ہر لمحہ رب کے حسین وقت میں
رب کا وقت
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے زبور 5:3, امثال 25:11, واعظ 3:11 and زبور 3:5.
☀ صبح کا لمحہ
اے رب، صبح کو تُو میری آواز سنتا ہے، صبح کو مَیں تجھے سب کچھ ترتیب سے پیش کر کے جواب کا انتظار کرنے لگتا ہوں۔
زبور 5:3
روشنی ابھی کھڑکی سے پوری طرح اندر نہیں آئی۔ چائے کی پیالی سے بھاپ اٹھ رہی ہے، اور دن کی فہرست ذہن میں پہلے سے چل پڑی ہے، میٹنگیں، پیغامات، وہ کام جو کل ادھورا رہ گیا۔
داؤد اس لمحے کو جانتا تھا۔ وہ صبح سویرے اپنی آواز خدا کے سامنے رکھتا ہے، اپنی درخواستیں سامنے پھیلاتا ہے، اور پھر ایک عجیب کام کرتا ہے: وہ انتظار کرتا ہے۔ توقع سے دیکھتا ہے۔ جیسے کوئی پہرے دار افق پر پہلی کرن کا منتظر ہو۔
ہم اکثر دعا کو ایک فہرست کی طرح پیش کرتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن داؤد رکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جس سے اس نے بات کی، وہ سنتا ہے، اور جواب دیتا ہے۔
آج کا دن آپ کے سامنے کھلا ہے، شاید بھاری، شاید معمولی۔ اپنی درخواستیں الفاظ میں رکھیں، پھر ایک لمحے کے لیے خاموش ہو جائیں۔ خدا سے کچھ توقع رکھیں۔ وہ کہیں دور نہیں بیٹھا۔
آپ کی صبح کی آواز اُس کے کان تک پہنچتی ہے، اِس سے پہلے کہ دنیا شور مچائے۔ وہ سن رہا ہے۔ اور آپ آج تنہا نہیں چل رہے، وہ ساتھ ہے، قدم بہ قدم۔
یہ دن منسوب کریں →✦ دوپہر کا لمحہ
وقت پر موزوں بات چاندی کے برتن میں سونے کے سیب کی مانند ہے۔
امثال 25:11
دوپہر کے ایک بجے، ای میل کا مسودہ اسکرین پر کھلا ہے۔ ایک ساتھی نے صبح ایسی بات کہی جو چبھ گئی، اور آپ کی انگلیاں کی بورڈ پر تیز جواب لکھنے کو تیار ہیں۔
رکیں۔
سلیمان کہتا ہے کہ صحیح وقت پر کہا گیا لفظ چاندی کے نگینوں میں سونے کے سیبوں جیسا ہے۔ یعنی لفظ صرف سچ ہونا کافی نہیں، اس کا وقت اور جگہ بھی صحیح ہونی چاہیے۔ کچی سچائی زخم لگاتی ہے، پکی سچائی شفا دیتی ہے۔
دفتر میں، واٹس ایپ پر، میٹنگ کے بیچ میں، ہمارے پاس ہر لمحہ لفظ پھینکنے کا موقع ہے۔ لیکن پھینکا ہوا لفظ اور جڑا ہوا لفظ ایک نہیں۔ ایک ٹوٹتا ہے، دوسرا سنوارتا ہے۔
آج دوپہر ایک تجربہ کریں۔ جواب بھیجنے سے پہلے تین سیکنڈ رکیں اور پوچھیں: کیا یہ لفظ ابھی سونے کا سیب بنے گا، یا پتھر؟
خداوند سے مانگیں کہ وہ آپ کی زبان کو اپنے ہاتھ میں رکھے۔ کیونکہ جو باقی دن آپ کے منہ سے نکلے گا، وہ کسی نہ کسی کے دل میں شام تک گونجتا رہے گا۔
یہ دن منسوب کریں →◐ دوپہر کا لمحہ
اُس نے ہر چیز کو یوں بنایا ہے کہ وہ اپنے وقت کے لئے خوب صورت اور مناسب ہو۔ اُس نے انسان کے دل میں جاودانی بھی ڈالی ہے، گو وہ شروع سے لے کر آخر تک اُس کام کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا جو اللہ نے کیا ہے۔
واعظ 3:11
خدا نے آپ کے دل میں ایک ایسی پیاس رکھی ہے جو اِس دنیا میں کبھی مکمل طور پر نہیں بجھے گی۔
یہ سوچ پیر کی دوپہر میں چبھتی ہے۔ آپ کام پر واپس آئے ہیں، ای میلز کا ڈھیر ہے، اور کہیں اندر ایک بےچینی ہے جسے آپ نام نہیں دے سکتے۔ چھٹی نے اُسے خاموش نہیں کیا۔ کامیابی بھی نہیں کرے گی۔
واعظ کہتا ہے کہ خدا نے ہر چیز کو اُس کے وقت پر خوبصورت بنایا ہے۔ لیکن وہ فوراً ایک زخم بھی کھول دیتا ہے: ابدیت ہمارے دلوں میں ڈالی گئی ہے، اور پھر بھی ہم خدا کے کام کو شروع سے آخر تک سمجھ نہیں سکتے۔
یہی وہ کھینچاؤ ہے جو آپ محسوس کرتے ہیں۔ آپ ابدیت کے لیے بنائے گئے ہیں، مگر وقت میں پھنسے ہیں۔ آپ کچھ ایسا دیکھنا چاہتے ہیں جو ابھی مکمل نہیں ہو سکتا۔
یہ بےچینی کوئی خرابی نہیں ہے۔ یہ ایک نشان ہے۔ وہ خالی جگہ جسے دن بھر کی مصروفیت بھر نہیں پاتی، دراصل خدا کی طرف کھلی ہوئی ایک کھڑکی ہے۔
آج اُسے بھرنے کی کوشش مت کریں۔ اُسے کھلا رہنے دیں۔ کبھی کبھی نہ سمجھنا ہی سب سے ایماندار عبادت ہے۔
یہ دن منسوب کریں →☾ شام کا لمحہ
مَیں آرام سے لیٹ کر سو گیا، پھر جاگ اُٹھا، کیونکہ رب خود مجھے سنبھالے رکھتا ہے۔
زبور 3:5
"میں لیٹ گیا۔" داؤد یہ اُس وقت لکھتا ہے جب اُس کا اپنا بیٹا ابی سلوم اُس کے خون کا پیاسا ہے۔ فوجیں تعاقب میں ہیں، دربار بکھر چکا ہے، اور بادشاہ کھلے آسمان تلے بھاگا ہوا ہے۔ اور پھر بھی، تین چھوٹے سے لفظ: میں لیٹ گیا۔
یہ بے پروائی نہیں ہے۔ یہ ایمان ہے کہ آج رات کی نگہبانی میرے ذمے نہیں۔
آپ کا دن شاید ابی سلوم جیسا نہیں تھا، مگر شاید اس میں بھی ایسی فکریں تھیں جو ابھی تک آپ کے کندھوں پر بیٹھی ہیں۔ کل کی ای میل، وہ ادھوری بات، بچے کا امتحان، بجٹ کا حساب۔ ذہن انہیں بار بار الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے، جیسے دہرانے سے حل نکل آئے گا۔
مگر داؤد ایک اَور راز جانتا تھا: نیند ایک قسم کی عبادت ہے۔ لیٹ جانا اقرار ہے کہ میں خدا نہیں ہوں، اور یہ کہ خدا سوتا نہیں۔
آج رات اپنے دن کو مٹھی میں دبا کر مت رکھیں۔ ہاتھ کھولیں۔ جو ہو گیا وہ اُس کے حوالے، جو نہیں ہوا وہ بھی اُس کے حوالے۔
وہ آپ کو سنبھالتا ہے، خاموشی سے، ساری رات۔
یہ دن منسوب کریں →یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
3اے رب، صبح کو تُو میری آواز سنتا ہے، صبح کو مَیں تجھے سب کچھ ترتیب سے پیش کر کے جواب کا انتظار کرنے لگتا ہوں۔
11وقت پر موزوں بات چاندی کے برتن میں سونے کے سیب کی مانند ہے۔
11اُس نے ہر چیز کو یوں بنایا ہے کہ وہ اپنے وقت کے لئے خوب صورت اور مناسب ہو۔ اُس نے انسان کے دل میں جاودانی بھی ڈالی ہے، گو وہ شروع سے لے کر آخر تک اُس کام کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا جو اللہ نے کیا ہے۔
5مَیں آرام سے لیٹ کر سو گیا، پھر جاگ اُٹھا، کیونکہ رب خود مجھے سنبھالے رکھتا ہے۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں