تابعداری سے فتح اور نجات
تابعداری اور نجات
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے اعمال 15:28, یشوع 6:20, 3 یوحنا 1:9 and متی 1:21.
☀ صبح کا لمحہ
ہم اور روح القدس اِس پر متفق ہوئے ہیں کہ آپ پر سوائے اِن ضروری باتوں کے کوئی بوجھ نہ ڈالیں:
اعمال 15:28
بوجھ۔ ایک لفظ جو ہم اکثر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، جیسے یہ محض ایک عام سا خیال ہو۔ مگر یہاں یہ لفظ ایک پوری بحث کا نچوڑ ہے، ایک فیصلہ جو کلیسیا کی تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے۔
اس سے پہلے یروشلیم میں سخت اختلاف چل رہا تھا۔ کچھ ایماندار، جو فریسی رہ چکے تھے، اصرار کر رہے تھے کہ غیریہودی ایمانداروں کو موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنا اور ختنہ کروانا لازمی ہے۔ گویا مسیح پر ایمان کافی نہیں، کچھ اور بھی جوڑنا ضروری ہے۔
پھر رسول اور بزرگ اکٹھے ہوئے، پطرس نے بولا، پولس اور برنباس نے اپنا تجربہ سنایا، یعقوب نے فیصلہ سنایا۔ اور روح القدس نے کلیسیا کے ذریعے صاف کہا کہ نئے ایمانداروں پر ایک اضافی بوجھ نہ رکھا جائے۔ صرف ضروری باتیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
اس ایک فیصلے نے راستہ کھول دیا۔ غیریہودی قوموں کے لیے انجیل بوجھل نہ رہی بلکہ آزاد کن رہی۔ کلیسیا ایک ہی ایمان پر متحد ہو کر آگے بڑھ سکی۔
آج صبح ذرا سوچیں، کیا آپ نے کسی پر یا خود پر کوئی ایسا بوجھ رکھا ہوا ہے جو خدا نے کبھی مانگا ہی نہیں۔ اضافی شرط، اضافی توقع، اضافی معیار۔ خدا کی روح آج بھی وہی کہتی ہے، ضرورت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو۔
آج
ایک کاغذ پر وہ ایک غیرضروری بوجھ لکھیں جو آپ نے خود پر یا کسی اور پر رکھا ہوا ہے، اور اسے پڑھ کر پھاڑ دیں۔
✦ دوپہر کا لمحہ
جب اماموں نے لمبی پھونک ماری تو اسرائیلیوں نے جنگ کے زوردار نعرے لگائے۔ اچانک یریحو کی فصیل گر گئی، اور ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر سیدھا شہر میں داخل ہوا۔ یوں شہر اسرائیل کے قبضے میں آ گیا۔
یشوع 6:20
ایک سپاہی کے پاؤں دھول سے بھرے ہیں، دھوپ گردن پر جل رہی ہے، اور اسے حکم ہے کہ چپ رہے۔ چھ دن سے وہ یہی چکر لگا رہا ہے، کوئی بات نہیں، کوئی نعرہ نہیں، صرف قدموں کی آواز اور کافی کے بجائے پیاس۔ نہ کوئی نتیجہ نظر آتا ہے، نہ کوئی وجہ سمجھ آتی ہے۔
آپ کے دن کے اس حصے میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہو سکتا ہے۔ وہی فائل، وہی فون کال، وہی کام جو ابھی تک کوئی رنگ نہیں لایا۔
یریحو ایک قدیم فصیل بند شہر تھا، یردن کے میدان میں، مٹی کی اینٹوں سے بنی موٹی دیواروں کے ساتھ، جو کنعان میں داخل ہونے کا راستہ روکتی تھیں۔ ہوا میں دھول اور جانوروں کی بو تھی، اور چھ دن تک صرف قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ ساتویں دن سات بار گھومنے کے بعد نرسنگے بجے، لوگ چلائے، اور جو دیوار برسوں سے کھڑی تھی وہ ایک لمحے میں گر گئی۔
دیوار طاقت سے نہیں گری، اضطراب سے نہیں، بلکہ اطاعت سے، ایک حکم پر عمل کرتے رہنے سے جس کا نتیجہ ابھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ چھ دن خاموشی، ساتواں دن نعرہ۔ ترتیب اہم تھی۔
آج کا کام بھی ایک چکر ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ ابھی نہیں دکھتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بے فائدہ ہے۔
آج
اپنی کرسی سے اٹھیں، دفتر یا کمرے کا ایک خاموش چکر لگائیں، اور چلتے ہوئے اس ایک کام کا نام لے کر خدا سے کہیں جو ابھی نتیجہ نہیں دے رہا۔ پھر واپس بیٹھ کر کام جاری رکھیں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
I wrote to the assembly, but Diotrephes, who loves to be first among them, doesn't accept what we say.
3 یوحنا 1:9
میں کیوں چاہتا ہوں کہ ہر فیصلہ میری مرضی سے ہو، اور جب ایسا نہ ہو تو مجھے اتنا برا کیوں لگتا ہے؟
یہ سوال آج کی چند سطروں کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ یہ خط ایک بزرگ نے، غالباً یوحنا رسول نے، گائیس نامی ایک ایماندار کو لکھا تھا۔ اس زمانے میں مسیحی خادم اور معلم شہر شہر سفر کرتے تھے، اور مقامی جماعتیں ان کی میزبانی کرتیں، انہیں کھانا اور ٹھکانا دیتیں، ان کے آگے کے سفر کے لیے مدد دیتیں۔ یہ صرف اچھا اخلاق نہیں تھا، یہ انجیل کے پھیلنے کا ذریعہ تھا۔
مگر ایک آدمی، ڈیوطریفیس، اس جماعت میں پہلے رہنا چاہتا تھا۔ یہ لفظ خاص ہے، یونانی میں ایسا لفظ جو نئے عہدنامے میں صرف یہاں ملتا ہے، وہ آدمی جو سب سے اوپر رہنا چاہتا ہے۔ اس نے یوحنا کی بات ماننے سے انکار کیا، ان بھائیوں کو خوش آمدید نہ کہا جو باہر سے آئے، اور جو کوئی ان کا استقبال کرنا چاہتا اسے جماعت سے نکال دیا۔ اقتدار کی خواہش نے مہمان نوازی کا دروازہ بند کر دیا۔
یہ آج بھی ہوتا ہے۔ کسی گروپ میں، کسی کمیٹی میں، کسی گھر میں، جہاں ایک آواز باقی سب کو دبا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ڈیوطریفیس جیسے بدنیت ہیں، سوال یہ ہے کہ کہاں ہم نے کسی کا راستہ روکا، صرف اس لیے کہ ہم پہلے رہنا چاہتے تھے۔
آج
آج کسی ایک شخص کا نام لکھیں جسے آپ نے کسی بحث یا فیصلے میں دبا دیا یا نظرانداز کیا تھا، اور اسے ایک مختصر پیغام بھیجیں جس میں آپ اس کی رائے یا موجودگی کا کھلے دل سے خیرمقدم کریں۔
☾ شام کا لمحہ
اُس کے بیٹا ہو گا اور اُس کا نام عیسیٰ رکھنا، کیونکہ وہ اپنی قوم کو اُس کے گناہوں سے رِہائی دے گا۔“
متی 1:21
فرشتہ صرف یہ نہیں کہتا کہ اُس بچے کا نام یِسُوع رکھنا۔ وہ فوراً وجہ بھی جوڑ دیتا ہے، کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو بچائے گا۔ نام اور مقصد ایک ہی سانس میں باندھ دیے گئے ہیں۔ یہ چھوٹی سی بات اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے۔
اُس زمانے میں یِسُوع، یعنی عبرانی میں یشوع، کوئی انوکھا نام نہیں تھا۔ کئی لڑکے یہی نام رکھتے تھے، جس کا مطلب ہے یہوواہ بچاتا ہے۔ لیکن یوسف کے خواب میں یہ عام نام ایک خاص کام سے جڑ جاتا ہے۔ یہ صرف پہچان کے لیے نہیں، بلکہ ایک کام کے لیے دیا گیا نام ہے۔
آج رات جب دن کی باتیں ذہن میں گھومتی ہیں، کچھ بولے ہوئے الفاظ، کچھ ادھورے کام، کوئی چھوٹی سی غلطی جو دل پر بوجھ بنی رہی، تو یہی نام یاد دلانے کے لیے کافی ہے۔ اُس کا نام بچانے کے لیے رکھا گیا، سزا دینے کے لیے نہیں۔
دن کا حساب اپنے پاس رکھنے کی ضرورت نہیں۔ جس کا نام ہی نجات ہے، اُس کے سامنے دن کھلا رکھا جا سکتا ہے۔
آج
آج رات سونے سے پہلے آہستہ سے اُس کا نام لے کر کہیں، یِسُوع، آج کا دن اور جو کچھ اس میں غلط ہوا وہ آپ کے سپرد کرتا ہوں۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
28ہم اور روح القدس اِس پر متفق ہوئے ہیں کہ آپ پر سوائے اِن ضروری باتوں کے کوئی بوجھ نہ ڈالیں:
20جب اماموں نے لمبی پھونک ماری تو اسرائیلیوں نے جنگ کے زوردار نعرے لگائے۔ اچانک یریحو کی فصیل گر گئی، اور ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر سیدھا شہر میں داخل ہوا۔ یوں شہر اسرائیل کے قبضے میں آ گیا۔
21اُس کے بیٹا ہو گا اور اُس کا نام عیسیٰ رکھنا، کیونکہ وہ اپنی قوم کو اُس کے گناہوں سے رِہائی دے گا۔“
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں