موضوع

خدا کی مرضی کیسے معلوم کریں؟ بائبلی رہنمائی

تعارف

رات کے گیارہ بج چکے ہیں۔ میز پر دو کاغذ پڑے ہیں: ایک نوکری کی پیشکش دوسرے شہر میں، دوسرا وہ خط جو آپ نے ابھی تک نہیں بھیجا۔ موبائل کی روشنی میں آپ بار بار وہی دعا دہراتے ہیں، "خداوند، مجھے بس بتا دے کہ تُو کیا چاہتا ہے۔" اور آسمان خاموش لگتا ہے۔ کوئی آواز نہیں، کوئی فرشتہ نہیں، صرف دل کی دھڑکن اور وہی پرانا ڈر: کہیں میں غلط دروازہ نہ کھول لوں۔

یہ ڈر بہت سے ایمانداروں کا ساتھی ہے۔ ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کی مرضی ایک چھپا ہوا خزانہ ہے جسے ڈھونڈنا ہمارا امتحان ہے، اور ناکامی کی سزا ساری زندگی کی پچھتاوا۔

اس صفحے پر ہم اس ڈر کا سامنا کریں گے، کلامِ مقدّس کی روشنی میں۔ آپ دیکھیں گے کہ خدا کی مرضی کے بارے میں بائبل جو کہتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ کھلی، واضح اور آزاد کرنے والی ہے جتنا ہم نے سوچا تھا۔

اس رہنما کا زاویہ

یہ صفحہ ایک خاص زاویے سے لکھا گیا ہے: خدا کی مرضی کوئی گمشدہ نقشہ نہیں جسے ہم نے ڈھونڈنا ہے، بلکہ ایک کھلا دروازہ ہے جس میں ہم نے داخل ہونا ہے۔ کلامِ مقدّس میں خدا کی مرضی کا نوے فیصد حصہ پہلے ہی صاف لکھا جا چکا ہے: وہ چاہتا ہے کہ آپ پاک ہوں، شکرگزار ہوں، مسیح کی صورت پر بنیں۔ باقی جو فیصلے ہیں، وہ کسی خفیہ اشارے سے نہیں بلکہ ایک بدلے ہوئے دل سے نکلتے ہیں۔

اسی لیے سوال یہ نہیں رہتا کہ "خدا نے کیا چھپایا ہے؟" بلکہ یہ بنتا ہے: "خدا نے جو ظاہر کیا ہے، کیا میں اُس پر چل رہا ہوں؟" یہ فرق آپ کی ساری دعا بدل دے گا۔

بائبل خدا کی مرضی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

کلامِ مقدّس خدا کی مرضی کو کبھی پہیلی کی طرح پیش نہیں کرتا۔ موسیٰ نے بنی اسرائیل سے کہا، "پوشیدہ باتیں خداوند ہمارے خدا کے لئے ہیں لیکن جو باتیں ظاہر کی گئی ہیں وہ ہمیشہ تک ہمارے اور ہماری اولاد کے لئے ہیں تاکہ ہم اِس شریعت کی سب باتوں پر عمل کریں" (استثنا 29:29)۔ یہ ایک آیت ہماری آدھی الجھن حل کر دیتی ہے۔ خدا کے پاس وہ ارادے بھی ہیں جو اُس نے ہم سے نہیں بتائے، اور وہ بتانے کا پابند بھی نہیں۔ لیکن جو کچھ اُس نے ظاہر کیا، وہ چھپانے کے لیے نہیں بلکہ عمل کرنے کے لیے دیا گیا۔

پولس رسول اسی نکتے کو کھولتے ہیں: "اور اِس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے تمہاری صورت بدلتی جائے تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو" (رومیوں 12:2)۔ غور کیجیے کہ یہاں ترتیب کیا ہے۔ پہلے عقل کا نیا ہونا، پھر معلوم ہونا۔ خدا کی مرضی معلوم کرنے کا راستہ معلومات سے نہیں، تبدیلی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اور لفظ "تجربہ سے معلوم کرتے رہو" ایک جاری عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے، ایک بار کا انکشاف نہیں بلکہ چلتے چلتے پہچاننا۔

افسیوں کی کلیسیا کو وہی رسول لکھتے ہیں، "اِس سبب سے نادان نہ بنو بلکہ خداوند کی مرضی کو سمجھو کہ کیا ہے" (افسیوں 5:17)۔ یہ حکم ہے، اور حکم صرف اُس بات کا دیا جاتا ہے جو ممکن ہو۔ اگر خدا کی مرضی سمجھنا ناممکن ہوتا تو یہ آیت ظلم ہوتی۔ اس کے برعکس یہ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ سمجھنا ممکن ہے، بشرطیکہ ہم "نادان" یعنی بے پروا نہ رہیں۔

پھر توکل کی بنیاد آتی ہے: "سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر" (امثال 3:5)۔ یہ آیت عقل کو حرام نہیں کرتی، وہ عقل کو تخت سے اتارتی ہے۔ آپ کا فہم مشیر بن سکتا ہے، خدا نہیں بن سکتا۔ اور اگلی سانس میں وعدہ ہے کہ ایسا توکل راستہ سیدھا کرتا ہے۔

خدا خود رہنمائی کا وعدہ کرتے ہیں: "میں تجھے تعلیم دوں گا اور جس راہ پر تجھے چلنا ہوگا تجھے بتاؤں گا۔ میں تجھے صلاح دوں گا۔ میری نظر تجھ پر ہوگی" (زبور 32:8)۔ یہ کسی اجنبی کی ہدایت نہیں، یہ باپ کی نگاہ ہے جو بچے پر لگی ہوئی ہے۔ اور یہ رہنمائی بنیادی طور پر کہاں سے آتی ہے؟ "تیرا کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اور میری راہ کے لئے روشنی ہے" (زبور 119:105)۔ قدیم چراغ دور تک نہیں چمکتا تھا، وہ صرف اگلا قدم روشن کرتا تھا۔ خدا اکثر ہمیں پوری سڑک نہیں دکھاتا، اگلا قدم دکھاتا ہے، اور یہی کافی ہے۔

یسعیاہ نبی نے اس تجربے کو خوبصورتی سے بیان کیا: "اور جب کبھی تم دہنے یا بائیں مڑو تو تمہارے کان تمہارے پیچھے سے یہ آواز سنیں گے کہ راہ یہی ہے اِس پر چل" (یسعیاہ 30:21)۔ آواز "پیچھے سے" آتی ہے، یعنی اُس وقت جب ہم چل پڑے ہوں۔ کھڑے رہنے والے کو سمت کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

اور جب حکمت کم پڑ جائے؟ "لیکن اگر تم میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو خدا سے مانگے جو بغیر ملامت کئے سب کو فیاضی کے ساتھ دیتا ہے۔ اُس کو دی جائے گی" (یعقوب 1:5)۔ یہ آیت اُن کے لیے ہے جو آزمائشوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ خدا آپ کو جھڑکتا نہیں کہ "تم نے پھر پوچھا؟" وہ فیاضی سے دیتا ہے۔

خدا چھپنے والا نہیں، وہ بتانے والا خدا ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

پیدایش کے پہلے باب سے خدا کی مرضی ایک تخلیقی طاقت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ کہتا ہے اور ہو جاتا ہے۔ انسان کو اُس نے اپنی صورت پر بنایا اور ایک واضح کام سونپا: باغ کی حفاظت اور زمین کی آبادی۔ آدم کو کسی خفیہ اشارے کی تلاش نہیں تھی، اُس کے سامنے ایک صاف حکم اور ایک صاف حد تھی۔ گناہ اُس وقت داخل ہوا جب انسان نے خدا کی ظاہر کی ہوئی مرضی کو چھوڑ کر اپنی خودمختاری چُنی۔ یہی وہ بنیادی زخم ہے جس کا علاج پوری بائبل میں ہوتا ہے۔

ابرہام کو ایک حکم ملا اور منزل کا نام بعد میں بتایا گیا۔ یوسف کو جو ہوا وہ بھائیوں کی بدنیتی تھی، مگر آخر میں اُس نے پہچانا کہ خدا کا ہاتھ اُس سب کے پیچھے بھلائی بُن رہا تھا۔ موسیٰ کو شریعت ملی، اور شریعت دراصل خدا کی مرضی کی لکھی ہوئی شکل تھی: یہ کرو، یہ نہ کرو، اس طرح جیو۔ انبیا نے بار بار اسرائیل کو یاد دلایا کہ قربانیوں کا ڈھیر لگانے سے زیادہ خدا یہ چاہتا ہے کہ دل بدلے۔ میکاہ نبی نے اسے ایک جملے میں سمیٹ دیا: "اے انسان! اُس نے تجھ کو بتایا کہ نیکی کیا ہے اور خداوند تجھ سے اِس کے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو انصاف کرے اور رحمدلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟" یہاں بھی وہی زاویہ چمکتا ہے: خدا نے "بتا دیا" ہے۔ معاملہ معلومات کی کمی کا نہیں، فرمانبرداری کی ہچکچاہٹ کا ہے۔

پرانے عہدنامے کی یہ ساری دھاریں مسیح میں آ کر ایک ہو جاتی ہیں۔ خداوند یسوع مسیح وہ واحد انسان ہیں جنہوں نے خدا کی مرضی کو مکمل طور پر پورا کیا۔ اُنہوں نے سکھایا کہ دعا کریں، "تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو" (متی 6:10)۔ اور پھر گتسمنی کے باغ میں، خون پسینے کی حالت میں، اُنہوں نے وہی دعا اپنے جسم سے ادا کی: "اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے تو بھی نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو" (متی 26:39)۔

یہیں پر خدا کی مرضی کا سب سے گہرا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ محض ہدایت نہیں، یہ قربانی کی محبت ہے۔ صلیب خدا کی مرضی کا مرکز ہے، اور جو شخص صلیب کو سمجھ گیا وہ کبھی یہ نہیں سوچے گا کہ خدا اُس سے کچھ بھلا چھپا رہا ہے۔ جس نے اپنا بیٹا نہ چھپایا، وہ راستہ کیوں چھپائے گا؟

رسولوں کے اعمال میں ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائی کلیسیا نے رہنمائی کیسے پائی: کلام، دعا، روح القدس کی ہدایت، اور جماعت کی مشاورت کے ذریعے۔ پولس ایشیا میں جانا چاہتے تھے، روح نے روکا، اور مکدُنیہ کا دروازہ کھلا۔ یہ دلچسپ ہے کہ خدا نے اُنہیں بیٹھے بٹھائے نہیں بتایا، چلتے ہوئے موڑا۔ اور آخرکار مکاشفہ میں وہ صدا گونجتی ہے: "اے ہمارے خداوند اور خدا! تو ہی جلال اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تو نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔" تاریخ کا آغاز بھی اُس کی مرضی سے ہے اور انجام بھی۔

عام غلط فہمیاں

پہلی غلط فہمی: خدا کی مرضی ایک نقطہ ہے اور ذرا سی چُوک سے زندگی برباد۔ بہت سے مسیحی اس تصور کے ساتھ جیتے ہیں کہ خدا نے ایک ہی صحیح شہر، ایک ہی صحیح رشتہ، ایک ہی صحیح نوکری مقرر کی ہے، اور اگر نشانہ خطا ہوا تو ساری عمر "دوسرے درجے" کی رہ جائے گی۔ کلام ایسا نقشہ کہیں پیش نہیں کرتا۔ امثال 16:9 کہتی ہے، "آدمی اپنے دل میں اپنی راہ ٹھہراتا ہے پر خداوند اُس کے قدموں کی راہنمائی کرتا ہے۔" انسان منصوبہ بناتا ہے اور خدا قدم سنبھالتا ہے۔ یہ خوف نہیں، آزادی ہے۔ ہمارا خدا ٹوٹے ہوئے فیصلوں سے بھی نیا راستہ بُن سکتا ہے، جیسا اُس نے یوسف، داؤد اور پطرس کے ساتھ کیا۔

دوسری غلط فہمی: خدا کی مرضی جاننے کے لیے کوئی غیر معمولی تجربہ چاہیے۔ ہم خواب، نشان، اچانک دل میں اٹھنے والا خیال، یا کسی کے منہ سے نکلی بات کا انتظار کرتے ہیں، جبکہ بائبل ہمارے ہاتھ میں کھلی پڑی رہتی ہے۔ زبور 119:105 ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عام رہنمائی کا ذریعہ کلام ہے، نہ کہ اسرار۔ خدا غیر معمولی طریقوں سے بول سکتا ہے اور کبھی کبھی بولتا بھی ہے، مگر اُنہیں معیار بنانا خطرناک ہے، کیونکہ دل دھوکا دے سکتا ہے اور جذبات بدلتے رہتے ہیں۔ جو شخص کلام پر دھیان نہیں دیتا، وہ نشان کو بھی غلط پڑھے گا۔

تیسری غلط فہمی: خدا کی مرضی ہمیشہ وہی ہے جو آسان اور آرام دہ ہو۔ ہم اکثر "کھلے دروازے" کو خدا کی مرضی کا ثبوت سمجھ لیتے ہیں اور ہر مشکل کو مخالفت کی علامت۔ مگر پولس نے لکھا کہ اُن کے لیے ایک بڑا دروازہ کھلا اور ساتھ ہی بہت سے مخالف بھی موجود تھے۔ مسیح کے لیے باپ کی مرضی صلیب تھی۔ 1 تھسلنیکیوں 5:16-18 کہتی ہے، "ہمیشہ خوش رہو۔ بلاناغہ دعا کرو۔ ہر ایک بات میں شکرگزاری کرو کیونکہ مسیح یسوع میں تمہاری بابت خدا کی یہی مرضی ہے۔" غور کیجیے، شکرگزاری "ہر ایک بات میں" مانگی گئی ہے، یعنی اُن حالات میں بھی جو ہم نے نہیں چُنے۔

چوتھی غلط فہمی: خدا کی مرضی زیادہ تر فیصلوں کے بارے میں ہے۔ جب نیا عہدنامہ صاف لفظوں میں کہتا ہے "خدا کی مرضی یہ ہے" تو تقریباً ہر بار بات کردار کی ہوتی ہے، جغرافیے کی نہیں۔ 1 تھسلنیکیوں 4:3 میں لکھا ہے، "کیونکہ خدا کی مرضی یہ ہے کہ تم پاک بنو یعنی حرامکاری سے بچے رہو۔" اگر ہم اُس مرضی کو نظرانداز کر رہے ہیں جو صاف لکھی ہے، تو اُس مرضی کے بارے میں پریشان ہونا بے معنی ہے جو لکھی ہی نہیں گئی۔ یہی اس رہنما کا بنیادی نکتہ ہے: کھلا دروازہ پہلے، پھر نقشہ۔

آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا

عملی سطح پر یہ کیسا لگتا ہے؟ فرض کیجیے آپ کے سامنے دو نوکریاں ہیں۔ پہلا سوال یہ نہ کیجیے کہ "کون سی خدا کی مرضی ہے؟" بلکہ یہ کہ "کیا دونوں میں سے کوئی ایسی ہے جو مجھے جھوٹ بولنے، رشوت دینے، یا عبادت سے کٹنے پر مجبور کرے گی؟" اگر ہاں، تو فیصلہ ہو گیا، کیونکہ خدا کی مرضی کبھی اپنے کلام کے خلاف نہیں جاتی۔ اگر دونوں جائز ہیں، تو اب آپ آزاد ہیں کہ حکمت، صلاحیت، ضرورت اور محبت کو دیکھ کر چُنیں، اور یہ چناؤ بھی روحانی ہے۔

دوسرا قدم دعا ہے، مگر سودے بازی والی دعا نہیں۔ یعقوب 1:5 کے مطابق حکمت مانگیے، اس یقین کے ساتھ کہ خدا طعنہ نہیں دیتا۔ ایسی دعا میں ایک چیز شامل ہونی چاہیے: پیشگی سپردگی۔ جو شخص کہتا ہے "پہلے بتا، پھر میں سوچوں گا" وہ اکثر خاموشی ہی سنتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ جو اُس کی مرضی پر چلنا چاہے، وہی تعلیم کو پہچان لے گا۔ فرمانبرداری کی نیت رہنمائی کا دروازہ کھولتی ہے۔

تیسرا، کلام کو باقاعدگی سے پڑھیے، صرف بحران میں نہیں۔ جو شخص سال بھر کلام سے غذا پاتا ہے، فیصلے کے وقت اُس کے اندر ایک پکی ہوئی سمجھ موجود ہوتی ہے۔ زبور 32:8 کا وعدہ اچانک جادو نہیں، یہ ایک رشتے کی تعلیم ہے۔

چوتھا، پرہیزگار مشیروں سے بات کیجیے۔ امثال بار بار کہتی ہیں کہ مشورت میں سلامتی ہے۔ اپنے پادری صاحب، کسی بزرگ ایماندار، اور اُن لوگوں سے پوچھیے جو آپ سے محبت بھی کرتے ہوں اور آپ کو "نہیں" بھی کہہ سکتے ہوں۔ تنہائی میں کیے گئے بڑے فیصلے اکثر سب سے زیادہ پچھتاوے لاتے ہیں۔

پانچواں، حالات کو پڑھیے مگر اُنہیں خدا نہ بنائیے۔ بند دروازے معلومات دیتے ہیں، حکم نہیں۔ اور چھٹا، چل پڑیے۔ یسعیاہ 30:21 کی آواز چلنے والوں کے پیچھے سے آتی ہے۔ اگر آپ نے دعا کی، کلام دیکھا، مشورہ لیا اور ضمیر صاف ہے، تو قدم اٹھائیے اور خدا پر بھروسا رکھیے کہ وہ راستے میں سنبھالے گا۔ یہی امثال 3:5 کا عملی مطلب ہے: دل سے توکل، اپنے فہم پر تکیہ نہیں۔

آئینہ

اب ایک لمحے کے لیے یہ سوال اپنے دل سے پوچھیے: کیا میں واقعی خدا کی مرضی جاننا چاہتا ہوں، یا میں چاہتا ہوں کہ خدا میری مرضی پر مہر لگا دے؟

یہ سوال چبھتا ہے، مگر ضروری ہے۔ آپ مہینوں سے دعا کر رہے ہیں کہ خدا آپ کے کاروبار کے بارے میں رہنمائی کرے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ حساب کی وہ کتاب صاف نہیں جسے آپ نے چھپا رکھا ہے۔ آپ پوچھتے ہیں کہ خدا آپ کی خدمت کے لیے کیا چاہتا ہے، مگر گھر میں آپ کی بیوی ہفتوں سے آپ کی سخت زبان سہہ رہی ہے۔ آپ یہ جاننے کے لیے بےچین ہیں کہ کس شہر میں جائیں، جبکہ جس موبائل سکرین پر آپ راتیں گزارتے ہیں، وہ آپ کی پاکیزگی کو کھا رہی ہے۔ خدا نے 1 تھسلنیکیوں 4:3 میں جو مرضی صاف لکھ دی، اُس پر ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور جو اُس نے نہیں لکھی، اُس کے لیے روتے ہیں۔

مگر یہ آئینہ صرف شرمندہ نہیں کرتا، وہ آزاد بھی کرتا ہے۔ شاید آپ برسوں سے اس بوجھ تلے دبے ہیں کہ آپ نے کہیں "خدا کی مرضی کھو دی"۔ وہ شادی جو ٹوٹ گئی، وہ تعلیم جو ادھوری رہ گئی، وہ موقع جو آپ کے ڈر کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گیا۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ اب آپ خدا کے لیے دوسرے درجے کا مال ہیں۔ سنیے: فضل اسی لیے ہے۔ وہی خدا جو زبور 32 میں رہنمائی کا وعدہ کرتا ہے، اُسی زبور کے شروع میں معافی کا اعلان کرتا ہے۔ ترتیب اتفاقی نہیں۔ معاف کیا ہوا آدمی ہی اطمینان سے رہنمائی سن سکتا ہے۔

تو آج کا سوال یہ نہیں کہ دس سال بعد آپ کہاں ہوں گے۔ آج کا سوال یہ ہے: جو ایک بات آپ جانتے ہیں کہ خدا چاہتا ہے، کیا آپ آج شام اُس پر عمل کریں گے؟

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو خدا کی مرضی سمجھانا مشکل نہیں، بس زبان بدلنی پڑتی ہے۔ ایک آسان تصویر یہ ہے: جب ابو رات کو ٹارچ لے کر آپ کے ساتھ گلی میں چلتے ہیں، تو ٹارچ پوری گلی روشن نہیں کرتی، صرف اگلا قدم دکھاتی ہے، اور یہی کافی ہوتا ہے کیونکہ ابو کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ خدا بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ وہ ہمیں پوری زندگی کا نقشہ نہیں تھماتا، مگر وہ ہمارے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور اگلا قدم دکھاتا رہتا ہے۔

بچوں کو یہ بھی بتائیے کہ خدا نے بہت سی باتیں پہلے ہی بتا دی ہیں: سچ بولو، معاف کرو، ماں باپ کی عزت کرو، کمزور کا ساتھ دو۔ یہ خدا کی مرضی ہے اور اسے جاننے کے لیے کسی خاص آواز کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ جب کوئی بچہ پوچھے کہ "خدا مجھ سے بات کیوں نہیں کرتا؟" تو اُس کے ساتھ بائبل کھولیے اور دکھائیے کہ یہ خدا کی آواز ہے جو کاغذ پر لکھی ہوئی ہے، اور یہ ہر روز بولتی ہے۔

عمر کے لحاظ سے وضاحت مختلف ہونی چاہیے۔ فیتھ نیٹ ورک پر اس موضوع کی الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال) کہانی اور تصویر کے انداز میں، سکول جانے والے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال) سوال جواب اور بائبلی مثالوں کے ساتھ، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر) اُن فیصلوں پر جو وہ واقعی آج کر رہے ہیں، جیسے دوستی، پڑھائی اور موبائل کا استعمال۔ والدین اور اتوار سکول کے اساتذہ اِن سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

خدا کی مرضی کا مطلب کیا ہے؟

بائبل میں خدا کی مرضی کے دو بڑے پہلو ہیں۔ پہلا اُس کی حاکمانہ مرضی ہے، یعنی وہ سب کچھ جو وہ اپنی قدرت سے پورا کرتا ہے اور جو کوئی روک نہیں سکتا۔ دوسرا اُس کی ظاہر کی ہوئی مرضی ہے، یعنی وہ احکام اور اصول جو اُس نے اپنے کلام میں ہمارے لیے لکھ دیے۔ روزمرہ زندگی میں جب ہم "خدا کی مرضی" کہتے ہیں تو اکثر ہماری مراد تیسری چیز ہوتی ہے: کسی خاص فیصلے میں اُس کی پسند۔ کلام زیادہ تر پہلے دو پہلوؤں پر زور دیتا ہے، اور یہی توازن ہمیں سکون دیتا ہے۔

میں کیسے جانوں کہ یہ فیصلہ خدا کی مرضی ہے یا میری اپنی خواہش؟

سب سے پہلے دیکھیے کہ کیا یہ فیصلہ کلامِ مقدّس کے کسی صاف حکم سے ٹکراتا ہے؛ اگر ہاں، تو وہ خدا کی مرضی ہرگز نہیں، چاہے دل کتنا ہی مائل ہو۔ پھر اپنی نیت جانچیے: کیا اس کے پیچھے خوف، لالچ یا کسی کو دکھانے کی خواہش ہے؟ اس کے بعد پرہیزگار لوگوں سے مشورہ لیجیے، کیونکہ دوسروں کو ہمارے اندھے پہلو ہم سے بہتر نظر آتے ہیں۔ آخر میں، جب ضمیر صاف ہو تو قدم اٹھائیے اور رومیوں 12:2 کے مطابق بدلے ہوئے دل پر بھروسا کیجیے۔

کیا خدا کی مرضی جاننے کے لیے نشان مانگنا درست ہے؟

جدعون نے اُون کے ذریعے نشان مانگا اور خدا نے مہربانی سے دیا، مگر وہ واقعہ جدعون کے ایمان کی کمزوری کی گواہی ہے، نہ کہ ہمارے لیے نسخہ۔ نئے عہدنامے میں ایمانداروں کو کہیں نشان مانگنے کی تعلیم نہیں دی گئی، کیونکہ اب ہمارے پاس مکمل کلام اور روح القدس موجود ہیں۔ نشان کا مسئلہ یہ ہے کہ اُس کی تعبیر ہم خود کرتے ہیں، اور ہمارا دل آسانی سے وہی پڑھ لیتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ نشان مانگنے کے بجائے حکمت مانگیے، جیسا یعقوب 1:5 سکھاتی ہے۔

اگر میں نے خدا کی مرضی سے ہٹ کر فیصلہ کر لیا تو کیا سب کچھ ختم ہو گیا؟

نہیں۔ بائبل ایسے لوگوں سے بھری ہے جنہوں نے غلط راستہ چُنا اور پھر بھی خدا نے اُن کی زندگی میں اپنا کام جاری رکھا۔ داؤد کا گناہ بہت بڑا تھا، مگر توبہ کے بعد خدا نے اُسے چھوڑا نہیں۔ پطرس نے خداوند کا انکار کیا، اور وہی پطرس پنتِکُست کے دن منادی کر رہا تھا۔ گناہ کے نتائج حقیقی ہوتے ہیں اور ہمیں اُن سے ہلکا نہیں لینا چاہیے، لیکن خدا کا فضل ہماری غلطیوں سے بڑا ہے۔ آپ کا ماضی آپ کے مستقبل کا جیل خانہ نہیں۔

شادی کے لیے خدا کی مرضی کیسے معلوم کریں؟

کلام اس معاملے میں خاموش نہیں۔ ایمانداروں کو ہدایت ہے کہ وہ "خداوند میں" شادی کریں، یعنی ایسے شخص سے جو مسیح پر ایمان رکھتا اور اُس کے تابع ہونا چاہتا ہو۔ یہ پہلی چھلنی ہے اور بہت سے معاملے یہیں طے ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد کردار دیکھیے، صرف جذبہ نہیں: کیا یہ شخص سچا ہے، غصے پر قابو رکھتا ہے، پیسے کے معاملے میں دیانت دار ہے؟ والدین اور بزرگوں کی رائے کو اہمیت دیجیے، دعا میں وقت لگائیے، اور جلدبازی سے بچیے۔

کیا خدا کی مرضی ہمیشہ آسان راستہ ہوتی ہے؟

ہرگز نہیں۔ گتسمنی میں خدا کی مرضی مسیح کے لیے صلیب تھی، اور اُنہوں نے فرمایا، "نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو" (متی 26:39)۔ پولس رسول کی فرمانبرداری اُنہیں قید خانے تک لے گئی۔ آرام کو رہنمائی کا پیمانہ بنانا خطرناک ہے، کیونکہ اس سے ہم ہر مشکل کو شیطان کی مخالفت اور ہر سہولت کو خدا کی منظوری سمجھنے لگتے ہیں۔ خدا کی مرضی میں امن ضرور ملتا ہے، مگر وہ حالات کا امن نہیں، دل کا امن ہے۔

خدا کی ظاہر شدہ مرضی اور پوشیدہ مرضی میں کیا فرق ہے؟

استثنا 29:29 اس فرق کو صاف کرتی ہے: پوشیدہ باتیں خداوند کے لیے ہیں اور ظاہر کی گئی باتیں ہمارے لیے۔ پوشیدہ مرضی وہ ہے جو خدا نے اپنے ابدی ارادے میں طے کر رکھی ہے اور جس کا علم ہمیں پیش از وقت نہیں دیا جاتا؛ ہم اُسے صرف پیچھے مڑ کر پہچانتے ہیں۔ ظاہر شدہ مرضی وہ ہے جو کلام میں لکھی ہے اور جس پر عمل کرنا ہمارا فرض ہے۔ روحانی پختگی اسی میں ہے کہ ہم پوشیدہ کا تجسس چھوڑ کر ظاہر پر عمل کرنے لگیں۔

کیا دعا کے جواب میں خاموشی کا مطلب انکار ہے؟

ضروری نہیں۔ کبھی خاموشی کا مطلب "ابھی نہیں" ہوتا، کبھی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا ہمارے اندر صبر اور انحصار پیدا کر رہا ہے، اور کبھی یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ ہماری آزادی پر چھوڑا گیا ہے کیونکہ دونوں راستے جائز ہیں۔ ابرہام کو برسوں انتظار کرنا پڑا۔ خاموشی کے وقت میں دعا جاری رکھیے، کلام پڑھتے رہیے، اور جو آخری بات خدا نے آپ کو صاف طور پر بتائی تھی اُس پر عمل کرتے رہیے؛ وفاداری اکثر اگلی ہدایت کا دروازہ بنتی ہے۔

کیا خواب اور رویا کے ذریعے خدا آج بھی رہنمائی کرتا ہے؟

خدا کی قدرت محدود نہیں اور کلام میں اُس نے خوابوں کے ذریعے بات کی ہے، خاص طور پر اُن لوگوں سے جن تک اُس کا کلام نہیں پہنچا تھا۔ آج بھی ایسی گواہیاں موجود ہیں۔ مگر خواب کا معیار ہمیشہ لکھا ہوا کلام ہے: اگر کوئی خواب بائبل کی تعلیم سے ٹکرائے تو وہ خدا کی طرف سے نہیں۔ عام مسیحی زندگی کے لیے خدا نے جو ذریعہ مقرر کیا ہے وہ زبور 119:105 میں بیان ہوا ہے، یعنی اُس کا کلام، جو قدموں کے لیے چراغ ہے۔

ملازمت یا تعلیم کے فیصلے میں خدا کی مرضی کیسے تلاش کریں؟

پہلے دیانت کا سوال اٹھائیے: کیا یہ کام مجھے گناہ پر مجبور کرے گا؟ پھر عبادت کا: کیا اس کے بعد بھی میں کلیسیا اور اپنے گھرانے کے ساتھ جڑا رہ سکوں گا؟ پھر صلاحیت اور ضرورت کا: خدا نے مجھے کیا دیا ہے اور دنیا میں کہاں اُس کی ضرورت ہے؟ ان سوالوں کے بعد حکمت سے چُنیے، کیونکہ افسیوں 2:10 کے مطابق ہم اُن نیک کاموں کے لیے بنائے گئے ہیں جو خدا نے پہلے سے تیار کیے۔ آپ کی ملازمت خدمت کا میدان ہے، محض آمدنی کا ذریعہ نہیں۔

اگر دونوں راستے اچھے ہوں تو کیا کریں؟

یہ اکثر سب سے زیادہ گھبراہٹ پیدا کرنے والی صورتحال ہوتی ہے، حالانکہ یہ دراصل خدا کی سخاوت کا نشان ہے۔ جب کلام دونوں راستوں کو جائز قرار دیتا ہے، تو آپ آزاد ہیں کہ محبت، حکمت اور اپنی دلی خواہش کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ زبور 37:4 میں لکھا ہے، "خداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا۔" جو دل خدا میں خوش ہو، اُس کی خواہشیں بھی آہستہ آہستہ پاک ہو جاتی ہیں۔ فیصلہ کیجیے، اور پھر پیچھے مڑ کر پچھتاوے کی گنتی مت کیجیے۔

کیا بیماری اور مصیبت بھی خدا کی مرضی ہے؟

یہ سوال دل سے نکلتا ہے اور اس کا جواب احتیاط مانگتا ہے۔ بائبل کبھی بیماری اور موت کو "اچھی" چیز نہیں کہتی؛ یہ گرے ہوئے جہان کے نتائج ہیں اور آخرکار ختم کر دیے جائیں گے۔ مگر کلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ کوئی دکھ خدا کے ہاتھ سے باہر نہیں اور وہ اُسے اپنے بچوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یوسف کے ساتھ جو برائی ہوئی، خدا نے اُسے بھلائی میں بدلا۔ اس لیے ہم شفا کے لیے دعا بھی کرتے ہیں اور دکھ میں بھروسا بھی رکھتے ہیں۔

اختتام میں

اگر اس ساری بات کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو یہ ہوگا: خدا کی مرضی کوئی چھپا ہوا نقشہ نہیں جسے پا لینے پر انعام ملتا ہے، بلکہ ایک کھلا دروازہ ہے جس میں داخل ہونے کی دعوت ہمیں ہر روز دی جاتی ہے۔ وہ دروازہ خداوند یسوع مسیح خود ہیں۔ جس نے اُنہیں پا لیا، اُس نے سمت پا لی، چاہے اگلے موڑ کا نام ابھی معلوم نہ ہو۔

تو آج رات جب وہ دو کاغذ پھر میز پر ہوں، پہلے بائبل کھولیے، پھر گھٹنے ٹیکیے، پھر کسی پرہیزگار دوست کو فون کیجیے، اور پھر ایک قدم اٹھائیے۔ یسعیاہ 30:21 کی آواز اُن کے پیچھے سے آتی ہے جو چل رہے ہوں۔

وہ باپ راستہ چھپاتا نہیں، ہاتھ تھامتا ہے۔

آگے کے مطالعے کے لیے زبور 119 کو آہستگی سے پڑھیے اور دیکھیے کہ ایک آدمی کلام سے کیسے جینا سیکھتا ہے۔ پھر رومیوں 12 پر غور کیجیے، جہاں خدا کی مرضی جاننے کا راستہ قربانی اور تجدید سے ہو کر گزرتا ہے۔ اور جب دل پھر بے چین ہو، گتسمنی کے باغ میں جائیے اور اُس دعا کو اپنی زبان پر رکھیے جو ہر رہنمائی کی کنجی ہے: جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.147 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.833
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 101 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو زکریاہ 8:9

مضبوط ہو جاؤ!“ یہ لفظ اُن لوگوں کے لیے تھے جن کے ہاتھ آدھے بنے ہوئے گھر کے سامنے ڈھیلے…

دعا ادارتی کو قُضاۃ 4:22

اے خدا، تُو اکثر وہاں سے نجات بھیجتا ہے جہاں ہماری نظر بھی نہیں جاتی۔ جب میں اپنی کوشش اور…

بصیرت ادارتی کو مکاشفہ 21:13

مشرق میں تین دروازے تھے، شمال میں تین، جنوب میں تین اور مغرب میں تین۔“ کسی ایک سمت کو ترجیح…

شکرگزاری ادارتی کو آستر 3:1

خداوند، شکر ہے کہ جب اخسویرس بادشاہ نے ہامان کو ترقی دے کر سب شرفا سے اعلیٰ عُہدہ دیا، تب…

بصیرت ادارتی کو فِلپّیوں 3:6

پولس اپنی خوبیوں کی فہرست گنواتے ہوئے کہتا ہے، "میں اِتنا سرگرم تھا کہ مَیں جماعت کو ایذا پہنچاتا تھا۔…

دعا ادارتی کو ملاکی 3:16

اے خدا، تُو ہماری باتیں سنتا ہے، یہاں تک کہ وہ بھی جو ہم آہستہ سے ایک دوسرے سے کہتے…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟