عاجزوں کو سرفراز کرنے والا خدا
عاجزی اور فضل
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے لوقا 18:13, لوقا 8:25, Romans 11:17 and 1 سموئیل 2:8.
☀ صبح کا لمحہ
لیکن ٹیکس لینے والا دُور ہی کھڑا رہا۔ اُس نے اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھانے تک کی جرأت نہ کی بلکہ اپنی چھاتی پیٹ پیٹ کر کہنے لگا، ’اے خدا، مجھ گناہ گار پر رحم کر!‘
لوقا 18:13
دن کی شروعات اکثر اسی نصیحت سے ہوتی ہے کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، نظریں ملاؤ، اپنے آپ کو پیش کرو، اعتماد دکھاؤ۔ یہی کامیابی کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ دعا اس اصول کو توڑ دیتی ہے۔ یہاں کامیابی نظر جھکائے رکھنے میں ہے۔
ہیکل کے صحن میں وہ آدمی دور کھڑا تھا۔ ٹیکس لینے والا، یعنی وہ شخص جو اپنی ہی قوم سے روم کے لیے پیسے وصول کرتا تھا، اکثر ضرورت سے زیادہ لے کر۔ لوگ اسے غدار اور چور سمجھتے تھے۔ اسے خود بھی معلوم تھا کہ وہ ہیکل کے قریب جانے کے قابل نہیں۔ اس لیے وہ فاصلے پر رکا، آنکھیں نیچی رکھیں، سینہ پیٹا۔
اس کی دعا میں کوئی صفائی نہیں، کوئی وجہ نہیں دی گئی، کوئی وعدہ نہیں کیا گیا کہ آئندہ ٹھیک کروں گا۔ صرف ایک سچی درخواست: مجھ پر رحم کر۔ اور یسوع کہتے ہیں کہ یہی آدمی گھر واپس گیا جبکہ وہ راستباز قرار پایا۔
آج صبح اٹھتے وقت شاید خود کو درست کر کے، ترتیب دے کر خدا کے سامنے آنے کی ضرورت نہیں۔ کل کی کوتاہیاں، آج کا خوف، سب لیے وہیں کھڑا ہو جانا کافی ہے۔
آج
ابھی، فون اٹھانے سے پہلے، یہی الفاظ اونچی آواز میں کہو، اپنا نام ذہن میں رکھ کر: 'اے خدا، مجھ گنہگار پر رحم کر۔'
✦ دوپہر کا لمحہ
پھر اُس نے شاگردوں سے پوچھا، ”تمہارا ایمان کہاں ہے؟“ اُن پر خوف طاری ہو گیا اور وہ سخت حیران ہو کر آپس میں کہنے لگے، ”آخر یہ کون ہے؟ وہ ہَوا اور پانی کو بھی حکم دیتا ہے، اور وہ اُس کی مانتے ہیں۔“
لوقا 8:25
کہاں۔ یہ سوال غور طلب ہے۔ عیسیٰ یہ نہیں پوچھتے کہ تمہارا ایمان کیوں نہیں ہے، یا کتنا کم ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہاں ہے۔ گویا ایمان کوئی چیز ہو جو گم ہو گئی ہو، کہیں پڑی رہ گئی ہو، مگر بالکل ختم نہ ہوئی ہو۔
یہ لوگ ماہر ملاح تھے۔ گلیل کی جھیل کو جانتے تھے، طوفانوں کو بھی۔ مگر یہ طوفان اتنا شدید تھا کہ کشتی ڈوبنے لگی، اور عیسیٰ سو رہے تھے۔ ایک دن کی تعلیم کے بعد تھکن اتنی گہری تھی کہ لہریں انہیں جگا نہ سکیں۔ شاگردوں نے چیخ کر انہیں اٹھایا، اور اُس نے صرف کلام کیا، اور سب کچھ تھم گیا۔
سوال طوفان کے دوران نہیں پوچھا گیا۔ خطرہ ٹل جانے کے بعد پوچھا گیا۔ یعنی یہ ملامت نہیں تھی کہ انہیں مزید ڈرانا مقصود ہو، بلکہ ایک نرم سا اشارہ تھا کہ اپنے اندر جھانکو، وہ کہاں چلا گیا تھا۔
دفتر کے کسی کام میں، کسی فون کال کے بعد، دن کے کسی حصے میں شاید تمہارا ایمان بھی کہیں دبک گیا ہو۔ ختم نہیں ہوا، صرف کہیں کھو گیا ہے۔
آج
آج ابھی رک کر ایک کاغذ پر وہ ایک بات لکھو جس نے صبح سے تمہیں پریشان کر رکھا ہے، اور اُس کے نیچے یہی سوال خود سے بلند آواز میں پوچھو، میرا ایمان اس بارے میں کہاں ہے۔
◐ دوپہر کا لمحہ
زیتون کے درخت کی کچھ شاخیں توڑ دی گئی ہیں اور اُن کی جگہ جنگلی زیتون کے درخت کی ایک شاخ پیوند کی گئی ہے۔ آپ غیریہودی اِس جنگلی شاخ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ جس طرح یہ دوسرے درخت کی جڑ سے رس اور تقویت پاتی ہے اُسی طرح آپ بھی یہودی قوم کی روحانی جڑ سے تقویت پاتے ہیں۔
Romans 11:17
دوپہر کی روشنی میں زیتون کے پتے ہلکے سے چمکتے ہیں، نہ زیادہ ہلچل، نہ زیادہ رنگ۔ ایک ایسا درخت جو جلدی کچھ نہیں کرتا۔
فلسطین کی زمین میں زیتون کا درخت صدیوں تک زندہ رہتا ہے۔ اسے پھل دینے میں کئی سال لگتے ہیں، اور کسان جانتے تھے کہ عام طور پر باغیچے کی اچھی قلم جنگلی درخت کی جڑ پر لگائی جاتی ہے، تاکہ مضبوط جڑ کمزور شاخ کو سہارا دے۔ یہ دستور تھا، سب جانتے تھے کہ جڑ کیا کام کرتی ہے۔
پولس اس دستور کو الٹ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک جنگلی شاخ، جو غیر قوم کا ایماندار ہے، کاٹ کر اس درخت میں پیوند کی گئی ہے جس کی جڑ صدیوں پرانی ہے، ابراہیم کی جڑ۔ یہ فطری بات نہیں، یہ فضل کا عمل ہے۔
تو پھر یہ شاخ کس چیز پر فخر کرے؟ کیا وہ جڑ کو سہارا دے رہی ہے، یا جڑ اسے تھامے ہوئے ہے؟ یہ سوال آسانی سے نہیں گزرتا۔
آج دوپہر کے کام میں، جب اپنی محنت، اپنی سمجھ، اپنی خدمت پر تھوڑا فخر محسوس ہو، یاد رکھنا کہ شاخ خود کو نہیں تھامتی۔ سہارا کہیں اور سے آتا ہے۔
آج
ایک چھوٹا کاغذ لے کر اس پر لکھو، 'میں جڑ نہیں ہوں'، اور اسے آج شام تک اپنی میز یا فون کے پاس رکھ دو، تاکہ نظر پڑتے ہی یاد آئے۔
☾ شام کا لمحہ
He raises up the poor out of the dust. He lifts up the needy from the ash heap, to make them sit with princes, and inherit the throne of glory. For the pillars of the earth are Yahweh’s. He has set the world on them.
1 سموئیل 2:8
حنّہ شیلوہ سے خالی ہاتھ لوٹی تھی۔ برسوں کی دعا کے بعد جو بیٹا اسے ملا تھا، وہ اسے دودھ چھڑا کر ہیکل میں خدا کے حوالے کر آئی، اور اب ماں کا دل نہ خالی تھا نہ ٹوٹا، بلکہ گیت گا رہا تھا۔
حنّہ کا گیت اپنی خوشی سے شروع ہوتا ہے، مگر آہستہ آہستہ وہ اپنی ذات سے آگے نکل کر خدا کی فطرت کی طرف مڑ جاتا ہے۔ وہ گاتی ہے کہ وہی ہے جو کمزور کو گراتا اور طاقتور کو بلند کرتا ہے، جو بھوکے کو کھلاتا اور سیر کو خالی چھوڑتا ہے۔ یہ ایک عورت کا نجی شکرانہ نہیں رہتا، یہ اس کے پورے کردار کی گواہی بن جاتا ہے۔
"راکھ کا ڈھیر" اس زمانے میں سب سے نچلی جگہ سمجھی جاتی تھی، جہاں غریب اور بے سہارا بیٹھتے تھے، جہاں سے کوئی امید نہیں رکھتا تھا۔ حنّہ خود وہاں بیٹھی رہی تھی، سالوں تک، مذاق سنتی اور خالی دعا کرتی۔ مگر وہی خدا جس نے اسے اٹھایا، وہی زمین کے ستونوں کا مالک بھی ہے۔
آج شام جب دن کا بوجھ اتر رہا ہو، حنّہ کے یہ الفاظ ادھار لے لیں۔ کوئی صورتحال جو راکھ کے ڈھیر جیسی لگتی ہے، وہ خدا کے ہاتھ سے باہر نہیں۔
آج
آج رات کاغذ پر وہ ایک نام یا حالت لکھیں جو آپ کو بے بس محسوس کراتی ہے، اور بلند آواز سے کہیں، وہی ہے جو اٹھاتا ہے۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
13لیکن ٹیکس لینے والا دُور ہی کھڑا رہا۔ اُس نے اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھانے تک کی جرأت نہ کی بلکہ اپنی چھاتی پیٹ پیٹ کر کہنے لگا، ’اے خدا، مجھ گناہ گار پر رحم کر!‘
25پھر اُس نے شاگردوں سے پوچھا، ”تمہارا ایمان کہاں ہے؟“ اُن پر خوف طاری ہو گیا اور وہ سخت حیران ہو کر آپس میں کہنے لگے، ”آخر یہ کون ہے؟ وہ ہَوا اور پانی کو بھی حکم دیتا ہے، اور وہ اُس کی مانتے ہیں۔“
17زیتون کے درخت کی کچھ شاخیں توڑ دی گئی ہیں اور اُن کی جگہ جنگلی زیتون کے درخت کی ایک شاخ پیوند کی گئی ہے۔ آپ غیریہودی اِس جنگلی شاخ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ جس طرح یہ دوسرے درخت کی جڑ سے رس اور تقویت پاتی ہے اُسی طرح آپ بھی یہودی قوم کی روحانی جڑ سے تقویت پاتے ہیں۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں