۲-پطرس 2:7
متن
سدوم کی راکھ اُڑ رہی ہے، عمورہ کا دھواں آسمان کو کالا کر رہا ہے، اور اِسی منظر کے بیچ پطرس ایک آدمی کو باہر نکالتا ہے: ”ساتھ ساتھ اُس نے لوط کو بچایا جو راست باز تھا اور بےاصول لوگوں کے گندے چال چلن دیکھ دیکھ کر پِستا رہا۔“ عدالت کے اِس بیان میں یہ جملہ ایک سانس کی طرح آتا ہے۔ خدا نے شہر کو مجرم ٹھہرایا، مگر اُسی لمحے ایک شخص کو، جو اُس شہر کے اندر رہتا تھا اور اُس کے گناہ سے اندر ہی اندر کچلا جا رہا تھا، اُس نے ہاتھ پکڑ کر نکال لیا۔ فیصلہ اور نجات ایک ہی واقعے کے دو رُخ ہیں۔
مرکزی بات
یہاں دو باتیں ایک ساتھ رکھی گئی ہیں جنہیں ہم عموماً الگ الگ رکھنا چاہتے ہیں: خدا کا انصاف اور خدا کی رحمت۔ پطرس یہ نہیں کہتا کہ لوط اِس لئے بچا کہ وہ بہتر آدمی تھا؛ وہ کہتا ہے کہ ”اُس نے لوط کو بچایا“۔ فاعل خدا ہے۔ راست بازی یہاں لوط کی کارکردگی کا تمغہ نہیں بلکہ وہ رشتہ ہے جو خدا نے ابرہام کے عہد کے سائے میں اُس کے ساتھ قائم کیا تھا، اور پیدایش کا لوط ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ آدمی کتنا کمزور تھا۔ اِس لئے آیت ہمیں فضل کی سب سے سخت شکل دکھاتی ہے: خدا عدالت کرنے میں سُست نہیں، اور اپنوں کو پہچاننے میں بھی غافل نہیں۔ اور نجات کی علامت یہ ہے کہ آدمی گناہ کے ماحول میں آرام دہ نہیں رہتا بلکہ ”پِستا“ ہے۔ جو ضمیر دُکھتا ہے، وہ زندہ ہے۔
نجات کا سلسلہ
پطرس یہاں اتفاقی مثالیں نہیں گنوا رہا۔ فرشتے، نوح کی دنیا، سدوم و عمورہ: تینوں بار عدالت آتی ہے، اور دو بار عدالت کے بیچ سے کوئی باہر نکالا جاتا ہے۔ یہ خدا کے کام کرنے کا مستقل نمونہ ہے۔ کشتی پانی کے اوپر تیرتی ہے جبکہ پانی سب کچھ بہا لے جاتا ہے؛ لوط شہر سے نکلتا ہے جبکہ آگ شہر پر گرتی ہے۔ نجات کبھی عدالت کے بغیر نہیں آتی، اور عدالت کبھی اندھی نہیں ہوتی۔ یہی دھاگا صلیب تک جاتا ہے، جہاں یہ نمونہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے: وہاں بچایا جانے والا باہر نہیں نکالا جاتا بلکہ خداوند یسوع مسیح خود شہر سے باہر، عدالت کے عین بیچ میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لوط کو آگ سے نکالا گیا؛ مسیح آگ میں داخل ہوئے تاکہ ہم نکالے جائیں۔
آئینہ
سوال یہ نہیں کہ آپ کس شہر میں رہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اُس شہر کا کیا اثر آپ پر باقی رہ گیا ہے۔ لوط کی نشانی اُس کی علیحدگی نہیں تھی، وہ تو پورا خاندان لے کر سدوم کے اندر بس چکا تھا؛ اُس کی نشانی یہ تھی کہ وہ روز بہ روز ”پِستا“ رہا۔ ہم اِس کے اُلٹ چلتے ہیں۔ دفتر کا وہ مذاق جو پہلے کھٹکتا تھا اب ہنسی لگتا ہے۔ اسکرین پر وہ چیز جس پر کبھی ہاتھ کانپتا تھا، اب انگلی خودکار طور پر آگے سرکا دیتی ہے۔ حساب کتاب میں وہ چھوٹی سی بددیانتی جسے اب ہم ”عملی سمجھ داری“ کہتے ہیں۔ عادت کو ہم پختگی کا نام دے دیتے ہیں۔ آج شام سونے سے پہلے ایک کاغذ پر وہ ایک بات لکھیں جس پر آپ کا ضمیر پہلے دُکھتا تھا اور اب نہیں دُکھتا، اور وہ کاغذ ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہیں: ”خداوند، مجھے اِس پر دوبارہ دُکھ محسوس کرنا سکھائیں۔“
کلام کی گونج
پیدایش ۱۹ میں اِس آیت کا سب سے چونکا دینے والا پہلو کھلتا ہے: لوط جھجکتا ہے، دیر کرتا ہے، اور فرشتوں کو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے شہر سے باہر گھسیٹنا پڑتا ہے۔ جسے پطرس ”راست باز“ کہتا ہے، وہ اپنے قدموں سے نہیں بلکہ کسی اور کے ہاتھ سے بچا۔ راست بازی کی یہ تعریف عہدِ عتیق سے لے کر پولس تک ایک ہی ہے: خدا کے ساتھ صحیح رشتے میں ہونا، نہ کہ بےداغ ریکارڈ رکھنا۔ اور دو آیت بعد پطرس خود نتیجہ نکالتا ہے: ”رب دین دار لوگوں کو آزمائش سے بچانا اور بےدینوں کو عدالت کے دن تک سزا کے تحت رکھنا جانتا ہے“۔ لفظ ”جانتا ہے“ فیصلہ کن ہے۔ خدا کے پاس دونوں کام کرنے کی مہارت ہے، ایک ہی وقت میں۔
پس منظر
پطرس ایسی جماعتوں کو لکھ رہا ہے جو رومی سلطنت کے شہروں میں ایک چھوٹی سی اقلیت تھیں۔ اِن شہروں میں دیوتاؤں کی ضیافتیں، سرپرستی کا نظام اور جنسی آزادی معمول کی زندگی کا حصہ تھے؛ ایمان دار ہر روز اُسی ماحول میں کام کرتے، خریدتے اور بیچتے تھے۔ اُن کے درمیان ایسے اُستاد اُٹھ کھڑے ہوئے تھے جو ”آزاد کرنے کا وعدہ“ کرتے تھے مگر خود بدکاری کے غلام تھے۔ اُن کا پیغام آسان تھا: فضل ہے، تو دباؤ کیوں محسوس کرنا؟ پطرس اِس کے جواب میں یہودی روایت کی سب سے مشہور مثال اُٹھاتا ہے، اور حیرت انگیز طور پر اُس شخص کو ”راست باز“ کہتا ہے جسے بہت سے یہودی اُستاد شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ پیغام واضح ہے: تمہاری بےچینی کمزوری کی نہیں، زندگی کی علامت ہے۔
مرکزی کردار
لوط کوئی ہیرو نہیں۔ اُس نے خود آنکھیں اُٹھا کر یردن کا سرسبز میدان چنا تھا، خود خیمہ سدوم کی طرف بڑھایا تھا، اور آخر میں شہر کے دروازے پر بیٹھنے لگا تھا، یعنی وہاں کا معزز شہری بن گیا تھا۔ اُس کا روحانی منظرنامہ بٹا ہوا ہے: وہ اندر سے تڑپتا ہے مگر باہر نکلنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ ایسا آدمی ہم سب کے اندر ہے، وہ جو صحیح کو پہچانتا ہے لیکن آرام، رشتوں اور کاروبار کی قیمت چکانے سے کتراتا ہے۔ اور یہی وہ آدمی ہے جسے خدا بچاتا ہے۔ اصل مرکزی کردار لوط نہیں، بلکہ وہ خدا ہے جو راکھ کے ڈھیر میں سے ایک ٹوٹے ہوئے آدمی کو یاد رکھتا ہے اور اُس کے دُکھتے ضمیر کو ایمان شمار کرتا ہے۔
غور و فکر
کون سی بات آپ کے ضمیر کو پہلے چبھتی تھی اور اب نہیں چبھتی، اور یہ بےحسی آپ کی زندگی میں کب داخل ہوئی؟
اگر آپ کو آج خدا کے ہاتھ سے کہیں سے ”نکالا“ جا رہا ہو، تو آپ کس چیز کو پکڑ کر جھجک رہے ہیں؟
2 Peter 2:7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-پطرس 2:7 کا کیا مطلب ہے؟
۲-پطرس 2:7 کس بارے میں ہے؟
۲-پطرس 2:7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-پطرس 2:7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-پطرس 2:7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Peter 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
وہ اُن سے آزادی کا وعدہ کرتے ہیں حالانکہ وہ خود بگاڑ کے غلام ہیں۔“ کتنی عجیب بات ہے کہ جو خود زنجیروں میں جکڑا ہے وہ دوسروں کو رِہائی بیچ رہا ہے۔ آج بھی ہر لَت، ہر عادت پہلے آزادی کا نام لے کر آتی ہے اور آخر میں مالک بن بیٹھتی ہے۔ ذرا ٹھہر کر پوچھ: جس چیز کو تُو اپنی مرضی کہتا ہے، کیا وہ واقعی تیرے قبضے میں ہے، یا تُو اُس کے؟
بہتر ہوتا کہ وہ راستبازی کی راہ کو جانتے ہی نہ۔“ پطرس اُن لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو کبھی مسیح کے قریب تھے، جنہیں راستہ دکھایا گیا تھا۔ خطرہ لاعلمی نہیں، بلکہ وہ واقفیت ہے جو اب دل کو نہیں ہلاتی۔ تُو کلام سنتا ہے، سر ہلاتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ جو سچائی تیرے سپرد ہوئی ہے، آج اُس پر ایک قدم اُٹھا۔
اے خداوند، تو جانتا ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں اپنوں کو کیسے بچانا ہے۔ جب مشکلیں گھیر لیتی ہیں اور مجھے کوئی راستہ نظر نہیں آتا، تو مجھے یاد دلا کہ تیری نظر مجھ پر ہے۔ انصاف تیرے ہاتھ میں ہے، اور یہی میرے دل کا سکون ہے۔
اے خدا، مجھے ایسی زندگی جینے میں مدد دے کہ میری وجہ سے تیری سچائی کی راہ بدنام نہ ہو۔ جہاں دل آسان راستوں کی طرف کھنچتا ہے، وہاں مجھے تھام لے۔ میری باتیں اور میرے کام لوگوں کو تجھ سے دور نہیں بلکہ تیرے قریب لے آئیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں