ہر روز ہمارا بوجھ اُٹھانے والا خدا
تھامنے والا خدا
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے زبور 68:19, یعقوب 4:14, حبقوق 1:2 and زبور 23:2-3.
☀ صبح کا لمحہ
رب کی تمجید ہو جو روز بہ روز ہمارا بوجھ اُٹھائے چلتا ہے۔ اللہ ہماری نجات ہے۔ (سِلاہ)
زبور 68:19
کیا خدا کو واقعی معلوم ہے کہ آج صبح میرے کندھوں پر کیا رکھا ہے؟ وہ ادھورا کام جو کل بھی ادھورا رہا، وہ فون جو کرنا ہے مگر ہمت نہیں ہوتی، وہ گھر کا خرچ جو مہینے کے آخر تک نہیں پہنچتا۔ یہ سوال رات کے اندھیرے میں بہت لوگوں نے پوچھا ہے۔
جواب آہستہ آہستہ آتا ہے۔ داؤد یہ نہیں کہتا کہ بوجھ اُٹھا لیا گیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کوئی ہے جو اُسے اُٹھاتا ہے، ساتھ چلتے ہوئے، ہر روز۔
'ہر روز' چھوٹا سا لفظ ہے، مگر اِسی میں سب کچھ ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ یہ ایک بار کا واقعہ نہیں تھا۔ کل بھی ایسا ہوا تھا، اگرچہ آپ نے محسوس نہ کیا۔ اور آج جمعرات کی صبح بھی وہی ہاتھ حاضر ہے۔
خدا آپ کے بوجھ کو دُور سے نہیں دیکھتا۔ وہ آپ کے قریب آ کر اُسے اپنے اُوپر لیتا ہے، اور اِسی لیے داؤد اُسے 'ہمارا نجات دہندہ' کہتا ہے۔ نجات دینے والا صرف آخرت میں نہیں، آج کے دن میں بھی۔
تو آج کا دن شروع کرنے سے پہلے ایک لمحہ ٹھہریے۔ اپنی فہرست دہرانے کی ضرورت نہیں؛ وہ اُسے جانتا ہے۔ صرف کہیے: خداوند، آج کا بوجھ تیرے ہاتھ میں ہے۔ پھر پہلا قدم اُٹھائیے۔ آپ اکیلے نہیں چل رہے۔
یہ دن منسوب کریں →✦ دوپہر کا لمحہ
دیکھیں، آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ کل کیا ہو گا۔ آپ کی زندگی چیز ہی کیا ہے! آپ بھاپ ہی ہیں جو تھوڑی دیر کے لئے نظر آتی، پھر غائب ہو جاتی ہے۔
یعقوب 4:14
دوپہر کی چائے کی پیالی سے اُٹھتی ہوئی بھاپ پر ذرا نظر کریں۔ وہ ایک لمحے کے لیے روشنی میں چمکتی ہے، کھڑکی کے شیشے کو ہلکا سا دھندلا کرتی ہے، اور پھر غائب۔ نہ آواز، نہ نشان، نہ کوئی ثبوت کہ وہ تھی۔
یہی تصویر ہمارے دن پر بھی پوری اُترتی ہے۔ صبح کی وہ ای میل جس پر آپ نے پندرہ منٹ سوچا، وہ میٹنگ جس کے خیال سے دل دھڑکتا رہا، وہ فہرست جو کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ سب بھاپ۔
یہ بات دل توڑنے کے لیے نہیں لکھی گئی۔ یہ بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ہے۔ اگر آپ کی زندگی بھاپ ہے، تو آپ کے کندھے پوری دنیا اُٹھانے کے لیے نہیں بنائے گئے۔ وہ کام خداوند کا ہے، اور وہ اُسے آپ کی مدد کے بغیر بھی بخوبی کر رہا ہے۔
تو پھر دوپہر کا سوال بدل جاتا ہے۔ ”میں آج سب کچھ کیسے نپٹاؤں؟“ کی جگہ: ”اِس چھوٹے سے دن میں خداوند مجھ سے کیا چاہتا ہے؟“ یہ سوال چھوٹا ہے، اِسی لیے قابلِ عمل ہے۔ آپ پوری زندگی نہیں، صرف اگلا آدھا گھنٹہ سنبھال سکتے ہیں۔
باقی دوپہر کے لیے ایک بات: ایک کام پوری دیانت سے کریں، اور ایک شخص سے نرمی سے بات کریں۔ بھاپ اُڑ جائے گی، مگر جو محبت میں کیا گیا وہ خداوند کے ہاتھ میں محفوظ رہتا ہے۔
اے خداوند، میرا وقت تیرے ہاتھ میں ہے۔ آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
یہ دن منسوب کریں →◐ دوپہر کا لمحہ
اے رب، مَیں مزید کب تک مدد کے لئے پکاروں؟ اب تک تُو نے میری نہیں سنی۔ مَیں مزید کب تک چیخیں مار مار کر کہوں کہ فساد ہو رہا ہے؟ اب تک تُو نے ہمیں چھٹکارا نہیں دیا۔
حبقوق 1:2
حبقوق اُس ملک میں کھڑا تھا جہاں انصاف بِک چکا تھا۔ طاقتور جیت رہے تھے، کمزور خاموشی سے پِس رہے تھے، اور جو شخص خدا کی طرف سے بولنے کے لیے مقرر ہوا تھا، وہ خود خدا سے جواب مانگ رہا تھا۔ اُس کی دعا میں تعریف کے خوبصورت الفاظ نہیں ہیں، صرف ایک تھکا ہوا سوال ہے: کب تک؟
آج جمعرات کی دوپہر ہے۔ ہفتے کا آدھا حصہ گزر چکا، کام کی فہرست ابھی ختم نہیں ہوئی، اور ممکن ہے آپ کے دل میں بھی کوئی ایسی دعا ہو جو آپ برسوں سے دہرا رہے ہیں اور آسمان خاموش محسوس ہوتا ہے۔
ایک بات پر غور کریں۔ یہ شکایت کلامِ مُقدّس سے نکالی نہیں گئی۔ خدا نے اسے مٹایا نہیں بلکہ اپنی کتاب میں محفوظ رکھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ آپ کے سوال سے وہ ناراض نہیں ہوتا۔ ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب کچھ سمجھ گئے ہیں؛ کبھی اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی نہ سمجھ آنے والی باتیں بھی اُسی کے سامنے رکھتے ہیں۔
اور پھر ایک کھٹکنے والی بات۔ جب خدا نے حبقوق کو جواب دیا، وہ جواب تسلی بخش نہیں تھا۔ نبی کا سوال ختم نہ ہوا، بلکہ اَور گہرا ہو گیا۔
پھر بھی وہ بھاگا نہیں۔ وہ اپنے برج پر کھڑا رہا اور انتظار کرتا رہا۔ آج دوپہر آپ کا برج آپ کی میز، آپ کی گاڑی یا آپ کا کچن ہو سکتا ہے۔ سوال کھلا رہ سکتا ہے۔ آپ کھڑے رہیں۔
یہ دن منسوب کریں →☾ شام کا لمحہ
وہ مجھے شاداب چراگاہوں میں چَراتا اور پُرسکون چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔ وہ میری جان کو تازہ دم کرتا اور اپنے نام کی خاطر راستی کی راہوں پر میری قیادت کرتا ہے۔
زبور 23:2-3
شام کے پونے سات بجے، باورچی خانے کی میز پر آدھی پی ہوئی چائے ٹھنڈی پڑی ہے۔ موبائل پر دو پیغام ہیں جن کا جواب آپ صبح سے ٹالتے رہے۔ کرسی پر بیٹھتے ہی جسم خود بتا دیتا ہے کہ دن لمبا تھا۔
غور کیجیے، چرواہا بھیڑ سے یہ نہیں کہتا کہ اور تیز چل۔ وہ اُسے لٹا دیتا ہے۔ آرام کوئی انعام نہیں جو آپ نے کمایا ہو، بلکہ وہ خود آپ کو ٹھہرنے کی اجازت دیتا ہے۔
دن بھر ہم اپنی جان کو کھینچتے رہے۔ کام، سفر، بچوں کے سوال، اور وہ ایک گفتگو جو راہداری میں ہوئی اور دل میں چبھ گئی۔ جان تھک جاتی ہے۔ اور جان کو بحال کرنا ہمارا کام نہیں، اُس کا کام ہے۔
اِس لیے آج رات سب کچھ سلجھانے کی ضرورت نہیں۔ جو ادھورا رہ گیا، اُسے اُس کے ہاتھ میں رکھ دیں۔ جو لفظ غلط نکلا، اُس کے سامنے رکھ دیں۔ وہ نہ ڈانٹتا ہے، نہ جلدی کراتا ہے۔
ذرا شکرگزاری کے لیے ٹھہریں۔ آج بھی ٹھہرے پانی جیسا کوئی چھوٹا تحفہ ضرور تھا۔ کسی کی مسکراہٹ، وقت پر گھر پہنچنا، ایک آسان سانس۔ نام لے کر اُس کا شکر کریں۔
پھر آنکھیں بند کر لیں۔ آپ کا چرواہا جاگ رہا ہے، اور وہ آپ کو اپنے نام کی خاطر لیے چل رہا ہے۔
یہ دن منسوب کریں →یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
19رب کی تمجید ہو جو روز بہ روز ہمارا بوجھ اُٹھائے چلتا ہے۔ اللہ ہماری نجات ہے۔ (سِلاہ)
14دیکھیں، آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ کل کیا ہو گا۔ آپ کی زندگی چیز ہی کیا ہے! آپ بھاپ ہی ہیں جو تھوڑی دیر کے لئے نظر آتی، پھر غائب ہو جاتی ہے۔
2اے رب، مَیں مزید کب تک مدد کے لئے پکاروں؟ اب تک تُو نے میری نہیں سنی۔ مَیں مزید کب تک چیخیں مار مار کر کہوں کہ فساد ہو رہا ہے؟ اب تک تُو نے ہمیں چھٹکارا نہیں دیا۔
2وہ مجھے شاداب چراگاہوں میں چَراتا اور پُرسکون چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔
3وہ میری جان کو تازہ دم کرتا اور اپنے نام کی خاطر راستی کی راہوں پر میری قیادت کرتا ہے۔
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں