متی کی انجیل کا تعارف اور پیغام
تعارف
کفرنحوم کی جھیل کے کنارے، بازار کے شور میں، ایک میز پڑی تھی جس سے لوگ نفرت کرتے تھے۔ اُس پر سِکّوں کی ڈھیریاں، ایک ترازو، اور ایک رجسٹر رکھا رہتا تھا جس میں ہر مچھلی، ہر گٹھری، ہر قافلے کا حساب درج ہوتا تھا۔ اُس رجسٹر کا مالک روم کا نوکر تھا اور اپنی قوم کا غدّار سمجھا جاتا تھا۔ اُس دن ایک گلیل کا بڑھئی وہاں سے گزرا اور صرف تین لفظ کہے: "میرے پیچھے ہو لے۔" اور پھر ایک عجیب بات ہوئی۔ حساب لکھنے والا وہ ہاتھ قیصر کا ٹیکس چھوڑ کر ایک اَور بادشاہ کا رجسٹر لکھنے بیٹھ گیا، اور وہ رجسٹر آج ہماری بائبل کے نئے عہد نامے کا پہلا ورق ہے۔
اِس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ متی کی انجیل کون لکھی، کب لکھی، کن لوگوں کے لیے لکھی، اُس کی ساخت کیا ہے، اُس کے بڑے موضوعات کیا ہیں، اور کیسے یہ پوری کتاب دو ایسے جملوں کے درمیان بندھی ہوئی ہے جو آپ کی تنہائی کو جڑ سے بدل سکتے ہیں۔
اس رہنما کا زاویہ
ہم متی کی انجیل کو ایک محصول لینے والے کے نئے رجسٹر کی طرح پڑھیں گے: بادشاہ کے اعلان نامے کی طرح، جس میں حساب کتاب کی جگہ فضل نے لے لی ہے۔ اور ہم خاص طور پر اُن دو کھمبوں پر نظر رکھیں گے جن پر یہ ساری عمارت کھڑی ہے۔ کتاب کے شروع میں لکھا ہے "خدا ہمارے ساتھ" (متی 1:23) اور کتاب کے آخری فقرے میں لکھا ہے "میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں" (متی 28:20)۔ متی کی انجیل کا اصل موضوع صرف تعلیم یا معجزے نہیں، بلکہ خدا کی حاضری ہے جو اب جسم بن کر ہمارے درمیان بستی ہے۔ یہ زاویہ اہم ہے، کیونکہ اِس سے یہ کتاب ایک نصاب کے بجائے ایک ساتھ چلنے والے بادشاہ کی سرگزشت بن جاتی ہے۔
بائبل متی کی انجیل کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
متی کی انجیل اپنے پہلے ہی فقرے میں اپنا مقدمہ پیش کر دیتی ہے: "یسوع مسیح ابنِ داؤد ابنِ ابرہام کا نسب نامہ۔" یہ محض ناموں کی فہرست نہیں، یہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ محصول کی چوکی پر بیٹھنے والا آدمی جانتا تھا کہ دعوے ثابت کرنے کے لیے کاغذات چاہیے ہوتے ہیں، اِس لیے وہ اپنی کتاب کا آغاز خداوند یسوع مسیح کے شاہی حق سے کرتا ہے۔ ابرہام سے وعدہ، داؤد سے تخت، اور جلاوطنی سے واپسی؛ یہ تین موڑ ہیں جن پر پرانے عہد نامے کی ساری اُمید ٹِکی تھی، اور متی کہتا ہے کہ تینوں کا جواب ایک ہی شخص ہے۔
مگر کاغذات کے فوراً بعد وہ مقصد بتاتا ہے۔ فرشتہ یوسف سے فرماتا ہے: "وہ بیٹا جنے گی اور تُو اُس کا نام یسوع رکھنا کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا" (متی 1:21)۔ غور کریں کہ بادشاہ سب سے پہلے دشمن کی فوجوں سے نہیں، بلکہ ہمارے گناہوں سے چھٹکارا دلانے آیا۔ ایک محصول لینے والے کے لیے اِس سے میٹھی خبر کوئی نہ تھی، کیونکہ اُس کے رجسٹر میں لوگوں کے قرضے درج تھے اور اُس کے دل میں اپنے قرضے۔ متی کی انجیل کا پہلا اعلان یہی ہے کہ حساب کی کتاب بند کرنے والا آ گیا ہے۔
اِس کے بعد یہ کتاب بادشاہی کا نقشہ کھینچتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح کی پہلی تبلیغ یہ تھی: "توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے" (متی 4:17)۔ اور اِس بادشاہی کے دروازے پر جو تختی لگی ہے وہ ہر دنیاوی سلطنت کے اُلٹ ہے: "مبارک ہیں وہ جو دِل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے" (متی 5:3)۔ دل کا غریب وہ ہے جس کے پاس خدا کے سامنے پیش کرنے کو کوئی جمع پونجی نہیں، جو اپنی نیکیوں کا رجسٹر کھول کر نہیں بلکہ خالی ہاتھ پھیلا کر آتا ہے۔ بادشاہی کی پہلی شرط قابلیت نہیں، محتاجی ہے۔
پھر یہی بادشاہ اپنی رعایا کو ترجیح سکھاتا ہے: "بلکہ تم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی" (متی 6:33)۔ یہ فقرہ فکر اور فاقے کی گفتگو کے بیچ آتا ہے، یعنی روٹی، کپڑے اور کل کے دن کی گفتگو کے بیچ۔ متی یہ نہیں کہتا کہ ضروریات معمولی ہیں؛ وہ کہتا ہے کہ ایک باپ ہے جو جانتا ہے، اِس لیے تلاش کی ترتیب بدل جاتی ہے۔
اور بادشاہ کی آواز میں سختی نہیں، بلاوا ہے: "اے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تم کو آرام دوں گا" (متی 11:28)۔ اُس زمانے میں مذہبی اُستادوں کے احکام لوگوں کے کندھوں پر بوجھ بن گئے تھے۔ خداوند فرماتا ہے کہ اُس کا جوا نرم ہے، اور یہی متی کی انجیل کا سب سے نازک لمحہ ہے: شریعت کا سب سے بڑا معلم ہی سب سے بڑا آرام دینے والا نکلا۔
آخر میں یہ کتاب اپنے قاری سے فیصلہ مانگتی ہے۔ قیصریہ فلپی کے قریب پطرس کی زبان سے وہ اقرار نکلتا ہے جس پر ساری کلیسیا کھڑی ہے: "تُو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے" (متی 16:16)۔ متی چاہتا ہے کہ آپ کا رجسٹر بھی اِسی اقرار پر بند ہو۔
مصنف، زمانہ اور پہلے قاریوں کے حالات
انجیل کے متن میں مصنف کا نام درج نہیں، مگر ابتدائی کلیسیا کی گواہی ایک ہی سمت اشارہ کرتی ہے: یہ کتاب متی کی ہے، اُسی محصول لینے والے کی جس کا بلاوا نویں باب میں لکھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرقس اور لوقا اُسی آدمی کو "لاوی" کہتے ہیں اور اُس کی دعوت کو "بڑی ضیافت" بتاتے ہیں، مگر یہ کتاب اپنے مصنف کے بارے میں نرمی نہیں کرتی۔ نویں باب میں لکھا ہے کہ خداوند نے "متّی نام ایک شخص کو محصول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا"، اور بارہ رسولوں کی فہرست میں یہ نام کھلے لفظوں میں "متّی محصول لینے والا" لکھا گیا ہے۔ جو آدمی اپنے شاندار خطاب چھوڑ کر اپنی سب سے شرمناک شناخت لکھتا ہے، وہ فضل کا مزہ چکھ چکا ہے۔
جو اپنا داغ لکھتا ہے، وہ معافی جان چکا ہے۔
زمانے کے بارے میں مسیحی اہلِ علم میں کچھ فرق ہے۔ بہت سے پرانے مفسر اِسے پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے درمیان رکھتے ہیں، یعنی یروشلیم کے ہیکل کی بربادی سے پہلے۔ دوسرے اِسے ستّر اور نوّے کے درمیان رکھتے ہیں، اُس دور میں جب ہیکل جل چکا تھا اور یہودی برادری اپنی شناخت نئے سرے سے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایمان کے لیے یہ سوال فیصلہ کن نہیں، کیونکہ کتاب کا پیغام دونوں صورتوں میں ایک ہے۔ البتہ ایک بات صاف ہے: یہ انجیل اُس ماحول میں لکھی گئی جہاں مسیح کے شاگردوں کو یہ ثابت کرنا پڑ رہا تھا کہ وہ اپنے باپ دادا کے صحیفوں سے منہ نہیں موڑ رہے، بلکہ اُن کی تکمیل کو گلے لگا رہے ہیں۔
پہلے قاریوں کے حالات کتاب کے ہر صفحے سے جھلکتے ہیں۔ متی یہودی رسم و رواج کی وضاحت کرنے کی زحمت نہیں کرتا، جیسے مرقس کرتا ہے؛ وہ فرض کرتا ہے کہ اُس کے پڑھنے والے شریعت، سبت، ہیکل اور نبیوں کو جانتے ہیں۔ وہ ادب کے طور پر اکثر "خدا کی بادشاہی" کے بجائے "آسمان کی بادشاہی" لکھتا ہے۔ وہ بار بار یہ فقرہ دہراتا ہے کہ ایسا ہوا "تاکہ جو نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہو"۔ یعنی وہ اپنے لوگوں کے ہاتھ میں پرانا عہد نامہ دیکھ کر کہتا ہے: دیکھو، تمہاری اپنی کتابوں کے وعدے کہاں جا کر پورے ہوئے۔
مگر یہی یہودی رنگ والی کتاب سب سے زیادہ کھلے دل سے قوموں کو دعوت دیتی ہے۔ نسب نامے میں غیر قوم کی عورتیں شامل ہیں، پیدائش کے وقت مشرق سے نجومی آ کر سجدہ کرتے ہیں، ایک رومی صوبہ دار کے ایمان کی تعریف ہوتی ہے، اور آخری باب میں حکم ہے کہ "سب قوموں" کو شاگرد بناؤ۔ متی کا رجسٹر روم کے دفتر کے لیے نہیں، بلکہ ساری دنیا کے لیے کھلا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
پرانے عہد نامے کی کہانی ایک ادھوری بات پر رُکی ہوئی تھی۔ ابرہام سے وعدہ ہوا تھا کہ اُس کی نسل سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی۔ داؤد سے وعدہ ہوا تھا کہ اُس کا تخت ہمیشہ قائم رہے گا۔ یسعیاہ نبی نے ایک نشان بتایا تھا کہ کنواری کے بیٹے کا نام عمانوایل ہوگا۔ میکاہ نے بیت لحم کا نام لیا تھا۔ ہوسیع نے مصر سے بلائے جانے کی بات کی تھی۔ ملاکی نے ایک آنے والے پیش خیمہ کا ذکر کیا تھا۔ اور پھر صدیوں کی خاموشی کے بعد کتابیں بند ہو گئیں، تخت خالی رہا، اور قوم کسی اَور کی حکومت میں سانس لیتی رہی۔
متی کی انجیل اِسی خالی جگہ پر ہاتھ رکھتی ہے اور کہتی ہے: وعدہ اپنے وقت پر آ گیا۔ اِس لیے یہ کتاب نئے عہد نامے کے شروع میں ایک پُل کی طرح رکھی گئی ہے۔ ملاکی کے آخری صفحے اور متی کے پہلے صفحے کے درمیان ورق پلٹتے ہی آپ اُسی گھرانے میں داخل ہو جاتے ہیں: وہی ابرہام، وہی داؤد، وہی نبی، مگر اب اُن سب کی طرف اشارہ کرنے والی اُنگلی ایک نومولود بچے پر ٹھہر جاتی ہے۔
اور یہاں ہمارا زاویہ پھر روشن ہوتا ہے۔ پرانے عہد نامے کی ساری اُمید ایک لفظ میں سمٹی ہوئی تھی: حاضری۔ خدا آدم کے ساتھ باغ میں چلتا تھا، ابرہام کے خیمے میں مہمان ہوا، جھاڑی میں سے موسیٰ سے کلام کیا، بادل اور آگ کے ستون میں اسرائیل کے آگے آگے چلا، خیمۂ اجتماع اور پھر ہیکل میں بسا۔ اور قوم کی سب سے بڑی سزا یہی تھی کہ اُس کا جلال ہیکل سے اُٹھ گیا۔ متی اِسی زخم پر مرہم رکھتا ہے: "وہ اُس کا نام عمانوایل رکھیں گے جس کے معنی ہیں خدا ہمارے ساتھ" (متی 1:23)۔ اب خدا کی حاضری کسی عمارت میں نہیں، ایک شخص میں ہے۔
اِس لیے متی کی انجیل میں خداوند یسوع مسیح بار بار پرانے عہد نامے کے سانچے میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں، مگر ہر بار اُس سانچے سے بڑے ثابت ہوتے ہیں۔ موسیٰ کی طرح وہ بچپن میں قتل سے بچائے جاتے ہیں اور مصر سے بلائے جاتے ہیں، مگر پہاڑ پر سے شریعت لے کر نہیں آتے، بلکہ خود اُس کے مالک کی طرح فرماتے ہیں "میں تم سے یہ کہتا ہوں"۔ یونس کی طرح وہ تین دن اندھیرے میں رہتے ہیں، مگر یونس کے برعکس بے گناہ ہو کر۔ سلیمان کی طرح وہ حکمت سکھاتے ہیں، مگر خود فرماتے ہیں کہ سلیمان سے بڑا یہاں موجود ہے۔ اسرائیل کی طرح وہ بیابان میں آزمائے جاتے ہیں، مگر گرتے نہیں۔
اور یہ سارا سلسلہ صلیب پر آ کر اپنی گہرائی تک پہنچتا ہے۔ "یسوع نے پھر بڑی آواز سے چلا کر جان دے دی" (متی 27:50)۔ اُسی لمحے ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ گیا۔ جو کام قربانیوں کی صدیاں نہ کر سکیں، وہ ایک قربانی نے کر دیا: خدا کی حاضری کا دروازہ کھل گیا۔ عمانوایل کا وعدہ صرف پیدائش کی خبر نہ تھی، وہ صلیب کی قیمت پر ہمارے لیے کھولا گیا راستہ تھا۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
متی نے اپنی کتاب کو ایک منظم دستاویز کی طرح ترتیب دیا ہے، اور یہ ترتیب پہچاننا اِس انجیل کو سمجھنے کی سب سے بڑی کنجی ہے۔ اٹھائیس باب دو بڑے حصوں میں ہیں۔ پہلا حصہ بادشاہ کے آنے، اُس کے اعلان اور اُس کی قدرت کا بیان ہے۔ پھر سولہویں باب میں پطرس کے اقرار کے بعد کتاب کا رُخ مُڑ جاتا ہے، اور خداوند یسوع مسیح یروشلیم کی طرف چلنے لگتے ہیں، تین بار اپنی موت کا ذکر کرتے ہیں، اور کتاب کا دوسرا حصہ بادشاہ کے دُکھ اُٹھانے اور جی اُٹھنے کی طرف بہنے لگتا ہے۔
اِس ڈھانچے کے اندر متی نے خداوند کی تعلیم کو پانچ بڑے خطبوں میں جمع کیا ہے، اور ہر خطبے کے آخر میں تقریباً وہی جملہ آتا ہے کہ جب یسوع نے یہ باتیں ختم کیں۔ پہلا خطبہ پہاڑی وعظ ہے، جو بابوں پانچ سے سات تک بادشاہی کے شہریوں کا کردار بیان کرتا ہے۔ دوسرا دسویں باب میں ہے، جہاں بادشاہ اپنے قاصد بھیجتا ہے۔ تیسرا تیرہویں باب کی تمثیلیں ہیں، جو بادشاہی کے پوشیدہ بڑھنے کا راز کھولتی ہیں۔ چوتھا اٹھارہویں باب میں ہے، جہاں بادشاہی کے گھرانے کی زندگی، معافی اور بھٹکے ہوئے کی تلاش سکھائی جاتی ہے۔ پانچواں بابوں چوبیس اور پچیس میں ہے، جہاں بادشاہ کی واپسی اور آخری حساب کا بیان ہے۔ پانچ خطبے، پانچ کتابوں والی توریت کی گونج۔ متی گویا کہہ رہا ہے کہ یہاں موسیٰ سے بڑا استاد کھڑا ہے۔
اِن خطبوں کے درمیان بیانیہ حصے آتے ہیں جن میں معجزے، مقابلے اور سفر ہیں۔ یعنی تعلیم اور عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں: بادشاہ جو کہتا ہے وہی کرتا ہے۔ پہاڑی وعظ کے فوراً بعد آٹھویں اور نویں باب میں معجزوں کا سلسلہ ہے، جیسے ثبوت کے کاغذات۔
بنیادی موضوعات چند ہیں مگر گہرے۔ پہلا، تکمیل۔ خداوند فرماتے ہیں: "یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں" (متی 5:17)۔ متی مسیحیت کو کوئی نئی ایجاد نہیں بتاتا بلکہ پرانے وعدوں کا پھل۔
دوسرا، آسمان کی بادشاہی۔ یہ کوئی محض آسمانی جگہ نہیں، بلکہ خدا کی حکومت ہے جو مسیح کے ساتھ اِس دنیا میں داخل ہو چکی ہے اور اُس کی واپسی پر کامل ہوگی۔ اِس بادشاہی کا آئین اُلٹا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اُس کا پہلا مبارک باد دل کے غریبوں کے لیے ہے (متی 5:3) اور اُس کا بادشاہ خدمت کرنے اور جان دینے آیا ہے۔
تیسرا، شاگردی۔ متی صرف یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کیا مانتے ہیں، بلکہ یہ بھی کہ آپ کس کے پیچھے چلتے ہیں۔ اِسی لیے اُس کی کتاب کا اختتام حکم پر ہوتا ہے، نہ کہ خیالات پر۔
چوتھا، حاضری۔ کتاب کے دونوں سرے "خدا ہمارے ساتھ" کے فقرے سے بندھے ہیں، اور اٹھارہویں باب میں بھی وعدہ ہے کہ جہاں دو یا تین اُس کے نام پر جمع ہوں وہاں وہ اُن کے درمیان ہے۔ اِس انجیل کی سب سے بڑی تسلی معلومات نہیں، صحبت ہے۔
پانچواں، کلیسیا۔ چاروں انجیلوں میں صرف متی کی انجیل میں لفظ "کلیسیا" آتا ہے، اور یہ پطرس کے اُس اقرار کے فوراً بعد آتا ہے: "تُو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے" (متی 16:16)۔ ایمانداروں کی جماعت کسی انسانی تنظیم پر نہیں، اِس اقرار کی چٹان پر بنتی ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
پہلی کنجی متی 1:21 ہے: "وہ بیٹا جنے گی اور تُو اُس کا نام یسوع رکھنا کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا۔" اِس ایک فقرے میں نام اور کام دونوں بندھے ہوئے ہیں۔ "یسوع" یعنی "خداوند نجات ہے"۔ فرشتہ یوسف کو یہ نہیں بتاتا کہ یہ بچہ روم کو نکال دے گا یا معیشت سنوار دے گا؛ وہ اُس مرض کی طرف اُنگلی کرتا ہے جس کے علاج کے بغیر باقی ہر شفا عارضی ہے۔ اور دیکھیں کہ کس کو نجات ملے گی: "اپنے لوگوں کو"۔ محصول لینے والے متی کے لیے یہ لفظ کانٹے کی طرح میٹھا تھا، کیونکہ اُسے قوم نے اپنے لوگوں سے خارج کر دیا تھا اور مسیح نے واپس شامل کر لیا۔ نجات کا آغاز اُس مقام سے ہوتا ہے جہاں آپ کا رجسٹر سب سے زیادہ سرخ ہے۔
دوسری کنجی متی 6:33 ہے: "بلکہ تم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔" لفظ "پہلے" دراصل ترتیب کا لفظ ہے، ترکِ دنیا کا نہیں۔ خداوند اِس سے پہلے دو مالکوں کی بات کر چکے ہیں اور پرندوں اور جنگلی سوسن کی مثال دے چکے ہیں۔ اُن کی دلیل یہ ہے کہ فکر کرنا بےدینی نہیں بلکہ بےاعتمادی ہے، اور اُس کا علاج کم خواہش نہیں بلکہ بڑی خواہش ہے: پہلے بادشاہی۔ جس آدمی نے عمر بھر دوسروں کی کمائی گنی، وہ اب لکھتا ہے کہ خزانہ آسمان پر رکھو۔ یہ ایک بدلے ہوئے دل کی گواہی ہے۔
تیسری کنجی متی 28:19 ہے: "پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔" اِس حکم سے پہلے ایک اعلان آتا ہے کہ آسمان اور زمین کا کُل اختیار مسیح کو دیا گیا ہے، اور اِس کے بعد ایک وعدہ آتا ہے کہ وہ دنیا کے آخر تک ساتھ ہے۔ یعنی مشن اختیار اور حاضری کے درمیان محفوظ ہے۔ "سب قوموں" کے الفاظ اُس دیوار کو گرا دیتے ہیں جس کے پیچھے مذہب اکثر آرام سے بیٹھ جاتا ہے۔ اور "شاگرد بناؤ" کا مطلب صرف فیصلہ کروانا نہیں، بلکہ پوری زندگی کو مسیح کے حکموں کے تحت لانا ہے۔
بادشاہ کا حکم اُس کی حاضری کے بغیر کبھی نہیں آتا۔
متی کی انجیل پڑھنے کا عملی نقشہ
اگر آپ یہ کتاب پہلی بار پڑھ رہے ہیں تو ایک مہینے کا سادہ منصوبہ بنائیں: روز ایک باب، اور ہر ہفتے کے آخر میں پچھلے سات بابوں پر ایک نظر۔ نسب نامے پر رُک کر مایوس نہ ہوں؛ اُسے ایک شاہی سند کی طرح پڑھیں اور اُن پانچ عورتوں کے نام تلاش کریں جن کی کہانیاں فضل کی گواہی ہیں۔
پہلے ہفتے میں باب ایک سے چار پڑھیں اور یہ نوٹ کریں کہ متی کتنی بار کہتا ہے کہ ایسا ہوا تاکہ نبی کی بات پوری ہو۔ اُن حوالوں کو پرانے عہد نامے میں کھول کر دیکھیں؛ یہی متی کا اپنا طریقہ ہے۔
دوسرے ہفتے میں پہاڑی وعظ کو ایک ہی نشست میں پڑھیں، بابوں پانچ سے سات تک، جیسے کوئی خطبہ سن رہا ہو۔ پھر واپس آ کر ایک ایک مبارک بادی پر ٹھہریں۔ متی 5:3 پر خاص طور پر ٹھہریں اور خود سے پوچھیں کہ میں خدا کے سامنے خالی ہاتھ آنے سے ڈرتا کیوں ہوں۔
تیسرے ہفتے میں بابوں آٹھ سے تیرہ تک معجزوں اور تمثیلوں کو ساتھ ساتھ پڑھیں۔ ایک کاغذ پر دو کالم بنائیں: بادشاہ نے کیا کیا، اور لوگوں نے کیا جواب دیا۔ آپ دیکھیں گے کہ ایمان اکثر غیر متوقع لوگوں میں نکلتا ہے۔ اِسی ہفتے متی 11:28 کو زبانی یاد کریں اور اپنی سب سے بھاری فہرست کے ساتھ اُسے پڑھیں۔
چوتھے ہفتے میں بابوں چودہ سے بیس تک پڑھیں اور متی 16:16 پر ٹھہر کر لکھیں کہ آپ خود مسیح کے بارے میں کیا اقرار کرتے ہیں۔ پھر بابوں اکیس سے پچیس تک یروشلیم کے آخری دن اور پھر بابوں چھبیس سے اٹھائیس تک دُکھ، صلیب اور جی اُٹھنا پڑھیں۔ متی 27:50 کے بعد رُک جائیں، دو منٹ خاموش بیٹھیں، اور پھر آگے پڑھیں۔
آخر میں پوری کتاب پر ایک اَور نظر ڈالیں، مگر اِس بار صرف اُن مقامات کو نشان زد کریں جہاں خداوند یسوع مسیح کی حاضری یا ساتھ ہونے کا ذکر ہے۔ متی 1:23 سے متی 28:20 تک، یہی وہ دھاگا ہے جو ساری کتاب کو سیتا ہے۔ اور روز پڑھنے سے پہلے ایک چھوٹی دعا کریں: اے خداوند، مجھے دل کا غریب بنا دے تاکہ میں تیری بادشاہی دیکھ سکوں۔
آئینہ
آپ نے کتنی بار حساب لگایا ہے کہ خدا کے سامنے آپ کا کھاتہ کہاں کھڑا ہے؟ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے دل میں ایک خفیہ رجسٹر رکھتے ہیں۔ ایک طرف کالم میں دعائیں، عبادت میں حاضری، دی گئی مدد، معاف کیے ہوئے لوگ۔ دوسری طرف وہ باتیں جو ہم کسی کو بتانا نہیں چاہتے۔ اور پھر ہم ساری زندگی اِس اُمید میں گزارتے ہیں کہ کسی دن پہلا کالم دوسرے سے بھاری ہو جائے۔ متی کی انجیل آپ کے ہاتھ سے وہ رجسٹر لے لیتی ہے اور کہتی ہے کہ بادشاہی اُن کی ہے جن کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دفتر میں جو دباؤ ہے، اُس کا سب سے گہرا سبب کام کا بوجھ نہیں بلکہ ثابت کرنے کی مجبوری ہو سکتی ہے۔ گھر میں جو تھکن ہے، وہ صرف جسمانی نہیں؛ آپ ایک اچھے باپ، ایک اچھی ماں، ایک اچھے بیٹے کی تصویر اُٹھائے پھرتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کوئی دیکھ لے کہ اندر سے کچھ ٹوٹ چکا ہے۔ پیسے کے معاملے میں جو بےچینی ہے، وہ اکثر یہ کہتی ہے کہ اگر بندوبست میرا نہ ہو تو کوئی نہیں کرے گا۔ اور جو تنہائی رات کو آ کر بیٹھ جاتی ہے، وہ سب سے سچی گواہ ہے کہ آپ کو معلومات کی نہیں، ساتھ کی ضرورت ہے۔
اِسی لیے خداوند کا بلاوا اِس کتاب کے بیچ میں دھرا ہے: "اے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تم کو آرام دوں گا" (متی 11:28)۔ غور کریں کہ وہ آپ سے پہلے بوجھ اُتارنے کو نہیں کہتے، بلکہ بوجھ سمیت آنے کو کہتے ہیں۔ اور جب آپ آ جاتے ہیں تو وہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑتے، کیونکہ جو کتاب "خدا ہمارے ساتھ" سے شروع ہوتی ہے وہ "میں تمہارے ساتھ ہوں" پر ختم ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کا کھاتہ کیسا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ اُسے کس کے ہاتھ میں دیتے ہیں۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو متی کی انجیل سمجھانے کا سب سے آسان راستہ کہانی کے کردار سے شروع کرنا ہے۔ بچوں کو بتائیں کہ متی ایک ایسا آدمی تھا جس کا کام لوگوں سے پیسے لینا اور اُن کا حساب لکھنا تھا، اور اِسی لیے لوگ اُسے پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک دن خداوند یسوع مسیح اُس کے پاس آئے اور کہا کہ میرے پیچھے آ جا۔ متی اُٹھ کر چل پڑا، اور بعد میں اُس نے یسوع کے بارے میں ایک پوری کتاب لکھی، تاکہ سب بچے اور بڑے جان لیں کہ اصل بادشاہ کون ہے۔
پھر ایک سادہ خاکہ بنائیں: ایک بادشاہ جو تاج نہیں بلکہ محبت کے ساتھ آیا، جو بیماروں کو چھوتا تھا، بچوں کو گود میں لیتا تھا، اور آخر میں ہمارے لیے صلیب پر جان دی اور تیسرے دن جی اُٹھا۔ اور اُس کا سب سے پیارا وعدہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے، اسکول میں بھی، رات کے اندھیرے میں بھی۔ بچے آسمانی باپ کی حاضری کا تصور جلد سمجھ لیتے ہیں، خاص طور پر جب ہم اُنہیں یہ بتائیں کہ یہ ساتھ کسی اچھے نمبر یا اچھے رویّے کا انعام نہیں بلکہ تحفہ ہے۔
عمر کے فرق کا خیال رکھنا ضروری ہے، کیونکہ تین سال کے بچے کو نسب نامہ سمجھانے کی کوشش بےکار ہوگی، مگر بارہ سال کا بچہ اُس میں دلچسپی لے سکتا ہے۔ ہماری ویب سائٹ پر مختلف عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال)، اسکول جانے والے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال)، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر)۔ اپنی گھریلو عبادت میں اُن میں سے مناسب حصہ چن لیں اور بچوں کے سوالوں کو جگہ دیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
متی کی انجیل کس نے لکھی؟
کتاب میں مصنف کا نام درج نہیں، مگر ابتدائی کلیسیا کی مسلسل گواہی یہ ہے کہ اِسے متی نے لکھا، وہی محصول لینے والا جسے خداوند یسوع مسیح نے کفرنحوم میں چوکی پر بیٹھے بلایا اور جو بارہ رسولوں میں شامل ہوا۔ اِس روایت کے حق میں ایک نہایت دلچسپ اندرونی شہادت بھی ہے: رسولوں کی فہرست میں مصنف اپنے نام کے ساتھ "محصول لینے والا" لکھتا ہے، جو اُس زمانے میں شرم کا لقب تھا۔ کوئی اجنبی کسی رسول کے بارے میں اِس طرح نہ لکھتا؛ یہ ایک ایسے آدمی کی آواز ہے جو اپنے ماضی کے مقابلے میں فضل کو زیادہ بڑا مانتا تھا۔
متی کی انجیل کب لکھی گئی؟
اِس بارے میں مسیحی اہلِ علم میں فرق موجود ہے۔ ایک بڑا حلقہ اِسے پچاس سے ساٹھ کی دہائی کے درمیان رکھتا ہے، یعنی یروشلیم کی تباہی سے پہلے، کیونکہ کتاب ہیکل کے قائم ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والے مسائل پر بات کرتی ہے۔ دوسرا حلقہ اِسے ستّر کے بعد کے عشروں میں رکھتا ہے۔ ایمان کے لیے یہ سوال فیصلہ کن نہیں، کیونکہ دونوں صورتوں میں یہ کتاب رسولی گواہی کے دائرے میں لکھی گئی اور ابتدائی کلیسیا نے اِسے فوراً بلا جھجک قبول کیا۔
متی کی انجیل نئے عہد نامے میں سب سے پہلے کیوں رکھی گئی ہے؟
اِس کی سب سے بڑی وجہ اُس کی پُل جیسی حیثیت ہے۔ متی کی انجیل ابرہام اور داؤد کے نسب نامے سے شروع ہوتی ہے اور بار بار یہ دکھاتی ہے کہ نبیوں کی باتیں مسیح میں پوری ہوئیں، اِس لیے ملاکی کے آخری صفحے کے بعد یہی کتاب سب سے قدرتی اگلا قدم بنتی ہے۔ اِس کے علاوہ اِس میں خداوند کی تعلیم منظم خطبوں کی صورت میں جمع ہے، جو ابتدائی کلیسیا میں شاگردی اور تعلیم کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہوتی تھی۔
متی اور مرقس کی انجیل میں بنیادی فرق کیا ہے؟
مرقس تیز رفتار ہے اور واقعات پر زور دیتا ہے، جبکہ متی تعلیم کو منظم پانچ خطبوں میں جمع کرتا ہے اور پرانے عہد نامے کے حوالے کثرت سے دیتا ہے۔ مرقس اپنے غیر یہودی قاریوں کے لیے یہودی رسوم کی وضاحت کرتا ہے، مگر متی فرض کرتا ہے کہ اُس کے قاری شریعت اور نبیوں سے واقف ہیں۔ اِس کے باوجود دونوں ایک ہی مسیح کی گواہی دیتے ہیں، اور اُن کا فرق تضاد نہیں بلکہ ایک ہی سچائی کے دو زاویے ہیں۔
"آسمان کی بادشاہی" کا کیا مطلب ہے؟
یہ فقرہ کسی جغرافیائی مقام کا نام نہیں بلکہ خدا کی حکومت کا نام ہے۔ متی یہودی قاریوں کے احترام کے پیش نظر اکثر "خدا" کے نام کے بجائے "آسمان" کا لفظ استعمال کرتا ہے، اِس لیے یہ اُسی حقیقت کو بیان کرتا ہے جسے دوسری انجیلیں "خدا کی بادشاہی" کہتی ہیں۔ یہ بادشاہی مسیح کے آنے سے شروع ہو چکی ہے، ایمانداروں کے دلوں اور جماعت میں کام کر رہی ہے، اور مسیح کی واپسی پر ظاہری طور پر کامل ہوگی۔ اِس کا آئین متی 5:3 سے شروع ہوتا ہے۔
متی کی انجیل کے پانچ خطبے کون سے ہیں؟
پہلا خطبہ پہاڑی وعظ ہے جو بابوں پانچ سے سات تک ہے اور بادشاہی کے شہریوں کا کردار سکھاتا ہے۔ دوسرا دسویں باب میں شاگردوں کو بھیجنے کا خطبہ ہے۔ تیسرا تیرہویں باب کی تمثیلیں ہیں جو بادشاہی کے چھپے ہوئے بڑھنے کا بیان کرتی ہیں۔ چوتھا اٹھارہویں باب میں جماعت کی زندگی اور معافی کا خطبہ ہے۔ اور پانچواں بابوں چوبیس اور پچیس میں مسیح کی واپسی اور آخری عدالت کا خطبہ ہے۔ ہر خطبہ ایک ملتے جلتے جملے پر ختم ہوتا ہے، جو متی کی سوچی سمجھی ترتیب کا ثبوت ہے۔
متی 1 کا نسب نامہ کیوں اہم ہے، کیا اُسے چھوڑا جا سکتا ہے؟
نسب نامہ چھوڑ دینا اِس کتاب کی بنیاد چھوڑ دینے کے برابر ہے۔ یہ فہرست ثابت کرتی ہے کہ خداوند یسوع مسیح واقعی داؤد کے تخت کے وارث اور ابرہام کے وعدے کے وارث ہیں، یعنی وہ کسی خلا میں سے نہیں نکلے بلکہ خدا کے پرانے وعدوں کے راستے پر آئے۔ اِس کے علاوہ اِس فہرست میں تمر، راحب، روت، اُوریاہ کی بیوی اور مریم کے نام شامل ہیں، اور اُن میں سے کئی کی کہانیاں داغ دار ہیں۔ یہی فضل کا اعلان ہے: بادشاہ اپنے خاندان کے کالے صفحے چھپاتا نہیں۔
کیا متی کی انجیل صرف یہودیوں کے لیے لکھی گئی تھی؟
اِس کا رنگ یقیناً یہودی ہے، مگر اِس کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہے۔ ایک طرف یہ شریعت، نبیوں اور یہودی محاوروں سے واقف قاری کو مخاطب کرتی ہے، دوسری طرف یہی انجیل مشرق سے آنے والے نجومیوں کو سجدہ کرتے دکھاتی ہے، ایک رومی صوبہ دار کے ایمان کی تعریف کرتی ہے، اور آخر میں یہ حکم دیتی ہے کہ "سب قوموں کو شاگرد بناؤ" (متی 28:19)۔ یعنی یہ کتاب اسرائیل کے وعدوں سے شروع ہو کر دنیا کے کناروں تک جاتی ہے۔
پہاڑی وعظ کیا ہے اور اُس کا مقصد کیا ہے؟
پہاڑی وعظ متی کے بابوں پانچ سے سات تک درج خداوند یسوع مسیح کا سب سے مشہور خطبہ ہے، جس میں مبارک بادیاں، نمک اور نور کی مثال، شریعت کی اصل روح، دعا کا نمونہ، فکر سے آزادی، اور دو راستوں کا انتخاب شامل ہیں۔ اِس کا مقصد نیا اور بھاری قانون دینا نہیں بلکہ یہ دکھانا ہے کہ بادشاہی کی زندگی دل سے شروع ہوتی ہے۔ اِسی لیے اُس کا آغاز کارکردگی سے نہیں، محتاجی سے ہوتا ہے: "مبارک ہیں وہ جو دِل کے غریب ہیں" (متی 5:3)۔
متی کی انجیل کی سب سے اہم آیت کون سی ہے؟
ایک آیت چننا مشکل ہے، مگر بہت سے مفسر متی 1:21 کو کتاب کا مقصد بیان کرنے والی آیت مانتے ہیں، کیونکہ وہاں بادشاہ کے نام اور کام کا اعلان ہے کہ "وہ اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا"۔ اِس کے ساتھ متی 28:19 کو کتاب کا خاتمہ اور مأموریت کہا جاتا ہے، اور متی 16:16 کو اُس کا مرکزی اقرار۔ اگر ایک ہی دھاگا چاہیں تو وہ "خدا ہمارے ساتھ" ہے، جو پہلے باب میں شروع ہوتا اور آخری آیت میں پورا ہوتا ہے۔
متی 27:50 میں مسیح کی موت کا بیان اتنا مختصر کیوں ہے؟
متی خداوند کی موت کو جذباتی تفصیل سے نہیں بلکہ ادب اور ہیبت کے ساتھ لکھتا ہے: "یسوع نے پھر بڑی آواز سے چلا کر جان دے دی" (متی 27:50)۔ اُس کا زور اُن نشانوں پر ہے جو فوراً بعد آتے ہیں، یعنی ہیکل کا پردہ پھٹنا، زمین کا ہلنا اور قبروں کا کھلنا، کیونکہ اِن نشانوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ موت کوئی شکست نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز تھی۔ بڑی آواز خود گواہی دیتی ہے کہ اُس نے اپنی جان بےبسی میں نہیں، اختیار کے ساتھ دی۔
متی کی انجیل پڑھنا کہاں سے شروع کروں؟
سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ روزانہ ایک باب پڑھیں اور کتاب کو شروع سے آخر تک ایک مہینے میں مکمل کریں۔ اگر ابتدا میں نسب نامہ بھاری لگے تو پہلے پہاڑی وعظ پڑھ لیں، پھر پہلے باب پر واپس آ جائیں۔ ہر باب کے بعد ایک سوال لکھیں: اِس حصے میں بادشاہ کے بارے میں مَیں نے کیا نیا سیکھا؟ اور اپنے پڑھنے کی ابتدا ایک مختصر دعا سے کریں، کیونکہ یہ کتاب معلومات کے لیے نہیں بلکہ پیچھے چلنے کے لیے لکھی گئی ہے۔
اختتام میں
متی کی انجیل ایک ایسے آدمی کا رجسٹر ہے جس نے حساب لکھنا چھوڑ کر فضل لکھنا سیکھا۔ وہی ہاتھ جو قیصر کے لیے قرضے درج کرتا تھا، اب ایک ایسے بادشاہ کا اعلان نامہ لکھتا ہے جو قرض معاف کرنے، بوجھ اُٹھانے اور اپنی جان فدیہ میں دینے آیا۔ اِسی لیے اِس کتاب کا آغاز شاہی سند سے ہوتا ہے، اُس کا وسط ایک نرم بلاوے سے، اُس کا عروج ایک خالی قبر سے، اور اُس کا اختتام ایک ایسے وعدے سے جو ہر تنہائی کو توڑ دیتا ہے۔ دونوں سرے ایک ہی سچائی سے بندھے ہیں: خدا ہمارے ساتھ۔
اب کتاب اُٹھائیں اور اُسے کسی مطالعے کے مضمون کی طرح نہ پڑھیں، بلکہ اُس بادشاہ کی آواز کی طرح جو آپ کے کام کی میز کے پاس سے گزر رہا ہے۔ متی 5:3 سے پوچھیں کہ آپ کا دل کہاں سے خالی ہے، متی 6:33 سے پوچھیں کہ آپ کی ترتیب کہاں سے اُلٹی ہے، متی 11:28 سے پوچھیں کہ آپ کا بوجھ کہاں پڑا ہے، اور متی 28:19 سے پوچھیں کہ آپ کے آس پاس کون ہے جسے یہ خبر سنانی ہے۔ اور جب آپ آخری صفحہ بند کریں، تو اِس یقین کے ساتھ اُٹھیں کہ جو ساتھ چلنے کا وعدہ کرتا ہے، وہ اپنے وعدے کا خود ضامن ہے۔