسوع "کرتا اور سکھاتا رہا"، جیسے دوسری جلد میں وہ کرنا اور سکھانا جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب وہ اپنے بدن، یعنی کلیسیا، کے ذریعے اپنے روح کی قوت سے کام کرتا ہے۔ اعمال کی کتاب مسیح کی غیر حاضری کا بیان نہیں، اُس کی نئی طرزِ حضوری کا بیان ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
لوقا نے اپنی کتاب کو اعمال 1:8 کے نقشے پر ترتیب دیا ہے۔ پہلے سات باب یروشلیم کے ہیں: صعودِ آسمانی، دعا میں انتظار، پینتِکُست، پہلی منادی، پہلی جماعت، پہلی مخالفت، پہلی اندرونی کشمکش، اور پہلا شہید ستِفنُس۔ باب آٹھ سے بارہ تک کہانی یہودیہ اور سامریہ میں پھیلتی ہے، اور یہ پھیلاؤ کسی منصوبے سے نہیں بلکہ ایذا رسانی سے شروع ہوتا ہے۔ خدا نے بکھراؤ کو بیج بونے کا ذریعہ بنا دیا۔ اِسی حصے میں ساؤل کا حیرت انگیز پلٹنا ہے، فِلپُّس کی سادہ گواہی ہے، اور کرنیلیس کے گھر پر وہ دروازہ کھلتا ہے جو غیر قوموں کے لیے کبھی بند نہ ہوگا۔
باب تیرہ سے اکیس تک پولس رسول کے تین بڑے سفر ہیں، بیچ میں باب پندرہ کی یروشلیم کونسل ہے جہاں کلیسیا نے وہ بنیادی سوال طے کیا: کیا غیر قوموں کو پہلے یہودی بننا ہوگا؟ جواب فضل کے حق میں آیا۔ باب بائیس سے اٹھائیس تک عدالتیں، مقدمے، تقریریں، بحری سفر، طوفان، جہاز کی تباہی، اور آخر میں روم ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ کتاب کا تقریباً چوتھائی حصہ پولس رسول کی گرفتاری اور مقدموں پر ہے۔ لوقا یہ دکھانا چاہتا ہے کہ زنجیریں بھی منبر بن سکتی ہیں۔
ایک باریک بات جو بہت کم لوگ نوٹ کرتے ہیں: لوقا نے جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے "پیش رفت کے بیان" رکھے ہیں، جہاں وہ رُک کر بتاتا ہے کہ خدا کا کلام بڑھتا اور شاگردوں کا شمار زیادہ ہوتا گیا (مثلاً اعمال 6:7، اعمال 9:31، اعمال 12:24، اعمال 16:5، اعمال 19:20)۔ اور آخری، سب سے مختصر پیش رفت کا بیان کتاب کی آخری آیت ہے۔ یعنی کتاب کے ہر حصے کا اختتام ایک ہی سُر پر ہوتا ہے: کلام بڑھ رہا ہے۔ یہ ساخت خود اُس ادھورے پن کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں۔ لوقا ہر بار قاری کو ایک نئے مرحلے کے دہانے پر لا کر کہتا ہے، آگے چلو۔
بنیادی موضوعات چند ہیں مگر گہرے۔ سب سے پہلے روحُ القدس، جو ستّر سے زائد بار ذکر ہوتا ہے، اور جو کتاب کا اصل کردار ہے: وہ بھرتا ہے، بھیجتا ہے، روکتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ دوسرا، گواہی: مسیحیوں کا کام تاجِ حکومت نہیں، شہادت ہے۔ تیسرا، کلام کا بڑھنا، جس میں ترقی کا پیمانہ عمارتیں نہیں بلکہ سچائی کا پھیلاؤ ہے۔ چوتھا، دعا، جو ہر موڑ پر آتی ہے، کوٹھے پر، جیل میں، ساحل پر گھٹنوں کے بل۔ پانچواں، رفاقت اور سخاوت، جیسے اعمال 2:42 میں لکھا ہے: "اور وہ رسُولوں سے تعلِیم پانے اور رفاقت رکھنے میں اور روٹی توڑنے اور دُعا کرنے میں مشغُول رہے۔" چھٹا، دُکھ اٹھانا، کیونکہ اعمال میں ترقی اور تکلیف ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ اور ساتواں، خدا کی حاکمیت، جو انسانی مخالفت، سیاسی سازش اور سمندری طوفان سے بھی اپنا مقصد پورا کرا لیتی ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
پہلی کلید اعمال 1:8 ہے: "لیکن جب روحُ القُدس تُم پر نازِل ہوگا تو تُم قُوّت پاؤ گے اور یروشلیم اور تمام یہُودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمِین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہوگے۔" شاگردوں نے ابھی پوچھا تھا کہ کیا آپ اِسی وقت بادشاہی بحال فرمائیں گے۔ اُن کا سوال تخت کے بارے میں تھا، جواب گواہی کے بارے میں آیا۔ خداوند نے وقت کا نقشہ نہیں دیا، جگہ کا نقشہ دیا۔ اور اُس نے "تم کوشش کرو" نہیں فرمایا بلکہ "تم قوت پاؤ گے" فرمایا۔ گواہی ہماری قابلیت سے نہیں، اُس کی روح سے نکلتی ہے۔ یہ آیت ایک آدھا کھینچا ہوا نقشہ ہے جس کا کنارہ ابھی خالی ہے۔
دوسری کلید اعمال 4:12 ہے: "اور کِسی دُوسرے کے وسِیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمِیوں کو کوئی دُوسرا نام نہیں بخشا گیا جِس کے وسِیلہ سے ہم نجات پا سکیں۔" پطرس رسول یہ بات کسی مذہبی جلسے میں نہیں، اُس عدالت کے سامنے کہتا ہے جس نے خداوند یسوع کو صلیب پر بھجوایا تھا۔ ایک لنگڑا آدمی شفا پا چکا ہے اور سوال ہو رہا ہے کہ یہ کس نام سے ہوا۔ پطرس جسمانی شفا سے فوراً بڑی شفا کی طرف بڑھتا ہے۔ نجات کوئی نظام یا رسم نہیں، ایک شخص ہے، اور اُس کا نام ہے۔ اِس آیت میں مسیحی ایمان کی خصوصیت اور اُس کی عالمگیر پیشکش ساتھ ساتھ ہیں: صرف ایک نام، مگر وہ نام سب کے لیے کھلا۔
تیسری کلید کتاب کا آخری جملہ ہے، اعمال 28:31: "اور کمال دِلیری سے بغَیر کِسی رُکاوٹ کے خُدا کی بادشاہی کی منادی کرتا اور خُداوند یِسُوع مسِیح کی باتیں سِکھاتا رہا۔" آدمی زنجیر میں ہے، مگر پیغام آزاد ہے۔ روم کی طاقت پولس رسول کو باندھ سکتی ہے، کلام کو نہیں۔ اور یہ جملہ کوئی "خاتمہ" نہیں: نہ فیصلہ، نہ رِہائی، نہ شہادت، نہ آمین۔ لوقا نے قصداً دروازہ کھلا چھوڑا۔ کیونکہ زمین کی انتہا ابھی باقی ہے، اور اگلا صفحہ اُس کے قلم سے نہیں، اُن لوگوں کی زندگیوں سے لکھا جائے گا جو اُس کے بعد آئیں گے۔
یہ کتاب خاتمے پر نہیں، دہانے پر ختم ہوتی ہے۔
اِن تین آیات کے ساتھ تین اور آیتیں لازمی ہیں۔ اعمال 2:4 پینتِکُست کی قوت دکھاتی ہے، اعمال 9:15 دکھاتی ہے کہ خدا کس طرح سب سے بڑے دشمن کو سب سے بڑا گواہ بنا دیتا ہے: "مگر خُداوند نے اُس سے کہا کہ تُو جا کیونکہ وہ تو غَیر قَوموں اور بادشاہوں اور بنی اِسرائیل پر میرا نام ظاہِر کرنے کے لِئے میرا چُنا ہُؤا وسِیلہ ہے۔" اور اعمال 16:31 بتاتی ہے کہ نجات کا راستہ آخر میں کتنا سیدھا ہے: "اُنہوں نے کہا خُداوند یِسُوع پر اِیمان لا تو تُو اور تیرا گھرانا نجات پائے گا۔" فِلپّی کا داروغہ کوئی عالم نہ تھا، بس ایک ٹوٹا ہوا آدمی تھا جس نے آدھی رات کو تڑپ کر پوچھا کہ مَیں کیا کروں۔ جواب یہ نہیں تھا کہ "پہلے سدھر جا"، بلکہ "ایمان لا"۔
اعمال کی کتاب پڑھنے کا عملی منصوبہ
اعمال اٹھائیس باب کی کتاب ہے، اور اِسے چار ہفتوں میں آرام سے پڑھا جا سکتا ہے، روزانہ ایک باب سے کچھ زیادہ۔ مگر رفتار سے زیادہ اہم طریقہ ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اِسے چار مرحلوں میں پڑھیں، اور ہر مرحلے میں ایک ہی سوال ذہن میں رکھیں۔
پہلے ہفتے میں باب ایک سے سات پڑھیں اور پوچھیں: کلیسیا اصل میں کیا ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ ابتدائی جماعت کی پہچان بڑی عمارت یا مشہور خطیب نہیں تھی، بلکہ تعلیم، رفاقت، روٹی توڑنا اور دعا تھی۔ ساتھ ہی نوٹ کریں کہ مسائل کتنی جلدی آ گئے: جھوٹ، بدانتظامی، شکایت۔ یہ دیکھنا تسلی بخش ہے کہ کامل کلیسیا کبھی موجود نہ تھی، صرف فضل سے سنبھالی جانے والی کلیسیا تھی۔
دوسرے ہفتے میں باب آٹھ سے چودہ پڑھیں اور پوچھیں: خدا کس کس کو قبول فرماتا ہے؟ اِس حصے میں ایک حبشی افسر، ایک ستایا ہوا مذہبی جنونی، ایک رومی فوجی، اور ایک بندرگاہی شہر کے مخلوط لوگ ایمان لاتے ہیں۔ اپنے دل سے پوچھیے کہ آپ کی فہرست میں کون "ناقابلِ اصلاح" لکھا ہوا ہے، اور اعمال 9:15 کو دوبارہ پڑھیے۔
تیسرے ہفتے میں باب پندرہ سے اکیس پڑھیں اور پوچھیں: فضل اور شریعت کا فرق عمل میں کیسا دِکھتا ہے؟ یروشلیم کونسل کو غور سے پڑھیے، دیکھیے کہ اختلاف کیسے سنبھالا گیا، اور نوٹ کیجیے کہ فیصلہ سنانے سے پہلے سب نے سنا۔ اِسی حصے میں فِلپّی کی جیل ہے، اِفسُس کا ہنگامہ ہے، اور بار بار وہی بات: کلام بڑھتا گیا۔
چوتھے ہفتے میں باب بائیس سے اٹھائیس پڑھیں اور پوچھیں: جب راستہ بند ہو جائے تو خدا کیا کرتا ہے؟ گرفتاری، دو سال کی قید، دشمنوں کی سازش، سمندر کا طوفان، اور اِس سب کے آخر میں روم۔ جو رکاوٹیں لگ رہی تھیں، وہی راستہ نکلیں۔ آخری آیت پر پہنچ کر تھوڑی دیر خاموش بیٹھیے۔ دعا میں پوچھیے: خداوند، میری زندگی میں یہ جملہ کیسے جاری رہے گا؟
اِس کے علاوہ تین چیزیں پڑھائی کو گہرا کر دیں گی۔ پہلی، ایک سادہ نقشہ سامنے رکھیں اور مقامات کے نام تلاش کرتے جائیں؛ اعمال کا پیغام جغرافیہ سے جڑا ہوا ہے۔ دوسری، کتاب میں موجود تقریروں پر خاص توجہ دیں، کیونکہ کتاب کا تقریباً ایک تہائی حصہ تقریریں ہیں، اور ہر تقریر مختلف سامعین کے لیے مختلف طریقے سے وہی ایک مسیح پیش کرتی ہے۔ تیسری، پولس رسول کے خطوں کو ساتھ ملا کر پڑھیں: باب سولہ کے ساتھ فِلپّیوں کا خط، باب سترہ کے ساتھ تھِسّلُنیکیوں کے خطوط، باب اٹھارہ کے ساتھ کُرِنتھِیوں کے خطوط۔ کہانی اور خط جب ملتے ہیں تو دونوں روشن ہو جاتے ہیں۔
اور ایک آخری مشورہ: اکیلے نہ پڑھیں۔ یہ جماعت کی کتاب ہے۔ دو تین لوگوں کے ساتھ پڑھیں، ہر ہفتے ایک سوال پر بات کریں، اور ہر بیٹھک دعا پر ختم کریں۔ اعمال کی کتاب ہمیشہ اُن لوگوں میں سب سے زیادہ زندہ ہوتی ہے جو اِسے مل کر پڑھتے ہیں۔
آئینہ
آپ نے یہ سب پڑھا۔ اب ایک سیدھا سوال: اگر لوقا آج جلد تیسری لکھتا، تو آپ کے بارے میں کیا لکھنے کو ملتا؟
مَیں جانتا ہوں یہ سوال چبھتا ہے۔ کیونکہ ہماری زندگی معجزات اور جہاز کی تباہیوں پر مشتمل نہیں۔ آپ صبح سویرے اُٹھ کر کام پر جاتے ہیں، بجلی کا بل دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں، رات کو بچوں کے امتحان کی فکر کرتے ہیں، اور اتوار کو تھکے ہوئے عبادت میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن دیکھیے، اعمال کی کتاب بھی زیادہ تر ایسے ہی لوگوں سے بھری ہے۔ لُدیہ ایک تاجر عورت تھی، اُس کا ایمان اُس کے کاروبار اور اُس کے گھر کے دروازے سے ظاہر ہوا۔ فِلپّی کا داروغہ ایک سرکاری ملازم تھا، اور اُس کی گواہی یہ تھی کہ اُس نے آدھی رات کو قیدیوں کے زخم دھوئے۔ اکوِلہ اور پرِسکِلہ خیمے بناتے تھے، اور اُن کا گھر کلیسیا بن گیا۔
تو آئینے میں دیکھیں۔ آپ کے دفتر میں وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ کبھی نہیں بدلے گا: کیا آپ کو یاد ہے کہ ساؤل کے بارے میں بھی سب کی یہی رائے تھی؟ وہ رشتہ جو آپ نے کاٹ دیا کیونکہ معاف کرنا بہت مہنگا لگا: ستِفنُس اپنے قاتلوں کے لیے دعا کرتے ہوئے مرا۔ وہ پیسہ جسے آپ نے مضبوطی سے پکڑ لیا ہے کیونکہ کل کا ڈر ہے: اعمال کی جماعت میں ضرورت مند کی مدد ایمان کا ثبوت تھی، نہ کہ فالتو نیکی۔ وہ تنہائی جو آپ کو رات کو کھاتی ہے: یاد رکھیں کہ اِس کتاب میں تقریباً کوئی اکیلا نہیں چلتا، ہر ایک کے ساتھ کوئی برنباس ہوتا ہے، اور اگر آپ کے پاس کوئی نہیں تو ممکن ہے خدا آپ کو کسی اَور کا برنباس بنانا چاہتا ہو۔
اعمال کی کتاب آپ سے وہ چیز نہیں مانگتی جو آپ کے پاس نہیں۔ یہ آپ سے مانگتی ہے کہ جو آپ کے پاس ہے، وہ کھلا رکھیں: آپ کا وقت، آپ کا گھر، آپ کی زبان، آپ کی مالی حالت، آپ کا تھکا ہوا بدن۔ روحُ القدس ہمیشہ اُن ہاتھوں سے کام کرتا ہے جو مُٹھی نہیں بنے ہوئے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو اعمال کی کتاب سمجھانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اِسے "دوسرا حصہ" کہہ کر شروع کریں۔ اُن سے کہیں: انجیل میں ہم نے پڑھا کہ خداوند یسوع نے کیا کیا؛ اِس کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ اُس نے اپنے دوستوں کے ذریعے کیا کیا۔ بچے کہانیوں کے بھوکے ہوتے ہیں، اور یہ کتاب کہانیوں سے بھری ہے: آسمان سے آنے والی آواز، آگ جیسی زبانیں، جیل کے دروازے جو زلزلے سے کھل گئے، ایک آدمی جو گھوڑے کی طرح تیز راستے پر جا رہا تھا اور روشنی سے گر پڑا، ایک جہاز جو طوفان میں ٹوٹ گیا مگر سب لوگ بچ گئے۔
آپ اُنہیں یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ کلیسیا کوئی عمارت نہیں بلکہ لوگ ہیں۔ چھوٹے بچوں کو یہ بات ہاتھ جوڑ کر یا انگلیاں ملا کر سمجھائی جا سکتی ہے: بہت سی انگلیاں، ایک ہاتھ۔ اور یہ کہ روحُ القدس خدا کی وہ حضوری ہے جو ہمارے اندر رہ کر ہمیں ہمت دیتی ہے، جیسے ڈرے ہوئے پطرس کو ہمت ملی۔
فیتھ نیٹ ورک پر ہمارے پاس اِسی موضوع کی عمر کے مطابق الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے سادہ تصویری کہانیاں جن میں ایک ایک جملہ گنتی کا ہے؛ اسکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے نقشے، سوال جواب اور یاد کرنے کے لیے آسان آیات؛ اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے وہ گہرے سوال جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، مثلاً یہ کہ کیا آج بھی معجزے ہوتے ہیں اور کلیسیا کیوں اتنے فرقوں میں بٹ گئی۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وضاحت چنیں، اور اُسے پڑھ کر سنانے کے بعد ایک ہی سوال پوچھیں: تمہیں اِس کہانی میں خدا کیسا لگا؟
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اعمال کی کتاب کا مصنف کون ہے؟
کتاب کے اندر مصنف اپنا نام نہیں لکھتا، مگر وہ اِسے تھیفلس کے نام اپنی "دوسری" تحریر کہتا ہے، اور پہلی تحریر لوقا کی انجیل ہے۔ ابتدائی کلیسیا کی متفق گواہی یہ ہے کہ مصنف لوقا ہے، وہ طبیب جو پولس رسول کا ساتھی تھا۔ کتاب کے کچھ حصوں میں بیان "ہم" کی صورت میں چلتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لکھنے والا خود اُن سفروں میں شامل تھا۔ لوقا غالباً غیر یہودی پس منظر سے تھا، جو اِس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ غیر قوموں تک انجیل پہنچنے کے موضوع پر اِس قدر جوش سے لکھتا ہے۔
اعمال کی کتاب کب لکھی گئی؟
زیادہ تر عالِموں کے نزدیک یہ پہلی صدی کی چھٹی یا ساتویں دہائی میں لکھی گئی، یعنی اُس زمانے میں جب پولس رسول روم میں نظربند تھا یا اُس کے کچھ ہی بعد۔ اِس رائے کی سب سے بڑی وجہ کتاب کی خاموشیاں ہیں: نہ یروشلیم کی ہیکل کی تباہی کا ذکر ہے، نہ نیرو کے بڑے ظلم کا، نہ پولس رسول کے مقدمے کے نتیجے کا۔ کچھ محققین اِسے سن ستّر کے بعد کا مانتے ہیں، مگر کتاب کا ادھورا اختتام اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لوقا نے اُس وقت لکھا جب کہانی ابھی جاری تھی۔
اعمال کی کتاب کا اصل نام کیا ہے، رسولوں کے اعمال یا روحُ القدس کے اعمال؟
قدیم مسودوں میں عنوان "رسولوں کے اعمال" ملتا ہے، مگر یہ عنوان لوقا کا نہیں بلکہ بعد کے کاتبوں کا دیا ہوا ہے۔ کتاب پڑھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ بارہ رسولوں میں سے زیادہ تر کا کوئی الگ ذکر نہیں؛ کہانی کا انجن روحُ القدس ہے، جو بھیجتا ہے، روکتا ہے، بولتا ہے اور قوت دیتا ہے۔ اِسی لیے بہت سے مفسرین اِسے "جی اُٹھے مسیح کے جاری کام" کی کتاب کہتے ہیں۔ عنوان بدلنے کی ضرورت نہیں، مگر پڑھتے ہوئے یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ اصل کردار کون ہے۔
اعمال 1:8 کا مطلب کیا ہے؟
اِس آیت میں خداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ روحُ القدس کے نازل ہونے پر شاگرد قوت پائیں گے اور یروشلیم سے لے کر زمین کی انتہا تک اُس کے گواہ ہوں گے۔ شاگرد یہ پوچھ رہے تھے کہ بادشاہی کب بحال ہوگی، اور خداوند نے اُن کی نظر وقت سے ہٹا کر مشن پر لگا دی۔ آیت کے دو حصے اہم ہیں: قوت پہلے، گواہی بعد میں۔ یعنی گواہی ہماری خوداعتمادی سے نہیں بلکہ خدا کی روح سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی آیت پوری کتاب کا خاکہ بھی ہے۔
اعمال 2:4 میں غیر زبانوں سے کیا مراد ہے؟
پینتِکُست کے دن شاگرد روحُ القدس سے بھر گئے اور دوسری زبانوں میں بولنے لگے۔ آگے کے بیان سے واضح ہے کہ یہ سمجھی جانے والی انسانی زبانیں تھیں، کیونکہ یروشلیم میں جمع مختلف علاقوں کے لوگوں نے اپنی اپنی زبان میں خدا کے بڑے کام سنے۔ یہ محض کوئی جذباتی تجربہ نہ تھا بلکہ ایک نشان تھا کہ انجیل کسی ایک قوم یا زبان کی قید میں نہیں رہے گی۔ بابل میں زبانیں تقسیم کا سبب بنی تھیں؛ پینتِکُست پر وہی زبانیں شہادت کا ذریعہ بن گئیں۔
کیا اعمال 4:12 کا مطلب یہ ہے کہ نجات صرف مسیح میں ہے؟
جی ہاں، اور یہ آیت اِس بات کو نہایت واضح لفظوں میں کہتی ہے: آسمان کے تلے کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلے سے ہم نجات پا سکیں۔ پطرس رسول یہ اُس عدالت کے سامنے کہہ رہا ہے جو اُس کی جان لے سکتی تھی، اِس لیے یہ کوئی سرسری بات نہیں تھی۔ مسیحی ایمان کی یہ خصوصیت تنگ نظری نہیں بلکہ محبت کی بنیاد ہے: اگر واقعی صرف ایک ہی دروازہ کھلا ہے، تو محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم لوگوں کو اُس دروازے کا پتہ بتائیں۔
اعمال 9:15 میں پولس کو "چُنا ہوا وسیلہ" کیوں کہا گیا؟
خداوند نے دمشق میں حننیاہ سے فرمایا کہ ساؤل غیر قوموں، بادشاہوں اور بنی اسرائیل پر اُس کا نام ظاہر کرنے کے لیے چُنا ہوا وسیلہ ہے۔ لفظ "وسیلہ" اصل میں ایک برتن کا مفہوم رکھتا ہے، یعنی وہ چیز جو خود قیمتی نہیں مگر جس میں قیمتی چیز رکھی جاتی ہے۔ ساؤل کلیسیا کا سب سے سخت مخالف تھا، اور خدا نے اُسی کو اپنی سب سے وسیع گواہی کے لیے چنا۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا کا انتخاب انسان کی لیاقت پر نہیں، اُس کے فضل پر مبنی ہوتا ہے۔
اعمال 16:31 سے کیا معلوم ہوتا ہے کہ پورا گھرانا خودبخود نجات پاتا ہے؟
اِس آیت میں پولس اور سیلاس نے فِلپّی کے داروغہ سے کہا کہ خداوند یسوع پر ایمان لا تو تُو اور تیرا گھرانا نجات پائے گا۔ یہ وعدہ کسی جادوئی خودکار نجات کا نہیں، بلکہ اِس حقیقت کا اعلان ہے کہ انجیل پورے گھر کے لیے کھلی ہے۔ آگے لکھا ہے کہ رسولوں نے سب گھر والوں کو کلام سنایا اور سب نے ایمان لا کر بپتسمہ لیا۔ یعنی ہر شخص نے خود ایمان لایا، مگر برکت ایک فرد پر رکی نہیں رہی۔ ایمان اکیلے نہیں پھیلتا، وہ گھروں میں پھیلتا ہے۔
اعمال کی کتاب اتنی اچانک کیوں ختم ہو جاتی ہے؟
آخری آیت میں پولس رسول روم میں بلا روک ٹوک خدا کی بادشاہی کی منادی کرتا نظر آتا ہے، اور بس۔ ہمیں مقدمے کا نتیجہ نہیں بتایا جاتا۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ لوقا نے یہ کتاب اُس وقت مکمل کی جب مقدمہ ابھی زیرِ سماعت تھا۔ مگر ادبی لحاظ سے یہ اختتام بہت بامعنی ہے: کتاب پولس کی سرگزشت نہیں بلکہ کلام کے سفر کی داستان ہے، اور وہ سفر رُکا نہیں۔ لوقا نے قلم اُس جگہ رکھی جہاں سے قاری کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
اعمال کی کتاب اور پولس رسول کے خطوط کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
اعمال ہمیں وہ پس منظر دیتی ہے جس کے بغیر خطوط ادھورے لگتے ہیں۔ باب سولہ پڑھ کر فِلپّیوں کا خط، باب سترہ پڑھ کر تھِسّلُنیکیوں کے خطوط، اور باب اٹھارہ پڑھ کر کُرِنتھِیوں کے خطوط زیادہ صاف سمجھ آتے ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ جماعتیں کیسے بنیں اور اُن کے ابتدائی حالات کیا تھے۔ دوسری طرف خطوط ہمیں پولس رسول کے اندر کی دنیا دکھاتے ہیں: اُس کی تھکن، آنسو، دعائیں اور علمِ الٰہی۔ کہانی اور خط ایک دوسرے کے آئینے ہیں۔
کیا آج بھی اعمال جیسے معجزات ہو سکتے ہیں؟
بائبل کہیں یہ نہیں کہتی کہ خدا نے معجزے کرنا چھوڑ دیا ہے، اور مسیحی دنیا میں آج بھی شفا اور نجات کی گواہیاں موجود ہیں۔ مگر اعمال کی کتاب خود ہمیں معجزے کو پیمانہ بنانے سے روکتی ہے: اِس کتاب میں کلیسیا کی ترقی کا پیمانہ "کلام بڑھتا گیا" ہے، نہ کہ نشانوں کی گنتی۔ اِس لیے دانائی اِس میں ہے کہ ہم خدا سے بڑی چیزیں مانگیں اور ساتھ ہی روزمرہ کی وفاداری، دعا، رفاقت اور گواہی کو حقیر نہ جانیں، کیونکہ یہی وہ راستے ہیں جن سے وہ اکثر کام کرتا ہے۔
اعمال کی کتاب پہلی بار پڑھنے والے کو کہاں سے شروع کرنا چاہیے؟
پہلی بار پڑھنے والے کو مَیں مشورہ دوں گا کہ کتاب کو باب ایک سے سیدھا اٹھائیس تک پڑھے، بغیر تفسیر کے، جیسے کوئی سفرنامہ پڑھتا ہے۔ پہلا تاثر اہم ہے۔ اِس کے بعد دوسری بار پڑھتے وقت ایک نقشہ سامنے رکھیں اور مقامات نوٹ کریں، پھر تیسری بار تقریروں پر خاص توجہ دیں۔ اگر وقت کم ہو تو باب دو، باب نو، باب دس، باب سولہ اور باب اٹھائیس ضرور پڑھیں؛ یہ پانچ باب پوری کتاب کی روح آپ کے سامنے کھول دیتے ہیں۔
کلیسیا کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟
عام طور پر کلیسیا کی ابتدا پینتِکُست کے دن سے شمار کی جاتی ہے، جب یروشلیم میں شاگردوں پر روحُ القدس نازل ہوا اور اُس ایک دن میں تقریباً تین ہزار لوگ ایمان لائے۔ لیکن یہ کوئی خالی جگہ سے شروع ہونے والی چیز نہ تھی: خدا کے لوگوں کی جماعت پرانے عہدنامے سے چلی آ رہی تھی، اور پینتِکُست پر وہی جماعت مسیح کی صلیب اور قیامت کی روشنی میں نئی صورت اختیار کر گئی۔ اِس لیے کلیسیا کو کوئی نئی تنظیم سمجھنا درست نہیں؛ یہ خدا کے پرانے وعدے کی نئی فصل ہے۔
اختتام میں
اعمال کی کتاب اُن لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ صلیب اور قیامت کے بعد کیا ہوا۔ جواب یہ ہے: خداوند یسوع مسیح رُکے نہیں۔ وہ آسمان پر تشریف لے گئے مگر اپنے روح کے ذریعے زمین پر کام جاری رکھا، اور یہ کام ڈرے ہوئے ماہی گیروں، ایک سابق مخالف، ایک تاجر عورت، ایک جیل کے داروغہ اور ایک زنجیر میں بندھے قیدی کے ذریعے آگے بڑھا۔ کتاب یروشلیم کے ایک بالا خانے سے شروع ہو کر روم کے ایک کرائے کے مکان پر آ کر رُکتی ہے، اور آخری لفظ ہمیں دروازے پر کھڑا چھوڑ دیتا ہے: بغیر کسی رکاوٹ۔
آخری صفحہ خالی ہے، اور قلم آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اِس لیے اِس کتاب کو صرف معلومات کے لیے نہ پڑھیں۔ اِسے دعا کے ساتھ پڑھیں، جماعت کے ساتھ پڑھیں، اور ہر باب کے بعد ایک چھوٹا سا سوال پوچھیں: خداوند، آج میرے شہر میں، میرے گھر میں، میرے کام کی جگہ پر آپ کا کلام کیسے بڑھ سکتا ہے؟ اگلے قدم کے طور پر لوقا کی انجیل کو دوبارہ پڑھیں تاکہ دونوں جلدیں ایک ہی کہانی بن جائیں، اور پھر اعمال 1:8 کو زبانی یاد کر لیں۔ کیونکہ جو نقشہ اُس آیت میں کھینچا گیا، وہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔
