بائبل کی کتاب

لوقا کی انجیل کا تعارف اور پیغام

تعارف

خدا نے جب اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا تو اُس کا پہلا بستر ایک چرنی تھی، یعنی وہ کھرلا جہاں سے بھوکے جانور چارہ کھاتے ہیں۔ اور جب وہی بیٹا مُردوں میں سے جی اُٹھا تو اُس نے اپنے شاگردوں پر اپنی پہچان کہاں کھولی؟ ایک میز پر، جب اُس نے روٹی لے کر برکت دی اور توڑ کر اُن کو دی۔ لوقا کی انجیل ان دو تصویروں کے درمیان چلتی ہے: ایک چرنی اور ایک دسترخوان۔ درمیان میں محصول لینے والوں کی دعوتیں ہیں، فریسیوں کے کھانے ہیں، پانچ ہزار کی روٹیاں ہیں، اور ایک باپ ہے جو اپنے لَوٹ آنے والے بیٹے کے لیے پلا ہوا بچھڑا ذبح کراتا ہے۔ اس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ یہ انجیل کس نے، کیوں اور کن حالات میں لکھی، اس کی ساخت کیا ہے، اس کے بنیادی موضوعات کون سے ہیں، اور یہ آپ کی اپنی زندگی کی میز تک کیسے پہنچتی ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

بہت سے تعارف لوقا کو "غیر قوموں کی انجیل" یا "طبیب کی انجیل" کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہم یہاں ایک زیادہ ٹھوس راستہ لیتے ہیں: لوقا کی انجیل ایک کھلے دسترخوان کی انجیل ہے۔ خداوند یسوع مسیح اس کتاب میں یا تو کسی کھانے پر جا رہے ہیں، یا کھانے پر بیٹھے ہیں، یا کھانے سے اُٹھ کر آ رہے ہیں، اور ہر بار وہ میز پر ایسے لوگوں کو بٹھاتے ہیں جنہیں دنیا نے دروازے سے باہر رکھا تھا۔ چرنی سے عماؤس کی روٹی تک، یہ کتاب یہی ایک بات کہتی ہے: خدا کی نجات کوئی دُور کا نظریہ نہیں، وہ ایک دعوت ہے جس پر آپ کا نام لکھا ہے۔

بائبل لوقا کی انجیل کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

لوقا اکلوتا انجیل نویس ہے جو ہمیں شروع ہی میں بتا دیتا ہے کہ وہ کیوں لکھ رہا ہے۔ پہلی چار آیتیں ایک باقاعدہ تمہید ہیں، بالکل اُس زمانے کی سنجیدہ تاریخی کتابوں کی طرح: "اِس لِئے اَے معزّز تِھیُفِلُس مَیں نے بھی مُناسِب جانا کہ سب باتوں کا سِلسِلہ شرُوع سے ٹھِیک ٹھِیک دریافت کر کے اُن کو تیرے لِئے ترتِیب سے لِکھُوں" (لوقا 1:3)۔ یہاں تین باتیں ایک ساتھ کھڑی ہیں: تحقیق، ترتیب اور ایک نام۔ لوقا نے سنی سنائی باتیں جمع نہیں کیں، اُس نے چشم دید گواہوں سے پوچھا، شروع سے کھوج لگائی، اور پھر یہ سب ایک شخص کے لیے سلیقے سے لکھ دیا تاکہ، جیسا اگلی آیت کہتی ہے، اُسے اُن باتوں کی پختگی معلوم ہو جو اُس نے سیکھی تھیں۔ ایمان اندھا نہیں ہے؛ اُس کی بنیاد اُن واقعات پر ہے جو تاریخ میں ہوئے۔

پھر لوقا ہمیں بیت لحم کے کھیتوں میں لے جاتا ہے، جہاں رات کو گلّہ چرانے والے چرواہے، یعنی وہ لوگ جن کی گواہی عدالت میں معتبر نہیں سمجھی جاتی تھی، پہلی بشارت سنتے ہیں: "کہ آج داؤُد کے شہر میں تُمہارے لِئے ایک مُنّجی پَیدا ہُؤا ہے یعنی مسِیح خُداوند" (لوقا 2:11)۔ غور کیجیے کہ فرشتہ "تمہارے لیے" کہتا ہے۔ نجات دہندہ کسی محل میں نہیں، ایک چرنی میں پڑا ہے، اور اُس کے آنے کی خبر سب سے پہلے اُنہیں ملتی ہے جو سب سے باہر تھے۔

اس بچے نے جوان ہو کر ناصرت کے عبادت خانے میں کھڑے ہو کر اپنی خدمت کا اعلامیہ پڑھا: "خُداوند کا رُوح مُجھ پر ہے۔ اِس لِئے کہ اُس نے مُجھے غریبوں کو خُوشخبری دینے کے لِئے مسح کِیا۔ اُس نے مُجھے بھیجا ہے کہ قَیدیوں کو رِہائی اور اندھوں کو بِینائی پانے کی خبر سُناؤں۔ کُچلے ہُوؤں کو آزاد کرُوں" (لوقا 4:18)۔ یسعیاہ کی یہ آیت لوقا کی پوری کتاب کا نقشہ ہے۔ جو کچھ آگے آتا ہے، وہ اسی اعلان کی تعمیل ہے: کوڑھی چھوئے جاتے ہیں، بیوہ کا بیٹا زندہ ہوتا ہے، بدنام عورت کے گناہ معاف ہوتے ہیں، اور محصول لینے والے میز پر بٹھائے جاتے ہیں۔

پھر یریحو میں، ایک چھوٹے قد کے دولت مند گنہگار کے گھر کھانا کھانے کے بعد، خداوند اپنی زندگی کا مقصد ایک جملے میں کہہ دیتے ہیں: "کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے" (لوقا 19:10)۔ یہ اس انجیل کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ کھویا ہوا سکہ، کھوئی ہوئی بھیڑ، کھویا ہوا بیٹا، سب اسی ایک آیت کی تفسیر ہیں۔

اور آخر میں، جی اُٹھنے کے دن، خداوند خود اپنے شاگردوں کے لیے پوری بائبل کھول کر رکھ دیتے ہیں: "اور اُن سے کہا یُوں لِکھا ہے کہ مسِیح دُکھ اُٹھائے گا اور تِیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا" (لوقا 24:46)۔ لوقا کی انجیل ایک تحقیق سے شروع ہوتی ہے اور ایک کھلی ہوئی کتابِ مقدس پر ختم ہوتی ہے، اور دونوں سروں پر ایک ہی مقصد ہے: یقین۔

مصنف، تاریخ اور حالات

انجیل میں مصنف نے اپنا نام نہیں لکھا، مگر ابتدائی کلیسیا کی گواہی متفق ہے کہ یہ لوقا کی تحریر ہے، وہی لوقا جو پولس رسول کا ہم سفر تھا۔ کلسیوں 4:14 میں پولس اُنہیں طبیب کہہ کر یاد کرتے ہیں، فلیمون 24 میں اپنا ہم خدمت کہتے ہیں، اور 2 تیمتھیس 4:11 میں، قید کی تنہائی میں، لکھتے ہیں کہ صرف لوقا اُن کے ساتھ ہے۔ اعمال کی کتاب میں کئی جگہ بیانیہ اچانک "وہ" سے بدل کر "ہم" ہو جاتا ہے، جیسے ترائوس سے فلپی کے سفر میں اور پولس کے روم تک کے سمندری سفر میں۔ یہ "ہم" والے حصے بتاتے ہیں کہ لکھنے والا خود موجود تھا۔

لوقا غالباً غیر یہودی پس منظر سے تھا، شاید انطاکیہ کا، اور یونانی زبان پر اُس کی گرفت نئے عہد نامے میں سب سے شائستہ ہے۔ اُس کی تمہید ایک پڑھے لکھے مؤرخ کی زبان ہے، مگر پیدائش کے بیانات یکایک عبرانی مزاج کے گیتوں میں ڈھل جاتے ہیں، جیسے کوئی پرانے عہد نامے کا صفحہ کھل گیا ہو۔ ایک طبیب کی نظر بھی جگہ جگہ جھلکتی ہے: بیماریوں کی تفصیل، جسمانی حالت کے باریک اشارے، اور اُس عورت کا ذکر جس نے اپنی ساری پونجی طبیبوں پر خرچ کر دی تھی۔

یہ کتاب کس کے لیے لکھی گئی؟ تِھیُفِلُس کے لیے۔ اس نام کا مطلب ہے "خدا کا دوست"۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ کوئی علامتی نام ہے، مگر "معزّز" کا لقب اشارہ کرتا ہے کہ یہ کوئی حقیقی، اونچے رتبے کا شخص تھا، شاید وہی سرپرست جس نے اس تصنیف کا خرچ اُٹھایا۔ وہ مسیح کے بارے میں کچھ سن چکا تھا؛ لوقا چاہتا تھا کہ سنی ہوئی بات پر اُس کا اعتماد پتھر کی طرح مضبوط ہو جائے۔

تاریخِ تصنیف پر دو معقول رائیں ہیں۔ ایک یہ کہ لوقا نے یہ کتاب اور اعمال ساٹھ کی دہائی میں مکمل کیے، کیونکہ اعمال کا اختتام پولس کی رومی نظربندی پر ہوتا ہے اور یروشلیم کی تباہی کا کوئی ذکر نہیں۔ دوسری رائے اسے ستّر کے بعد، یعنی اسّی کی دہائی تک لے جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ تحریر اُس نسل کے اندر لکھی گئی جس نے واقعات دیکھے تھے، اور یہی لوقا کا دعویٰ بھی ہے۔

حالات یہ تھے کہ کلیسیا اب یروشلیم کی چاردیواری سے نکل کر رومی سلطنت کے شہروں میں پھیل رہی تھی۔ نئے غیر یہودی ایمان دار پوچھتے تھے: کیا یہ یہودی مسیحا واقعی ہمارا بھی نجات دہندہ ہے؟ کیا ہم اس دسترخوان پر بیٹھ سکتے ہیں؟ لوقا کی پوری کتاب اسی سوال کا نرم، مدلل اور خوشی سے بھرا ہوا جواب ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

لوقا کی انجیل خلا میں شروع نہیں ہوتی۔ اُس کے پہلے دو باب مندر، بخور، کاہن، فرشتے اور نبوّت سے بھرے ہیں؛ یہ گویا پرانے عہد نامے کا آخری صفحہ ہے جو نئے کی طرف پلٹ رہا ہے۔ زکریاہ، الیشبع، مریم اور شمعون، سب ابرہام، داؤد اور نبیوں کے وعدوں کی زبان بولتے ہیں۔ مریم کا گیت ہنّہ کے گیت کی گونج ہے، اور اُس میں وہی الٹ پھیر ہے جو تمام صحیفوں میں چلتی ہے: "اُس نے اِختیار والوں کو تخت سے گِرا دِیا اور پست حالوں کو بُلند کِیا"۔

ناصرت میں خداوند یسوع مسیح جو طومار پڑھتے ہیں، وہ یسعیاہ کا ہے، اور غریبوں، قیدیوں اور اندھوں کے لیے وہ جوبلی کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا حکم پہلے ہی احبار 25 میں دیا گیا تھا۔ گمشدہ کو ڈھونڈنے کا خیال حزقی ایل 34 سے آتا ہے، جہاں خدا خود فرماتا ہے کہ وہ اپنی بھیڑوں کو ڈھونڈے گا، کیونکہ اسرائیل کے چرواہوں نے اُنہیں تتر بتر کر دیا ہے۔ لوقا 19:10 اُسی وعدے پر مہر ہے: چرواہا آ گیا ہے، اور وہ خود گلیوں میں کھوئی ہوئی بھیڑ ڈھونڈ رہا ہے۔

دسترخوان کا سلسلہ بھی پرانا ہے۔ یسعیاہ نے پیش گوئی کی تھی کہ رب الافواج سب اُمتوں کے لیے ایک پُر تکلف ضیافت تیار کرے گا؛ لوقا میں وہ ضیافت شروع ہو چکی ہے، پہلے چھوٹے چھوٹے کھانوں میں، پھر آخری فسح کی میز پر، اور آخرکار عماؤس کی روٹی میں۔ اور یہ سب اتفاق نہیں: خداوند خود اپنے شاگردوں کو سمجھاتے ہیں کہ موسیٰ اور تمام نبیوں سے لے کر سب صحیفوں میں جو کچھ اُن کے حق میں لکھا تھا، وہ پورا ہوا۔ لوقا 24:46 اس پورے سلسلے کی چابی ہے: دکھ اُٹھانا اور جی اُٹھنا کوئی حادثہ نہیں تھا، یہ لکھا ہوا تھا۔

صلیب پر بھی پرانا عہد نامہ سانس لے رہا ہے۔ "اَے باپ اِن کو مُعاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں" (لوقا 23:34) اُس خادم کی تصویر مکمل کرتا ہے جو یسعیاہ 53 میں خطاکاروں کی شفاعت کرتا ہے۔ اور یہی دعا آگے چل کر ستفنس کے ہونٹوں پر دہرائی جاتی ہے جب وہ سنگسار ہو رہا ہوتا ہے، کیونکہ لوقا کی دوسری جلد، اعمال کی کتاب، دکھاتی ہے کہ خداوند کی زندگی اب اُس کے بدن یعنی کلیسیا میں جاری ہے۔

جو چرنی میں شروع ہوا، وہ اب دنیا کے کناروں تک پھیل رہا ہے۔

ساخت اور بنیادی موضوعات

لوقا کی چوبیس ابواب کی یہ کتاب نئے عہد نامے کی سب سے لمبی کتاب ہے، اور اعمال کے ساتھ مل کر یہ پورے نئے عہد نامے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بنتی ہے۔ اُس کی عمارت صاف دکھائی دیتی ہے۔ پہلے تمہید اور پیدائش کے بیانات آتے ہیں، جہاں یحییٰ اور یسوع کی کہانیاں آپس میں بُنی ہوئی ہیں اور چار گیت گائے جاتے ہیں۔ پھر تیاری کا حصہ ہے: یحییٰ کی منادی، بپتسمہ، نسب نامہ جو آدم تک جاتا ہے، اور بیابان کی آزمائش۔ نسب نامے کا آدم تک جانا اتفاقی نہیں؛ لوقا کے لیے یہ صرف اسرائیل کا نہیں، پوری نسلِ انسانی کا نجات دہندہ ہے۔

اس کے بعد گلیل کی خدمت ہے، جو ناصرت کے اعلامیے سے شروع ہوتی ہے اور شاگردوں کے بلائے جانے، شفا، تعلیم اور پطرس کے اقرار پر ختم ہوتی ہے۔ پھر کتاب کا سب سے خاص حصہ آتا ہے، وہ لمبا سفرنامہ جو نویں باب کی اس آیت سے شروع ہوتا ہے کہ اُس نے یروشلیم جانے کو کمر باندھی۔ تقریباً دس ابواب تک خداوند یروشلیم کی طرف بڑھتے رہتے ہیں، اور راستے میں وہ تمثیلیں سناتے ہیں جو کسی اور انجیل میں نہیں ملتیں: نیک سامری، دولت مند احمق، بڑی ضیافت، گمشدہ بھیڑ، گمشدہ سکہ، مسرف بیٹا، بےایمان مختار، دولت مند آدمی اور لعزر، بےانصاف قاضی، اور فریسی اور محصول لینے والا۔ پھر یروشلیم کا آخری ہفتہ، فسح کی میز، گتسمنی، عدالتیں، صلیب، اور آخر میں قیامت، عماؤس کا سفر، اور صعود، جو اعمال کی کتاب کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

اس ڈھانچے پر چند موضوعات بار بار دستک دیتے ہیں۔ پہلا، سب کے لیے نجات: چرواہے، سامری، رومی صوبہ دار، عورتیں، بچے، کوڑھی، محصول لینے والے۔ دوسرا، دولت اور غربت کا سنجیدہ سوال؛ لوقا کسی اور انجیل نویس سے زیادہ پیسے کے بارے میں لکھتا ہے، اور ہمیشہ نرمی سے نہیں۔ تیسرا، دعا: خداوند اہم موڑ پر ہمیشہ دعا کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں، اور دعا پر دو خاص تمثیلیں صرف یہیں ملتی ہیں۔ چوتھا، روح القدس، جو مریم پر سایہ کرتا ہے، خداوند کو مسح کرتا ہے، اور اعمال میں کلیسیا پر نازل ہوتا ہے۔ پانچواں، خوشی اور حمد؛ یہ انجیل گیتوں سے شروع ہوتی ہے اور مندر میں خدا کی حمد کرتے شاگردوں پر ختم ہوتی ہے۔

اور ان سب کے اوپر وہ میز ہے۔ لاوی کی دعوت، شمعون فریسی کا کھانا، پانچ ہزار کی روٹیاں، مارتھا کی مہمان نوازی، سبت کے دن ضیافت اور بڑی دعوت کی تمثیل، زکائی کے گھر کا کھانا، فسح کا کمرہ، اور عماؤس کی روٹی۔ ہر بار میز پر بیٹھنے والوں کی فہرست پر جھگڑا ہوتا ہے، اور ہر بار خداوند ایک نیا نام اُس فہرست میں لکھ دیتے ہیں۔

اس کتاب کی اہم آیات

پہلی آیت جسے آپ اپنے دل میں محفوظ کر سکتے ہیں وہ فرشتے کا اعلان ہے: "کہ آج داؤُد کے شہر میں تُمہارے لِئے ایک مُنّجی پَیدا ہُؤا ہے یعنی مسِیح خُداوند" (لوقا 2:11)۔ اس ایک جملے میں تین لقب ہیں: منجی، مسیح اور خداوند۔ رومی دنیا میں یہی الفاظ قیصر کے لیے استعمال ہوتے تھے، اور لوقا انہیں ایک ایسے بچے پر لگا دیتا ہے جو چرنی میں پڑا ہے۔ سلطنت کا اعلان تخت سے آتا ہے؛ خدا کا اعلان ایک اصطبل سے آیا۔ اور یہ "تمہارے لیے" ہے، اُن چرواہوں کے لیے جو رات بھر جاگتے تھے، اور آپ کے لیے بھی جو رات بھر فکر میں جاگتے ہیں۔

دوسری آیت وہ ہے جسے بہت سے لوگ اس انجیل کی مرکزی آیت کہتے ہیں: "کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے" (لوقا 19:10)۔ یہ جملہ اُس وقت کہا گیا جب لوگ بڑبڑا رہے تھے کہ وہ ایک گنہگار کے ہاں مہمان ہوا ہے۔ خداوند نے صفائی نہیں دی، اُنہوں نے اپنا مقصد بتا دیا۔ وہ صرف قبول نہیں کرتے، وہ ڈھونڈتے ہیں۔ اسی سچائی کی سب سے خوبصورت تصویر پندرہویں باب میں ہے: "وہ ابھی دُور ہی تھا کہ اُسے دیکھ کر اُس کے باپ کو ترس آیا اور دَوڑ کر اُس کو گلے لگا لِیا اور بہت پیار کِیا" (لوقا 15:20)۔ اُس تہذیب میں بزرگ آدمی دوڑتے نہیں تھے، دوڑنا بےعزتی تھی۔ باپ نے اپنی عزت کا دامن اُٹھایا اور بیٹے کی معافی کی تقریر پوری ہونے سے پہلے ہی اُسے سینے سے لگا لیا۔ خدا کی محبت انتظار نہیں کرتی، وہ دوڑتی ہے۔

تیسری آیت وہ ہے جو ساری کتاب کو پڑھنے کا طریقہ سکھاتی ہے: "یُوں لِکھا ہے کہ مسِیح دُکھ اُٹھائے گا اور تِیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا" (لوقا 24:46)۔ جی اُٹھا ہوا خداوند اپنے شاگردوں کو کوئی نیا فلسفہ نہیں دیتے، وہ اُن کے ذہن کھول دیتے ہیں تاکہ وہ صحیفوں کو سمجھیں۔ اور جہاں صلیب کا مطلب سمجھ آ جائے، وہیں سے معافی کی منادی سب قوموں میں شروع ہوتی ہے۔ اسی معافی کی پہلی آواز صلیب پر گونجی تھی: "اَے باپ اِن کو مُعاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں" (لوقا 23:34

آئینہ

اب ایک لمحے کے لیے کتاب کو رکھ دیجیے اور اپنے دن کے بارے میں سوچیے۔ آپ کی میز پر کون بیٹھتا ہے؟ نہ صرف کھانے کی میز، بلکہ وہ میز جو آپ کے دل میں ہے، وہ فہرست جس میں آپ نے طے کر رکھا ہے کہ کون اپنا ہے اور کون نہیں۔ کوئی رشتہ دار جس نے پیسے کے معاملے میں دھوکا دیا، کوئی بھائی جو کلیسیا چھوڑ گیا، کوئی پڑوسی جس کے عقیدے کو آپ حقیر جانتے ہیں، کوئی ساتھی جس کی ترقی آپ کے سینے میں چبھتی ہے۔ لوقا کی انجیل آپ کے سامنے وہ باپ کھڑا کرتی ہے جو بدنامی مول لے کر گلی میں دوڑتا ہے، اور پھر پوچھتی ہے کہ آپ اس کہانی میں کہاں کھڑے ہیں: چھوٹے بیٹے کے ساتھ گلے لگے ہوئے، یا بڑے بیٹے کے ساتھ باہر دروازے پر، ناراض، اور اپنی خدمت کا حساب گنتے ہوئے؟

یہ کتاب پیسے کے معاملے میں بھی نرم نہیں۔ دولت مند احمق نے اپنی گودام کی توسیع کا منصوبہ بنایا اور اُسی رات اُس کی جان طلب کر لی گئی۔ زکائی نے اپنی آدھی جائیداد بانٹ دی، اور اُسی دن اُس کے گھر میں نجات آئی۔ آپ کی تنخواہ کا کون سا حصہ آپ کے ایمان کے بارے میں سچ بولتا ہے؟

اور یہ کتاب تھکے ہوؤں کے لیے آزادی بھی ہے۔ اگر آپ کا جسم بیمار ہے، اگر آپ رات کو تنہائی میں چھت کو تکتے ہیں، اگر آپ نے وہ کچھ کیا ہے جس کا ذکر آپ کسی سے نہیں کر سکتے، تو ناصرت کا اعلامیہ آپ کے نام ہے: کچلے ہوؤں کو آزادی۔ خداوند یسوع مسیح گنہگاروں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے، اور یہی الزام اُن پر لگا۔ اُن کے دسترخوان پر آپ کے لیے جگہ نہیں بنانی پڑتی، وہ پہلے سے خالی رکھی گئی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ آپ آئیں گے یا باہر کھڑے رہ کر حساب گنتے رہیں گے۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو لوقا کی انجیل سمجھانے کا سب سے آسان راستہ کہانی اور کھانا ہے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں بچے فوراً سمجھ جاتے ہیں۔ آپ اُن سے کہہ سکتے ہیں کہ لوقا ایک ڈاکٹر تھا جس نے بہت سے لوگوں سے پوچھ پوچھ کر خداوند یسوع مسیح کی پوری کہانی ایک دوست کے لیے لکھی، بالکل ویسے جیسے کوئی بہت خیال رکھنے والا آدمی سب باتیں ترتیب سے نوٹ کرے تاکہ کچھ چھوٹ نہ جائے۔ پھر اُنہیں بتائیے کہ اس کہانی میں خدا کا بیٹا اُس جگہ پیدا ہوا جہاں جانور کھانا کھاتے ہیں، اور اُس کی خبر سب سے پہلے اُن چرواہوں کو ملی جنہیں کوئی خاص نہیں سمجھتا تھا۔ اور آخر میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ روٹی توڑ کر بیٹھا اور اُنہوں نے اُسے پہچان لیا۔

چھوٹے بچوں کے لیے مسرف بیٹے کی کہانی خاص طور پر مؤثر ہے: ایک بیٹا گھر چھوڑ کر چلا گیا، سب کچھ گنوا بیٹھا، اور جب لوٹا تو اُس کا ابّا دوڑ کر اُس سے ملا۔ بچے سزا کے تصور سے واقف ہوتے ہیں؛ اُنہیں یہ سننا چاہیے کہ خدا کی محبت دوڑتی ہوئی آتی ہے۔

اس بات کو عمر کے مطابق کھولنا ضروری ہے۔ فیتھ نیٹ ورک پر لوقا کی انجیل کی الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال)، سکول جانے والے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال)، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر)، جہاں تاریخی سوالات اور روزمرہ زندگی کے اطلاق پر زیادہ تفصیل سے بات کی گئی ہے۔

لوقا کو پڑھنے کا عملی نقشہ

اگر آپ یہ کتاب پہلی بار سنجیدگی سے پڑھنا چاہتے ہیں تو ایک مہینے کا سادہ منصوبہ بنائیے۔ پہلے ہفتے میں باب ایک سے چار تک پڑھیے، اور ہر روز صرف ایک سوال دل میں رکھیے: خدا اس حصے میں کن لوگوں کو منتخب کرتا ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ ایک بانجھ بوڑھی عورت، ایک گاؤں کی کنواری لڑکی، چند چرواہے، اور ایک بوڑھا آدمی جو مندر میں انتظار کر رہا تھا۔ ناصرت کے اعلامیے پر رُک کر اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ لیجیے، کیونکہ باقی ساری کتاب اُسی کی تفصیل ہے۔

دوسرے ہفتے میں باب پانچ سے نو تک جائیے، اور اس بار ہر اُس منظر کو نشان زد کیجیے جہاں کھانا، دعوت یا میز کا ذکر ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی مشق ہے مگر اس سے کتاب کا مزاج کھل جاتا ہے۔ ساتھ ہی نوٹ کیجیے کہ خداوند کہاں کہاں دعا کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں؛ بپتسمہ کے وقت، رات بھر پہاڑ پر، شاگردوں کے اقرار سے پہلے، اور تبدیلِ صورت کے موقع پر۔

تیسرا ہفتہ سب سے مالا مال ہے: باب دس سے انیس تک، یعنی یروشلیم کا سفر۔ یہاں جلدی مت کیجیے۔ نیک سامری، مارتھا اور مریم، دعا کی تعلیم، دولت مند احمق، بڑی ضیافت، پندرہواں باب، لعزر اور دولت مند آدمی، فریسی اور محصول لینے والا، اور زکائی۔ پندرہویں باب کو کم از کم تین بار پڑھیے: ایک بار چھوٹے بیٹے کی نظر سے، ایک بار بڑے بیٹے کی نظر سے، اور ایک بار باپ کی نظر سے۔

چوتھے ہفتے میں باب بیس سے چوبیس تک۔ فسح کے کمرے سے شروع کر کے صلیب اور خالی قبر تک۔ عماؤس کے دو مسافروں کے واقعے پر خاص وقت دیجیے، اور اپنے آپ سے پوچھیے کہ کیا صحیفے میرے لیے بھی اسی طرح کھلتے ہیں کہ میرا دل جوش سے بھر جائے۔ اور جب لوقا کا آخری صفحہ ختم ہو، تو کتاب بند مت کیجیے؛ اُسی سانس میں اعمال کا پہلا باب پڑھیے، کیونکہ لوقا نے یہ دونوں جلدیں ایک ہی کہانی کے دو حصوں کے طور پر لکھی تھیں۔ یہ کہانی اب بھی جاری ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

لوقا کی انجیل کس نے لکھی؟

کتاب کے اندر مصنف کا نام درج نہیں، مگر دوسری صدی سے لے کر آج تک کلیسیا کی متفقہ گواہی یہی ہے کہ اسے لوقا نے لکھا، جو پولس رسول کا ہم سفر اور پیشے کے اعتبار سے طبیب تھا۔ پولس اُس کا ذکر کلسیوں 4:14، فلیمون 24 اور 2 تیمتھیس 4:11 میں کرتے ہیں۔ اعمال کی کتاب میں کئی حصے "ہم" کی زبان میں لکھے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لکھنے والا اُن سفروں میں خود شریک تھا۔ لوقا غالباً غیر یہودی پس منظر رکھتا تھا، اور وہ نئے عہد نامے کا واحد غیر یہودی مصنف سمجھا جاتا ہے۔

لوقا کی انجیل کب لکھی گئی؟

قطعی تاریخ معلوم نہیں، مگر دو معقول رائیں ہیں۔ کچھ علما اسے ساٹھ کی دہائی میں رکھتے ہیں، کیونکہ اس کی دوسری جلد یعنی اعمال کی کتاب پولس کی رومی نظربندی پر ختم ہو جاتی ہے اور یروشلیم کی تباہی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ دوسرے اسے ستّر عیسوی کے بعد، یعنی اسّی کی دہائی تک لے جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں یہ تحریر اُس نسل کے دوران وجود میں آئی جس نے یہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے، اور لوقا خود کہتا ہے کہ اُس نے چشم دید گواہوں سے تحقیق کی۔

تِھیُفِلُس کون تھا؟

لوقا 1:3 میں مصنف اپنی کتاب "معزّز تِھیُفِلُس" کے نام کرتا ہے، اور یہی نام اعمال کے آغاز میں دوبارہ آتا ہے۔ اس یونانی نام کا مطلب ہے "خدا کا دوست"۔ "معزّز" کا لقب اُس زمانے میں اونچے سرکاری یا سماجی رتبے والے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، اس لیے اغلب یہ ہے کہ وہ کوئی حقیقی شخص تھا، شاید ایک نیا ایمان دار یا وہ سرپرست جس کے خرچ پر یہ تصنیف تیار ہوئی۔ لوقا کا مقصد صاف ہے: وہ چاہتا تھا کہ تِھیُفِلُس کو سنی ہوئی تعلیم کی پختگی اور یقین حاصل ہو۔

لوقا کی انجیل باقی انجیلوں سے کس طرح مختلف ہے؟

متی یہودی قارئین کے لیے مسیح کو داؤد کا بیٹا اور بادشاہ دکھاتا ہے، مرقس تیز رفتاری سے خادم کی تصویر پیش کرتا ہے، یوحنا الوہیت پر گہرا غور کرتا ہے، جبکہ لوقا مسیح کو کامل انسان اور تمام قوموں کا نجات دہندہ دکھاتا ہے۔ اُس کا نسب نامہ ابرہام پر نہیں بلکہ آدم پر ختم ہوتا ہے۔ اُس میں عورتوں، غریبوں، سامریوں اور محصول لینے والوں کا ذکر سب سے زیادہ ہے، دعا اور روح القدس پر خاص زور ہے، اور اُس میں وہ مشہور تمثیلیں ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں۔

کیا لوقا نے خداوند یسوع مسیح کو خود دیکھا تھا؟

نہیں۔ لوقا خود اپنی تمہید میں واضح کرتا ہے کہ وہ اُن باتوں کو لکھ رہا ہے جو ابتدا سے چشم دید گواہوں اور کلام کے خادموں نے پہنچائیں۔ وہ دوسری نسل کا آدمی تھا، مگر اُس نے تحقیق کا راستہ اختیار کیا: گواہوں سے ملاقات، روایات کی جانچ، اور واقعات کی ترتیب۔ پیدائش کے بیانات کی باریکی سے کئی لوگ اندازہ لگاتے ہیں کہ اُس نے مریم یا اُن کے قریبی حلقے سے بھی معلومات حاصل کیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کی تحریر ایمان اور تاریخ دونوں کے لیے قابلِ اعتماد سمجھی جاتی ہے۔

لوقا اور اعمال کی کتاب کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

یہ دراصل ایک ہی تصنیف کی دو جلدیں ہیں۔ دونوں ایک ہی شخص، تِھیُفِلُس، کے نام ہیں، اور اعمال کا آغاز صاف طور پر "پہلے رسالے" کا حوالہ دیتا ہے۔ لوقا کی انجیل بتاتی ہے کہ خداوند یسوع مسیح نے کیا کیا اور کیا سکھایا، اور اعمال بتاتی ہے کہ اُنہوں نے روح القدس کے وسیلے سے اپنی کلیسیا میں وہی کام کیسے جاری رکھا۔ انجیل کا اختتام اور اعمال کا آغاز دونوں صعود پر ہیں، گویا ایک دروازہ جو دو کمروں کو جوڑتا ہے۔ ان دونوں کو ساتھ پڑھنا سب سے فائدہ مند ہے۔

لوقا کی انجیل میں عورتوں کا اتنا ذکر کیوں ہے؟

کیونکہ لوقا کا بنیادی موضوع یہی ہے کہ نجات اُن تک پہنچی ہے جنہیں معاشرہ حاشیے پر رکھتا تھا۔ الیشبع، مریم، حنّہ نبیّہ، نائین کی بیوہ، وہ عورت جس نے خداوند کے پاؤں پر عطر ڈالا، مارتھا اور مریم، وہ عورتیں جو اپنے مال سے خدمت کرتی تھیں، بےبس بیوہ کی تمثیل، اور قیامت کی پہلی گواہ عورتیں، یہ سب لوقا کے صفحات پر نمایاں ہیں۔ اُس زمانے میں عورتوں کی گواہی کو کم درجہ دیا جاتا تھا، اس لیے لوقا کا اُنہیں گواہ کے طور پر پیش کرنا بذاتِ خود ایک بلند اعلان ہے۔

کیا لوقا 23:34 واقعی اصل متن کا حصہ ہے؟

کچھ قدیم یونانی مسودوں میں یہ فقرہ موجود نہیں، اس لیے بعض ترجموں میں اس پر حاشیہ دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ آیت بہت سے قدیم گواہوں میں، اور ابتدائی کلیسیا کی تحریروں میں شامل ہے، اور اردو کی کتابِ مقدّس سمیت اکثر ترجموں میں متن کا حصہ ہے۔ روحانی لحاظ سے یہ دعا لوقا کے پورے پیغام سے مکمل ہم آہنگ ہے، اور اعمال 7:60 میں ستفنس کی دعا اسی نمونے کو دہراتی ہے۔ چنانچہ کلیسیا نے ہمیشہ اسے خداوند کے دل کی سچی آواز کے طور پر قبول کیا ہے۔

لوقا کی انجیل کی مرکزی آیت کون سی ہے؟

عام طور پر لوقا 19:10 کو اس کتاب کی مرکزی آیت مانا جاتا ہے، جہاں خداوند فرماتے ہیں کہ ابنِ آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے۔ یہ جملہ زکائی کے گھر میں کہا گیا، یعنی اُس شخص کے گھر میں جسے پورا شہر گنہگار سمجھتا تھا۔ اس آیت میں کتاب کے تمام دھاگے مل جاتے ہیں: تلاش کرنے والا خدا، بچائی جانے والی زندگی، اور وہ میز جہاں گنہگار قبول کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ لوقا 4:18 اور لوقا 24:46 بھی کلیدی آیتیں ہیں۔

مسرف بیٹے کی تمثیل کا اصل پیغام کیا ہے؟

پندرہواں باب اُس شکایت کے جواب میں سنایا گیا کہ خداوند گنہگاروں کو قبول کرتے اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ اس لیے تمثیل کا اصل موضوع صرف بھٹکا ہوا بیٹا نہیں بلکہ وہ باپ ہے جو دوڑ کر ملتا ہے، اور وہ بڑا بیٹا ہے جو دعوت سے باہر کھڑا ناراض ہے۔ لوقا 15:20 اس کہانی کا مرکز ہے: معافی کی تقریر مکمل ہونے سے پہلے ہی گلے لگانا۔ پیغام یہ ہے کہ خدا کی محبت شرط سے پہلے آتی ہے، اور مذہبی خودپسندی بھی اُس کے دسترخوان سے دور کر سکتی ہے۔

کیا لوقا کی انجیل صرف غیر یہودیوں کے لیے لکھی گئی؟

اُس کے پہلے قاری غالباً غیر یہودی تھے، اسی لیے لوقا یہودی رسوم کی وضاحت کرتا ہے، رومی حکمرانوں کے حوالے سے واقعات کی تاریخ متعین کرتا ہے، اور عبرانی الفاظ کم استعمال کرتا ہے۔ مگر یہ کتاب یہودیت کی جڑوں سے کٹی ہوئی نہیں؛ اُس کے ابتدائی دو باب مندر، کاہنوں اور نبوّتوں سے بھرے ہیں، اور شمعون خداوند کو اسرائیل کا جلال اور غیر قوموں کا نور دونوں کہتا ہے۔ لوقا کا نکتہ یہ ہے کہ ابرہام سے کیا گیا وعدہ اب تمام قوموں تک پہنچ رہا ہے۔

لوقا کی انجیل پہلی بار پڑھنے والا کہاں سے شروع کرے؟

سب سے بہتر یہ ہے کہ پہلے باب سے شروع کر کے پوری کتاب ترتیب سے پڑھی جائے، کیونکہ لوقا نے اسے جان بوجھ کر ترتیب سے لکھا ہے اور اُس کی کہانی یروشلیم کے سفر کی طرف بڑھتی ہے۔ اگر وقت کم ہو تو باب دو، باب چار، باب پندرہ، باب انیس اور باب چوبیس ایک ساتھ پڑھیے؛ ان پانچ ابواب میں اس انجیل کا مکمل پیغام سمٹ آتا ہے۔ اس کے بعد اعمال کی کتاب شروع کیجیے، تاکہ کہانی اپنے فطری انجام تک پہنچے۔

اختتام میں

لوقا نے قلم اُٹھایا تو اُس کے سامنے ایک آدمی تھا جسے یقین کی ضرورت تھی، اور اُس نے تحقیق، ترتیب اور محبت کے ساتھ وہ کہانی لکھی جو ایک چرنی سے شروع ہو کر عماؤس کی ٹوٹی ہوئی روٹی پر آ کر تھمتی ہے۔ درمیان میں ناصرت کا اعلامیہ ہے کہ غریبوں کو خوشخبری دی جائے گی، ایک باپ ہے جو گلی میں دوڑتا ہے، ایک محصول لینے والا ہے جس کے گھر نجات آتی ہے، اور ایک صلیب ہے جہاں سے معافی کی دعا زمین پر گری۔ اسی لیے یہ انجیل بند دروازوں کی نہیں، کھلے دسترخوان کی کتاب ہے۔

اب آپ کے پاس نقشہ ہے: چار ہفتے، چوبیس ابواب، اور ایک سوال جو ہر صفحے پر دہرایا جا سکتا ہے، یعنی خداوند اس منظر میں کس کو اپنے قریب بلا رہے ہیں۔ اس کے بعد اعمال کی کتاب پڑھیے اور دیکھیے کہ وہی دسترخوان کیسے یروشلیم سے روم تک پھیلتا ہے۔ اور جب آپ لوقا 15:20 پر پہنچیں، تو ایک لمحہ رُک کر یہ مان لیجیے کہ وہ باپ ابھی بھی دوڑنے کے لیے تیار ہے۔ آپ کو صرف مڑنا ہے۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 5.153 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

5.670
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
آج پہلے ہی 14 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو یونس 1:15

پھر اُنہوں نے یونس کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ تب سمندر کا طیش ٹھنڈا ہو گیا۔“ ذرا سوچ،…

دعا ادارتی کو یوحنا 6:38

اے باپ، تیرا بیٹا آسمان سے اُترا تاکہ اپنی نہیں بلکہ تیری مرضی پوری کرے۔ میرے اندر تو اکثر اپنی…

بصیرت ادارتی کو عزرا 9:15

عزرا کی دعا کسی معافی کی درخواست پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ ایک کھلے اعتراف پر: ”ہم اپنے قصور کے…

بصیرت ادارتی کو ۲-تیمُتھیُس 3:6

پولس بتاتا ہے کہ یہ لوگ منبر سے حملہ نہیں کرتے، بلکہ ”گھروں میں گھس کر“ ایسے دلوں کو پکڑتے…

شکرگزاری ادارتی کو ۱-کُرِنتِھیوں 16:4

خدا کا شکر ہے کہ آپ کی خدمت اکیلے کرنے کے لیے نہیں دی گئی۔ پولس نے کہا، "اگر مناسب…

دعا ادارتی کو ۲-سلاطِین 12:9

اے خدا، وہ صندوق جو تیرے گھر کے دروازے پر رکھا گیا، مجھے یاد دلاتا ہے کہ تُو چھوٹے چھوٹے…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟