۱-توارِیخ 7
متن
یہ باب اسرائیل کے چند قبیلوں کی فہرستیں گنتا ہے: اِشکار، بن یمین، نفتالی، منسّی، افرائیم اور آشر۔ ہر قبیلے کے ساتھ خاندانی سرپرستوں کے نام اور جنگ کے قابل مردوں کی تعداد درج ہے، 22,600، 36,000، 87,000، 26,000۔ لیکن اِن اعداد کے بیچ میں اچانک ایک کہانی پھٹ پڑتی ہے: افرائیم کے دو بیٹے جات میں ریوڑ لُوٹنے گئے اور مارے گئے، اور اُن کا باپ "کافی عرصے تک اُن کا ماتم کرتا رہا۔" اِس کے بعد پیدا ہونے والے بیٹے کا نام اُس نے "بریعہ یعنی مصیبت" رکھا۔ اُسی افرائیم کی نسل کے آخر میں ایک نام آتا ہے: "نون کے یشوع۔"
مرکزی نکتہ
یہ فہرستیں محض حساب کتاب نہیں، یہ خدا کی وفاداری کی دستاویز ہیں۔ اسرائیل کے شمالی قبیلے تاریخ سے مٹ چکے تھے، اسور اُن کو نگل گیا تھا، مگر خدا کے رجسٹر میں اُن کے نام باقی ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی یادداشت انسانی کامیابی پر منحصر نہیں۔ ایک قبیلہ جو فوجی طاقت میں سب سے آگے تھا اور ایک باپ جو قبرستان کے کنارے کھڑا تھا، دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں۔ خدا کا عہد گنتی کرتا ہے، مگر وہ صرف طاقت نہیں گنتا؛ وہ نام گنتا ہے۔ اور نام کے ساتھ ایک زندگی، ایک زخم، ایک اولاد جُڑی ہوتی ہے۔
نجات کی کہانی کا تسلسل
آیت 27 پر ٹھہریے۔ افرائیم کا نسب نامہ آٹھ گمنام پُشتوں سے گزرتا ہے اور پھر "نون کے یشوع" پر پہنچتا ہے، وہی یشوع جو اسرائیل کو ملکِ موعود میں لے گیا۔ جس خاندان کی بنیاد میں ایک باپ کا ماتم اور "مصیبت" نام کا بیٹا ہے، اُسی سے وہ آدمی نکلا جس کے ذریعے خدا نے وعدہ پورا کیا۔ یہی طرز انجیل میں دہرایا گیا ہے: متی اپنی پہلی فصل میں مسیح کا نسب نامہ ایسے ناموں سے بھرتا ہے جن کے ساتھ شرمندگی، جلاوطنی اور ٹوٹے رشتے جُڑے ہیں۔ خدا صاف ستھری نسلوں سے نجات نہیں لاتا۔ وہ مصیبت کی مٹی میں سے یشوع اُگاتا ہے، اور بالآخر یسوع۔
آئینہ
آپ اِس باب میں کہاں فٹ ہوتے ہیں؟ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارا نام آیت 40 والی قسم میں آئے: "سب چیدہ مرد، ماہر فوجی اور سرداروں کے سربراہ۔" ہم اپنی قیمت اعداد میں ناپتے ہیں، تنخواہ، امتحان کے نمبر، جماعت کی حاضری، بچوں کی کامیابی، فالوورز۔ آیت 4 تو صاف کہہ دیتی ہے کہ عُزّی کا خاندان بڑا تھا کیونکہ "عُزّی کی اولاد کے بہت بال بچے تھے۔" جس کے پاس کم تھا، وہ کم گنا گیا۔ یہ چبھتا ہے، کیونکہ آپ بھی جانتے ہیں کہ کسی محفل میں آپ کے پاس دکھانے کو کچھ نہ تھا۔ مگر افرائیم اِس باب میں اپنی فوج کی وجہ سے یاد نہیں، اپنے ماتم کی وجہ سے یاد ہے۔ خدا نے اُس آنسو کو تاریخ میں لکھوا دیا جو آپ کسی کو بتانا بھی نہیں چاہتے۔
ایک باریک نکتہ
"بریعہ یعنی مصیبت۔" عبرانی میں یہ نام "بِرَعاہ" کی گونج رکھتا ہے، یعنی "مصیبت میں"۔ سوچیے: ایک باپ اپنے نئے بیٹے کو گود میں اُٹھاتا ہے اور اُس کے ماتھے پر خاندان کا سب سے تاریک دن لکھ دیتا ہے۔ ہر بار جب وہ بچہ پکارا جائے گا، گھر میں وہ دن دوبارہ سانس لے گا۔ یہ ہمیں بےچین کرتا ہے، ہم غم پر جلدی سے "خدا کی مرضی" کا پلستر لگانا سیکھ گئے ہیں۔ افرائیم نے یہ نہیں کیا۔ اُس نے دُکھ کو نام دیا اور اُس کے ساتھ جینا سیکھا۔ اور دلچسپ بات: آیت 30 میں آشر کے بیٹوں میں بھی ایک "بریعہ" ہے، جس کی نسل پھلتی پھولتی ہے۔ مصیبت نام رکھنا کہانی کا خاتمہ نہیں تھا۔
مشکل سوال
وہ دو جوان چوری کے ارادے سے گئے تھے، "تاکہ وہاں کے ریوڑ لُوٹ لیں"، اور مارے گئے۔ کیا یہ اُن کا اپنا قصور نہیں تھا؟ متن فیصلہ نہیں سناتا۔ نہ اُن کو شہید کہتا ہے، نہ باپ کے آنسو کو "بےجا" کہتا ہے۔ یہ ہمیں تکلیف دیتا ہے، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ غم کی صفائی ہو: قصور کس کا تھا؟ حقیقی زندگی میں اکثر ماتم اور شرمندگی ایک ہی کمرے میں بیٹھتے ہیں۔ جس بیٹے نے اپنی زندگی خود برباد کی، ماں پھر بھی روتی ہے۔ کلام یہاں کوئی سستی تسلی نہیں دیتا؛ وہ صرف اتنا کرتا ہے کہ اُس ماتم کو مقدّس کتاب میں جگہ دے دیتا ہے۔ کبھی خدا کا جواب وضاحت نہیں، گواہی ہوتا ہے۔
پہلے سننے والے
یہ فہرستیں اُن لوگوں نے پڑھیں جو بابل کی جلاوطنی سے لَوٹے تھے: ایک چھوٹی، کمزور، بےفوج جماعت جس کے پاس 87,000 جنگجو نہیں، صرف کاغذات تھے۔ اُس زمانے میں نسب نامہ زمین کا قبضہ نامہ تھا؛ جس کا نام درج نہ ہو، اُس کا دعویٰ مشکوک تھا۔ اِس لیے آیت 28 اور 29 میں بیت ایل، سِکم، مجِدّو کے نام سننا اُن کے لیے محض جغرافیہ نہیں تھا، یہ یاد دہانی تھی کہ خدا نے کبھی یہ سرزمین اُن کے باپ دادا کو دی تھی اور وہ اب بھی اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹا۔ جن قبیلوں کے وجود کا کوئی نشان باقی نہ تھا، اُن کے نام پڑھ کر وہ سمجھے: بھولنا انسان کا کام ہے، خدا کا نہیں۔
غور و فکر کے سوالات
آپ اپنی قیمت کن اعداد سے ناپتے ہیں، اور اگر وہ اعداد کل مٹ جائیں تو کیا باقی رہے گا؟
آپ کی زندگی کا کون سا "بریعہ" ہے، وہ دُکھ جسے آپ نے ابھی تک نام دینے سے انکار کیا ہے؟
1 Chronicles 7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-توارِیخ 7 کا کیا مطلب ہے؟
۱-توارِیخ 7 کس بارے میں ہے؟
۱-توارِیخ 7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-توارِیخ 7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-توارِیخ 7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 Chronicles 7 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو ہر نام جانتا ہے، اُن کو بھی جن کا ذکر دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔ میرا نام بھی تیرے سامنے ہے، میری روزمرہ کی چھوٹی سی زندگی بھی تیری نظر میں گنی ہوئی ہے۔ مجھے یقین دے کہ میں تیرے لیے بھولا ہوا نہیں، اور میرے گھرانے پر اپنی رحمت رکھ۔
نسب ناموں کی لمبی فہرست میں صرف بیٹوں کے نام گنے جاتے ہیں، لیکن یہاں اچانک ایک بہن کا ذکر آتا ہے: "اُن کی بہن سوعا تھی۔" اُس کے بارے میں کوئی کہانی نہیں، کوئی کارنامہ نہیں، صرف نام۔ پھر بھی خدا نے اُسے یاد رکھا اور اپنے کلام میں لکھوا دیا۔ شاید تُو بھی سوچتا ہے کہ تیری زندگی کسی گنتی میں نہیں آتی۔ مگر جو نام آسمان پر لکھا ہے، وہ کبھی نہیں مٹتا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں