بیماری میں شفا اور دعا: بائبل کیا کہتی ہے؟
تعارف
ہسپتال کے راہداری میں رات کے دو بجے کا وقت سب سے لمبا ہوتا ہے۔ ایک ماں بیٹے کے بستر کے کنارے بیٹھی ہے، ہاتھ میں تسبیح کی طرح ایک چھوٹی سی بائبل، اور ہونٹوں پر ایک ہی جملہ: "خداوند، تُو تو شفا دینے والا ہے، پھر آج کیوں نہیں؟" اُس کے کان میں کسی کی بات گونجتی ہے کہ اگر ایمان مضبوط ہو تو شفا ضرور ملتی ہے، اور اُس کا دل مزید بوجھل ہو جاتا ہے، کیونکہ اب بیماری کے ساتھ ساتھ اپنے ایمان کی ناکامی کا الزام بھی اُس کے کندھوں پر آ گیا ہے۔
یہ صفحہ اُسی ماں کے لیے ہے، اور اُس بیمار کے لیے جو دس سال سے دوا پر زندہ ہے، اور اُس نوجوان کے لیے جس کے لیے سب نے دعا کی اور وہ پھر بھی چلا گیا۔ آپ یہاں جانیں گے کہ بائبل شفا کے بارے میں اصل میں کیا کہتی ہے، صلیب نے شفا کے لیے کیا کیا، اور آج دعا کرتے وقت آپ کس بنیاد پر کھڑے ہیں۔
اس رہنما کا زاویہ
اِس رہنما میں ہم شفا کو ایک "فارمولا" کے طور پر نہیں بلکہ ایک ادا شدہ قیمت اور ایک مقرر تاریخ کے طور پر دیکھیں گے۔ صلیب پر خداوند یسوع مسیح نے ہماری مکمل بحالی کی پوری قیمت چکا دی، مگر اُس بحالی کی مکمل حوالگی کا دن قیامت ہے۔ اِس دوران جو شفائیں ہم دیکھتے ہیں، وہ اُسی میراث کی پیشگی قسطیں ہیں، بیعانہ ہیں، آنے والی نئی دنیا کی جھلکیاں۔ یہ زاویہ ہمیں دو غلط راستوں سے بچاتا ہے: نہ ہم شفا کو خدا سے چھیننے کی کوشش کرتے ہیں، نہ اُس سے مانگنا چھوڑ دیتے ہیں۔
بائبل شفا کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
بائبل میں شفا کی سب سے پہلی اور سب سے بنیادی بات یہ نہیں کہ "شفا کیسے ملتی ہے"، بلکہ یہ کہ "شفا دینے والا کون ہے"۔ مصر سے نکلنے کے بعد جب اسرائیل کڑوے پانی کے پاس بڑبڑا رہا تھا، خدا نے اپنی ذات کا ایک نیا نام کھولا: "کیونکہ مَیں خداوند تیرا شفا دینے والا ہوں" (خروج 15:26)۔ غور کریں کہ یہ ایک تدبیر کا اعلان نہیں، ایک شخص کا تعارف ہے۔ خدا نہیں کہتا کہ میرے پاس شفا کا نظام ہے؛ وہ کہتا ہے کہ شفا میری ذات کا حصہ ہے۔ اِسی لیے اسرائیل کے لیے شفا کبھی جادو، منتر یا مصر کے دیوتاؤں کی طرح لین دین کا سودا نہ تھی، بلکہ عہد کے اُس خدا پر بھروسا تھا جو زندگی کا سرچشمہ ہے۔
شافی پہلے ذات ہے، پھر عمل۔
دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ بائبل جسم اور روح کو الگ الگ خانوں میں نہیں رکھتی۔ داؤد گاتا ہے: "وہی تیری ساری بدکاری کو بخشتا ہے۔ وہی تیری سب بیماریوں کو شفا دیتا ہے" (زبور 103:3)۔ ایک ہی سانس میں معافی اور شفا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بیماری کسی خاص گناہ کی سزا ہے، بلکہ یہ کہ ہماری ٹوٹی ہوئی حالت کی جڑ ایک ہی ہے: پیدایش کے تیسرے باب میں گناہ کے داخل ہونے سے دنیا کا سارا نظام زخمی ہوا، اور اُس زخم کا اثر ہمارے ضمیر پر بھی ہے اور ہمارے خون کے خلیوں پر بھی۔ اِس لیے خدا کی نجات صرف روح کو بچانے کا منصوبہ نہیں، پورے انسان کی بحالی کا منصوبہ ہے۔
تیسری بات، اور یہی اِس صفحے کا مرکز ہے، وہ قیمت ہے جو صلیب پر ادا ہوئی۔ یسعیاہ نبی نے صدیوں پہلے لکھا: "حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لئے اُس پر سیاست ہوئی تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں" (یسعیاہ 53:5)۔ متی رسول اِسی آیت کو خداوند یسوع کی شفا دینے کی خدمت پر لاگو کرتا ہے: "جب شام ہوئی تو لوگ بہت سے اُن کو جن میں بدروحیں تھیں اُس کے پاس لائے اور اُس نے اُن روحوں کو باتوں ہی سے نکال دیا اور سب بیماروں کو اچھا کر دیا" (متی 8:16)، اور اگلی آیت میں وضاحت کرتا ہے کہ یہ اِس لیے ہوا "کہ وہ آپ ہماری کمزوریاں لے لیا اور ہماری بیماریاں اُٹھا لیں" (متی 8:17)۔ یعنی مسیح کی شفائیں محض ہمدردی کے واقعات نہیں تھے؛ وہ اُس بوجھ کو اپنے اوپر اٹھانے کا آغاز تھا جو آخرکار اُس نے صلیب تک پہنچایا۔
مگر یہیں بائبل ہمیں جلدبازی سے روکتی ہے۔ اگر شفا کی پوری قیمت ادا ہو چکی ہے تو ایمانداروں کو بیمار ہونا ہی نہیں چاہیے۔ کلامِ مقدس ایسا دعویٰ نہیں کرتا۔ پولس رسول، جس کے ہاتھوں سے خدا نے حیرت انگیز شفائیں دیں، خود اپنے جسم کے کانٹے کے بارے میں لکھتا ہے کہ اُس نے تین بار دعا کی اور جواب یہ آیا: "میرا فضل تیرے لئے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے" (۲-کرنتھیوں 12:9)۔ رومیوں 8:23 میں وہی رسول کہتا ہے کہ ہم "اپنے بدن کی مخلصی کی راہ" دیکھتے ہوئے کراہ رہے ہیں۔ گویا نجات کی دستاویز پر دستخط ہو چکے، رقم ادا ہو گئی، مگر بدن کی مکمل حوالگی کا دن ابھی آنے والا ہے۔
صلیب پر رقم ادا ہو گئی، وصولی کا دن مقرر ہے۔
اور اِسی درمیانی وقت میں خدا نے کلیسیا کو دعا کا حق دیا ہے: "اگر تم میں کوئی بیمار ہو تو کلیسیا کے بزرگوں کو بُلائے اور وہ خداوند کے نام سے اُس کو تیل مل کر اُس کے لئے دعا کریں" (یعقوب 5:14)۔ یہ حکم اُس شخص کے لیے ہے جو ابھی شفا یاب نہیں ہوا، یعنی بائبل مانتی ہے کہ ایماندار بیمار پڑتے ہیں، اور اُنہیں تنہا کراہنے کے بجائے جماعت کے درمیان دعا مانگنے کو کہا جاتا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
شفا کا دھاگا بائبل کے پہلے صفحات سے آخری صفحے تک بُنا ہوا ہے۔ باغِ عدن میں بیماری کا کوئی ذکر نہیں، کیونکہ وہاں انسان اپنے خالق کے ساتھ سلامتی میں تھا۔ گناہ کے بعد ہی درد، زحمت اور موت کہانی میں داخل ہوتے ہیں۔ اِس کے بعد پوری پرانی عہد نامہ کی کتابیں ایک اُمید کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں کہ خدا اِس ٹوٹ پھوٹ کو یوں ہی نہیں چھوڑے گا۔
توریت میں شفا عہد کے دائرے میں آتی ہے۔ خروج 15:26 میں خدا اپنا نام "شفا دینے والا" ظاہر کرتا ہے، اور احکام میں کوڑھی کی صفائی، بیماری کے دنوں میں الگ رہنے اور دوبارہ جماعت میں شامل ہونے کے قوانین بتاتے ہیں کہ خدا کے لوگوں کے درمیان بیمار شخص بھلایا نہیں جاتا۔ گنتی 12 میں مریم کوڑھی ہوتی ہے اور موسیٰ کی مختصر سی دعا "اے خدا، اُسے شفا دے" پر خدا رحم کرتا ہے۔ انبیا کے دور میں شفا مزید کھل کر سامنے آتی ہے: ایلیشع کے کہنے پر ارامی سردار نعمان یردن میں سات بار غوطہ لگاتا ہے اور کوڑھ سے پاک ہو جاتا ہے (۲-سلاطین 5)، اور حزقیاہ بادشاہ موت کے بستر پر منہ دیوار کی طرف کر کے روتا ہے اور خدا اُس کی عمر میں پندرہ سال بڑھا دیتا ہے (۲-سلاطین 20)۔ زبور میں ہم شفا کی زبان سیکھتے ہیں: "اے خداوند مجھے شفا دے کیونکہ میری ہڈیاں بےقرار ہیں" (زبور 6:2)۔ ایوب کی کتاب اِس سلسلے کا ضروری توازن ہے، کیونکہ وہ صاف کہتی ہے کہ ہر بیماری کسی چھپے گناہ کی سزا نہیں، اور کہ خدا کے راستے ہمارے حساب کتاب سے بڑے ہیں۔
پھر یسعیاہ 53 آتا ہے، اور سارا سلسلہ ایک شخص پر مرکوز ہو جاتا ہے: ایک خدمت گزار جو ہمارے دُکھ اپنے اوپر اٹھا لے گا، اور اُس کے زخموں سے ہماری شفا آئے گی۔ انجیل میں یہ پیشین گوئی گوشت پوست میں چلتی پھرتی نظر آتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح کوڑھیوں کو چھوتے ہیں، اندھوں کی آنکھیں کھولتے ہیں، بخار ڈانٹ کر ہٹا دیتے ہیں، اور متی 8:16 کے مطابق شام کے وقت "سب بیماروں کو اچھا کر" دیتے ہیں۔ خون کے بہنے کی بیماری میں بارہ سال سے پسی ہوئی عورت جب چوری چھپے اُن کی پوشاک چھوتی ہے تو وہ اُسے بھیڑ میں گم ہونے نہیں دیتے: "بیٹی تیرے ایمان نے تجھے شفا بخشی۔ سلامت جا اور اپنی اِس بیماری سے بچی رہ" (مرقس 5:34)۔ ایک بےنام، ناپاک سمجھی جانے والی عورت کو "بیٹی" کہنا اُس کے جسم کے علاج سے کم بڑا معجزہ نہیں تھا۔
مسیح کے صلیب پر مرنے اور تیسرے دن جی اُٹھنے کے بعد یہ سلسلہ ٹوٹتا نہیں، بلکہ کلیسیا میں پھیل جاتا ہے۔ اعمال کی کتاب میں رسولوں کے ہاتھوں شفائیں ہوتی ہیں، اور خطوں میں یعقوب 5:14 کلیسیا کے بزرگوں کو دعا اور تیل ملنے کی خدمت سونپتا ہے۔ اُسی زمانے میں اپفردتس موت کے قریب بیمار پڑتا ہے (فلپیوں 2:27)، تیمتھیس کو اپنی "اکثر کمزوری" کے لیے مشورہ ملتا ہے (۱-تیمتھیس 5:23)، اور ترفمس کو پولس بیمار حالت میں پیچھے چھوڑ آتا ہے (۲-تیمتھیس 4:20)۔ یعنی معجزے اور مسلسل بیماری ایک ہی صفحے پر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، کیونکہ ہم پیشگی قسطوں کے زمانے میں جی رہے ہیں۔
اور سلسلہ اپنے انجام کو مکاشفہ میں پہنچتا ہے، جہاں شہر کے بیچ زندگی کے درخت کے "پتوں سے قوموں کو شفا ہوتی" ہے (مکاشفہ 22:2)، اور خدا "اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا نہ آہ و نالہ نہ درد" (مکاشفہ 21:4)۔ یہی آخری صفحہ ہماری ہر دعا کا نقشہ ہے: ہم اُس دن کی طرف دیکھ کر آج مانگتے ہیں۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ شفا نہ ملنے کا مطلب ہے کہ ایمان میں کمی ہے۔ یہ سوچ بیمار پر دوہرا بوجھ رکھ دیتی ہے۔ مگر بائبل کے کئی سب سے ایماندار لوگ بیمار رہے۔ پولس رسول نے تین بار دعا کی اور خدا نے کانٹا ہٹانے کے بجائے فرمایا: "میرا فضل تیرے لئے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے" (۲-کرنتھیوں 12:9)۔ مرقس 5:34 میں خداوند یسوع نے عورت کے ایمان کی تعریف ضرور کی، مگر انجیل میں کئی شفائیں ایسی بھی ہیں جہاں بیمار کا ایمان بالکل زیرِ بحث نہیں، جیسے بیت حسدا کا وہ آدمی جو مسیح کو پہچانتا بھی نہ تھا۔ ایمان شفا کا سکہ نہیں جس سے ہم خدا سے چیز خریدتے ہیں؛ ایمان وہ ہاتھ ہے جو باپ کی طرف بڑھتا ہے، اور کبھی وہ ہاتھ میں شفا رکھتا ہے، کبھی اپنا فضل۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ بیماری لازماً کسی گناہ کی سزا ہے۔ زبور 103:3 میں معافی اور شفا ساتھ ساتھ آتی ہیں، اور یعقوب 5:16 گناہوں کے اقرار اور دعا کو جوڑتا ہے، اِس لیے یہ سچ ہے کہ کبھی گناہ اور بیماری میں تعلق ہوتا ہے۔ لیکن خداوند یسوع نے پیدائشی اندھے کے بارے میں دو ٹوک فرمایا: "نہ اِس نے گناہ کیا تھا نہ اِس کے ماں باپ نے بلکہ یہ اِس لئے ہوا کہ خدا کے کام اُس میں ظاہر ہوں" (یوحنا 9:3)۔ ایوب کے دوستوں کی سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ وہ ہر درد کے پیچھے ایک چھپا گناہ ڈھونڈتے تھے، اور خدا نے آخر میں اُن ہی کو ڈانٹا۔
تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ یسعیاہ 53:5 کا مطلب ہے کہ ہر ایماندار کو ابھی، اِسی زمین پر، مکمل جسمانی صحت کا حق حاصل ہے۔ آیت واقعی جسم کو بھی شامل کرتی ہے، اور متی 8:17 اِسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر بائبل نجات کے فائدوں کو دو مرحلوں میں پیش کرتی ہے۔ گناہوں کی معافی ہمیں آج پوری ملتی ہے؛ بدن کی مخلصی کا وعدہ ہمارے پاس بیعانے کی صورت میں ہے، اور رومیوں 8:23 کے مطابق ہم اُس کی راہ دیکھتے ہوئے کراہتے ہیں۔ جو شخص آج مکمل صحت کا مطالبہ کرتا ہے، وہ اصل میں قیامت کا چیک آج کیش کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رقم موجود ہے، مگر تاریخ خدا نے مقرر کی ہے۔
چوتھی غلط فہمی اِس کے بالکل برعکس ہے: کہ معجزے صرف رسولوں کے زمانے کی بات تھے اور اب بیمار کے لیے دعا محض ایک رسم ہے۔ یعقوب 5:14 کسی رسول کو نہیں بلکہ ہر مقامی کلیسیا کے بزرگوں کو حکم دیتا ہے، اور اگلی آیت کہتی ہے: "اور ایمان کی دعا سے وہ بیمار بچ جائے گا اور خداوند اُسے اُٹھا کھڑا کرے گا۔" جو خدا خروج 15:26 میں اپنا نام "شفا دینے والا" رکھتا ہے، اُس نے وہ نام واپس نہیں لیا۔ سچا توازن یہ ہے کہ ہم پوری ڈھٹائی سے مانگیں اور پوری عاجزی سے خدا کی مرضی کے سامنے سر جھکائیں۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
جب رپورٹ ہاتھ میں آتی ہے اور لفظ ایسے ہوتے ہیں جن کا مطلب بھی سمجھ نہیں آتا، تو پہلا قدم دعا کو ٹالنا نہیں بلکہ فوراً خدا کے سامنے بول دینا ہے۔ زبور کے لکھنے والوں نے شفا کی دعا میں کوئی خوبصورت الفاظ نہیں تلاش کیے؛ اُنہوں نے سیدھا کہا کہ میری ہڈیاں بےقرار ہیں۔ آپ بھی بےتکلفی سے مانگیں: خداوند، مجھے شفا دے۔ یہ گستاخی نہیں، بیٹے بیٹیوں کا حق ہے۔ ساتھ ہی وہ جملہ بھی سیکھ لیں جو خود مسیح نے گتسمنی میں کہا: تیری مرضی پوری ہو۔ یہ جملہ دعا کو کمزور نہیں کرتا، اُسے محفوظ کرتا ہے۔
دوسرا قدم تنہا نہ رہنا ہے۔ یعقوب 5:14 کے مطابق بیمار کو خود پہل کرنی ہے: کلیسیا کے بزرگوں کو بلائے۔ ہمارے معاشرے میں بیماری چھپانے کا رواج ہے، کہیں لوگ کمزور نہ سمجھیں، کہیں باتیں نہ بنیں۔ مگر خدا نے شفا کی خدمت کلیسیا کے درمیان رکھی ہے۔ اپنے پاسبان یا بزرگوں کو بلائیں، اُنہیں سچ بتائیں، اُن سے دعا کرائیں۔ تیل ملنا کوئی جادوئی عمل نہیں، خدا کی طرف سے مسح اور نگہبانی کی ایک ظاہری نشانی ہے، اور یہ بیمار کے دل کو یاد دلاتی ہے کہ وہ اکیلا نہیں لڑ رہا۔
تیسرا قدم دوا اور دعا کو دشمن نہ بنانا ہے۔ لوقا خود طبیب تھا اور پولس کا ساتھی تھا، اور اُسی پولس نے تیمتھیس کو معدے کی کمزوری کے لیے عملی مشورہ دیا (۱-تیمتھیس 5:23)۔ ڈاکٹر کے پاس جانا خدا پر بھروسے کی مخالفت نہیں؛ دوا بھی اُسی خالق کی رحمت کی ایک نالی ہے۔ ہاں، دوا ہمارا خدا نہ بنے، اور دعا محض آخری کوشش نہ ہو۔
چوتھا قدم انتظار کے دنوں کے لیے تیاری ہے۔ اگر شفا فوراً نہیں آتی، تو ۲-کرنتھیوں 12:9 کو اپنے بستر کے قریب رکھیں۔ پولس نے یہ آیت کسی کلاس میں نہیں سیکھی، اُس نے یہ اپنے کانٹے کے ساتھ جیتے ہوئے سیکھی۔ خدا کا فضل درد ختم نہ بھی کرے تو درد میں ہماری جان تھام لیتا ہے۔ اور اُن کے لیے جو کسی بیمار کی تیمارداری کر رہے ہیں: آپ کی خدمت بھی شفا کی خدمت ہے۔ چادر بدلنا، دوا وقت پر دینا، رات جاگنا، یہ سب اُس مسیح کے کام کا حصہ ہے جس نے کوڑھی کو چھونے سے انکار نہ کیا۔
آئینہ
اب آپ سے سیدھی بات۔ اگر آپ اِس وقت بیمار ہیں تو ممکن ہے آپ کا سب سے بڑا زخم جسم میں نہیں بلکہ اُس خیال میں ہو کہ خدا نے آپ کو نظرانداز کر دیا۔ آپ نے دیکھا کہ کسی اور کے لیے دعا ہوئی اور وہ اٹھ کھڑا ہوا، اور آپ اُسی بستر پر ہیں۔ مَیں آپ کو یہ نہیں کہوں گا کہ آپ کے سوال بےجا ہیں۔ زبور کی آدھی کتاب ایسے ہی سوالوں سے بھری ہے۔ مگر مَیں آپ سے یہ پوچھوں گا: آپ کا بھروسا شفا پر ہے یا شافی پر؟ کیونکہ اگر آپ کا سارا ایمان صرف نتیجہ ملنے سے بندھا ہے، تو ہر تاخیر آپ کو خدا سے دور کرے گی، اور ہر معجزہ بھی آپ کو صرف اگلی مانگ تک لے جائے گا۔
اور اگر آپ صحت مند ہیں تو یہ موضوع آپ کو دوسری طرف سے چبھتا ہے۔ آپ نے اپنے جسم کو کام، کمائی اور مشین سمجھ کر چلایا ہے، نیند بیچ دی، آرام کو سستی کہا، اور اب حیران ہیں کہ آپ کے اندر کچھ ٹوٹ رہا ہے۔ خدا نے آپ کے بدن کو مقدّس روح کا مقام کہا ہے، مگر آپ کے کیلنڈر میں اُس مقام کی دیکھ بھال کا کوئی خانہ نہیں۔ اور ایک اور بات: آپ کے محلے اور کلیسیا میں کوئی ہے جو مہینوں سے بستر پر ہے اور جس کا نمبر آپ کے فون میں ہے۔ کیا آپ نے فون کیا؟ کیا آپ نے یعقوب 5:14 کو صرف پڑھا یا مانا؟
بیماری ہمارے سارے مصنوعی سہارے کھینچ لیتی ہے: طاقت، وقت، پیسہ، آزادی، اور یہ خیال کہ ہم اپنی زندگی کے مالک ہیں۔ اِسی خالی جگہ میں مسیح آ کر بیٹھتا ہے، اور ہمیں پہلی بار سمجھ آتا ہے کہ ہماری اصل ضرورت طاقت نہیں، وہ خود ہے۔
دعا فارمولا نہیں، دروازہ ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچے بیماری کے بارے میں بہت سیدھے سوال کرتے ہیں: "خدا نے نانی کو ٹھیک کیوں نہیں کیا؟" اُنہیں لمبی وضاحت کی ضرورت نہیں، مگر سچائی کی ضرورت ہے۔ آپ اُنہیں یہ بتا سکتے ہیں کہ خدا ہمارا بنانے والا ہے، اور جس نے ہمیں بنایا وہی ہمیں ٹھیک بھی کر سکتا ہے، اِسی لیے وہ اپنا نام "شفا دینے والا" بتاتا ہے۔ پھر اُنہیں مرقس 5 کی اُس عورت کی کہانی سنائیں جو بہت لمبے عرصے سے بیمار تھی اور جس نے یسوع کے کپڑے کا کنارہ چھوا، اور یسوع نے اُسے "بیٹی" کہ کر پکارا۔ بچے اِس بات کو فوراً پکڑ لیتے ہیں کہ یسوع بیماروں سے گھبراتا نہیں، اُنہیں اپنا کہتا ہے۔
بچوں سے یہ وعدہ نہ کریں کہ ہر دعا کا جواب "ہاں" ہوگا، ورنہ اُن کا اعتماد ٹوٹ جائے گا۔ اِس کے بجائے اُنہیں سکھائیں کہ ہم دعا ضرور کرتے ہیں کیونکہ خدا سنتا ہے، اور جب جواب فوراً نہیں آتا تو خدا ہمارے ساتھ رہتا ہے اور ہمیں ہمت دیتا ہے۔ اور آخر میں اُنہیں وہ خوشخبری بتائیں جو مکاشفہ 21:4 میں ہے، کہ ایک دن خدا سب آنسو پونچھ دے گا اور نہ درد رہے گا نہ ماتم۔ یہ تصویر بچوں کے دل میں امید بو دیتی ہے۔
اِسی موضوع پر مختلف عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے سادہ کہانی کی صورت میں، اسکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے سوال جواب کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے اُن مشکل سوالوں کے ساتھ جو وہ اصل میں پوچھتے ہیں۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ کھولیں اور مل کر پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بائبل میں شفا کا اصل مطلب کیا ہے؟
بائبل میں شفا کا مطلب صرف بیماری کا دور ہونا نہیں بلکہ خدا کی طرف سے پوری بحالی ہے: جسم، دل، رشتے اور خدا کے ساتھ تعلق۔ اِسی لیے زبور 103:3 میں گناہوں کی معافی اور بیماریوں کی شفا ایک ہی سانس میں آتی ہیں۔ خروج 15:26 میں خدا اپنی ذات کا تعارف "شفا دینے والا" کے طور پر کراتا ہے، یعنی شفا کوئی طریقہ یا رسم نہیں بلکہ اُس خدا کی فطرت کا اظہار ہے جو زندگی کا سرچشمہ ہے اور جو اپنی مخلوق کو ٹوٹی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتا۔
کیا ہر بیماری گناہ کی سزا ہوتی ہے؟
نہیں۔ بائبل مانتی ہے کہ کبھی گناہ کے نتائج بیماری کی صورت میں آتے ہیں، اور یعقوب 5:16 اِسی لیے اقرار اور دعا کو جوڑتا ہے۔ لیکن خداوند یسوع نے پیدائشی اندھے کے بارے میں صاف فرمایا: "نہ اِس نے گناہ کیا تھا نہ اِس کے ماں باپ نے" (یوحنا 9:3)۔ ایوب راستباز تھا اور پھر بھی دُکھ اٹھایا، اور اُس کے دوستوں کو خدا نے اِسی لیے ڈانٹا کہ وہ ہر تکلیف کے پیچھے چھپا گناہ ڈھونڈتے تھے۔ بیمار پر الزام رکھنا خدا کا کام نہیں، اور ہمارا بھی نہیں۔
یسعیاہ 53:5 کا "اُس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں" کا کیا مطلب ہے؟
اِس کا مطلب ہے کہ مسیح کے زخموں نے ہماری مکمل بحالی کی قیمت ادا کر دی۔ متی 8:17 اِسی آیت کو خداوند یسوع کی شفا دینے کی خدمت پر لاگو کرتا ہے، اِس لیے یہ صرف روحانی معنی تک محدود نہیں۔ مگر بائبل ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اِس قیمت کے سب فائدے آج ہی مکمل طور پر ہمارے ہاتھ میں نہیں آتے۔ گناہوں کی معافی آج پوری ملتی ہے، اور بدن کی مکمل مخلصی کا وعدہ رومیوں 8:23 کے مطابق قیامت پر پورا ہوگا۔
اگر دعا کے بعد شفا نہ ملے تو کیا میرا ایمان کمزور ہے؟
ضروری نہیں۔ پولس رسول نے تین بار دعا کی اور خدا نے کانٹا نہیں ہٹایا بلکہ فرمایا: "میرا فضل تیرے لئے کافی ہے" (۲-کرنتھیوں 12:9)۔ اُسی پولس کے ہاتھوں سے دوسروں کو شفا ملی، تو کوئی نہیں کہ سکتا کہ اُس کا ایمان کمزور تھا۔ ایمان خدا کو مجبور کرنے کا آلہ نہیں، بلکہ اُس پر بھروسا ہے کہ وہ اچھا ہے، چاہے جواب "ہاں" ہو، "ابھی نہیں" ہو یا "مَیں تجھے اِس میں سے لے کر گزروں گا" ہو۔
یعقوب 5:14 کے مطابق تیل ملنا اور بزرگوں کو بلانا آج بھی ضروری ہے؟
یہ حکم کسی خاص زمانے کے لیے محدود نہیں کیا گیا، اِس لیے آج بھی اِس پر عمل کیا جانا چاہیے۔ یعقوب 5:14 بیمار کو خود ذمہ داری دیتا ہے کہ وہ کلیسیا کے بزرگوں کو بلائے۔ تیل کوئی جادوئی دوا نہیں بلکہ خدا کی طرف سے مسح اور برکت کی ظاہری نشانی ہے، اور اصل زور "خداوند کے نام سے" دعا پر ہے۔ اِس عمل کی خوبصورتی یہ ہے کہ بیمار اپنی لڑائی تنہا نہیں لڑتا؛ کلیسیا اُس کے ساتھ خدا کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
مسیحیوں کو دوا اور ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے یا صرف دعا کرنی چاہیے؟
دونوں کو ایک دوسرے کا مقابل سمجھنا غلط ہے۔ پولس نے تیمتھیس کو اُس کی جسمانی کمزوری کے لیے عملی مشورہ دیا (۱-تیمتھیس 5:23)، اور لوقا، جو انجیل کا مصنف ہے، خود طبیب تھا اور پولس کا قریبی ساتھی رہا۔ دوا، علاج اور ڈاکٹر بھی اُسی خدا کی رحمت کے ذرائع ہیں جس نے ہمارے جسم کو بنایا۔ دعا اِس لیے ضروری ہے کہ ہمارا بھروسا آخرکار دوا پر نہیں بلکہ شافی خدا پر ہے، جو دوا کے ذریعے بھی کام کرتا ہے اور اُس کے بغیر بھی۔
پولس رسول کے "جسم کا کانٹا" کیا تھا؟
بائبل ہمیں اُس کی تفصیل نہیں دیتی، اور یہی خدا کی حکمت ہے، کیونکہ اِس طرح ہر دُکھ اٹھانے والا اُس میں اپنی جگہ پا لیتا ہے۔ کچھ لوگ اُسے آنکھوں کی بیماری، کچھ کسی مستقل جسمانی تکلیف اور کچھ شدید مخالفت سمجھتے ہیں۔ اہم بات جواب ہے: "میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے" (۲-کرنتھیوں 12:9)۔ خدا نے کانٹا ہٹانے کے بجائے پولس کو اپنی موجودگی دی، اور اُسی کمزوری کے راستے مسیح کی طاقت لوگوں پر ظاہر ہوئی۔
شفا کی نعمت آج بھی کلیسیا میں موجود ہے؟
خدا نے کہیں یہ اعلان نہیں کیا کہ اُس نے شفا دینا بند کر دیا ہے، اور یعقوب 5:14 کا حکم مقامی کلیسیاؤں کے لیے آج بھی کھلا ہے۔ ساتھ ہی بائبل ہمیں محتاط بھی کرتی ہے، کیونکہ رسولوں کے زمانے میں بھی سب بیمار شفا نہیں پاتے تھے، جیسے اپفردتس اور ترفمس۔ اِس لیے صحیح راستہ یہ ہے کہ ہم شفا کے لیے پورے یقین سے دعا کریں، مگر شفا دینے کے دعوے بیچنے والوں سے دور رہیں اور خدا کی مرضی کے سامنے سر جھکائے رکھیں۔
کیا ذہنی بیماری، ڈپریشن اور اندرونی زخموں کے لیے بھی شفا کی دعا کی جا سکتی ہے؟
بالکل، کیونکہ بائبل انسان کو ٹکڑوں میں نہیں دیکھتی۔ ایلیاہ نے تھک کر موت مانگی اور خدا نے اُسے پہلے کھانا اور نیند دی، پھر بات کی۔ زبور کے لکھنے والے کھلے دل سے اپنی مایوسی خدا کے سامنے رکھتے ہیں، جیسے زبور 6:2 میں: "اے خداوند مجھے شفا دے کیونکہ میری ہڈیاں بےقرار ہیں۔" دعا کے ساتھ مشورہ، علاج اور جماعت کی رفاقت بھی خدا کے ذرائع ہیں، اور اِن سے مدد لینا شرم کی بات نہیں۔
کیا خروج 15:26 کا وعدہ آج ہر مسیحی پر لاگو ہوتا ہے؟
یہ آیت پہلے اسرائیل کے ساتھ خدا کے عہد کے دائرے میں دی گئی تھی، اِس لیے اِسے صحت کی ضمانت کے کاغذ کی طرح استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ مگر جو بات ہمیشہ کے لیے سچ ہے وہ خدا کی ذات کا اعلان ہے: "مَیں خداوند تیرا شفا دینے والا ہوں" (خروج 15:26)۔ خدا بدلا نہیں۔ نئے عہد میں یہی خدا اپنے بیٹے میں آ کر بیماروں کو چھوتا ہے، اور آخر میں مکاشفہ 21:4 کے مطابق ہر آنسو پونچھ دے گا۔ نام وہی ہے، دائرہ اور اب مسیح ہے۔
بیمار شخص کے لیے دعا کیسے کی جائے؟
سادہ اور سچی زبان میں۔ پہلے خدا کو اُس کے نام سے پکاریں کہ وہ شفا دینے والا ہے، پھر صاف الفاظ میں شفا مانگیں، جیسے موسیٰ نے مریم کے لیے مانگی۔ پھر بیمار کے دل کے لیے سلامتی، درد میں برداشت، ڈاکٹروں کے لیے حکمت اور خاندان کے لیے قوت مانگیں۔ آخر میں مسیح کی طرح کہیں کہ تیری مرضی پوری ہو۔ اگر ممکن ہو تو بیمار کے ہاتھ پر ہاتھ رکھیں اور کلام کی ایک آیت بلند آواز میں پڑھیں؛ بیمار اکثر لمبی دعا سے زیادہ خدا کے کلام کی آواز سے تسلی پاتا ہے۔
شفا اور خدا کی مرضی میں توازن کیسے رکھا جائے، خاص طور پر مرتے ہوئے مریض کے پاس؟
اِن دونوں میں سے ایک کو چھوڑنا نہیں پڑتا۔ مانگنا بند نہ کریں، کیونکہ خدا نے ہمیں مانگنے کو کہا ہے؛ مگر ساتھ ہی اُس شخص کو ابدی امید کی طرف بھی لے جائیں۔ آخری دنوں میں سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ آپ مریض کو مسیح کے ساتھ سلامتی میں لے جائیں، اُس کے لیے مکاشفہ 21:4 پڑھیں، اُس کے ساتھ گناہوں کا اقرار اور معافی کی خوشخبری دہرائیں۔ اگر شفا اِس زمین پر نہ آئے تو وہ قیامت کے دن مکمل صورت میں آئے گی، اور یہ آخری شفا کبھی واپس نہیں لی جائے گی۔
اختتام میں
بائبل ہمیں شفا کے بارے میں نہ لاپرواہ بناتی ہے نہ لالچی۔ وہ ہمیں ایک نام دیتی ہے، "مَیں خداوند تیرا شفا دینے والا ہوں"، اور ایک صلیب، جہاں ہماری پوری بحالی کی قیمت ادا ہوئی، اور ایک تاریخ، جس دن نہ درد رہے گا نہ ماتم۔ اِن تینوں کے درمیان ہماری زندگی گزرتی ہے: مانگتے ہوئے، کبھی معجزے پاتے ہوئے، کبھی فضل کے سہارے چلتے ہوئے، اور ہر حال میں اُس دن کی راہ دیکھتے ہوئے۔ اگر آج آپ کے ہاتھ میں شفا نہیں آئی تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا نے آپ کی دعا پھینک دی؛ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی رسید ابھی محفوظ ہے۔
اِس موضوع کو مزید گہرائی سے دیکھنا چاہیں تو یسعیاہ 53 کو پورا پڑھیں اور ساتھ ہی مرقس کی انجیل کے پانچویں باب کو، تاکہ آپ ایک ہی سانس میں مسیح کے زخم اور اُس کی نرم آواز دونوں سنیں۔ پھر اپنے بستر یا میز پر ۲-کرنتھیوں 12:9 لکھ کر رکھیں، اور آج ہی کسی ایک بیمار کو فون کریں۔ شفا کی خدمت وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں ایک آدمی دوسرے کے لیے خدا کے سامنے گھٹنے ٹیکتا ہے۔