1 کرنتھیوں کے خط کا تعارف اور پیغام
تعارف
ایک بندرگاہی شہر کا تصور کریں جہاں جہاز لنگر ڈالتے ہیں، تاجروں کی جیبیں بھری ہوئی ہیں، کھیلوں کے میدان تالیوں سے گونجتے ہیں، اور ہر گلی میں کسی نہ کسی دیوتا کا مندر ہے۔ اسی شہر کے ایک کرائے کے مکان میں چند درجن لوگ اکٹھے ہوتے ہیں: کچھ غلام، کچھ آزاد، ایک دو امیر گھرانوں کے سرپرست، چند یہودی، زیادہ تر غیر یہودی۔ وہ خود کو مسیح کا بدن کہتے ہیں۔ اور وہ بری طرح بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی پولس کا نام لیتا ہے، کوئی اپلوس کا، کسی کے گھر میں شراب کی زیادتی ہے تو کسی کے پاس روٹی بھی نہیں، عدالتوں میں ایک دوسرے پر مقدمے چل رہے ہیں، اور کچھ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ مردوں کی قیامت کوئی بات نہیں۔
اسی جماعت کو پولس رسول نے وہ خط لکھا جسے ہم پہلا کرنتھیوں کہتے ہیں۔ اس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ یہ خط کس نے، کب اور کن حالات میں لکھا، اس کی عمارت کیسے کھڑی ہے، اس کا مرکزی پیغام کیا ہے، اور یہ کیوں آج کی کلیسیا کا سب سے زیادہ ضرورت والا خط ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
اس رہنما میں ہم پہلے کرنتھیوں کو "کلیسیائی مسائل کے حل کی فہرست" کی طرح نہیں پڑھیں گے۔ ہم اسے ایک ہی لفظ کی پیروی کرتے ہوئے پڑھیں گے: بدن۔ مسیح کا بدن صلیب پر توڑا گیا، اور اسی صلیب نے ایک نیا بدن پیدا کیا۔ اسی لیے پولس آپ کے جسم، میز کی روٹی، جماعت کے اعضا اور قیامت کے جی اٹھنے والے بدن کے بارے میں ایک ہی سانس میں بات کرتا ہے۔ کرنتھس کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ روحانیت کو بدن سے الگ کر بیٹھے تھے۔ پولس کا جواب سادہ اور انقلابی ہے: صلیب کا پیغام ہوا میں نہیں رہتا، وہ گوشت پوست کا ایک بدن بن جاتا ہے۔ یہی زاویہ پورے صفحے میں ہمارے ساتھ چلے گا۔
بائبل پہلے کرنتھیوں کے خط کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
خط اپنی پہچان خود کراتا ہے۔ لکھنے والا پولس رسول ہے، اور اس کے ساتھ سوستھنیس کا نام بھی درج ہے (1 کرنتھیوں 1:1)۔ مخاطب "کرنتھس میں خدا کی کلیسیا" ہے، یعنی وہی جماعت جو پولس نے اپنے دوسرے مشنری سفر کے دوران تقریباً اٹھارہ مہینے ٹھہر کر قائم کی تھی (اعمال 18)۔ خط لکھنے کی جگہ افسس ہے اور وقت غالباً 53 سے 55 عیسوی کے درمیان، پولس کے تیسرے سفر کے دوران، جب وہ افسس میں لمبے عرصے تک تعلیم دے رہا تھا۔ یہ بات خود خط بتاتا ہے، کیونکہ پولس افسس میں پنتیکست تک ٹھہرنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے (1 کرنتھیوں 16:8)۔
لکھنے کی وجہ کوئی نظری بحث نہیں تھی۔ خلوئے کے گھر کے لوگوں نے پولس تک خبریں پہنچائی تھیں کہ کلیسیا میں گروہ بندی ہو گئی ہے۔ اسی پر پولس اپنی پہلی درخواست رکھتا ہے: "اب اے بھائیو! میں ہمارے خداوند یسوع مسیح کے نام کے وسیلہ سے تم سے التماس کرتا ہوں کہ تم سب ایک ہی بات کہو اور تم میں تفرقے نہ ہوں بلکہ باہم یک دل اور یک رای ہو کر رہو" (1 کرنتھیوں 1:10)۔ یہ حکم نہیں بلکہ التماس ہے، اور وہ خداوند کے نام کے وسیلہ سے کی گئی ہے۔ پولس اختیار کی چھڑی نہیں گھماتا، وہ اس نام کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں یہ سب لوگ بپتسمہ پا چکے ہیں۔ اتحاد کی بنیاد سب کی رائے کا ایک ہونا نہیں بلکہ سب کا ایک ہی مصلوب خداوند کے تابع ہونا ہے۔
اور یہی پولس کی پہلی چال ہے۔ وہ گروہ بندی کا علاج تنظیمی اصلاحات سے نہیں بلکہ صلیب سے کرتا ہے: "کیونکہ صلیب کا پیغام ہلاک ہونے والوں کے نزدیک تو بیوقوفی ہے مگر ہم نجات پانے والوں کے نزدیک خدا کی قدرت ہے" (1 کرنتھیوں 1:18)۔ کرنتھس میں عزت کا سکہ چلتا تھا: کس کا خطیب زیادہ فصیح ہے، کس کا سرپرست زیادہ بااثر ہے، کس کے پاس زیادہ گہرا علم ہے۔ صلیب اس سارے بازار کو بند کر دیتی ہے، کیونکہ صلیب پر لٹکا ہوا آدمی رومی دنیا کی نظر میں ذلت کی انتہا تھا۔ جب خدا نے اپنی قدرت کو ایسی جگہ ظاہر کیا، تو شیخی کے لیے کوئی کونا باقی نہ رہا۔ پولس یاد دلاتا ہے کہ وہ خود ان کے پاس فصاحت کے زور پر نہیں آیا تھا، بلکہ اس نے یہ طے کر لیا تھا کہ ان کے درمیان مسیح مصلوب کے سوا کچھ نہ جانے (1 کرنتھیوں 2:2)۔
مگر صلیب صرف ایک نظریہ نہیں۔ وہ فوراً بدن کو چھو لیتی ہے۔ چھٹے باب میں، جہاں پولس زناکاری کا مسئلہ اٹھاتا ہے، وہ ایک حیران کن جملہ لکھتا ہے: "کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدس ہے جو تم میں ہے اور خدا کی طرف سے تم کو ملا ہے؟ اور تم اپنے نہیں" (1 کرنتھیوں 6:19)۔ کرنتھس کے کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ جسم ایک عارضی چیز ہے، اس لیے اس کے ساتھ جو کیا جائے بےاثر ہے۔ پولس اس سوچ کو جڑ سے کاٹتا ہے۔ جسم مقدس ہے، مندر ہے، خریدا ہوا ہے۔ خدا نے روح کو نہیں، آپ کو خریدا ہے، اور آپ ہاتھ پیر اور بھوک پیاس کے ساتھ ایک پورا انسان ہیں۔
یہی سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ گیارہویں باب میں میز پر روٹی توڑی جاتی ہے، اور پولس روایت کو بہت احترام سے آگے بڑھاتا ہے: "کیونکہ یہ بات مجھے خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچا دی کہ خداوند یسوع نے جس رات وہ پکڑوایا گیا روٹی لی" (1 کرنتھیوں 11:23)۔ بارہویں باب میں وہی روٹی جماعت بن جاتی ہے: "کیونکہ جس طرح بدن ایک ہے اور اس کے اعضا بہت سے ہیں اور بدن کے سب اعضا گو بہت سے ہیں مگر باہم مل کر ایک ہی بدن ہیں اسی طرح مسیح بھی ہے" (1 کرنتھیوں 12:12)۔ اور پندرہویں باب میں یہ بدن قبر سے باہر نکلتا ہے: "لیکن فی الحقیقت مسیح مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں ان میں پہلا پھل ہوا" (1 کرنتھیوں 15:20)۔ ایک ہی لڑی: مصلوب بدن، خریدا ہوا بدن، توڑی ہوئی روٹی، جماعت کا بدن، جی اٹھا ہوا بدن۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
پہلا کرنتھیوں پرانے عہدنامے کے بغیر سمجھ میں نہیں آتا۔ پولس ایک یہودی رسول ہے جو غیر یہودی شہر میں اسرائیل کی کہانی لے کر آیا ہے، اور وہ اس کہانی کو کھلے دل سے استعمال کرتا ہے۔ جب وہ انسانی حکمت کے گھمنڈ کو توڑتا ہے تو یسعیاہ کا حوالہ دیتا ہے، اور جب فخر کی بات آتی ہے تو یرمیاہ کی اس بات کی طرف لے جاتا ہے کہ فخر کرنے والا خداوند پر فخر کرے (1 کرنتھیوں 1:31)۔ جب وہ جماعت میں چھپے گناہ پر بات کرتا ہے تو خمیر اور فسح کی زبان اٹھاتا ہے: "کیونکہ ہمارا بھی فسح یعنی مسیح قربان ہوا" (1 کرنتھیوں 5:7)۔ مصر سے نکلنے کی رات اب کرنتھس کے ایک گھر میں جاری ہے۔
دسویں باب میں وہ بیابان کی نسل کو آئینہ بنا کر سامنے رکھتا ہے: بادل، سمندر، من، چٹان کا پانی، اور پھر بت پرستی اور گرنا۔ وہ صاف کہتا ہے کہ یہ سب ہماری تعلیم کے لیے لکھا گیا۔ اسرائیل کو نجات ملی تھی مگر کئی لوگ راستے میں بےصبر ہو کر بھٹک گئے، اور کلیسیا بھی نعمتوں کے باوجود بھٹک سکتی ہے۔ چوکسی روحانی کمزوری کی علامت نہیں، وہ ایمان کا حصہ ہے۔
مقدس کا سلسلہ بھی یہاں مکمل ہوتا ہے۔ خیمۂ اجتماع اور ہیکل وہ جگہیں تھیں جہاں خدا کا جلال بستا تھا۔ پولس تیسرے باب میں جماعت کو خدا کا مقدس کہتا ہے، اور چھٹے باب میں ایمان دار کے جسم کو۔ جو کبھی یروشلیم میں پتھروں کی ایک عمارت تھی، اب دو ٹانگوں پر چلتی ہے۔ اسی طرح "پہلا پھل" کی اصطلاح احبار 23 کی اس عید سے آتی ہے جہاں فصل کا پہلا گٹھا خداوند کے سامنے لایا جاتا تھا، اس یقین کے ساتھ کہ باقی فصل آ رہی ہے۔ مسیح کا جی اٹھنا ایک انوکھا واقعہ نہیں بلکہ ایک عالمگیر فصل کا آغاز ہے۔
اور آدم کا سلسلہ سب سے گہرا ہے۔ پندرہویں باب میں پولس آدم اور مسیح کو آمنے سامنے رکھتا ہے: ایک سے موت آئی، دوسرے سے زندگی؛ ایک خاکی تھا، دوسرا آسمانی۔ پیدائش 2 کی مٹی سے بنی ہوئی شکل اب مسیح میں اپنی آخری صورت پاتی ہے۔ ہوسیع نبی کے وہ الفاظ جن میں موت کو چیلنج کیا گیا تھا، پولس کی قلم سے فتح کا گیت بن جاتے ہیں (1 کرنتھیوں 15:55)۔
پس جس بدن کی بات ہم کر رہے ہیں، وہ بائبل کی پوری کہانی کا مرکز ہے: خدا نے مٹی سے بدن بنایا، اس میں بسنے کے لیے مقدس بنایا، اپنے بیٹے کو ایک حقیقی بدن میں بھیجا، اسے صلیب پر دیا، اسے قبر سے اٹھایا، اور آخر میں اپنے لوگوں کے بدنوں کو نیا کرے گا۔
صلیب روح تک محدود نہیں رہتی، وہ بدن کو چھو لیتی ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
یہ خط پہلی نظر میں بےترتیب لگتا ہے، مگر اس کی ترتیب بہت واضح ہے۔ پہلے چار باب ایک ہی موضوع پر ہیں: تفرقہ اور صلیب کی حکمت۔ پولس گروہ بندی کی خبر سے شروع کرتا ہے، پھر دنیاوی حکمت اور خدا کی حکمت کا مقابلہ کرتا ہے، اور رسولوں کے کام کو ایک نئی روشنی میں پیش کرتا ہے: وہ ستارے نہیں، خدا کے کھیت کے مزدور اور عمارت کے معمار ہیں۔ جماعت میں لیڈر شپ کی پرستش کا علاج یہی ہے کہ بونے والا اور سینچنے والا کچھ بھی نہیں، بڑھانے والا خدا ہے۔
پانچواں اور چھٹا باب اخلاقی معاملات پر ہیں: ایک کھلا جنسی گناہ جسے کلیسیا نظرانداز کر رہی تھی، بھائیوں کے درمیان عدالتی مقدمے، اور جسم کے بارے میں غلط آزادی۔ یہاں پولس وہ اصول رکھتا ہے جو خط میں بار بار آتا ہے: ہر چیز جائز ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز مفید ہے۔
ساتواں باب شادی، تنہائی، طلاق اور جنسی تعلق پر پولس کی سب سے تفصیلی تعلیم ہے، اور وہ اسے ایک ہنگامی وقت کے پس منظر میں رکھتا ہے: دنیا کی صورت بدل رہی ہے، اس لیے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ، دونوں خداوند کے لیے جینے کو اپنا اصل پیشہ سمجھیں۔
آٹھواں سے دسواں باب ایک نازک مسئلہ پر بحث ہے: بتوں کے آگے قربان کیا ہوا گوشت۔ پولس یہاں نہ محض "آزاد ہو" کہتا ہے اور نہ صرف "پرہیز کرو"۔ وہ علم اور محبت میں فرق کرتا ہے، اپنی رسولی حقوق کو چھوڑنے کی مثال دیتا ہے، اور آخر میں ایک سنہری اصول دیتا ہے: "پس تم کھاؤ یا پیو یا جو کچھ کرو سب خدا کے جلال کے لیے کرو" (1 کرنتھیوں 10:31)۔
گیارہواں سے چودھواں باب عبادت کے بارے میں ہیں۔ سروں کے ڈھانکنے کا معاملہ، خداوند کے عشائیہ میں امیر غریب کی تفریق، روحانی نعمتوں کا اختلاف، محبت کا باب، اور نبوت اور غیر زبانوں کے بارے میں عملی ہدایات۔ یہاں بدن کی تصویر عروج پر پہنچتی ہے: ایک بدن، بہت اعضا، ہر ایک ضروری، کوئی بھی خودکفیل نہیں۔
پندرہواں باب خط کی چوٹی ہے: مسیح کی قیامت کی گواہی، اس کے انکار کے نتائج، اور جی اٹھنے والے بدن کی نوعیت۔ سولہواں باب نہایت روزمرہ ہے: یروشلیم کے غریبوں کے لیے چندہ، سفر کے ارادے، کچھ نام، اور آخری نصیحتیں۔ یہ اتفاق نہیں کہ خط چندے اور سلاموں پر ختم ہوتا ہے۔ جس جماعت نے صلیب کی حکمت سیکھ لی ہو، اس کا ثبوت اس کے بٹوے اور اس کے رشتوں میں نظر آتا ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
پہلی کلید 1 کرنتھیوں 1:18 ہے: "کیونکہ صلیب کا پیغام ہلاک ہونے والوں کے نزدیک تو بیوقوفی ہے مگر ہم نجات پانے والوں کے نزدیک خدا کی قدرت ہے۔" غور کریں کہ پولس دو گروہ بناتا ہے، مگر ان کی تقسیم ذہانت یا تعلیم پر نہیں۔ وہی پیغام ایک کان میں مذاق اور دوسرے کان میں قدرت بن جاتا ہے۔ اس آیت میں ایک آزادی چھپی ہے: انجیل کو دنیا کی نظر میں معقول بنانے کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر نہیں۔ ہمارا کام صلیب کا اعلان ہے، بدلنے کا کام خدا کا ہے۔ اور جب جماعت اس بات کو یاد رکھتی ہے تو خطیبوں کے گرد گروہ بندی خود ہی ٹوٹنے لگتی ہے۔
دوسری کلید 1 کرنتھیوں 12:12 ہے: "کیونکہ جس طرح بدن ایک ہے اور اس کے اعضا بہت سے ہیں اور بدن کے سب اعضا گو بہت سے ہیں مگر باہم مل کر ایک ہی بدن ہیں اسی طرح مسیح بھی ہے۔" آخری جملے پر رکیے۔ پولس یہ نہیں کہتا کہ "اسی طرح کلیسیا بھی ہے"، بلکہ "اسی طرح مسیح بھی ہے"۔ یعنی جماعت مسیح کی کوئی تنظیم نہیں، وہ دنیا میں اس کی موجودگی کی صورت ہے۔ اسی لیے کسی عضو کو حقیر جاننا صرف بدتمیزی نہیں بلکہ مسیح کے بدن کو زخمی کرنا ہے۔ اور اسی لیے آپ کی جگہ ناقابلِ تبدیل ہے: ایک ہاتھ کو کان بننے کی ضرورت نہیں۔
تیسری کلید 1 کرنتھیوں 15:20 ہے: "لیکن فی الحقیقت مسیح مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں ان میں پہلا پھل ہوا۔" "فی الحقیقت" کا لفظ پورے باب کی دلیل کو ایک لمحے میں موڑ دیتا ہے۔ اس سے پہلے پولس فرض کر کے بات کرتا ہے کہ اگر مسیح نہیں جی اٹھا تو منادی اور ایمان دونوں بےفائدہ ہیں (1 کرنتھیوں 15:14)۔ پھر وہ خیالی دنیا سے نکل کر تاریخ پر قدم رکھتا ہے۔ اور جونہی وہ قیامت کو حقیقت مانتا ہے، وہ اسے تنہا واقعہ نہیں رہنے دیتا: مسیح پہلا پھل ہے، اور پہلا پھل ہمیشہ باقی فصل کا وعدہ ہوتا ہے۔ قبر کے سامنے کھڑے ایمان دار کے لیے یہ ایک خالی تسلی نہیں، یہ فصل کی پکی ہوئی خوشبو ہے۔
اس خط کو پڑھنے کا عملی رہنما
اس خط کو پڑھنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسے ٹکڑوں میں نہ توڑیں بلکہ اس کی اپنی چال پر چلیں۔ پہلی بار پورا خط ایک ہی نشست میں پڑھ لیں، جیسے آپ کسی کا خط پڑھتے ہیں، اور نوٹ کریں کہ پولس کہاں سے کہاں جاتا ہے۔ اس پہلی پڑھائی میں تفصیلات میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔
دوسری بار چار حصوں میں پڑھیں۔ پہلے ہفتے باب 1 سے 4، اور ہر روز یہ سوال سامنے رکھیں: صلیب میری عزت اور شناخت کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ دوسرے ہفتے باب 5 سے 10، اور سوال یہ ہو: میری آزادی دوسروں پر کیا اثر ڈالتی ہے؟ تیسرے ہفتے باب 11 سے 14، اور سوال یہ: میری عبادت اور میری خدمت جماعت کو بناتی ہے یا صرف مجھے نمایاں کرتی ہے؟ چوتھے ہفتے باب 15 اور 16، اور سوال یہ: اگر میں واقعی جی اٹھنے کا انتظار کر رہا ہوں تو میرا پیسہ، میرا وقت اور میری محنت کہاں لگ رہی ہے؟
پڑھتے ہوئے اعمال 18 اور اعمال 19 ساتھ رکھیں، تاکہ آپ کے سامنے کرنتھس کی کلیسیا کی پیدائش اور افسس میں پولس کی حالت دونوں واضح ہوں۔ دوسرا کرنتھیوں اس کے بعد پڑھیں، کیونکہ وہ بتاتا ہے کہ اس خط کے بعد کیا ہوا: کچھ دل نرم ہوئے، کچھ لوگ پولس کے خلاف کھڑے ہوئے، اور رسول نے آنسوؤں میں دوبارہ قلم اٹھایا۔
اور ایک چھوٹی سی نصیحت: تیرہواں باب اپنی جگہ سے نکال کر نہ پڑھیں۔ اسے بارہویں اور چودھویں باب کے بیچ میں ہی رہنے دیں، جہاں یہ نعمتوں کی چھینا جھپٹی کے بیچ ایک چاقو کی طرح چلتا ہے۔ اور جب خط ختم کریں تو آخری آیتوں میں پولس کی وہ مختصر نصیحت یاد رکھیں کہ جو کچھ کرتے ہو محبت سے کرو (1 کرنتھیوں 16:14)۔
آئینہ
آپ نے کبھی کسی گروہ بندی میں حصہ لیا ہے؟ شاید آپ نے اپنے چرچ کے بارے میں یہ جملہ کہا ہو: "جب تک وہ پادری تھا، سب ٹھیک تھا۔" یا شاید آپ نے کسی گروپ چیٹ میں وہ پیغام آگے بڑھا دیا جس سے کسی بھائی کی عزت کم ہوئی۔ پولس آپ کو ایک بار پھر 1 کرنتھیوں 1:10 کے سامنے بٹھاتا ہے: یک دل اور یک رای ہو کر رہو۔ یہ محض ایک خواہش نہیں، خداوند یسوع مسیح کے نام کے وسیلہ سے کی گئی التماس ہے۔
اور اب ایک زیادہ قریب کی بات۔ آپ اپنے جسم کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ وہ موبائل جو رات کو آپ کو تنہائی میں لے جاتا ہے، وہ تھکن جسے آپ کئی سال سے "مجبوری" کہہ کر ٹال رہے ہیں، وہ کھانا جو آپ غم چھپانے کے لیے کھاتے ہیں، وہ ہاتھ جو آپ اپنے گھر والوں پر اٹھاتے ہیں۔ 1 کرنتھیوں 6:19 آپ سے کہتا ہے کہ یہ جسم مقدس ہے اور آپ اپنے نہیں۔ یہ آیت شرمندہ کرنے کے لیے نہیں لکھی گئی۔ یہ آپ کو بتاتی ہے کہ آپ کی قیمت دی جا چکی ہے، اس لیے آپ کا جسم کوڑے دان نہیں بلکہ ایک مندر ہے۔
پیسے کی بات بھی ہونی چاہیے۔ کرنتھس میں امیر لوگ خداوند کے میز پر پہلے پہنچ جاتے اور مزدور شام کو خالی ہاتھ آتے۔ آپ کی جماعت میں وہ خالی ہاتھ کون ہے؟ کس کا نام آپ کے دعا کی فہرست میں ہے مگر آپ کے بجٹ میں نہیں؟
اور آخر میں، وہ قبر جس کے سامنے آپ کھڑے ہوئے تھے۔ ماں، باپ، بچہ، دوست۔ 1 کرنتھیوں 15:20 آپ سے کوئی فلسفہ نہیں مانگتا، صرف ایک یقین دیتا ہے: مسیح پہلا پھل ہے، اور فصل آ رہی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو آپ کے آج کے آنسو آخری لفظ نہیں ہیں، اور آپ کی خدمت، آپ کی ایمان داری، آپ کا صبر، کچھ بھی رائیگاں نہیں جاتا۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو یہ خط سمجھانے کا آسان راستہ "بدن" کی تصویر ہے، کیونکہ بچے اپنے ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور کان خود دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں: کیا آنکھ اکیلی کھانا اٹھا سکتی ہے؟ کیا ہاتھ اکیلا دیکھ سکتا ہے؟ پھر بتائیں کہ پولس نامی ایک آدمی نے ایک ایسے شہر کے مسیحیوں کو خط لکھا جہاں لوگ ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے "میں تم سے بہتر ہوں"۔ پولس نے انہیں سمجھایا کہ کلیسیا خداوند یسوع کے بدن کی طرح ہے، جہاں ہر ایک کی ضرورت ہے اور کوئی فاضل نہیں۔
چھوٹے بچوں کے لیے یہ بات یہاں تک کافی ہے، ساتھ میں یہ سادہ خوشخبری کہ خداوند یسوع نے ہمارے لیے اپنا بدن دیا اور وہ مردوں میں سے جی اٹھا۔ بڑے بچوں کے ساتھ آپ تیرہواں باب پڑھ کر بات کر سکتے ہیں کہ محبت صرف محسوس کرنے کی چیز نہیں بلکہ کرنے کی چیز ہے، جیسے صبر کرنا اور حسد نہ کرنا۔ نوجوانوں کے ساتھ صلیب کی "بیوقوفی" پر بات کیجیے، کیونکہ وہ خود روز اس دباؤ میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے۔
فیتھ نیٹ ورک پر مختلف عمروں کے مطابق الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے، سات سے بارہ سال کے اسکول جانے والے بچوں کے لیے، اور بارہ سال سے اوپر کے نوجوانوں کے لیے۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وضاحت کا انتخاب کیجیے اور اسے خاندانی عبادت کا حصہ بنائیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کرنتھیوں کا خط کس نے لکھا؟
پہلا کرنتھیوں پولس رسول نے لکھا، اور خط کے پہلے ہی جملے میں اس کے ساتھ سوستھنیس کا نام بھی شامل ہے (1 کرنتھیوں 1:1)۔ پولس نے یہ جماعت خود قائم کی تھی، اس لیے وہ روحانی باپ کے لہجے میں لکھتا ہے، کبھی سختی سے اور کبھی نہایت نرمی سے۔ کلیسیا کی تاریخ میں شروع ہی سے اس خط کی پولسی حیثیت پر اتفاق رہا ہے، اور پہلی صدی کے اختتام پر روم سے لکھے گئے ایک خط میں بھی اس کا حوالہ ملتا ہے۔ ابتدائی اور واضح گواہی کے لحاظ سے یہ پولس کے سب سے مستحکم خطوں میں سے ہے۔
یہ خط کب اور کہاں سے لکھا گیا؟
پولس نے یہ خط افسس شہر سے لکھا، اپنے تیسرے مشنری سفر کے دوران، جب وہ وہاں تین سال کے قریب خدمت کر رہا تھا (اعمال 19)۔ تاریخ کا اندازہ عموماً 53 سے 55 عیسوی کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ خط خود اشارہ دیتا ہے، کیونکہ پولس لکھتا ہے کہ وہ پنتیکست تک افسس میں ٹھہرے گا اور پھر مکدنیہ کے راستے سے کرنتھس آنے کا ارادہ رکھتا ہے (1 کرنتھیوں 16:5 تا 16:8)۔ یعنی یہ خط انجیلوں کی تحریر سے پہلے لکھا گیا، جو اسے مسیح کی قیامت اور خداوند کے عشائیہ کی قدیم ترین تحریری گواہیوں میں شامل کرتا ہے۔
کرنتھس شہر کیسا تھا اور اس سے خط سمجھنے میں کیا فرق پڑتا ہے؟
کرنتھس یونان کا ایک رومی نوآبادیاتی شہر تھا جو 44 قبل مسیح میں دوبارہ آباد کیا گیا اور صوبہ اخیہ کا مرکز بن گیا۔ دو بندرگاہوں کی وجہ سے وہاں تجارت، پیسہ اور آنے جانے والے لوگوں کا ہجوم تھا، اور اس کے ساتھ عزت اور مرتبے کی ایک شدید ثقافت۔ لوگ سرپرستی، فصاحت اور سماجی رتبے سے اپنی پہچان بناتے تھے۔ جب آپ یہ پس منظر سامنے رکھتے ہیں تو پولس کی ساری دلیل چمک اٹھتی ہے: صلیب کا پیغام اس رتبے کے بازار کو گرا دیتا ہے، کیونکہ صلیب پر لٹکنا اس معاشرے میں سب سے بڑی بےعزتی تھی۔
پولس نے کرنتھیوں کو کتنے خط لکھے تھے؟
بائبل میں ہمارے پاس دو خط ہیں، مگر خود ان خطوں سے پتا چلتا ہے کہ خط و کتابت زیادہ تھی۔ پہلے کرنتھیوں میں پولس ایک پہلے خط کا ذکر کرتا ہے جو ہمارے پاس نہیں (1 کرنتھیوں 5:9)، اور دوسرے کرنتھیوں میں ایک ایسے خط کا حوالہ آتا ہے جو اس نے بڑے دکھ اور آنسوؤں میں لکھا تھا۔ یعنی خدا نے اپنی حکمت سے وہی دو خط اپنی کلیسیا کے لیے محفوظ رکھے جو ہر دور کے لیے ضروری تھے۔ اس سے خدا کے کلام کی حیثیت پر کوئی حرف نہیں آتا، بلکہ یہ یاد آتا ہے کہ یہ خط زندہ رشتوں کے بیچ میں لکھے گئے۔
پہلا کرنتھیوں اور دوسرا کرنتھیوں میں کیا فرق ہے؟
پہلا خط بنیادی طور پر مسائل کا جواب ہے: تفرقہ، اخلاقی معاملات، شادی، بتوں کا گوشت، عبادت، روحانی نعمتیں اور قیامت۔ اس کا لہجہ ایک استاد کا ہے جو ترتیب سے سوالات نمٹا رہا ہے۔ دوسرا خط زیادہ ذاتی اور زخمی ہے: وہاں پولس اپنی رسالت کا دفاع کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کو کھول کر رکھتا ہے، اور یروشلیم کے غریبوں کے لیے چندے پر زور دیتا ہے۔ دونوں کو ساتھ پڑھنے سے ایک پوری تصویر بنتی ہے: پہلا خط کلیسیا کو سنبھالتا ہے، دوسرا خط بتاتا ہے کہ سچی خدمت کی قیمت کیا ہوتی ہے۔
1 کرنتھیوں 13 باب کا مطلب کیا ہے، کیا یہ صرف شادیوں کے لیے ہے؟
یہ باب شادی کی تقریبات کی خاطر نہیں لکھا گیا، حالانکہ وہاں بہت پڑھا جاتا ہے۔ یہ ایک جھگڑتی ہوئی جماعت کے بیچ رکھا گیا آئینہ ہے، جہاں لوگ اپنی روحانی نعمتوں پر فخر کر رہے تھے۔ پولس لکھتا ہے: "محبت صابر ہے اور مہربان۔ محبت حسد نہیں کرتی۔ محبت شیخی نہیں مارتی اور پھولتی نہیں" (1 کرنتھیوں 13:4)۔ غور کیجیے کہ یہ سب فعل ہیں، احساسات نہیں۔ اس لیے اس باب کا اصل مقام شادی کا اسٹیج نہیں بلکہ جماعت کی میٹنگ، گھر کا کچن اور کام کی جگہ ہے، جہاں محبت روز آزمائی جاتی ہے۔
"تمہارا بدن روح القدس کا مقدس ہے" کا کیا مطلب ہے؟
1 کرنتھیوں 6:19 میں پولس اس سوچ کا جواب دے رہا ہے کہ جسم بےاہمیت ہے اور اس کے ساتھ جو کیا جائے وہ روحانی زندگی پر اثر نہیں ڈالتا۔ وہ جواب دیتا ہے کہ ایمان دار کا جسم وہ جگہ ہے جہاں خدا کا روح بستا ہے، بالکل جیسے ہیکل میں خدا کا جلال بستا تھا۔ اس سے دو باتیں نکلتی ہیں: پہلی، جسمانی گناہ چھوٹا معاملہ نہیں، کیونکہ وہ مقدس جگہ کو آلودہ کرتا ہے؛ اور دوسری، آپ کا جسم حقیر نہیں بلکہ قیمتی ہے، کیونکہ اس کے لیے قیمت ادا کی گئی اور آپ اپنے نہیں ہیں۔
کیا آج بھی غیر زبانوں اور نبوت جیسی نعمتیں جاری ہیں؟
مسیحی کلیسیا میں اس پر خلوصِ دل سے دو رائے موجود ہیں، اور دونوں طرف وفادار ایمان دار ہیں۔ خود پہلا کرنتھیوں اس بحث کو حل کرنے کے بجائے ایک اور ہی سوال سامنے رکھتا ہے: کیا آپ کی نعمت جماعت کی تعمیر کر رہی ہے یا آپ کی نمائش؟ پولس نعمتوں کو منع نہیں کرتا مگر انہیں محبت، ترتیب اور سمجھ کے تابع کرتا ہے، اور صاف کہتا ہے کہ جماعت میں سب کچھ شائستگی اور ترتیب سے ہو۔ اس لیے عملی سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہماری عبادت میں مسیح بلند ہوتا ہے یا انسان۔
1 کرنتھیوں 11 میں سر ڈھانکنے کا حکم آج کیسے سمجھیں؟
اس حصے میں پولس ایک مخصوص ثقافتی رواج کے ذریعے ایک دیرپا سچائی سکھا رہا ہے: عبادت میں مرد اور عورت دونوں خدا کے بنائے ہوئے فرق اور ترتیب کا احترام کریں، اور کوئی ایسا انداز نہ اپنائیں جو شرمندگی یا فساد پیدا کرے۔ کچھ کلیسیائیں آج بھی لباس کے اسی ظاہری اصول پر قائم ہیں، اور کچھ اس کے پیچھے کے اصول کو اپنی ثقافت میں مختلف طریقے سے نافذ کرتی ہیں۔ جو بات دونوں کے لیے لازم ہے وہ یہ ہے کہ عبادت میں خود نمائی، بےترتیبی اور ایک دوسرے کی بےعزتی کی کوئی جگہ نہیں۔
خداوند کے عشائیہ کے بارے میں یہ خط کیا سکھاتا ہے؟
پولس روایت کو بہت احترام سے آگے بڑھاتا ہے: "کیونکہ یہ بات مجھے خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچا دی کہ خداوند یسوع نے جس رات وہ پکڑوایا گیا روٹی لی" (1 کرنتھیوں 11:23)۔ اس کے بعد وہ کرنتھس کی اس شرمناک صورت کو بےنقاب کرتا ہے جہاں امیر لوگ پہلے کھا پی لیتے اور غریب بھوکے رہ جاتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میز پر آنے والا اپنے دل کو جانچے اور بدن کی اس تقسیم کو پہچانے جو وہ خود پیدا کر رہا ہے۔ عشائیہ محض ذاتی عبادت نہیں، وہ جماعت کے ایک ہونے کا اعلان ہے۔
کیا مسیح کی جسمانی قیامت پر یقین رکھنا واقعی لازمی ہے؟
پہلا کرنتھیوں اس سوال پر کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ پولس صاف لکھتا ہے کہ اگر مسیح نہیں جی اٹھا تو منادی اور ایمان دونوں بےفائدہ ہیں (1 کرنتھیوں 15:14)، اور پھر اعلان کرتا ہے: "لیکن فی الحقیقت مسیح مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں ان میں پہلا پھل ہوا" (1 کرنتھیوں 15:20)۔ یعنی مسیحی ایمان ایک خوبصورت فلسفہ نہیں بلکہ ایک تاریخی واقعہ پر کھڑا ہے۔ اور چونکہ مسیح پہلا پھل ہے، اس لیے ایمان داروں کے لیے بھی ایک نیا، جلالی بدن انتظار میں ہے۔
بتوں کے آگے قربان کیا ہوا گوشت والا باب آج کس کام کا ہے؟
اگرچہ ہمارے سامنے وہی سوال اسی صورت میں نہیں آتا، مگر اصول روز آتا ہے۔ پولس سکھاتا ہے کہ صرف "مجھے اجازت ہے" کہنا کافی نہیں، کیونکہ محبت پوچھتی ہے کہ میرے اس عمل سے کمزور ایمان والا بھائی کیا سیکھے گا۔ آج یہ اصول ان سب معاملات پر لاگو ہوتا ہے جن پر ایمان داروں میں ضمیر کا فرق ہے: کھانے پینے کی عادتیں، تقریبات میں شرکت، تفریح کے انتخاب، رشتہ داروں کی رسمیں۔ رہنما آیت یہی ہے کہ جو کچھ کرو خدا کے جلال کے لیے کرو (1 کرنتھیوں 10:31)۔
اختتام میں
اگر آپ اس خط سے صرف ایک بات لے کر جائیں تو یہ لے جائیں: صلیب ایک بدن بناتی ہے۔ کرنتھس کے لوگ روحانیت کے شوقین تھے مگر بدن سے لاپروا: اپنے جسم سے، میز پر بیٹھے غریب بھائی سے، جماعت کے کمزور عضو سے، اور اس امید سے کہ خدا ایک دن قبروں کو خالی کرے گا۔ پولس ان کے ہر سوال کا جواب اسی ایک نقطے سے دیتا ہے، اور اسی لیے 1 کرنتھیوں 1:18 سے لے کر 1 کرنتھیوں 15:20 تک ایک ہی لڑی چلتی ہے۔
جو صلیب پر ٹوٹا، اس نے ہمیں جوڑ دیا۔
اب اس خط کو ہاتھ میں لیں اور خود پڑھیں۔ چار ہفتوں کا وہ سادہ منصوبہ اٹھائیں جو اوپر دیا گیا ہے، اعمال 18 اور اعمال 19 ساتھ رکھیں، اور ہر باب کے بعد ایک سوال لکھ لیں جو آپ کو پریشان کرے۔ پھر تیرہویں باب پر واپس آئیں اور اسے شادی کے گیت کی طرح نہیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کی جانچ کی طرح پڑھیں۔ خداوند سے کہیں کہ وہ آپ کو اس بدن میں آپ کی جگہ دکھائے، اور اس جگہ پر ایمان داری سے کھڑے ہونے کی توفیق دے۔ آپ کی محنت خداوند میں بےفائدہ نہیں۔
