یوناہ نبی کی کہانی اور خدا کی رحمت
تعارف
سمندر کے کنارے ایک آدمی کھڑا ہے، ہاتھ میں کرایہ کے پیسے، اور دل میں ایک ہی فیصلہ: جہاں سے خدا کی آواز آئی ہے، اُس سے مخالف سمت میں جانا ہے۔ وہ آدمی کوئی بُت پرست نہیں، کوئی منکر نہیں، بلکہ اسرائیل کا نبی ہے۔ اُس نے خدا کی آواز پہچانی، سمجھی، اور پھر جہاز کا ٹکٹ خرید لیا۔ یوناہ نبی کی کہانی یہیں سے شروع ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ کہانی ہمیں بےچین کرتی ہے۔ ہم نے اِسے بچپن میں مچھلی کی کہانی کے طور پر سنا، مگر یہ کتاب دراصل ایک بھاگتے ہوئے بندے اور ایک پیچھا کرنے والے خدا کی کہانی ہے۔ اِس صفحے پر ہم یوناہ کی زندگی کو ترتیب سے دیکھیں گے، اُس کی کمزوریوں کو چھپائے بغیر، اور دیکھیں گے کہ اُس کی نامکمل کہانی مسیح میں کیسے مکمل ہوتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
یوناہ کی کتاب ایک عجیب جگہ پر ختم ہوتی ہے: خدا کے ایک سوال پر، جس کا جواب کتاب میں درج نہیں۔ یہی ہمارا زاویہ ہے۔ ہم اِس کہانی کو مچھلی کے معجزے کی بحث کے طور پر نہیں پڑھیں گے، بلکہ اُس سوال کے طور پر جو خدا اپنے ناراض نبی سے پوچھتے ہیں، اور اُس کے ذریعے ہم سے پوچھتے ہیں۔ نینوہ کے لوگ توبہ کر لیتے ہیں، نبی توبہ نہیں کرتا۔ سمندر کے کافر ملاح خدا سے ڈر جاتے ہیں، خدا کا خادم ناراض بیٹھا رہتا ہے۔ اِس کتاب کا اصل موضوع بھاگنا نہیں، بلکہ رحمت سے ناراضگی ہے۔ اور یہ ناراضگی مذہبی لوگوں کی بیماری ہے۔
بائبل یوناہ نبی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
یوناہ ایک حقیقی تاریخی شخص ہیں۔ بائبل اُن کا ذکر صرف اُن کی کتاب میں نہیں کرتی؛ ۲-سلاطین 14:25 میں لکھا ہے کہ یربعامِ دوم کے دنوں میں خداوند نے اپنے بندے یوناہ بن امِتّی کے ذریعے، جو جات حِفر کا تھا، اسرائیل کی سرحدوں کی بحالی کی پیشین گوئی فرمائی۔ یعنی یوناہ ایک کامیاب نبی تھے، ایک قومی ہیرو، جن کی پہلی نبوّت پوری ہوئی اور جس سے اسرائیل کو فائدہ پہنچا۔ اُن کا نام "کبوتر" کے معنی رکھتا ہے اور اُن کے والد کے نام امِتّی کا مطلب "سچا" ہے۔ یہ پس منظر ضروری ہے، کیونکہ جو آدمی باب 1 میں بھاگتا ہے وہ کوئی ناتجربہ کار نوجوان نہیں بلکہ ایک تجربہ کار خادمِ خدا ہے۔
خدا کا حکم سیدھا تھا: نینوہ جاؤ اور اُس کے خلاف منادی کرو۔ نینوہ اسور (اسیریا) کا بڑا شہر تھا، اُس سلطنت کا مرکز جو اپنی بےرحمی کے لیے مشہور تھی، جو قوموں کی کھال کھینچتی اور لاشوں کے مینار بناتی تھی۔ یوناہ کا ردِعمل دیکھیے: "لیکن یوناہ خداوند کے حضور سے ترسیس کو بھاگنے کے لیے اُٹھا اور یافا کو گیا اور وہاں ترسیس جانے والا ایک جہاز پایا۔ سو اُس نے کرایہ دے کر اُس میں بیٹھ لیا تاکہ اُن کے ساتھ خداوند کے حضور سے ترسیس کو چلا جائے" (یوناہ 1:3)۔ غور کریں کہ اِس ایک آیت میں "خداوند کے حضور سے" دو بار آتا ہے۔ مسئلہ صرف ایک سفر سے انکار نہیں تھا؛ یوناہ خدا کی حضوری سے ہی دُور جانا چاہتا تھا۔ ترسیس معلوم دنیا کا آخری کنارہ تھا، نینوہ کے بالکل مخالف سمت۔
مگر خدا کی حضوری سے بھاگنا ممکن نہیں۔ زبور 139:7 اِسی حقیقت کو ایک سوال میں باندھتا ہے: "میں خدا کی روح سے کہاں جاؤں اور تیری حضوری سے کدھر بھاگوں؟" یوناہ کو اِس زبور کا جواب عملی طور پر سیکھنا پڑا۔ خدا نے ایک بڑی آندھی بھیجی، ملاح گھبرا گئے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کہانی میں سب سے پہلے کافر ملاح دعا کرتے ہیں جبکہ نبی نیچے جہاز میں سو رہا ہے۔ قرعہ ڈالا گیا، یوناہ نے اپنی شناخت بتائی، اور اپنے آپ کو سمندر میں پھینکوا دیا۔
پھر آتی ہے وہ آیت جو مچھلی کے پیٹ سے نکلی: "میں نے اپنی مصیبت میں خداوند سے دعا کی اور اُس نے مجھے جواب دیا۔ میں نے پاتال کی تہ میں سے فریاد کی، تُو نے میری آواز سُنی" (یوناہ 2:2)۔ یہ دعا شکر گزاری کا گیت ہے، زبوروں کی زبان میں لکھی گئی۔ یوناہ مچھلی کے پیٹ میں مدد کی بھیک نہیں مانگ رہا، بلکہ اُس نجات کے لیے خدا کی حمد کر رہا ہے جو مل چکی ہے۔ مچھلی سزا نہیں، رحمت تھی۔
نینوہ پہنچنے پر یوناہ کی منادی حیرت انگیز حد تک مختصر ہے، صرف چند الفاظ، اور نتیجہ حیرت انگیز حد تک بڑا: "تب نینوہ کے لوگوں نے خدا پر ایمان لایا اور روزہ کی منادی کی اور چھوٹے سے بڑے تک سب نے ٹاٹ اوڑھا" (یوناہ 3:5)۔ بادشاہ تک تخت سے اُترا۔ اور جب خدا نے رحم فرمایا، تب یوناہ ناراض ہوا۔ کتاب کا آخری لفظ خدا کے منہ سے نکلا ایک سوال ہے: "تو پھر کیا مجھے لازم نہ تھا کہ میں اِس بڑے شہر نینوہ کا خیال کروں جس میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ ایسے انسان ہیں جو اپنے دہنے اور بائیں ہاتھ میں امتیاز نہیں کر سکتے اور بہت سے چوپائے بھی ہیں؟" (یوناہ 4:11)۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
یوناہ کی کتاب پرانے عہد نامے میں اکیلی نہیں کھڑی۔ خدا کا یہ ارادہ کہ برکت صرف اسرائیل تک محدود نہ رہے، پیدایش 12:3 سے شروع ہوتا ہے، جہاں ابرہام سے وعدہ کیا گیا کہ زمین کے سب قبیلے اُس کے وسیلے سے برکت پائیں گے۔ یوناہ اُسی وعدے کا ایک بےدل حامل ہے۔ اُس کی ناراضگی کی وجہ بھی وہی ہے جو اُس نے خود باب 4 میں بیان کی: وہ جانتا تھا کہ خدا رحیم و کریم، قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے۔ یہ الفاظ خروج 34:6 سے لیے گئے ہیں، وہی آیت جو اسرائیل کے لیے تسلی کا سرچشمہ تھی۔ یوناہ کا اصل جھگڑا یہ تھا کہ خدا اپنی وہ رحمت دشمنوں پر بھی خرچ کرتے ہیں جو اُس نے اسرائیل کو دی تھی۔
اسی لیے جب بادشاہ اخیاب کے زمانے میں ایلیّاہ سیدون کی ایک بیوہ کے ہاں بھیجے جاتے ہیں، یا جب الیشع ایک اسوری سردار نعمان کو شفا دیتے ہیں، تو وہی سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے ناصرت کے عبادت خانے میں یہی دو مثالیں دی تھیں، اور سننے والے غصے میں آ گئے۔ رحمت کی وسعت انسانی دل کے لیے ہمیشہ ٹھوکر رہی ہے۔
نئے عہد نامے میں یوناہ کا نام (یونانی صورت میں "یونس") خود خداوند یسوع کے ہونٹوں پر آتا ہے۔ جب فریسیوں نے نشان مانگا تو آپ نے فرمایا: "کیونکہ جس طرح یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا اُسی طرح ابنِ آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا" (متی 12:40)۔ یہاں پرانے عہد نامے کا سب سے عجیب واقعہ صلیب اور قبر کا اشارہ بن جاتا ہے۔ فرق بھی دیکھیے: یوناہ اپنی نافرمانی کی وجہ سے گہرائی میں گیا، مسیح ہماری نافرمانی کی وجہ سے۔ یوناہ کو ملاحوں نے پھینکا، مسیح نے اپنی جان خود دی۔ یوناہ کے سمندر میں جانے سے ایک جہاز بچا، مسیح کے قبر میں جانے سے ایک دنیا۔
خداوند نے یہ بھی فرمایا کہ نینوہ کے لوگ عدالت کے دن اُس نسل کو مجرم ٹھہرائیں گے، کیونکہ اُنہوں نے یوناہ کی منادی پر توبہ کی، اور "یہاں وہ ہے جو یونس سے بھی بڑا ہے" (متی 12:41)۔ یوناہ کی کتاب کا ادھورا سوال مسیح میں جواب پاتا ہے: ہاں، خدا کو اُس شہر کا خیال کرنا لازم تھا، اور اُس خیال کی قیمت گلگتا پر ادا ہوئی۔
یوناہ بادلِ ناخواستہ گیا؛ مسیح خوشی سے آیا۔
پولس رسول اِسی سلسلے کو اپنی خدمت میں سمیٹتے ہیں جب وہ لکھتے ہیں کہ مسیح میں یہودی اور غیر یہودی کے درمیان کی دیوار گرا دی گئی۔ اور پطرس رسول، جو خود ایک مرتبہ غیر یہودیوں کے گھر جانے سے ہچکچائے تھے، لکھتے ہیں: "خداوند اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تمہارے بارے میں تحمل کرتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی ہلاک ہو بلکہ یہ کہ سب کو توبہ کی مہلت ملے" (۲-پطرس 3:9)۔ یہ آیت یوناہ کی کتاب کی تفسیر ہے۔ نینوہ کو دی گئی چالیس دن کی مہلت اُسی صبر کا نمونہ تھی۔
ان کی زندگی کا مرکز
یوناہ کی زندگی میں تین لمحے ہیں جو سب کچھ طے کرتے ہیں، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں میں خدا بولتے ہیں اور یوناہ ردِعمل دیتا ہے۔
پہلا لمحہ یافا کی بندرگاہ ہے۔ یہاں یوناہ ایک انتخاب کرتا ہے جو ہر ایمان دار کو سمجھ آتا ہے: نافرمانی کا سب سے آسان راستہ انکار نہیں، بلکہ فاصلہ ہے۔ یوناہ نے خدا سے بحث نہیں کی، اُس نے صرف ٹکٹ خریدا۔ اور یوناہ 1:3 میں جو لفظ "اُترا" کی صورت میں بار بار آتا ہے (یافا کو گیا، جہاز میں اُترا، جہاز کے نیچے والے حصے میں اُترا، اور آخرکار سمندر کی گہرائی میں) ایک روحانی زوال کی تصویر بناتا ہے۔ نافرمانی ہمیشہ نیچے لے جاتی ہے۔ مگر یہاں ایک اور بات بھی ہے: یوناہ کا فرار بھی خدا کے مشن کا حصہ بن جاتا ہے، کیونکہ جہاز کے کافر ملاح اُس آندھی کے ذریعے خداوند کو پہچان لیتے ہیں، قربانی چڑھاتے ہیں اور منّتیں مانتے ہیں۔ خدا اپنے نبی کی بغاوت کو بھی گواہی میں بدل دیتے ہیں۔
دوسرا لمحہ مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ہے۔ یوناہ 2:2 میں "پاتال کی تہ" کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یوناہ خود کو مُردوں میں شمار کر رہا تھا۔ یہ توبہ کا مقام تھا، مگر ایک ادھوری توبہ۔ یوناہ اپنی جان بچانے پر خدا کا شکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ نجات خداوند کی طرف سے ہے، لیکن نینوہ کے بارے میں اپنے دل کا ایک لفظ نہیں بدلتا۔ وہ اطاعت سیکھتا ہے، ہمدردی نہیں۔ یہی اِس کتاب کی سب سے تیز چبھن ہے: آدمی معجزہ دیکھ کر بھی وہی رہ سکتا ہے۔
تیسرا لمحہ نینوہ کے باہر کی پہاڑی ہے۔ نینوہ توبہ کر چکا ہے، خدا نے اپنا فیصلہ ملتوی کر دیا ہے، اور یوناہ شہر کے باہر بیٹھ کر موت مانگ رہا ہے۔ خدا ایک بیل اُگاتے ہیں جو سایہ دیتی ہے، پھر ایک کیڑا بھیجتے ہیں جو اُسے سکھا دیتا ہے، پھر گرم لُو۔ اور پھر وہ سوال جو یوناہ 4:11 میں کتاب کو کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ خدا نبی سے بحث نہیں جیتتے، وہ اُس کے دل کی پیمائش کرتے ہیں: تُو ایک پودے پر رویا جسے تُو نے نہیں لگایا؛ کیا میں ایک لاکھ بیس ہزار جانوں پر رحم نہ کروں جنہیں میں نے بنایا؟ کتاب ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ یوناہ نے کیا جواب دیا، کیونکہ اصل جواب پڑھنے والے کو دینا ہے۔
یوناہ نبی سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق یہ ہے کہ ہماری نافرمانی خدا کی رحمت کو شرمندہ نہیں کر سکتی۔ یوناہ نے جو کیا وہ کسی بھی تربیت یافتہ خادم کے لیے نااہلی کا سرٹیفکیٹ ہوتا، مگر خدا نے دوسرا نبی نہیں ڈھونڈا۔ اُنہوں نے آندھی، قرعہ، مچھلی، پودا، کیڑا اور لُو استعمال کی، مگر اپنے بھاگے ہوئے بندے کو نہیں چھوڑا۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے خدا سے اتنی دُور آ جانے کے بعد واپسی کا حق کھو دیا ہے، تو یوناہ کی کتاب آپ کے لیے لکھی گئی ہے۔ زبور 139:7 کا سوال خوف کے لیے نہیں، تسلی کے لیے ہے: جہاں آپ بھاگ کر پہنچے ہیں، وہاں بھی خدا موجود ہیں۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ صحیح عقیدہ اور سخت دل ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ یوناہ کا الٰہیات بےعیب تھا؛ اُس نے خدا کی رحمت کی وہ تعریف دہرائی جو تورات میں لکھی ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ اُس رحمت کو اپنے لیے چاہتا تھا اور دشمن کے لیے نہیں۔ ہم بھی ایسا کرتے ہیں جب ہم اپنے لیے فضل اور دوسروں کے لیے انصاف مانگتے ہیں۔ ۲-پطرس 3:9 ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا کی تاخیر بےپروائی نہیں بلکہ توبہ کی مہلت ہے، اور یہ مہلت اُن لوگوں کو بھی دی جاتی ہے جن کے نام ہم دعا میں لینا پسند نہیں کرتے۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ خدا ہمارے آرام سے زیادہ ہماری تبدیلی کی فکر کرتے ہیں۔ یوناہ کو سایہ چاہیے تھا؛ خدا نے سایہ چھین لیا تاکہ اُس کے دل کی گہرائی سامنے آئے۔ بیل کا سُکھ جانا سزا نہیں، ایک آئینہ تھا۔ خدا کی محبت ہمیشہ آرام دہ نہیں ہوتی، مگر ہمیشہ سچی ہوتی ہے۔ اور ہماری زندگی میں بھی وہ لُو، وہ بےآرامی، اکثر اُس سوال کی صورت آتی ہے جو ہمارا رُخ بدل دے۔
خدا اپنے نبی کا پیچھا نینوہ سے زیادہ محبت سے کرتے ہیں۔
آئینہ
آپ کے دل میں کوئی نینوہ ضرور ہے۔ کوئی شخص یا گروہ یا خاندان کا کوئی فرد، جس کے بارے میں آپ کی گہری خواہش یہ ہے کہ خدا اُس سے حساب لیں، نہ کہ اُسے معاف کریں۔ جب آپ سنتے ہیں کہ وہ آدمی کلیسیا آنے لگا ہے، یا اُس کے حالات بہتر ہو گئے ہیں، تو دل میں خوشی نہیں، ایک کڑواہٹ اُٹھتی ہے۔ یوناہ کی کتاب آپ کو مجرم ثابت کرنے کے لیے نہیں، آپ کو آزاد کرنے کے لیے یہ بات کھول کر رکھ دیتی ہے۔
آپ سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ آپ نے حال ہی میں کون سا ٹکٹ خریدا ہے۔ خدا نے شاید ایک بات واضح فرمائی: وہ معافی مانگنی ہے، وہ عادت چھوڑنی ہے، وہ سچ بولنا ہے، وہ رشتہ سنوارنا ہے، وہ پیسہ کھول کر دینا ہے۔ اور آپ نے انکار نہیں کیا، آپ نے صرف مصروفیت کا جہاز پکڑ لیا۔ دفتر کے کام، فون کی سکرین، سیریز کا ایک اور قسط، خدمت کی ایک اور فہرست؛ یہ سب جہاز کے نیچے والے حصے میں سونے کے جدید طریقے ہیں۔ نافرمانی اکثر تھکن کا لباس پہن کر آتی ہے۔
اور آخر میں، اپنے دل کے اُس گوشے کو دیکھیے جو آرام کو سب سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ یوناہ ایک پودے کے لیے رو سکتا تھا مگر ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں کے لیے نہیں۔ ہم بھی کھوئی ہوئی ملازمت، ٹوٹی گاڑی، خراب موسم، جسمانی تکلیف اور رشتوں کی بےقدری پر آنسو بہاتے ہیں، اور اُسی محلے میں رہنے والے تنہا بوڑھے یا بےسہارا بچے کے لیے دل میں کوئی نمی نہیں ہوتی۔ خدا آپ سے آج بھی وہی سوال پوچھ رہے ہیں جو یوناہ 4:11 میں پوچھا گیا۔ وہ جواب کا انتظار کر رہے ہیں، اور اِس بار کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو یوناہ کی کہانی بہت جلدی سمجھ آ جاتی ہے، مگر خطرہ یہ ہے کہ یہ صرف "بڑی مچھلی والی کہانی" بن کر رہ جائے۔ سب سے سادہ انداز یہ ہے کہ آپ بچے سے پوچھیں: کیا کبھی ایسا ہوا کہ امی یا ابو نے کچھ کہا اور تم چھپ گئے؟ پھر بتائیں کہ خدا نے یوناہ سے کہا، ایک شہر کے لوگوں کو بتاؤ کہ وہ غلط کام چھوڑ دیں، اور یوناہ نے دوسری طرف والے جہاز میں بیٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی۔ لیکن خدا اِتنے بڑے ہیں کہ وہ ہر جگہ ہیں، اور وہ اِتنے مہربان ہیں کہ اُنہوں نے یوناہ کو ڈوبنے نہیں دیا۔ اور جب شہر کے لوگوں نے معافی مانگی، تو خدا نے اُنہیں معاف کر دیا، کیونکہ خدا کو لوگ بہت پیارے ہیں۔
چھوٹے بچوں کے لیے اصل پیغام یہی ایک جملہ ہے: خدا ہمیں ڈھونڈتے ہیں اور معاف کرنا پسند کرتے ہیں۔ بڑے بچوں کے ساتھ آپ یہ بات بھی کر سکتے ہیں کہ یوناہ آخر میں ناراض کیوں ہوا، اور یہ کہ خداوند یسوع نے خود اپنے تین دن قبر میں رہنے کا اشارہ یوناہ کی کہانی سے دیا۔
اِس موضوع پر ہمارے ہاں عمر کے لحاظ سے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے آسان کہانی، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے سوال جواب کے ساتھ گہری بات، اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے وہ مشکل سوالات جو وہ واقعی پوچھتے ہیں۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وضاحت چن کر پڑھیں، اور کہانی کے آخر میں مل کر دعا کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یوناہ نبی کون تھے اور کب ہوئے؟
یوناہ بن امِتّی شمالی اسرائیل کے شہر جات حِفر کے رہنے والے ایک نبی تھے، جو بادشاہ یربعامِ دوم کے زمانے میں، یعنی تقریباً آٹھویں صدی قبلِ مسیح کے آغاز میں خدمت کرتے تھے۔ ۲-سلاطین 14:25 میں اُن کی ایک ایسی نبوّت کا ذکر ہے جو پوری ہوئی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم میں ایک قابلِ احترام نبی تھے۔ وہ عاموس اور ہوسیع کے ہم عصر تھے، اُس دور میں جب اسرائیل ظاہری خوشحالی اور باطنی روحانی زوال کا شکار تھا، اور اسور کی طاقت افق پر بڑھ رہی تھی۔
یوناہ نینوہ جانے سے کیوں بھاگا؟
عام خیال یہ ہے کہ یوناہ ڈر گیا تھا، مگر کتاب خود دوسری وجہ بتاتی ہے۔ باب 4 میں یوناہ اعتراف کرتا ہے کہ وہ جانتا تھا کہ خدا رحیم و کریم ہیں اور توبہ پر عذاب سے باز آ جاتے ہیں، اِس لیے اُس نے پہلے ہی بھاگنے کی کوشش کی۔ اسور اسرائیل کا سب سے ظالم دشمن تھا، اور یوناہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس دشمن کو معافی ملے۔ یعنی اُس کا فرار بزدلی سے زیادہ ناراضگی تھا، ایک قومی تعصب جو دل میں خدا کی رحمت کی وسعت سے لڑ رہا تھا۔
کیا یوناہ واقعی تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہا؟
بائبل اِسے ایک حقیقی واقعہ کے طور پر پیش کرتی ہے، اور سب سے وزنی گواہی خود خداوند یسوع مسیح کی ہے، جنہوں نے متی 12:40 میں یوناہ کے تین دن کو اپنی موت اور جی اُٹھنے کا نشان قرار دیا۔ اگر یوناہ محض ایک کہانی کا کردار ہوتا تو مسیح کی دلیل کمزور پڑ جاتی۔ یہ ایک معجزہ ہے، اور معجزے فطرت کے قوانین کے اندر نہیں سماتے؛ یوناہ 2:2 کی دعا بھی بتاتی ہے کہ یوناہ خود کو مُردوں میں شمار کر رہا تھا اور خدا نے اُسے موت کے منہ سے واپس کھینچا۔
وہ مچھلی کیا تھی، وہیل یا کوئی اور؟
عبرانی متن میں لفظ "بڑی مچھلی" استعمال ہوا ہے، جو کسی خاص نوع کا نام نہیں بتاتا؛ یونانی نئے عہد نامے میں بھی ایک عمومی لفظ ہے جو سمندری بڑے جانور کے لیے آتا ہے۔ اِس لیے یہ بحث کہ وہ وہیل تھی یا شارک یا کوئی اور مخلوق، کہانی کے مقصد سے ہٹ کر ہے۔ متن خود زور اِس پر دیتا ہے کہ خداوند نے اُس مچھلی کو "مقرر" فرمایا، جیسے بعد میں بیل، کیڑے اور لُو کو مقرر فرمایا۔ نکتہ مچھلی نہیں، مچھلی کا مالک ہے۔
یوناہ کی کتاب کس نے لکھی اور اِس میں کتنے باب ہیں؟
کتاب میں چار مختصر باب ہیں اور مصنف کا نام کہیں درج نہیں۔ روایتی طور پر یوناہ ہی کو مصنف مانا جاتا ہے، اور یہ قیاس معقول ہے کیونکہ مچھلی کے پیٹ کی دعا اور دل کی ناراضگی کی تفصیل کوئی بیرونی مؤرخ نہیں جان سکتا۔ کتاب کا انداز خاص ہے: یہ نبوّتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک نبی کی کہانی ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس میں یوناہ کی منادی صرف چند الفاظ پر مشتمل ہے جبکہ باقی ساری کتاب اُس کے ردِعمل کے بارے میں ہے۔
نینوہ کہاں تھا اور اب اُس کا کیا ہوا؟
نینوہ دریائے دجلہ کے کنارے، آج کے عراق کے شہر موصل کے سامنے واقع تھا، اور اسور کی سلطنت کا سب سے شان دار شہر بنا۔ یوناہ 4:11 اُس کی آبادی کا اندازہ ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ ایسے لوگوں کے ذکر سے دیتا ہے جو دہنے اور بائیں ہاتھ میں فرق نہیں کر سکتے، جسے اکثر چھوٹے بچوں کے حوالے کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ یوناہ کے تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد، نبی ناحوم اور صفنیاہ کی پیشین گوئیوں کے مطابق، 612 قبلِ مسیح میں یہ شہر تباہ ہو گیا، کیونکہ اُس نسل کی توبہ آگے نہ چلی۔
کیا خدا نے واقعی اپنا فیصلہ بدل دیا؟
یوناہ 3:5 کے بعد جو ہوا اُسے بائبل یوں بیان کرتی ہے کہ خدا اُس عذاب سے باز آئے جو اُنہوں نے فرمایا تھا۔ اِس کا مطلب خدا کی بےثباتی نہیں، بلکہ اُن کی مستقل فطرت ہے: وہ ہمیشہ توبہ کرنے والے پر رحم کرتے ہیں۔ یرمیاہ 18 میں یہ اصول کھول کر بیان ہوا ہے، کہ اگر کوئی قوم اپنی برائی سے باز آئے تو خدا اپنا اعلان شدہ فیصلہ روک لیتے ہیں۔ نینوہ کے بارے میں خدا کی منادی ایک دھمکی نہیں بلکہ ایک دعوت تھی، اور ۲-پطرس 3:9 اِسی صبر کی وضاحت کرتا ہے۔
یوناہ اور خداوند یسوع مسیح کا تعلق کیا ہے؟
خداوند یسوع نے "یونس کا نشان" کی بات کرتے ہوئے دو باتیں جوڑیں۔ پہلی، متی 12:40 میں مچھلی کے پیٹ کے تین دن کو اپنی قبر کے تین دن سے ملایا، یعنی یوناہ کی گہرائی مسیح کی موت اور جی اُٹھنے کی پیش گوئی بن گئی۔ دوسری، اُنہوں نے فرمایا کہ نینوہ کے لوگوں نے یوناہ کی منادی پر توبہ کی، اور یہاں یونس سے بڑا موجود ہے۔ یوناہ ناخوشی سے گیا اور نیم دلی سے بولا؛ مسیح خوشی سے آئے اور اپنی جان دے دی۔ یوناہ ایک نشان تھا، مسیح خود نجات ہیں۔
یوناہ کے ساتھ آخر میں کیا ہوا؟
کتاب یہ نہیں بتاتی، اور یہ خاموشی جان بوجھ کر ہے۔ آخری منظر میں یوناہ شہر کے باہر بیٹھا ہے، دل میں غصہ، سر پر لُو، اور کانوں میں خدا کا سوال۔ ہم نہیں جانتے کہ اُس نے توبہ کی یا نہیں، البتہ یہ حقیقت کہ یہ کہانی لکھی گئی اور اُس میں مصنف کی اپنی شرمناک کمزوری بےلاگ درج ہے، اِس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ کہیں آگے چل کر اُس کا دل نرم ہوا۔ کتاب کا کھلا اختتام پڑھنے والے کو جواب دینے کی جگہ دیتا ہے۔
یوناہ کی دعا کا مطلب کیا ہے اور اِسے کیسے پڑھنا چاہیے؟
یوناہ 2:2 سے شروع ہونے والی دعا زبوروں کی زبان میں ایک شکرگزاری کا گیت ہے۔ یوناہ مدد کی درخواست نہیں کر رہا بلکہ اُس نجات کے لیے حمد کر رہا ہے جو مل چکی ہے، حالانکہ وہ ابھی مچھلی کے پیٹ میں ہے۔ یہ ایمان کا عجیب نمونہ ہے: اندھیرے کے اندر شکر۔ اِسے پڑھتے وقت غور کریں کہ یوناہ اپنی نافرمانی کا اعتراف تو نہیں کرتا، مگر یہ مانتا ہے کہ نجات خداوند ہی کی طرف سے ہے۔ یہ ایک سچی مگر ادھوری توبہ ہے، اور خدا اُس ادھوری توبہ کو بھی قبول فرماتے ہیں۔
کیا یوناہ کی کتاب ایک تمثیل ہو سکتی ہے؟
کچھ لوگ اِسے ایک سبق آموز کہانی کہتے ہیں کیونکہ اِس میں معجزات بہت ہیں اور طنز کا انداز نمایاں ہے۔ مگر تین باتیں تاریخی پڑھائی کے حق میں ہیں: ۲-سلاطین 14:25 میں یوناہ ایک حقیقی تاریخی نبی کے طور پر ملتے ہیں؛ نینوہ ایک حقیقی شہر تھا جس کے کھنڈر آج بھی موجود ہیں؛ اور خداوند یسوع نے متی 12 میں یوناہ اور نینوہ والوں دونوں کا ذکر تاریخی حقیقت کے طور پر کیا۔ ادبی خوبی اور تاریخی سچائی ایک دوسرے کے خلاف نہیں؛ خدا سچی کہانیاں خوبصورتی سے سنا سکتے ہیں۔
میرے مسلمان دوست "یونس" کا ذکر کرتے ہیں، کیا یہ وہی نبی ہیں؟
جی، نام ایک ہی شخص کا ہے؛ عربی اور اردو کے نئے عہد نامے میں بھی یونانی صورت "یونس" ملتی ہے، جبکہ پرانے عہد نامے میں عبرانی صورت "یوناہ" ہے۔ بائبل اِس نبی کی کہانی چار بابوں میں تفصیل سے بیان کرتی ہے، جس میں سب سے نمایاں بات یوناہ کا ناراض دل اور خدا کی وسیع رحمت ہے، اور یوناہ 4:11 کا وہ سوال جس پر کتاب ختم ہوتی ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ یہ چاروں باب پڑھنا اچھا موقع ہے، خاص طور پر یہ بات کہ خداوند یسوع نے خود اِس کہانی کو اپنی موت اور جی اُٹھنے سے جوڑا۔
اِس کتاب سے دعا کے لیے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
یوناہ کی کتاب ہمیں تین طرح کی دعا دکھاتی ہے: کافر ملاحوں کی گھبرائی ہوئی پکار، نبی کی گہرائی سے اُٹھی حمد، اور ایک ناراض آدمی کی وہ کھری شکایت جس میں وہ موت مانگتا ہے۔ اور خدا تینوں سنتے ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دعا میں اپنے دل کا غصہ چھپانے کی ضرورت نہیں؛ خدا کے ساتھ ایمانداری سے بات کرنا اُن سے دُور بیٹھ کر خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ زبور 139:7 کی روشنی میں دعا شروع کریں: وہاں سے جہاں آپ واقعی کھڑے ہیں، کیونکہ خدا وہاں بھی موجود ہیں۔
اختتام میں
یوناہ کی کتاب چار مختصر باب ہیں، مگر یہ چاروں باب ایک سوال کی طرف بڑھتے ہیں جو ہمارے دل کی پیمائش کرتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ یوناہ کوئی ناواقف بندہ نہیں تھا، بلکہ ایک کامیاب نبی تھا جس نے خدا کی آواز سن کر مخالف سمت کا ٹکٹ خریدا، جس نے گہرائی میں سے نجات پائی، جس کی مختصر منادی پر ایک بڑا شہر جھک گیا، اور جو اُس رحمت کے سامنے ناراض بیٹھا رہا جس کا خود بےحد مقروض تھا۔ اُس کی کہانی ادھوری چھوڑ دی گئی ہے تاکہ ہم اپنا جواب لکھ سکیں۔
ہر بھاگنے والے کے پیچھے ایک رحیم خدا ہے۔
اگلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ آپ یوناہ کے چاروں باب ایک ہی نشست میں پڑھیں، پھر متی 12:38 سے 42 تک پڑھیں، اور آخر میں ۲-پطرس 3:9 پر ٹھہر جائیں۔ پھر خدا سے مانگیں کہ وہ آپ کو ایک نام دکھائیں، ایک نینوہ، جس کے لیے آپ آج سے دعا کرنا شروع کریں۔ کیونکہ جو خدا ایک بھاگے ہوئے نبی کو نہ چھوڑا، وہ آپ کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
