۲-پطرس 2
متن
پطرس رسول کلیسیا کو ایک تلخ حقیقت سے آگاہ کر رہے ہیں: جس طرح پرانے زمانے میں جھوٹے نبی اسرائیل میں اُٹھے، اُسی طرح ایمان داروں کے درمیان جھوٹے اُستاد کھڑے ہوں گے جو مہلک تعلیم چپکے سے پھیلائیں گے، اپنے مالک کا انکار کریں گے، اور بہتوں کو عیاشی کی راہ پر لے جائیں گے۔ پھر پطرس تین تاریخی مثالوں سے اللہ کی عدالت اور نجات کی دُہری حقیقت دکھاتے ہیں: باغی فرشتے، نوح کے زمانے کا سیلاب، اور سدوم و عمورہ۔ آخر میں وہ اِن جھوٹے اُستادوں کی اخلاقی حالت کو بےنقاب کرتے ہیں، جو آزادی کا وعدہ کرتے ہیں مگر خود گناہ کے غلام ہیں۔
مرکزی نکتہ
اِس باب کا دھڑکتا ہوا دل یہ ہے کہ خدا کا کردار ایک ہی ہے، خواہ وہ فضل دے یا فیصلہ کرے۔ پطرس نہیں کہتے کہ "خدا کبھی رحیم ہے اور کبھی سخت"، بلکہ وہ دکھاتے ہیں کہ اُس کی راست بازی اور اُس کی رحمت ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں۔ نوح بچایا گیا کیونکہ اللہ راست باز ہے؛ سیلاب آیا کیونکہ اللہ راست باز ہے۔ لوط نکالا گیا کیونکہ اللہ رحیم ہے؛ سدوم راکھ ہوا کیونکہ اللہ رحیم ہے، وہ برائی کو ابدی طور پر برداشت نہیں کرے گا۔ آیت 9 اِس دُہرے سچ کو ایک جملے میں سمو دیتی ہے: "رب دین دار لوگوں کو آزمائش سے بچانا اور بےدینوں کو عدالت کے دن تک سزا کے تحت رکھنا جانتا ہے۔" یہاں نجات اور عدالت الگ الگ کہانیاں نہیں، ایک ہی کہانی ہیں۔
مشترکہ دھاگا
پطرس تین واقعات کو ایک لڑی میں پروتے ہیں: فرشتوں کی بغاوت، طوفانِ نوح، اور سدوم۔ یہ محض تاریخی حوالے نہیں، یہ خدا کے چھٹکارے کے پورے منصوبے کے نمونے ہیں۔ ہر بار جب دنیا گناہ میں ڈوبتی ہے، اللہ ایک "بقیہ" بچا لیتا ہے، نوح اور اُس کا خاندان، لوط اور اُس کی بیٹیاں۔ یہ بقیہ آگے چل کر خداوند یسوع مسیح میں اپنی معراج کو پہنچتا ہے، جو "راست بازی کے پیغمبر" نوح سے کہیں بڑھ کر ہیں: وہ خود صادق ہیں اور صادق ٹھہراتے ہیں۔ صلیب اور قیامت میں خدا کی عدالت اور نجات آپس میں گلے ملتی ہیں۔ مسیح میں طوفان بھی ہے اور کشتی بھی، آگ بھی ہے اور سدوم سے نکلنے کا ہاتھ بھی۔ پطرس یہ اِس لئے یاد دلاتے ہیں تاکہ کلیسیا سمجھے: ماضی میں جو کیا، وہی آنے والی عدالت میں بھی کرے گا۔
آئینہ
یہ باب ہماری ایک خطرناک بھول پر انگلی رکھتا ہے: ہم "آزادی" کے لفظ سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں۔ آیت 19 چبھتی ہے: "یہ اُنہیں آزاد کرنے کا وعدہ کرتے ہیں جبکہ خود بدکاری کے غلام ہیں۔" آج بھی، چاہے وہ خوش حالی کی تعلیم ہو، یا "اپنی مرضی جیو" کا فلسفہ، یا وہ روحانی رہنما جو کتاب کے سخت حصوں کو نرم کر دیتے ہیں، وعدہ ایک ہی ہے: تم آزاد ہو۔ لیکن آزادی کی قیمت کیا ہے؟ اپنی جیب، اپنا وقت، اپنا بستر، اپنی زبان، کس کے تابع ہیں؟ پطرس کی کسوٹی سیدھی ہے: جو تم پر غالب آ گیا، تم اُسی کے غلام ہو۔ کام پر جھوٹی رپورٹ، خفیہ اسکرین پر نظر، دولت کی مسلسل بےچینی، یہ آزادی نہیں، مالک کی تبدیلی ہے۔
بین المتن
پطرس کا انداز پرانے عہد نامے سے گہرا رشتہ رکھتا ہے۔ بلعام کا ذکر (آیت 15-16) گنتی 22 سے آتا ہے، جہاں ایک نبی پیسوں کے لالچ میں خدا کے لوگوں کے خلاف مڑ گیا۔ گدھی کا انسانی زبان میں بولنا ایک تلخ استعارہ ہے: کبھی کبھی جانور بھی ہم سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے۔ آیت 22 امثال 26:11 سے کتے کی مثال لیتی ہے: "کُتا اپنی قَے کے پاس واپس آ جاتا ہے۔" یہ محاورہ صرف گھناؤنا نہیں، یہ الہٰیاتی ہے: توبہ کے بغیر انسان اپنی فطرت کے مدار میں لوٹ آتا ہے۔ یسوع مسیح کی متی 12 میں کہی گئی بات یہاں گونجتی ہے: صاف کیا ہوا گھر اگر خالی رہے تو حالت پہلے سے بدتر ہو جاتی ہے۔
سوال
آیت 20-21 ایک کانٹا ہماری روح میں چبھو دیتی ہیں: کیا وہ لوگ جو مسیح کو "جان" کر پھر لوٹ گئے، کبھی حقیقت میں بچائے گئے تھے؟ پطرس کہتے ہیں کہ اُن کے لئے بہتر ہوتا کہ وہ اِس راہ سے کبھی واقف نہ ہوتے۔ یہ جملہ آسان تسلی نہیں دیتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ الہٰیاتی خانوں میں سب کچھ صاف رکھیں: یا تو کوئی نجات یافتہ ہے یا نہیں۔ لیکن یہ متن اِس صفائی کو توڑتا ہے۔ شاید اِسے یوں سمجھنا زیادہ ایمانداری ہے: علم اور نجات ایک نہیں ہیں۔ کوئی سچائی کے قریب آ س
2 Peter 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-پطرس 2 کا کیا مطلب ہے؟
۲-پطرس 2 کس بارے میں ہے؟
۲-پطرس 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-پطرس 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-پطرس 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Peter 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، فرشتے تجھ سے زیادہ طاقتور ہونے کے باوجود کسی پر طعن نہیں کرتے، اور میں چھوٹی سی بات پر دوسروں کو جلدی سے مجرم ٹھہرا دیتا ہوں۔ میری زبان کو تھام، میرے دل سے غرور نکال دے۔ فیصلہ تیرا ہے، میرا کام محبت اور حلیمی ہے۔
جھوٹے اُستاد اندھا دھند کسی کو نہیں پھنساتے۔ پطرس کہتا ہے کہ وہ اُن پر نظر رکھتے ہیں "جو ابھی ابھی غلط راہ پر چلنے والوں میں سے نکل آئے ہیں۔" یعنی وہ جو ابھی ابھی آزاد ہوئے ہیں، جن کے زخم ہرے ہیں۔ اور ہتھیار؟ بڑی بڑی، کھوکھلی باتیں۔
سوچ، تجھے کون سی باتیں سب سے زیادہ کھینچتی ہیں؟ اگر وہ تیری پرانی بھوک کو جگاتی ہیں تو وہ تجھے آزادی نہیں، پرانی زنجیر لوٹا رہی ہیں۔
اے خدا، جب چاروں طرف پانی چڑھ رہا تھا، تُو نے نوح اور اُس کے گھرانے کو تھامے رکھا۔ میرے حالات بھی کبھی مجھے ڈبونے لگتے ہیں، مگر تُو بچانے والا ہے۔ مجھے راستی کی راہ پر چلنے اور تجھ پر بھروسا رکھنے کی ہمت دے۔
خداوند، تُو نے مجھے بہت سی زنجیروں سے آزاد کیا، مگر میرا دل آج بھی پرانی راہوں کی طرف کھنچتا ہے۔ مجھے پھر اُن میں اُلجھنے نہ دے۔ جو آزادی تُو نے دی ہے، اُسے میرے اندر قائم رکھ اور مجھے اپنے قریب تھامے رکھ۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
