میری مدد رب سے آتی ہے
مدد اور روشنی
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے زبور 121:1-2, امثال 16:3, یرمیاہ 20:9 and زبور 27:1.
☀ صبح کا لمحہ
زیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو پہاڑوں کی طرف اُٹھاتا ہوں۔ میری مدد کہاں سے آتی ہے؟ میری مدد رب سے آتی ہے، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔
زبور 121:1-2
کیا یہ سب کچھ مجھے اکیلے ہی سنبھالنا ہے؟ یہ سوال رات کے اندھیرے میں جنم لیتا ہے اور منگل کی صبح ناشتے کی میز تک ساتھ چلا آتا ہے۔ کوئی اِسے بلند آواز میں نہیں پوچھتا، مگر یہ دل کے کسی کونے میں بیٹھا رہتا ہے۔
دن کا آغاز اکثر ایک لمبی فہرست سے ہوتا ہے۔ کام پر ادھورا پڑا ہوا معاملہ، بچوں کے اسکول کی تیاری، ایک فون کال جو کرنی ضروری ہے اور جس سے آپ گھبراتے ہیں۔ اور جسم پہلے ہی تھکا ہوا۔
زبور لکھنے والا کوئی بےفکر آدمی نہیں تھا۔ وہ سفر پر تھا، اُس نے اپنی آنکھیں اُن پہاڑوں کی طرف اُٹھائیں جہاں سے راہ بھی جاتی تھی اور خطرہ بھی آتا تھا۔ اُس نے سوال کیا، اور پھر خود جواب دیا: مدد آسمان اور زمین کے خالق کی طرف سے آتی ہے۔
غور کیجیے کہ جواب کیا نہیں ہے۔ یہ وعدہ نہیں کہ آج کوئی چیز مشکل نہیں ہوگی، اور نہ یہ کہ فہرست خود بخود مکمل ہو جائے گی۔ وعدہ یہ ہے کہ جو ستاروں کو قائم رکھتا ہے، وہی آپ کے اِس چھوٹے سے دن کو بھی تھامے ہوئے ہے۔
آپ کو دنیا کا خالق بننے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو صرف اُس کے ساتھ چلنا ہے جو خالق ہے۔ آج کا پہلا قدم ایک مختصر دعا ہو سکتا ہے: خُداوند، آج تُو میرے ساتھ چل۔
نگاہ اُوپر اُٹھائیے، اور پھر کام شروع کیجیے۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔
یہ دن منسوب کریں →✦ دوپہر کا لمحہ
جو کچھ بھی تُو کرنا چاہے اُسے رب کے سپرد کر۔ تب ہی تیرے منصوبے کامیاب ہوں گے۔
امثال 16:3
"سپرد"۔ اِس ایک لفظ پر ذرا ٹھہریں۔ سپرد کرنے کا مطلب ہے کسی چیز کو کسی اور کے ہاتھ میں دے دینا، اِس اِقرار کے ساتھ کہ اب اُس کی ذمہ داری میری نہیں۔ ہم عام طور پر اِسے پڑھ کر آگے نکل جاتے ہیں، جیسے یہ صرف ایک نیک خواہش ہو۔
لیکن یہ نیک خواہش نہیں، یہ ہاتھ کھولنے کی دعوت ہے۔ ہم اپنے کام خدا کے سامنے رکھتے ہیں، مگر مُٹّھی بند رکھتے ہیں۔ دُعا کر لیتے ہیں اور فکر بھی ساتھ لیے پھرتے ہیں۔
دوپہر کا یہ وقت اِس کی گواہی دیتا ہے۔ آدھی فہرست ابھی باقی ہے، کچھ پیغامات کے جواب نہیں گئے، ایک گفتگو ادھوری رہ گئی۔ دِل چاہتا ہے کہ سب کچھ اپنے زور سے سنبھال لیں۔
سپرد کرنا کاہلی نہیں ہے۔ آپ پھر بھی کام کریں گے، منصوبہ بنائیں گے، محنت کریں گے۔ فرق صرف یہ ہو گا کہ اب سارا بوجھ آپ کے کندھوں پر نہیں ہو گا۔
اور دیکھیے وعدہ کیا ہے: اِرادے قائم رہیں گے۔ نہ یہ کہ ہر منصوبہ من چاہی صورت میں پورا ہو گا، بلکہ یہ کہ جو کچھ اُس کے ہاتھ میں دیا گیا ہے وہ ضائع نہیں جائے گا۔
اِس لمحے صرف ایک کام اُس کے سامنے رکھیں۔ کہیں: اے خُداوند، یہ تیرا ہے۔ تُو ہی اِسے سنبھال۔ پھر اُٹھ کر اگلا قدم اُٹھائیں، ہلکے دِل کے ساتھ۔
یہ دن منسوب کریں →◐ دوپہر کا لمحہ
لیکن اگر مَیں کہوں، ”آئندہ مَیں نہ رب کا ذکر کروں گا، نہ اُس کا نام لے کر بولوں گا“ تو پھر اُس کا کلام آگ کی طرح میرے دل میں بھڑکنے لگتا ہے۔ اور یہ آگ میری ہڈیوں میں بند رہتی اور کبھی نہیں نکلتی۔ مَیں اِسے برداشت کرتے کرتے تھک گیا ہوں، یہ میرے بس کی بات نہیں رہی۔
یرمیاہ 20:9
یرمیاہ یروشلیم کی گلیوں سے گزرتا ہے اور لوگ اُس پر ہنستے ہیں۔ صبح سے شام تک وہی طعنے، وہی مذاق، وہی تنہائی۔ ایک دن اُس نے فیصلہ کر لیا: بس، اب خاموشی۔ نہ پیغام، نہ نام، نہ درد۔
مگر خاموشی چل نہ سکی۔ جو کلام اُس نے دبانا چاہا، وہی اُس کی ہڈیوں میں آگ بن گیا۔ اُس نے ضبط کیا، اور ضبط کرتے کرتے تھک گیا۔
یہ کوئی خوشگوار گواہی نہیں ہے۔ یہ کسی ایسے شخص کی آواز ہے جو خدا سے شکایت بھی کرتا ہے اور خدا کو چھوڑ بھی نہیں سکتا۔ دونوں باتیں ایک ہی سانس میں۔
منگل کی دوپہر ہے۔ ادھورے کام، وہی ای میل، وہی راستہ گھر تک۔ اور اندر کہیں ایک آواز جو کہتی ہے: بہت ہو گیا، مَیں دعا کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔ ایسی تھکن شرمندگی کی بات نہیں۔ یرمیاہ بھی اِسی جگہ سے بولا تھا۔
مگر سوال باقی رہتا ہے: آپ کے اندر ایسا کیا ہے جو خاموش رہنے پر بھی خاموش نہیں ہوتا؟ کوئی بلاہٹ، کوئی سچائی، کوئی نام جسے آپ چھوڑنا چاہتے ہیں مگر چھوڑ نہیں پاتے؟
اِس سوال کا جواب آج شام تک نہ ملے تو حرج نہیں۔ کبھی ایمان کی سب سے سچی شکل یہی ہوتی ہے: تھکے ہوئے، شکایت کرتے ہوئے، مگر پھر بھی وہیں ٹھہرے رہنا۔
یہ دن منسوب کریں →☾ شام کا لمحہ
داؤد کا زبور۔ رب میری روشنی اور میری نجات ہے، مَیں کس سے ڈروں؟ رب میری جان کی پناہ گاہ ہے، مَیں کس سے دہشت کھاؤں؟
زبور 27:1
موبائل بند کرنے سے پہلے ہم ایک آخری بار فہرست پر نظر ڈالتے ہیں: کل کی میٹنگ، بچوں کا ادھورا کام، وہ فون جو آج بھی نہ ہو سکا۔ دنیا ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ سکون اُس رات ملے گا جب ہر خانہ پُر ہو جائے گا اور کوئی کام باقی نہ رہے گا۔
مگر یہ گیت ایسے آدمی کے منہ سے نکلا جس کے گرد کچھ بھی ترتیب میں نہیں تھا۔ داؤد کے دشمن ابھی سامنے کھڑے تھے۔ اُس نے حالات کے بدلنے کا انتظار نہیں کیا، بلکہ اپنی نظر بدل لی۔
روشنی اندھیرے سے بحث نہیں کرتی۔ وہ صرف آ جاتی ہے، اور کمرہ خود بدل جاتا ہے۔ خدا آپ کی شام میں یہی کرتا ہے۔ وہ ہر سوال کا جواب دینے سے پہلے ہی آپ کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔
ذرا ٹھہر کر آج کے دن میں اُس کی روشنی کے نشان گنیے۔ ایک کام جو ہو گیا۔ ایک شخص جس نے آپ سے نرمی سے بات کی۔ ایک لمحہ جس میں سنبھلنے کی طاقت کہیں اور سے آئی۔ وہ طاقت آپ کی نہیں تھی، وہ اُسی کی تھی۔
اب یہ دن اُس کے ہاتھوں میں واپس رکھ دیں، ادھورے کاموں اور بےترتیب سوچوں سمیت۔ آپ کو سب کچھ سمیٹ کر نہیں سونا ہے۔
اے خداوند، تُو میری روشنی اور میری نجات ہے۔ آج رات میں تیری حفاظت میں آرام کرتا ہوں۔
یہ دن منسوب کریں →یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
1زیارت کا گیت۔ مَیں اپنی آنکھوں کو پہاڑوں کی طرف اُٹھاتا ہوں۔ میری مدد کہاں سے آتی ہے؟
2میری مدد رب سے آتی ہے، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔
3جو کچھ بھی تُو کرنا چاہے اُسے رب کے سپرد کر۔ تب ہی تیرے منصوبے کامیاب ہوں گے۔
9لیکن اگر مَیں کہوں، ”آئندہ مَیں نہ رب کا ذکر کروں گا، نہ اُس کا نام لے کر بولوں گا“ تو پھر اُس کا کلام آگ کی طرح میرے دل میں بھڑکنے لگتا ہے۔ اور یہ آگ میری ہڈیوں میں بند رہتی اور کبھی نہیں نکلتی۔ مَیں اِسے برداشت کرتے کرتے تھک گیا ہوں، یہ میرے بس کی بات نہیں رہی۔
1داؤد کا زبور۔ رب میری روشنی اور میری نجات ہے، مَیں کس سے ڈروں؟ رب میری جان کی پناہ گاہ ہے، مَیں کس سے دہشت کھاؤں؟
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں