کمزوری میں چھپی خدا کی طاقت
کمزوری میں طاقت
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے فلپیوں 2:6-7, Matthew 4:2, خروج 4:10 and 1 سموئیل 1:12.
☀ صبح کا لمحہ
وہ جو اللہ کی صورت پر تھا نہیں سمجھتا تھا کہ میرا اللہ کے برابر ہونا کوئی ایسی چیز ہے جس کے ساتھ زبردستی چمٹے رہنے کی ضرورت ہے۔ نہیں، اُس نے اپنے آپ کو اِس سے محروم کر کے غلام کی صورت اپنائی اور انسانوں کی مانند بن گیا۔ شکل و صورت میں وہ انسان پایا گیا۔
فلپیوں 2:6-7
یونانی متن میں لفظ 'خالی کر دیا' فاعلی صیغے میں ہے، مجہول نہیں۔ کوئی اور اسے خالی نہیں کرتا، کوئی حالات اسے مجبور نہیں کرتے۔ وہ خود، اپنی مرضی سے، اپنے آپ کو خالی کرتا ہے۔ یہ چھوٹا سا فرق آسانی سے نظر سے گزر جاتا ہے، مگر یہی اس لفظ کا دل ہے۔
یونانی میں یہ لفظ ایسے برتن کے لیے استعمال ہوتا تھا جس سے سب کچھ نکال کر خالی کر دیا جائے، مثلاً ایک مرتبان جس میں تیل یا مے بھری ہو، اور اب اسے پوری طرح الٹا دیا جائے تاکہ اندر کچھ باقی نہ رہے۔ یہی تصویر ہے: پورا پن، ادھورا نہیں۔ کچھ بچا کر نہیں رکھا۔
ہمارا ترجمہ 'خالی کر دیا' اس گہرائی کو مشکل سے پکڑ پاتا ہے۔ یہ نقصان یا شکست نہیں، بلکہ ایک انتخاب ہے۔ خدا کی صورت میں ہونے کا حق اپنے پاس تھا، پھر بھی وہ خدمت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ کچھ کھو نہیں گیا، سب کچھ دے دیا گیا۔
آج کا دن جیسے بھی شروع ہو، تھکن کے ساتھ یا فکر کے ساتھ، یہ لفظ ایک راستہ دکھاتا ہے جو مجبوری سے نہیں، آزادی سے نکلتا ہے۔ اپنے آپ کو دینا کمزوری کی نشانی نہیں۔
آج
آج صبح ایک چھوٹا کاغذ لیں اور لکھیں کہ آج آپ کس کے لیے اپنا وقت، اپنی راحت، یا اپنی بات مانے جانے کی خواہش تھوڑی خالی کر سکتے ہیں۔ وہ کاغذ اپنی جیب یا بیگ میں رکھ کر گھر سے نکلیں۔
✦ دوپہر کا لمحہ
چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھنے کے بعد اُسے آخرکار بھوک لگی۔
Matthew 4:2
بھوک کمزوری کی نشانی نہیں، کبھی کبھی تیاری کا راستہ ہوتی ہے۔
بائبل میں چالیس ایک بے ترتیب گنتی نہیں۔ نوح کی کشتی پر چالیس دن اور چالیس راتیں بارش برستی رہی، پھر رکی۔ موسیٰ چالیس دن پہاڑ پر رہا، شریعت لینے کے لیے۔ اور یسوع مسیح نے چالیس دن اور چالیس راتیں روزہ رکھا، اس کے بعد ابلیس نے آپ کو آزمایا۔ ہر بار یہی بات نظر آتی ہے، ایک مقررہ مدت، جو بھاری ضرور ہے مگر بے حد نہیں۔ اس کا ایک آخر ہے۔
آج کا دن بھی کسی کے لیے ایسا ہی محسوس ہو رہا ہو گا۔ کام کا دباؤ، انتظار، وہ صورتحال جو گزرنے کا نام نہیں لے رہی۔ لیکن جس طرح یسوع کی بھوک چالیس دن کے بعد رکی نہیں تھی مگر آزمائش کا وقت پورا ہو گیا تھا، اسی طرح آج کی تھکن بھی لامحدود نہیں۔ اس کی حد مقرر ہے، چاہے ابھی نظر نہ آئے۔
یہ جاننا کہ آزمائش کا ایک ناپا ہوا وقت ہوتا ہے، دوپہر کی اس بھاری گھڑی میں سکون دے سکتا ہے۔ صبر کا مطلب لاتعلقی نہیں، بلکہ یہ یقین ہے کہ یہ وقت گزرے گا۔
آج
آج دفتر یا کام کی جگہ پر ایک کاغذ پر لکھ لیں کہ آج کس بات نے آپ کو سب سے زیادہ آزمایا، اور اس کے نیچے صرف یہ لکھیں کہ یہ وقت گزر جائے گا۔ اسے اپنی میز پر رکھ دیں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
لیکن موسیٰ نے کہا، ”میرے آقا، مَیں معذرت چاہتا ہوں، مَیں اچھی طرح بات نہیں کر سکتا بلکہ مَیں کبھی بھی یہ لیاقت نہیں رکھتا تھا۔ اِس وقت بھی جب مَیں تجھ سے بات کر رہا ہوں میری یہی حالت ہے۔ مَیں رُک رُک کر بولتا ہوں۔“
خروج 4:10
دفتر میں آج صبح باس نے کہا کہ اگلے مہینے وہ نئی ٹیم کی قیادت آپ کے سپرد کریں گے۔ آپ نے مسکرا کر ہاں کہہ دیا، لیکن اندر ہی اندر ایک آواز فوراً بولی، میں یہ نہیں کر سکتا۔ یہ کام کسی اور کے لیے ہے، مجھ سے بڑی چیز ہے۔
موسیٰ نے جلتی جھاڑی کے سامنے یہی سوال پوچھا تھا، میں کون ہوں کہ جاؤں۔ اللہ نے اسے مصر جا کر فرعون سے بات کرنے کو کہا، اور اس نے پہلے تو یہی نہیں کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے، اس نے کہا کہ میں کون ہوں۔ یہ سوال حجم کے بارے میں نہیں تھا، یہ اپنی ذات کے بارے میں تھا۔
پھر بھی موسیٰ چپ نہیں رہا۔ آج والی آیت میں وہ دوبارہ اعتراض کرتا ہے، اب زبان کا بہانہ لے کر۔ وہ کہتا ہے میں فصیح نہیں، میری زبان بھاری ہے۔ ایک اعتراض ختم ہوتا ہے تو دوسرا تیار کھڑا ہوتا ہے۔ خدا کی پکار انسان کی کمزوری کو ننگا کر دیتی ہے، اور وہ کمزوری چپ نہیں بیٹھتی۔
یہ بات دلچسپ ہے کہ اللہ موسیٰ کی اس بات کو غلط نہیں کہتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ نہیں، تم تو بڑے فصیح ہو۔ وہ بس پوچھتا ہے کہ انسان کا منہ کس نے بنایا۔ سوال کا جواب اعتراض کو مٹاتا نہیں، اسے کسی اور سمت لے جاتا ہے۔
آج جو کام آپ کے سامنے رکھا گیا ہے اور جس کے لیے آپ خود کو ناکافی سمجھتے ہیں، اسے فوراً قبول کرنے کی کوشش مت کریں۔ سوال کو کھلا رہنے دیں۔ کبھی کبھار جواب وقت لیتا ہے، اور یہی ٹھیک ہے۔
آج
ایک کاغذ پر لکھیں، میں کون ہوں کہ یہ کروں، اور نیچے وہ ایک کام لکھیں جس سے آج آپ بھاگ رہے ہیں۔ کاغذ کو جیب میں رکھ لیں اور شام تک اسے دوبارہ نکال کر پڑھیں۔
☾ شام کا لمحہ
It happened, as she continued praying before Yahweh, that Eli saw her mouth.
1 سموئیل 1:12
کیا خدا وہ دعا بھی سنتا ہے جو کبھی آواز میں نکلی ہی نہیں؟ جو صرف ہونٹوں کی جنبش رہی، لفظ نہ بنی؟
حنّہ سالوں سے بانجھ تھی، اور اس زمانے میں یہ کمی صرف دکھ نہیں تھی، طعنہ بھی تھی۔ ہر سال وہ اپنے شوہر کے ساتھ سَیلا جاتی، اور ہر سال اس کی سوکن اسے چھیڑتی۔ اس دن وہ خیمے کے پاس گئی اور اپنا دل خدا کے سامنے کھول دیا، مگر اس کی آواز نہ نکلی۔ اس زمانے میں دعا عام طور پر بلند آواز سے کی جاتی تھی، اسی لیے عیلی کاہن نے اسے دیکھا اور حیران رہ گیا، عورت کے ہونٹ ہل رہے تھے مگر خاموشی تھی۔
حنّہ نے وہ کچھ کہا جو وہ کسی کے سامنے کہنے کی جرأت نہ رکھتی تھی، اپنی خالی گود کا درد، اپنی بے عزتی، اپنی امید۔ اس نے اسے چیخ کر نہیں، سرگوشی سے بھی نہیں، بس اندر ہی اندر خدا کے سامنے رکھ دیا۔
آج رات جب دن کا بوجھ سینے میں پڑا ہو اور الفاظ نہ بچے ہوں، حنّہ کی خاموشی راستہ دکھاتی ہے۔ خدا کے سامنے صرف زبان نہیں، دل چاہیے۔
آج
آج رات دس منٹ خاموش بیٹھ جائیں، اور جو بات دن بھر کہہ نہ سکے، صرف ہونٹ ہلا کر، بغیر آواز کے، خدا کے سامنے رکھ دیں۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
6وہ جو اللہ کی صورت پر تھا نہیں سمجھتا تھا کہ میرا اللہ کے برابر ہونا کوئی ایسی چیز ہے جس کے ساتھ زبردستی چمٹے رہنے کی ضرورت ہے۔
7نہیں، اُس نے اپنے آپ کو اِس سے محروم کر کے غلام کی صورت اپنائی اور انسانوں کی مانند بن گیا۔ شکل و صورت میں وہ انسان پایا گیا۔
2چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھنے کے بعد اُسے آخرکار بھوک لگی۔
10لیکن موسیٰ نے کہا، ”میرے آقا، مَیں معذرت چاہتا ہوں، مَیں اچھی طرح بات نہیں کر سکتا بلکہ مَیں کبھی بھی یہ لیاقت نہیں رکھتا تھا۔ اِس وقت بھی جب مَیں تجھ سے بات کر رہا ہوں میری یہی حالت ہے۔ مَیں رُک رُک کر بولتا ہوں۔“
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں