ابراہیم کی زندگی اور ایمان کا سفر
تعارف
ایک پچہتر سالہ بوڑھا آدمی اپنے خیمے کی چوبیں اکھاڑ رہا ہے۔ اُس کے پاؤں میں اب وہ دم نہیں رہا جو جوانی میں تھا، اُس کی بیوی بانجھ ہے، اور اُس کے پیچھے ایک شہر ہے جس میں اُس کا گھر، اُس کا رشتہ داری کا جال اور اُس کی ساری واقفیت موجود ہے۔ آگے؟ آگے صرف ایک آواز ہے اور ایک نقشہ جس پر منزل کا نام تک درج نہیں۔ نہ کوئی ضمانت، نہ کوئی معاہدے کا کاغذ، نہ کوئی گواہ۔ صرف ایک جملہ: "اُس مُلک میں جا جو مَیں تُجھے دِکھاؤں گا۔"
یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے نجات کی پوری کہانی کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔ اِس صفحے پر ہم ابراہیم نبی کی زندگی کو ترتیب سے دیکھیں گے: بلاہٹ سے لے کر موریاہ کے پہاڑ تک، اور اُس کی کمزوریوں کو چھپائے بغیر۔ آپ دیکھیں گے کہ اُس کا ایمان کوئی سیدھی چڑھائی نہیں تھا، اور یہی اِس کہانی کی سب سے بڑی تسلی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
زیادہ تر تحریریں ابراہیم کو "ایمان کے ہیرو" کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ ہم اِس صفحے پر ایک مختلف راستے سے چلیں گے: ہم اُس کی زندگی کو اُن سات مواقع کی روشنی میں پڑھیں گے جہاں خدا نے خود بول کر اپنا وعدہ دہرایا، اور دیکھیں گے کہ اِن میں سے کئی بار وہ وعدہ ابراہیم کی ناکامی کے فوراً بعد دہرایا گیا۔ یعنی ابراہیم کا ایمان اُس کی اپنی پیداوار نہیں تھا، وہ خدا کے بار بار بولنے کا نتیجہ تھا۔ یہ زاویہ اہم ہے، کیونکہ اگر ابراہیم محض ایک مثالی انسان ہے تو وہ ہمیں شرمندہ کرتا ہے؛ لیکن اگر وہ ایک ایسا آدمی ہے جسے خدا نے قدم بہ قدم بنایا، تو وہ ہمیں اُمید دیتا ہے۔
بائبل ابراہیم نبی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
اردو بائبل میں اُس کا نام "ابرہام" لکھا جاتا ہے، اور ہماری زبان میں وہ عام طور پر "ابراہیم نبی" کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ پاک کلام اُن کی کہانی پیدائش کے بارہویں باب سے پچیسویں باب تک سناتا ہے، اور پھر پوری بائبل اُن کا نام بار بار دہراتی رہتی ہے۔
سب کچھ ایک حکم سے شروع ہوتا ہے۔ پیدائش 12:1 میں لکھا ہے: "اور خُداوند نے ابرام سے کہا کہ تُو اپنے وطن اور اپنے ناتے داروں کے بیچ سے اور اپنے باپ کے گھر سے نِکل کر اُس مُلک میں جا جو مَیں تُجھے دِکھاؤں گا۔" غور کیجیے کہ خدا نے پہلے تین چیزیں چھڑوائیں اور بعد میں ایک چیز دکھانے کا وعدہ کیا۔ وطن، رشتہ دار، باپ کا گھر: قدیم دنیا میں یہ تینوں انسان کی شناخت، تحفظ اور روزی کا کل سرمایہ تھے۔ خدا نے ابراہیم سے کہا کہ اپنی ساری سلامتی اُتار دو اور صرف میری آواز پر بھروسا کرو۔
نیا عہد نامہ اِسی لمحے کو ایمان کی تعریف بنا دیتا ہے۔ عبرانیوں 11:8 کہتی ہے: "ایمان ہی سے ابرہام جب بُلایا گیا تو حُکم مان کر اُس جگہ روانہ ہُؤا جِسے مِیراث میں لینے والا تھا اور باوُجُود یہ نہ جاننے کے کہ مَیں کِدھر جاتا ہُوں روانہ ہو گیا۔" ایمان یہاں کوئی جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ ایک ایسا قدم ہے جو نامعلوم کی طرف اُٹھتا ہے کیونکہ بولنے والا معلوم ہے۔
پھر برسوں کی خاموشی آتی ہے، اور خدا دوبارہ بولتے ہیں۔ پیدائش پندرھویں باب میں وہ ابراہیم کو رات کے آسمان کے نیچے لے جاتے اور ستارے گِننے کو کہتے ہیں۔ اور پھر وہ آیت آتی ہے جس پر پولس رسول نے بعد میں انجیل کی پوری عمارت کھڑی کی۔ پیدائش 15:6 میں لکھا ہے: "اور وہ خُداوند پر ایمان لایا اور اُس نے اِسے اُس کے لِئے راستبازی شُمار کِیا۔" یہاں کوئی قربانی نہیں چڑھائی گئی، کوئی شریعت نہیں مانی گئی، کوئی مذہبی رسم ادا نہیں ہوئی۔ ایک بوڑھے بے اولاد آدمی نے خدا کے وعدے پر بھروسا کیا اور خدا نے اُسے راستباز شمار کر لیا۔
تیئیس سال بعد، جب ابراہیم ننانوے برس کا تھا، خدا ایک نیا نام لے کر آئے۔ پیدائش 17:5 میں فرمایا گیا: "اور تیرا نام ابرام نہیں کہلائے گا بلکہ تیرا نام ابرہام ہو گا کیونکہ مَیں نے تُجھے بُہت سی قَوموں کا باپ ٹھہرایا۔" "ابرام" کا مطلب تھا "بلند باپ"، اور "ابرہام" کا مطلب ہے "بہت سی قوموں کا باپ"۔ اِس وقت اُس کے گھر میں ایک بھی بیٹا نہیں تھا جو وعدے کا وارث ہو۔ خدا نے اُسے وہ نام دیا جو اُس کے حال کے بالکل خلاف تھا اور اُس کے مستقبل کے عین مطابق تھا۔ ہر بار جب کوئی اُسے پکارتا، وہ خدا کا وعدہ سنتا۔
اور آخر میں سب سے کڑا حکم۔ پیدائش 22:2 میں لکھا ہے: "اُس نے کہا کہ تُو اپنے بیٹے اِضحاق کو جو تیرا اِکلوتا ہے اور جِسے تُو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر مورِیاہ کے مُلک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو مَیں تُجھے بتاؤں گا سوختنی قُربانی کے طور پر چڑھا۔" پہلا حکم تھا "نکل جا"، آخری حکم تھا "چڑھا دے"۔ دونوں میں ایک ہی لفظ گونجتا ہے: "جا"۔ ابراہیم کی زندگی اِن دو سفروں کے درمیان بندھی ہوئی ہے، اور دونوں بار وہ چل پڑا۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
ابراہیم کا نام پیدائش کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔ خروج میں جب بنی اسرائیل مصر کی غلامی میں کراہ رہے ہوتے ہیں تو خدا کے چھڑانے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اُنہوں نے ابراہیم، اضحاق اور یعقوب سے باندھے ہوئے عہد کو یاد کیا۔ داؤد کے زبور اُسی وعدے کو گاتے ہیں۔ نبی یسعیاہ جلاوطن قوم کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُس چٹان کی طرف نگاہ کرو جس سے تم تراشے گئے، یعنی ابراہیم کی طرف۔ پرانا عہد نامہ بار بار پیچھے مڑ کر اُس ایک آدمی کو دیکھتا ہے جس سے خدا نے ایک قوم بنانے کا وعدہ کیا تھا۔
مگر وعدے کا اصل دائرہ اُس قوم سے کہیں بڑا تھا۔ خدا نے ابراہیم سے کہا تھا کہ زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلے سے برکت پائیں گے۔ یہ ایک عالمی وعدہ تھا، ایک قومی وعدہ نہیں۔ اور نیا عہد نامہ ٹھیک اِسی نکتے سے شروع ہوتا ہے۔ متی کی انجیل کا پہلا جملہ ہے: "یِسُوع مسِیح اِبنِ داؤد اِبنِ ابرہام کا نسب نامہ۔" یعنی جس دروازے سے دنیا کی برکت آنی تھی، وہ کھل گیا۔
پولس رسول نے رومیوں کے چوتھے باب میں ابراہیم کو انجیل کی سب سے بڑی مثال بنایا۔ رومیوں 4:3 میں وہ لکھتے ہیں: "کِتابِ مُقدّس کیا کہتی ہے؟ یہ کہ ابرہام خُدا پر ایمان لایا اور یہ اُس کے لِئے راستبازی گِنا گیا۔" پولس کی دلیل سیدھی ہے: ابراہیم کو راستباز ٹھہرائے جانے کا اعلان اُس وقت ہوا جب نہ ختنہ کا حکم آیا تھا، نہ سینا کی شریعت دی گئی تھی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے ساتھ رشتہ کبھی بھی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ فضل کی بنیاد پر تھا، اور فضل ہمیشہ ایمان کے ہاتھ سے لیا جاتا ہے۔
گلتیوں میں پولس ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وعدہ "تیری نسل" کو دیا گیا تھا، اور وہ نسل مسیح ہے۔ اور پھر وہ جملہ آتا ہے جو ہر غیر یہودی مسیحی کے لیے شناختی کارڈ ہے۔ گلتیوں 3:29 کہتی ہے: "اور اگر تُم مسِیح کے ہو تو ابرہام کی نسل اور وعدہ کے مُوافِق وارِث ہو۔" یعنی جو کوئی مسیح پر ایمان لاتا ہے، خواہ وہ لاہور میں ہو یا لندن میں، وہ اُسی خاندان میں شامل ہو جاتا ہے جس کا آغاز اُر کے اُس بوڑھے آدمی سے ہوا تھا۔
خود خداوند یسوع مسیح نے یہ رشتہ اور بھی گہرا کر دیا۔ یوحنا کی انجیل کے آٹھویں باب میں اُنہوں نے فرمایا: "تُمہارا باپ ابرہام میرا دِن دیکھنے کی اُمّید پر بُہت خُوش تھا۔ چُنانچہ اُس نے دیکھا اور خُوش ہُؤا۔" ابراہیم دور سے وہ دن دیکھ رہا تھا جس میں ہم جیتے ہیں۔
وعدہ ابراہیم سے شروع ہوا، مسیح میں پورا ہوا۔
ان کی زندگی کا مرکز
تین لمحے ہیں جن کے گرد ابراہیم کی پوری کہانی گھومتی ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں میں خدا بولتا ہے اور ابراہیم صرف جواب دیتا ہے۔
پہلا لمحہ بلاہٹ ہے۔ ابراہیم اُر میں پیدا ہوا، جو اُس زمانے کا ایک ترقی یافتہ شہر تھا، اور یشوع کی کتاب صاف بتاتی ہے کہ اُس کے باپ دادا دوسرے دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے۔ وہ کوئی روحانی خاندان کا چشم و چراغ نہیں تھا۔ خدا نے ایک بت پرست گھرانے میں سے ایک آدمی کو پکارا۔ وہ اپنے باپ تارح کے ساتھ حاران تک آیا، وہیں رُک گیا، اور باپ کی وفات کے بعد آگے بڑھا۔ کنعان میں پہنچ کر اُس نے سِکم میں قربان گاہ بنائی، پھر بیت ایل میں۔ یہ قربان گاہیں اُس کی پیش قدمی کے نشان ہیں۔ مگر اِسی کنعان میں کال پڑا اور ابراہیم مصر کی طرف اُتر گیا، اور وہاں اُس نے ڈر کر اپنی بیوی سارہ کو اپنی بہن کہہ دیا اور اُسے فرعون کے محل میں جانے دیا۔ وعدے کا حامل آدمی وعدے کی ماں کو خطرے میں ڈال بیٹھا۔ یہی اِس کہانی کی ایمانداری ہے: ایمان کا باپ بھی ڈر جاتا ہے۔
دوسرا لمحہ عہد ہے۔ پیدائش پندرھویں باب میں خدا نے وہ کیا جو قدیم زمانے کے معاہدوں میں دونوں فریق کرتے تھے: جانور دو حصوں میں چیرے گئے اور فریقین اُن کے بیچ سے گزرتے تھے۔ مگر اُس رات ابراہیم پر گہری نیند طاری ہوئی اور خدا اکیلے ہی آگ کی مشعل کی صورت میں اُن ٹکڑوں کے بیچ سے گزرے۔ یعنی عہد کی ساری ذمہ داری خدا نے اپنے اوپر لے لی۔ پھر بھی گیارہویں سال میں ابراہیم اور سارہ نے صبر کھو دیا اور ہاجرہ کے ذریعے وعدے کو خود پورا کرنے کی کوشش کی۔ اسمٰعیل پیدا ہوا، اور اُس گھر میں تلخی آ گئی۔ تیرہ سال کی خاموشی کے بعد خدا پھر بولے، ختنہ کا عہد دیا، نام بدلا، اور وعدہ دہرایا۔ ناکامی کے بعد خدا نے وعدہ واپس نہیں لیا؛ اُنہوں نے اُسے مزید واضح کر دیا۔
تیسرا لمحہ موریاہ ہے۔ اضحاق کی پیدائش ابراہیم کی سو سال کی عمر میں ہوئی، یعنی پہلی بلاہٹ کے پچیس برس بعد۔ اور پھر خدا نے وہ مانگ لیا جو اُنہوں نے خود دیا تھا۔ ابراہیم صبح سویرے اُٹھا، گدھے پر زِین کسی، اور تین دن کا سفر کیا۔ راستے میں اضحاق نے پوچھا کہ برّہ کہاں ہے، اور باپ نے جواب دیا: "اَے میرے بیٹے! خُدا آپ ہی اپنے واسطے برّہ مُہیّا کر لے گا۔" چھری اُٹھی اور آسمان سے آواز آئی۔ جھاڑی میں ایک مینڈھا پھنسا ہوا تھا۔ ابراہیم نے اُس جگہ کا نام "یہوواہ یری" رکھا، یعنی خداوند مہیا کرتا ہے۔ عبرانیوں کی کتاب بتاتی ہے کہ ابراہیم نے دل میں یہ سوچا تھا کہ خدا مُردوں میں سے جِلانے پر بھی قادر ہے۔ یہ اُس شخص کا ایمان ہے جس نے پچیس سال خدا کو وعدے نبھاتے دیکھا تھا۔
ابراہیم سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق یہ ہے کہ ایمان کی پیمائش رفتار سے نہیں، تسلسل سے ہوتی ہے۔ ابراہیم نے پچیس سال انتظار کیا، اور اُن پچیس برسوں میں وہ کم از کم دو بار بری طرح لڑکھڑایا۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ سچا ایمان وہ ہے جو کبھی نہ ڈگمگائے۔ پاک کلام اِس سے مختلف تصویر دکھاتا ہے: سچا ایمان وہ ہے جو گرنے کے بعد پھر اُسی آواز کی طرف لوٹ آئے۔ ابراہیم مصر سے واپس آیا اور سیدھا بیت ایل کی اُس قربان گاہ پر گیا جو اُس نے پہلے بنائی تھی۔ توبہ کا مطلب یہی ہے: واپس اُس جگہ جانا جہاں تم نے آخری بار خدا کی آواز سنی تھی۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ خدا کے وعدے کو اپنی تدبیر سے پورا کرنے کی کوشش ہمیشہ مہنگی پڑتی ہے۔ ہاجرہ کا واقعہ بےایمانی کا نہیں، بےصبری کا نتیجہ تھا۔ ابراہیم اور سارہ وعدے پر یقین رکھتے تھے، مگر اُنہوں نے سوچا کہ شاید خدا کو ہماری مدد چاہیے۔ اِس "مدد" نے اُس گھر میں آنسو، جلن اور جدائی پیدا کی۔ آج بھی بہت سے ایمانداروں کا سب سے بڑا زخم وہاں سے آتا ہے جہاں اُنہوں نے خدا کے وقت کا انتظار کرنے کے بجائے اپنا راستہ بنا لیا: قرض لے کر، رشتہ جوڑ کر، جھوٹ بول کر، یا کوئی دروازہ زبردستی کھول کر۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ خدا ہمیں راستہ دکھانے سے پہلے اپنی ذات دکھاتے ہیں۔ پیدائش 15:1 میں خداوند فرماتے ہیں: "اَے ابرام تُو مت ڈر۔ مَیں تیری سِپر اور تیرا بہت بڑا اجر ہُوں۔" غور کیجیے، خدا نے یہ نہیں کہا کہ میں تجھے بڑا اجر دوں گا، بلکہ یہ کہ میں خود تیرا اجر ہوں۔ ابراہیم کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ اولاد، زمین یا ریوڑ نہیں تھا؛ وہ خدا کی دوستی تھی۔ یعقوب 2:23 اُسے "خُدا کا دوست" کہتی ہے۔ یہ لقب کسی اور کو یوں نہیں دیا گیا۔ اور یہی وہ خزانہ ہے جو آج بھی ہر ایماندار کو مسیح میں ملتا ہے، چاہے باقی سب کچھ ابھی وعدے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
خدا خود انعام ہیں، انعام دینے والے ہی نہیں۔
آئینہ
آپ کی زندگی میں وہ کون سی چیز ہے جسے چھوڑنے سے آپ ڈرتے ہیں؟ ابراہیم سے خدا نے وطن، خاندان اور باپ کا گھر مانگا، یعنی ٹھیک وہ تین چیزیں جن پر انسان ٹیک لگاتا ہے۔ آپ کے لیے شاید یہ ملازمت کا تحفظ ہے، یا وہ رشتہ جو آپ کو اپنی قیمت کا احساس دلاتا ہے، یا وہ بچت جسے آپ خاموشی سے اپنا اصل خدا بنا چکے ہیں۔ خدا آپ سے آپ کی خوشی نہیں چھین رہے؛ وہ آپ کی جھوٹی سلامتی ہٹا رہے ہیں تاکہ آپ سچی سلامتی کو پہچان سکیں۔
اور شاید آپ انتظار میں تھک چکے ہیں۔ آپ نے دعا کی، برسوں دعا کی، اور کچھ نہیں بدلا۔ اولاد نہیں ہوئی۔ شادی نہیں ہوئی۔ ویزا نہیں لگا۔ رپورٹ بہتر نہیں آئی۔ وہ بیٹا گھر نہیں لوٹا۔ ابراہیم کو بھی پچیس سال تک خالی گود اور بھرا ہوا وعدہ ملا رہا، اور اِس دوران اُس نے وہی کچھ سوچا جو آپ سوچتے ہیں: شاید میں نے غلط سنا تھا۔ لیکن خدا نے اُس کی خاموشی کے سالوں میں بار بار بول کر اُس کا ایمان سنبھالا۔ وہ آج بھی یہی کرتے ہیں، اپنے کلام کے ذریعے۔
اور اگر آپ اپنی ناکامیوں کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ اب آپ خدا کے کام کے قابل نہیں رہے، تو غور سے دیکھیے: ابراہیم نے ایک ہی گناہ دو بار دہرایا، مصر میں بھی اور جرار میں بھی، اور خدا نے دونوں بار اُسے چھوڑا نہیں۔ فضل کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے جھوٹ کی قیمت نہیں تھی؛ اُس کی قیمت تھی اور آپ نے چکائی بھی۔ فضل کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا وعدہ آپ کی کارکردگی پر کھڑا نہیں۔ ابراہیم اِس لیے راستباز نہیں ٹھہرا کہ وہ بہادر تھا، بلکہ اِس لیے کہ اُس نے خدا پر بھروسا کیا۔ وہی دروازہ آج بھی آپ کے لیے کھلا ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو ابراہیم کی کہانی سنانے کا سب سے آسان راستہ سفر اور ستارے ہیں۔ آپ اُن سے پوچھ سکتے ہیں: اگر ہمیں ابھی گھر چھوڑ کر ایسی جگہ جانا پڑے جس کا نام بھی معلوم نہ ہو، تو کیسا لگے گا؟ پھر بتائیے کہ خدا نے ایک بوڑھے آدمی سے یہی کہا، اور اُس نے مان لیا، کیونکہ وہ خدا کو جانتا تھا۔ رات کو آسمان کی طرف انگلی اُٹھا کر کہیے کہ خدا نے ابراہیم سے فرمایا تھا کہ تیرا خاندان اِن ستاروں جتنا بڑا ہو گا، اور آج ہم بھی مسیح کی وجہ سے اُسی خاندان کا حصہ ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے موریاہ کے پہاڑ کا حصہ نرمی سے سنائیے: زور اِس پر رکھیے کہ خدا نے اضحاق کو بچایا اور خود ایک مینڈھا مہیا کیا، اور یہی خدا بعد میں ہمارے لیے خداوند یسوع مسیح کو لے آئے۔
بڑے بچوں کے ساتھ آپ انتظار اور غلطیوں کی بات بھی کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ اِسے سمجھتے ہیں اور اِس سے تسلی پاتے ہیں۔
فیتھ نیٹ ورک پر ابراہیم کی کہانی کی الگ الگ عمروں کے مطابق وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے آسان اور تصویری انداز میں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے واقعات کی ترتیب اور سوالات کے ساتھ، اور بارہ سال سے اوپر کے نوجوانوں کے لیے اُن مشکل سوالوں کے ساتھ جو وہ واقعی پوچھتے ہیں۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق صفحہ چنیے اور اُسے خاندانی عبادت کا حصہ بنائیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ابراہیم نبی کون تھے؟
ابراہیم، جنہیں اردو بائبل میں ابرہام لکھا جاتا ہے، بنی اسرائیل کے جدِ امجد اور ایمانداروں کے روحانی باپ کہلاتے ہیں۔ وہ کسدیوں کے اُر شہر میں پیدا ہوئے، حاران ہوتے ہوئے کنعان آئے، اور خدا نے اُن سے ایک عہد باندھا جس میں زمین، نسل اور تمام قوموں کے لیے برکت کا وعدہ شامل تھا۔ اُن کی کہانی پیدائش کے بارہویں سے پچیسویں باب تک درج ہے۔ نیا عہد نامہ اُنہیں ایمان کی سب سے بڑی مثال کے طور پر پیش کرتا ہے، اور یعقوب 2:23 اُنہیں "خُدا کا دوست" کہتی ہے۔
خدا نے ابراہیم کو ہی کیوں چنا؟
پاک کلام اِس کا کوئی ایسا سبب نہیں بتاتا جو ابراہیم کی اپنی خوبی میں ہو۔ یشوع کی کتاب کے مطابق اُن کے باپ دادا دریا پار دوسرے دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے، یعنی وہ کسی روحانی خاندان سے نہیں آئے تھے۔ چناؤ کی بنیاد خدا کا اپنا فضل اور اُن کا اپنا منصوبہ تھا، نہ کہ انسان کی لیاقت۔ یہی بات پورے کلام کا انداز ہے: خدا پہلے پکارتے ہیں، پھر انسان میں ایمان پیدا ہوتا ہے، اور برکت ہمیشہ آگے دوسروں تک پہنچانے کے لیے دی جاتی ہے۔
پیدائش 15:6 کا اصل مطلب کیا ہے؟
اِس آیت میں لکھا ہے کہ ابراہیم خداوند پر ایمان لایا اور خدا نے اِسے اُس کے لیے راستبازی شمار کیا۔ یہ کلام کی سب سے اہم آیتوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہاں پہلی بار یہ اصول کھل کر سامنے آتا ہے کہ انسان خدا کے حضور اپنے کاموں سے نہیں بلکہ بھروسے سے قبول کیا جاتا ہے۔ "شمار کرنا" ایک حسابی لفظ ہے: خدا نے ابراہیم کے کھاتے میں ایسی راستبازی لکھ دی جو اُس نے کمائی نہیں تھی۔ پولس رسول رومیوں 4:3 میں اِسی آیت کو انجیل کی بنیاد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
خدا نے ابرام کا نام بدل کر ابرہام کیوں رکھا؟
پیدائش 17:5 کے مطابق خدا نے فرمایا کہ اب تیرا نام ابرہام ہو گا، کیونکہ میں نے تجھے بہت سی قوموں کا باپ ٹھہرایا۔ ابرام کا مفہوم "بلند باپ" تھا اور ابرہام کا مفہوم "بہت سی قوموں کا باپ" ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ نام اُس وقت دیا گیا جب وہ ننانوے برس کے تھے اور وعدے کا بیٹا ابھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ خدا نے اُنہیں اُن کے مستقبل کے مطابق نام دیا، اور ہر بار نام پکارے جانے پر وعدہ دہرایا جاتا رہا۔
کیا خدا واقعی چاہتے تھے کہ ابراہیم اپنے بیٹے کو قربان کرے؟
پیدائش 22:2 کا حکم حقیقی تھا، مگر خدا کا مقصد اضحاق کی موت نہیں بلکہ ابراہیم کے دل کا امتحان اور ایک عظیم نشان تھا۔ عین وقت پر آسمان سے آواز آئی اور خدا نے بدلے میں ایک مینڈھا مہیا کیا۔ باقی کلام میں خدا انسانی قربانی کو صاف طور پر مکروہ قرار دیتے ہیں۔ یہ واقعہ دراصل ایک پیش گوئی ہے: موریاہ کے اُسی علاقے میں صدیوں بعد خدا نے اپنا اکلوتا بیٹا دیا، اور اُس بار آسمان سے کوئی آواز اُسے روکنے کے لیے نہیں آئی۔
ابراہیم نے دو بار اپنی بیوی کو اپنی بہن کیوں کہا؟
مصر میں اور بعد میں جرار میں ابراہیم نے ڈر کے مارے سارہ کو اپنی بہن ظاہر کیا تاکہ کوئی حاکم اُنہیں مار کر اُس کی بیوی نہ لے لے۔ تکنیکی طور پر سارہ اُن کی سوتیلی بہن بھی تھیں، مگر نیت دھوکے کی تھی۔ یہ کلام کی ایمانداری کی مثال ہے: وہ اپنے ہیروؤں کو صاف نہیں کرتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں بار خدا نے مداخلت کر کے سارہ اور وعدے دونوں کی حفاظت کی، یعنی خدا کا منصوبہ ابراہیم کی کمزوری سے زیادہ مضبوط تھا۔
ملکِ صدق کون تھا اور وہ اہم کیوں ہے؟
پیدائش چودھویں باب میں لوط کو چھڑانے کے بعد ابراہیم کا سامنا سالم کے بادشاہ ملکِ صدق سے ہوتا ہے، جو "خدا تعالیٰ کا کاہن" تھا۔ اُس نے روٹی اور مے نکالی، ابراہیم کو برکت دی، اور ابراہیم نے اُسے سب کا دسواں حصہ دیا۔ عبرانیوں کی کتاب اِس پراسرار شخصیت کو خداوند یسوع مسیح کی کہانت کا نمونہ قرار دیتی ہے، کیونکہ اُس کی کہانت نہ ہارون کی نسل سے تھی اور نہ اُس کا کوئی نسب نامہ درج ہے۔ اِس طرح ابراہیم کی زندگی مسیح کی طرف ایک اور اشارہ بن جاتی ہے۔
ختنہ کے عہد کا مقصد کیا تھا؟
پیدائش سترھویں باب میں خدا نے ختنہ کو اپنے عہد کا ظاہری نشان مقرر کیا۔ یہ کوئی ایسا عمل نہیں تھا جس سے نجات کمائی جاتی، بلکہ ایک مہر تھی جو پہلے سے دیے گئے وعدے پر لگائی گئی۔ پولس رسول رومیوں کے چوتھے باب میں زور دیتے ہیں کہ ابراہیم ختنے سے پہلے ہی راستباز ٹھہرایا جا چکا تھا، اِس لیے وہ مختون اور نامختون دونوں کا باپ ہے۔ نئے عہد میں اِس نشان کی جگہ دل کی تبدیلی اور مسیح کے ساتھ اتحاد نے لے لی ہے۔
اسمٰعیل کے ساتھ کیا ہوا؟
اسمٰعیل ابراہیم کا پہلا بیٹا تھا جو سارہ کی لونڈی ہاجرہ سے پیدا ہوا، اُس وقت جب ابراہیم چھیاسی برس کے تھے۔ وہ وعدے کا بیٹا نہیں تھا، مگر خدا نے اُسے بھی نظرانداز نہیں کیا۔ ہاجرہ کو بیابان میں خدا نے خود دیکھا اور اُس سے بات کی، اور اسمٰعیل کے لیے بھی ایک بڑی قوم بننے کا وعدہ دیا گیا۔ بعد میں اضحاق کی پیدائش کے بعد گھریلو کشیدگی کے سبب ہاجرہ اور اسمٰعیل کو رخصت کر دیا گیا، مگر کلام کہتا ہے کہ خدا اُس لڑکے کے ساتھ تھا۔
اگر میں مسیحی ہوں تو کیا میں بھی ابراہیم کی اولاد ہوں؟
جی ہاں، اور یہ کوئی مجازی تسلی نہیں بلکہ کلام کا صاف اعلان ہے۔ گلتیوں 3:29 کہتی ہے: "اور اگر تُم مسِیح کے ہو تو ابرہام کی نسل اور وعدہ کے مُوافِق وارِث ہو۔" یہاں رشتہ خون یا قومیت سے نہیں بلکہ ایمان سے قائم ہوتا ہے۔ چونکہ وعدہ بنیادی طور پر مسیح کو دیا گیا تھا، اِس لیے جو کوئی مسیح میں ہے وہ خود بخود اُس میراث میں شریک ہو جاتا ہے جس کا آغاز ابراہیم سے ہوا تھا۔
پولس اور یعقوب ابراہیم کے بارے میں مختلف باتیں کیوں کہتے ہیں؟
پولس رومیوں میں کہتے ہیں کہ ابراہیم ایمان سے راستباز ٹھہرا، اور یعقوب کہتے ہیں کہ وہ اعمال سے راستباز ٹھہرا۔ تضاد صرف سطح پر ہے۔ پولس یہ سوال حل کر رہے ہیں کہ انسان خدا کے حضور کیسے قبول ہوتا ہے، اور جواب ہے: صرف ایمان سے۔ یعقوب یہ سوال حل کر رہے ہیں کہ سچا ایمان کیسے پہچانا جاتا ہے، اور جواب ہے: اپنے پھل سے۔ پیدائش پندرھویں باب میں ابراہیم ایمان لایا، اور بائیسویں باب میں اُس ایمان نے موریاہ پر خود کو ثابت کیا۔
ابراہیم کتنے سال زندہ رہے اور اُن کی قبر کہاں ہے؟
پیدائش پچیسویں باب کے مطابق ابراہیم ایک سو پچہتر برس کی عمر میں بڑھاپے میں آسودہ ہو کر وفات پا گئے۔ اُنہیں مکفیلہ کے اُس غار میں دفن کیا گیا جو حبرون کے قریب تھا اور جسے اُنہوں نے سارہ کی وفات کے بعد چار سو مثقال چاندی دے کر خریدا تھا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اُس پورے ملک میں جس کا وعدہ خدا نے اُنہیں دیا تھا، اُن کی ذاتی ملکیت صرف ایک قبر تھی۔ عبرانیوں 11 کہتی ہے کہ وہ اُس شہر کا انتظار کرتے رہے جس کا معمار خدا ہے۔
اختتام میں
ابراہیم کی زندگی کو اگر صرف بہادری کی داستان سمجھ کر پڑھا جائے تو وہ ہمیں مایوس کرے گی، کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی موریاہ کے پہاڑ پر چڑھنے کے قابل محسوس نہیں کرتا۔ لیکن اگر ہم اُسے اُس ترتیب سے پڑھیں جو ہم نے یہاں اپنائی، یعنی خدا کے سات بار بولنے کی ترتیب سے، تو تصویر بدل جاتی ہے۔ ہر بار جب ابراہیم لڑکھڑایا، خدا نے پھر بولا۔ ہر بار جب انتظار طویل ہوا، خدا نے وعدہ دہرایا۔ ایمان کا باپ اِس لیے ایمان کا باپ بنا کہ اُس کے پیچھے ایک وفادار خدا کھڑا تھا۔
اِسی لیے آپ کا ایمان بھی آپ کی ہمت پر نہیں، اُس آواز پر ٹکا ہوا ہے جو آج بھی کلام کے ذریعے بولتی ہے۔ آج ہی پیدائش کے بارہویں باب سے پچیسویں باب تک ایک ہی نشست میں پڑھ لیجیے، اور ساتھ رومیوں کا چوتھا باب اور عبرانیوں کا گیارہواں باب بھی۔ ہر اُس جگہ نشان لگائیے جہاں خدا بولتے ہیں، اور دیکھیے کہ اُس سے پہلے کیا ہو رہا تھا۔ آپ کو ایک بوڑھا مسافر ملے گا جو بار بار ٹھوکر کھاتا ہے، اور ایک خدا ملے گا جو کبھی اپنا وعدہ واپس نہیں لیتا۔
