آزادی اور فضل کی واپسی
آزادی اور فضل
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے اعمال 15:19, احبار 25:10, لوقا 15:20 and 1 سموئیل 1:3.
☀ صبح کا لمحہ
یہی پیشِ نظر رکھ کر میری رائے یہ ہے کہ ہم اُن غیریہودیوں کو جو اللہ کی طرف رجوع کر رہے ہیں غیرضروری تکلیف نہ دیں۔
اعمال 15:19
ختنہ کے بغیر نجات ممکن نہیں، یہ دعویٰ ابتدائی کلیسیا کو دو حصوں میں پھاڑنے لگا تھا۔
یہودیہ سے کچھ ایمان دار انطاکیہ آئے اور غیریہودی ایمانداروں سے کہنے لگے کہ موسیٰ کی شریعت پر عمل اور ختنہ کے بغیر نجات نہیں۔ پولس اور برنباس نے سختی سے اختلاف کیا۔ بات اتنی سنگین ہو گئی کہ رسول اور بزرگ یروشلم میں اکٹھے ہوئے تاکہ اس معاملے کو سلجھائیں۔
پطرس نے یاد دلایا کہ خدا نے غیریہودیوں کو بھی روح القدس دیا، بغیر ختنہ کے۔ پھر یعقوب نے کھڑے ہو کر فیصلہ سنایا، جو ہمیں آج کی آیت میں ملتا ہے۔ اُس نے کہا کہ ہم اُن پر بوجھ نہ ڈالیں جو خدا کی طرف پھر رہے ہیں۔ یہ کوئی چھوٹا فیصلہ نہیں تھا، یہ کلیسیا کی پہلی کونسل کا موڑ تھا، جس نے ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا کہ نجات فضل سے ہے، اضافی شرطوں سے نہیں۔
ہم بھی اکثر اپنے یا دوسروں کے ایمان پر ایسی شرطیں لاد دیتے ہیں جو خدا نے کبھی نہیں مانگیں۔ یعقوب کا فیصلہ آج بھی گونجتا ہے، اُنہیں مت ستاؤ جو مسیح کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
آج
آج صبح ایک ایسی خودساختہ شرط لکھ لو جو تم نے اپنے یا کسی اور کے ایمان پر رکھی ہوئی ہے، اور اُس پر قلم پھیر دو، اور بلند آواز سے کہو، میری نجات صرف فضل سے ہے۔
✦ دوپہر کا لمحہ
پچاسواں سال مخصوص و مُقدّس کرو اور پورے ملک میں اعلان کرو کہ تمام باشندوں کو آزاد کر دیا جائے۔ یہ بحالی کا سال ہو جس میں ہر شخص کو اُس کی ملکیت واپس کی جائے اور ہر غلام کو آزاد کیا جائے تاکہ وہ اپنے رشتے داروں کے پاس واپس جا سکے۔
احبار 25:10
دنیا مانتی ہے کہ جو ہاتھ سے نکل جائے وہ واپس نہیں آتا۔ زمین بک جائے، کاروبار ڈوب جائے، کوئی بندہ قرض کے نیچے دفن ہو جائے تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ اب یہی زندگی ہے، آگے بڑھو۔ لیکن یہ آیت اس فرض کو خاموشی سے توڑ دیتی ہے۔
اسرائیل میں ہر پچاسویں سال یوبلی کا سال منایا جاتا تھا۔ جو زمین کسی نے غربت کی وجہ سے بیچ دی تھی وہ اپنے اصل خاندان کو واپس ملتی تھی۔ جو شخص حالات کی وجہ سے کسی اور کا نوکر بن گیا تھا وہ اپنی آزادی دوبارہ پاتا تھا۔ یہ صدقہ نہیں تھا، یہ قانون تھا۔ خدا نے خود اس وقت کو مقرر کیا تھا۔
یہ رسم اُس کی حفاظت کرتی تھی جو سب کھو بیٹھا تھا، وہ جس کی غلطی نہیں تھی مگر پھر بھی نقصان اسی کے حصے آیا۔ اس میں خدا کا دل نظر آتا ہے، وہ غربت کو کسی کی مستقل سزا نہیں بننے دیتا۔ زمین آخر کار اُسی کی تھی، انسان صرف امانت دار تھا۔
دوپہر کے اس وقفے میں، جب کام کا دباؤ اپنے عروج پر ہے، وہ قرض یا نقصان جو مستقل لگتا ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ خدا کے حساب میں واپسی کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔
آج
ایک کاغذ پر اُس نقصان یا قرض کا نام لکھیں جو آپ کو مستقل لگتا ہے، اور اُس کے نیچے لکھ دیں، یہ ہمیشہ کے لیے نہیں۔ اُس کاغذ کو اپنی جیب یا بائبل میں رکھ لیں۔
◐ دوپہر کا لمحہ
پھر وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس واپس چلا گیا۔ لیکن وہ گھر سے ابھی دُور ہی تھا کہ اُس کے باپ نے اُسے دیکھ لیا۔ اُسے ترس آیا اور وہ بھاگ کر بیٹے کے پاس آیا اور گلے لگا کر اُسے بوسہ دیا۔
لوقا 15:20
باپ روز اُس راستے پر نظر جمائے کھڑا رہتا ہے جہاں سے بیٹا گیا تھا۔ اور جب دور سے وہ ٹوٹا ہوا سایہ نظر آتا ہے تو اُس کا جسم دماغ سے پہلے حرکت میں آ جاتا ہے، وہ سوچتا نہیں، وہ دوڑ پڑتا ہے۔
یونانی متن یہاں جو لفظ استعمال کرتا ہے وہ محض ہمدردی نہیں، وہ splagchna سے نکلا ہے، یعنی اندرونی اعضا، آنتیں۔ قدیم لوگوں کے نزدیک جذبات دل میں نہیں بلکہ اُن گہرے اندرونی حصوں میں جنم لیتے تھے۔ یہ لفظ کہتا ہے کہ باپ کا پیٹ اندر سے مڑ گیا، اُس کے اندر کچھ اُلٹ پلٹ ہو گیا۔ ہمارا لفظ رحم یا ہمدردی اِس جسمانی شدت کو پورا نہیں پکڑ پاتا۔
یہ لفظ انجیلوں میں کم ہی جگہ آتا ہے، اور ہر بار یا تو یسوع کے لیے آتا ہے جب وہ ہجوم کو دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں، یا کسی ایسے کردار کے لیے جو باپ یا نیک سامری کی طرح خدا کی رحمت کی تصویر بنتا ہے۔ یہ عام انسانوں کی عام مہربانی کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔
یعنی یہ رحمت کوئی ٹھنڈا فیصلہ نہیں تھی۔ باپ نے بیٹے کی معافی سنے بغیر، اُس کی صفائی جانے بغیر، صرف اُسے دیکھتے ہی اپنے اندر اُس کھنچاؤ کو محسوس کیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی اِس طرح محسوس ہونے دیتے ہیں، یا ہم رحمت کو دور سے، محفوظ فاصلے پر رکھ کر چلاتے ہیں۔
آج
آج کسی ایسے شخص کو جس سے آپ دور ہو گئے ہیں ابھی ایک مختصر پیغام بھیجیں، بس چند الفاظ سلام کے، بغیر کسی وضاحت یا شرط کے۔
☾ شام کا لمحہ
This man went up out of his city yearly to worship and to sacrifice to Yahweh of Hosts in Shiloh. Hophni and Phinehas, the sons of Eli, the priests to Yahweh, were there.
1 سموئیل 1:3
کیا کہیں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں خدا واقعی ٹھہرا ہوا ہو، یا وہ صرف میرے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے؟
صدیوں تک خدا کا خیمہ صحرا میں سفر کرتا رہا، لیکن پھر وہ ایک جگہ ٹک گیا۔ سَیلا، افرائیم کے پہاڑی علاقے میں، ایک عام سی بستی۔ وہاں خیمۂ اجتماع کھڑا کیا گیا، اور نسلوں تک وہیں رہا۔ ایلقانہ ہر سال اپنے گھر سے وہاں جاتا، اپنی بیویوں اور بچوں کے ساتھ۔ ذبح کیے جانوں کی خوشبو، عہد کے الفاظ، حنّہ کی خاموش دعا، یہ سب اسی زمین پر ہوا جو اب بھی موجود تھی جب وہ اگلے سال دوبارہ لوٹے۔
یہی بات سَیلا کو خاص بناتی ہے۔ یہ کوئی معجزے کی جگہ نہیں تھی، نہ کوئی پہاڑ جہاں آگ اتری۔ یہ صرف وہ جگہ تھی جہاں لوگ ہر سال لوٹتے، جہاں ان کی زندگی کا معمول خدا کی حضوری سے ملتا تھا۔ خدا نے سفر کرنے کے بجائے ٹھہرنا چنا، تاکہ لوگ اسے ڈھونڈتے نہ رہیں بلکہ اس کے پاس واپس آ سکیں۔
آج کی شام بھی ایسی ہی ایک واپسی ہو سکتی ہے۔ دن کا میلا کچیلا معمول، وہی گھر، وہی کمرہ، وہی تھکن، یہ سب سَیلا بن سکتا ہے، اگر یہاں خدا کے حضور کچھ رکھ دیا جائے۔
آج
آج رات ایک کاغذ پر آج کے دن کی ایک مخصوص بھلائی لکھیں، چاہے وہ کتنی چھوٹی ہو، اور اسے اپنے بستر کے سرہانے رکھ دیں جیسے یہ آپ کی اپنی چھوٹی نذر ہو۔
یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
19یہی پیشِ نظر رکھ کر میری رائے یہ ہے کہ ہم اُن غیریہودیوں کو جو اللہ کی طرف رجوع کر رہے ہیں غیرضروری تکلیف نہ دیں۔
10پچاسواں سال مخصوص و مُقدّس کرو اور پورے ملک میں اعلان کرو کہ تمام باشندوں کو آزاد کر دیا جائے۔ یہ بحالی کا سال ہو جس میں ہر شخص کو اُس کی ملکیت واپس کی جائے اور ہر غلام کو آزاد کیا جائے تاکہ وہ اپنے رشتے داروں کے پاس واپس جا سکے۔
20پھر وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس واپس چلا گیا۔ لیکن وہ گھر سے ابھی دُور ہی تھا کہ اُس کے باپ نے اُسے دیکھ لیا۔ اُسے ترس آیا اور وہ بھاگ کر بیٹے کے پاس آیا اور گلے لگا کر اُسے بوسہ دیا۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں