موضوع

بائبل میں نجات کا راستہ

تعارف

صحن میں چارپائیاں بچھی ہیں، جنازہ ابھی اٹھا ہے، اور ایک آدمی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر دھیمی آواز میں پوچھتا ہے: "پادری صاحب، سچ بتائیں، وہ پہنچ گیا ہو گا خدا کے پاس؟" یہ سوال کتابی نہیں ہوتا۔ یہ پیٹ کے اندر سے آتا ہے۔ اور اکثر اس کے پیچھے ایک دوسرا، زیادہ خوفناک سوال چھپا ہوتا ہے: "اور میں؟ میرا کیا بنے گا؟"

انسان صدیوں سے اسی ایک سوال کے گرد گھومتا رہا ہے۔ کتنی نمازیں، کتنے خیرات، کتنی قربانیاں، کتنی نیکیاں کافی ہوں گی؟ بائبل اس سوال کا جواب دیتی ہے، مگر ایسے انداز میں جو ہمیں چونکا دیتا ہے۔ وہ ہمیں فہرست نہیں دیتی، وہ ہمیں ایک شخص دکھاتی ہے۔

اس صفحے پر ہم مقدّس کلام کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس راستے کا پیچھا کریں گے: یہ کہاں سے شروع ہوتا ہے، کون اس پر پہلا قدم رکھتا ہے، اور آج آپ اس پر کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں۔

اس رہنما کا زاویہ

اکثر ہم "نجات کا راستہ" یوں سمجھتے ہیں جیسے ایک سیڑھی ہو جو زمین سے آسمان تک جاتی ہے اور ہمیں ایک ایک ڈنڈا چڑھنا ہے۔ یہ رہنما اس کے بالکل اُلٹ زاویے سے لکھا گیا ہے: بائبل کی نجات کا راستہ اوپر کی چڑھائی نہیں، نیچے کی طرف آنے والی سڑک ہے۔ خدا نے وہ فاصلہ خود طے کیا جو ہم کبھی طے نہ کر سکتے تھے۔ اسی لیے خداوند یسوع مسیح نے یہ نہیں فرمایا کہ "میں تمہیں راستہ بتاتا ہوں"، بلکہ فرمایا "راہ مَیں ہُوں"۔ یہ فرق سب کچھ بدل دیتا ہے: مذہب ہمیں تھکاتا ہے، انجیل ہمیں اٹھا لیتی ہے۔

بائبل نجات کے راستے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "نجات" کس چیز سے نجات ہے۔ بائبل کوئی مبہم روحانی بہتری کی بات نہیں کرتی۔ وہ ایک عدالت، ایک قرض، اور ایک موت کی بات کرتی ہے۔ پولس رسول ایک ہی جملے میں پورا حساب رکھ دیتے ہیں: "کیونکہ گُناہ کی مزدُوری موت ہے مگر خُدا کی بخشِش ہمارے خُداوند مسِیح یِسوع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے" (رومیوں 6:23)۔ اس آیت کے دو حصے دو مختلف زبانوں میں بولتے ہیں۔ پہلا حصہ مزدوری کی زبان ہے: مزدوری وہ ہوتی ہے جو کمائی جاتی ہے، جس پر حق بنتا ہے، جو دینے والا دینے پر مجبور ہوتا ہے۔ گناہ کی تنخواہ موت ہے، اور ہم نے یہ تنخواہ پوری ایمانداری سے کمائی ہے۔ دوسرا حصہ بخشش کی زبان ہے: تحفہ کمایا نہیں جاتا، صرف لیا جاتا ہے۔ یہاں پہلی بار ہمیں اس رہنما کا مرکزی نکتہ نظر آتا ہے۔ اگر نجات تنخواہ ہوتی تو راستہ اوپر جاتا؛ چونکہ وہ تحفہ ہے، راستہ نیچے آتا ہے۔

اسی حقیقت کو افسیوں 2:8 اتنی صفائی سے کھولتی ہے کہ اس پر پوری اصلاحِ کلیسیا کی بنیاد رکھی گئی: "کیونکہ تُم کو اِیمان کے وسِیلہ سے فضل ہی سے نجات مِلی ہے اور یہ تُمہاری طرف سے نہیں۔ خُدا کی بخشِش ہے۔" غور کریں کہ پولس رسول ایمان کو بھی "وسیلہ" کہتے ہیں، سبب نہیں۔ ایمان وہ ہاتھ ہے جو تحفہ قبول کرتا ہے؛ ہاتھ کی خوبصورتی سے تحفے کی قیمت نہیں بنتی۔ اور جملے کے آخر میں وہ ہر ممکنہ فخر کا دروازہ بند کر دیتے ہیں: "یہ تمہاری طرف سے نہیں"۔ اگلی آیت میں وہ وجہ بھی بتا دیتے ہیں، "تاکہ کوئی فخر نہ کرے" (افسیوں 2:9)۔

پھر یہ تحفہ آیا کہاں سے؟ اس کا جواب بائبل کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی آیت میں ہے: "کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی محبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے" (یوحنا 3:16)۔ اس آیت میں فعل کا رخ دیکھیں۔ دنیا نے خدا کو ڈھونڈا نہیں؛ خدا نے دنیا سے محبت رکھی۔ انسان نے آسمان پر چڑھ کر بیٹے کو نہیں مانگا؛ خدا نے بیٹے کو بخش دیا۔ نجات کی کہانی کا فاعل ہمیشہ خدا ہے۔

نجات خداوند کی طرف سے ہے، ہماری طرف سے نہیں۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے: کیا اور بھی راستے ہیں؟ ابتدائی کلیسیا نے یہ سوال یروشلیم کی عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر بھگتایا، اور پطرس رسول نے رُوحُ القدس سے معمور ہو کر جواب دیا: "اور کسی دُوسرے کے وسِیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمِیوں کو کوئی دُوسرا نام نہیں بخشا گیا جِس کے وسِیلہ سے ہم نجات پا سکیں" (اعمال 4:12)۔ یہ جملہ تنگ نظری سے نہیں، بلکہ گواہی سے نکلا ہے۔ پطرس یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم نے سب راستے جانچ کر یہ بہترین چنا؛ وہ کہہ رہے ہیں کہ خدا نے آسمان کے نیچے صرف ایک نام بخشا ہے۔ اور خداوند یسوع مسیح نے خود اس بات کو یوں فرمایا: "راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہُوں۔ کوئی میرے وسِیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا" (یوحنا 14:6)۔ توما نے راستے کا نقشہ مانگا تھا؛ خداوند نے اپنا آپ پیش کر دیا۔

تو انسان کی طرف سے کیا مطلوب ہے؟ رومیوں 10:9 ہمیں اتنا سادہ جواب دیتی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی حیران ہو جاتے ہیں: "کہ اگر تُو اپنی زُبان سے یِسوع کے خُداوند ہونے کا اِقرار کرے اور اپنے دِل سے اِیمان لائے کہ خُدا نے اُسے مُردوں میں سے جِلایا تو نجات پائے گا۔" دل اور زبان، اندر اور باہر، یقین اور اعتراف۔ نہ کوئی رسم، نہ کوئی خاندانی سند، نہ کوئی کارکردگی کا ریکارڈ۔ اور تاکہ کوئی یہ نہ سوچے کہ ہماری نیک نامی نے کچھ کردار ادا کیا، تیطس 3:5 دو ٹوک بولتی ہے: "اُس نے ہمیں نجات دی مگر راستبازی کے اعمال کے سبب سے نہیں جو ہم نے خُود کِئے بلکہ اپنی رحمت کے مُطابِق نئی پیدائش کے غُسل اور رُوحُ القُدس کے ہمیں نیا بنانے کے وسِیلہ سے۔" یعنی نجات صرف معافی نہیں، نئی پیدائش ہے؛ صرف کھاتہ صاف نہیں، دل کی تخلیقِ نو ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

یہ سڑک باغِ عدن سے شروع ہوتی ہے، اور اس پر پہلا قدم انسان نہیں، خدا رکھتا ہے۔ آدم اور حوا گناہ کر کے درختوں میں چھپ گئے، اور خداوند خدا نے پکارا، "تُو کہاں ہے؟" (پیدایش 3:9)۔ یہ سوال بائبل کی پہلی خوشخبری ہے: مجرم چھپ رہا ہے اور منصف اُسے ڈھونڈ رہا ہے۔ پھر خدا نے ایک وعدہ دیا کہ عورت کی نسل سانپ کے سر کو کچلے گی (پیدایش 3:15)، اور آخر میں ایک عملی کام کیا: "اور خُداوند خُدا نے آدم اور اُس کی بیوی کے واسطے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُن کو پہنائے" (پیدایش 3:21)۔ انجیر کے پتوں والا لباس انسان کی محنت تھی؛ چمڑے کا کرتا خدا کی طرف سے تھا، اور اس کی قیمت ایک جانور کی جان تھی۔ نجات کے راستے پر پہلا خون یہیں بہا۔

مصر میں یہ سلسلہ اور واضح ہوتا ہے۔ اسرائیل کو ان کی نیکی نے نہیں، ایک برّے کے خون نے بچایا۔ خداوند نے فرمایا: "اور جب مَیں اُس خُون کو دیکھُوں گا تو تُم کو چھوڑتا جاؤں گا" (خروج 12:13)۔ اہم بات یہ ہے کہ دروازے کی چوکھٹ پر لگا خون گھر والوں کو دکھائی نہیں دیتا تھا، وہ اندر بیٹھے تھے؛ وہ خدا کو دکھائی دیتا تھا۔ نجات کی بنیاد ہمارے احساسات نہیں، خدا کا فیصلہ ہے۔ پھر ہیکل کا سارا نظام، قربانیاں، کفارے کا دن، پردہ، خون کا چھڑکاؤ، یہ سب صدیوں تک ایک ہی بات دہراتے رہے: گناہ کی معافی مفت نہیں، مگر گنہگار کے لیے مفت ہو سکتی ہے۔

انبیا نے اس راستے کا چہرہ دکھایا۔ یسعیاہ نبی نے سات سو سال پہلے لکھ دیا: "حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعِث کُچلا گیا۔ اُس پر ہماری ہی سلامتی کے لِئے سزا ہوئی تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم چنگے ہو جائیں" (یسعیاہ 53:5)۔ اور یُوناہ نبی نے مچھلی کے پیٹ میں، یعنی انسانی امکان کے آخری کنارے پر، وہ جملہ کہا جو اس پورے صفحے کا خلاصہ ہے: "نجات خُداوند ہی کی طرف سے ہے" (یُوناہ 2:9)۔

پھر وہ ہوا جس کی طرف ہر قربانی اشارہ کرتی تھی۔ "اور کلام مُجسّم ہُوا اور فضل اور سچّائی سے معمُور ہو کر ہمارے درمِیان رہا" (یوحنا 1:14)۔ خدا نے سیڑھی نہیں لٹکائی، وہ خود اترا۔ خداوند یسوع مسیح نے اپنے مشن کا اعلان اسی رخ سے کیا: "کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈھُونڈنے اور نجات دینے آیا ہے" (لوقا 19:10)۔ صلیب پر وہ کام مکمل ہوا: "جو گُناہ سے واقِف نہ تھا اُسی کو اُس نے ہمارے واسطے گُناہ ٹھہرایا تاکہ ہم اُس میں ہو کر خُدا کی راستبازی ہو جائیں" (2 کرنتھیوں 5:21)۔ ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک چِر گیا، اوپر سے، کیونکہ راستہ اوپر سے کھولا گیا تھا۔ عبرانیوں کا خط اسی کو "نئی اور زِندہ راہ" کہتا ہے جو مسیح نے اپنے جسم میں سے ہمارے واسطے مخصوص کی (عبرانیوں 10:20)۔

اور یہ سلسلہ کہاں ختم ہوتا ہے؟ بائبل کے آخری اوراق میں خدا پھر نیچے آتا ہے: "دیکھ خُدا کا خیمہ آدمِیوں کے درمِیان ہے۔ وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا" (مکاشفہ 21:3)۔ اور آخری دعوت بھی مفت ہے: "اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مُفت لے" (مکاشفہ 22:17)۔ پیدایش میں خدا پوچھتا ہے "تُو کہاں ہے؟" اور مکاشفہ میں وہ کہتا ہے "آ"۔ درمیان میں پوری کتابِ مقدّس ایک ہی سڑک کی تعمیر کی داستان ہے، اور اس سڑک کا نام ایک شخص ہے۔

عام غلط فہمیاں

پہلی غلط فہمی: نیکیاں اور برائیاں تولی جائیں گی، اور اگر پلڑا بھاری ہو تو نجات مل جائے گی۔ یہ سوچ ہمارے ماحول میں گھلی ہوئی ہے، اور یہ سب سے میٹھی اور سب سے خطرناک ہے۔ بائبل ترازو کا نہیں، عدالت کا نقشہ دکھاتی ہے۔ رومیوں 3:23 کے مطابق سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں، اور رومیوں 6:23 صاف کہتی ہے کہ اس کھاتے کی تنخواہ موت ہے۔ اگر نیکیاں کافی ہوتیں تو صلیب ایک بے معنی سفاکی ہوتی۔ افسیوں 2:8 کا "یہ تمہاری طرف سے نہیں" ترازو کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیتا ہے۔ یاد رکھیں: ڈوبتے ہوئے آدمی کی تیراکی کی مہارت کا اندازہ نہیں لگایا جاتا، اُسے ہاتھ پکڑ کر نکالا جاتا ہے۔

دوسری غلط فہمی: چونکہ نجات مفت ہے، اس لیے زندگی کے طریقے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پولس رسول نے یہ اعتراض خود اٹھایا اور رد کیا: "پس ہم کیا کہیں؟ کیا گُناہ کرتے جائیں تاکہ فضل زیادہ ہو؟ ہرگز نہیں!" (رومیوں 6:1-2 کا مضمون)۔ تیطس 3:5 نے نجات کو "نئی پیدائش" کہا ہے، اور نئی پیدائش کے بعد سانس آتی ہے۔ یعقوب رسول اسی لیے لکھتے ہیں: "اِسی طرح اِیمان بھی اگر اُس کے ساتھ اعمال نہ ہوں تو مُردہ ہے" (یعقوب 2:17)۔ اعمال نجات کی جڑ نہیں، پھل ہیں۔ جڑ کو پھل بنانا مذہب ہے؛ پھل کو جڑ بنانا نافرمانی ہے؛ انجیل دونوں سے بچاتی ہے۔

تیسری غلط فہمی: میں بہت بڑا گنہگار ہوں، میرے لیے دیر ہو چکی ہے۔ یہ عاجزی لگتی ہے مگر درحقیقت یہ بھی وہی پرانی سیڑھی ہے، اُلٹی طرف سے۔ اس میں فرض کیا جاتا ہے کہ نجات ہماری حالت پر منحصر ہے۔ مگر رومیوں 5:8 کہتی ہے: "لیکن خُدا اپنی محبّت ہم پر یُوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گُنہگار ہی تھے مسِیح ہماری خاطِر مُوا۔" مسیح نے ہماری اصلاح کا انتظار نہیں کیا۔ اور صلیب پر لٹکے ہوئے چور کے پاس نہ وقت تھا، نہ گواہ، نہ اعمال؛ صرف ایک درخواست تھی، اور خداوند نے فرمایا: "مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ آج ہی تُو میرے ساتھ فِردوس میں ہو گا" (لوقا 23:43)۔

چوتھی غلط فہمی: سب راستے بالآخر اسی خدا تک پہنچتے ہیں، صرف انداز مختلف ہے۔ یہ خیال بظاہر فراخ دل ہے، مگر یہ انجیل کے اُس زاویے کو ہی مٹا دیتا ہے جس پر یہ صفحہ کھڑا ہے۔ اگر انسان کے پاس اوپر جانے کی صلاحیت ہوتی تو کئی راستے ممکن تھے۔ مگر بائبل کہتی ہے کہ ہم "اپنے قصُوروں اور گُناہوں کے سبب سے مُردہ" تھے (افسیوں 2:1)، اور مُردہ آدمی کوئی بھی راستہ نہیں چل سکتا۔ اسی لیے یوحنا 14:6 اور اعمال 4:12 مل کر ایک ہی بات کہتے ہیں: مسئلہ راستوں کی تعداد نہیں، ہماری بے بسی ہے۔ صرف وہی ہمیں لے جا سکتا ہے جو نیچے تک آیا۔

آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا

فرض کریں آپ صبح چار بجے جاگ گئے ہیں اور چھت پر بیٹھے ہیں۔ کاروبار میں جو ہاتھ کی صفائی آپ نے کی تھی، وہ یاد آ رہی ہے۔ یا وہ رشتہ جو آپ نے اپنی ضد سے توڑا۔ اس لمحے پہلی جبلت یہ ہوتی ہے کہ کوئی معاوضہ تلاش کریں: زیادہ عبادت، زیادہ چندہ، زیادہ خدمت۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس رہنما کا زاویہ عملی بنتا ہے۔ آپ کو اوپر چڑھنے کی ضرورت نہیں؛ آپ کو مان لینے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے 1 یوحنا 1:9 لکھی گئی: "اگر اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں تو وہ سچّا اور عادِل ہے کہ ہمارے گُناہوں کو معاف کرے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرے۔" اقرار کوئی ادائیگی نہیں، دروازہ کھولنا ہے۔

اگر آپ نے ابھی تک مسیح پر ایمان نہیں لایا، تو راستہ اتنا ہی سیدھا ہے جتنا رومیوں 10:9 کہتی ہے۔ آپ اپنے کمرے میں، اپنی زبان میں، خدا سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ گنہگار ہیں، کہ آپ یقین کرتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح آپ کے گناہوں کے لیے مرے اور جی اٹھے، اور کہ آج سے آپ اُن کے ہیں۔ اس میں کوئی جادوئی الفاظ نہیں؛ دل کا رخ بدلنا اصل بات ہے۔ اور پھر یہ فیصلہ چھپا کر نہ رکھیں، کیونکہ کلام زبان کے اقرار کی بات کرتا ہے؛ کسی ایماندار کو بتائیں، کلیسیا کے ساتھ جڑیں، بپتسمے کے بارے میں بات کریں۔

اگر آپ برسوں سے ایماندار ہیں، تو اس زاویے کا اثر کسی اور جگہ پڑتا ہے۔ آپ کے گھر میں جو دیر تک ناراض رہنے کی عادت ہے، جو پیسے کی محبت آپ کو رات کو حساب کرواتی ہے، جو موازنہ آپ کو دوسروں کی ترقی پر جلاتا ہے، ان سب کی جڑ اکثر ایک ہی ہوتی ہے: یہ بھول جانا کہ ہم مفت میں بچائے گئے ہیں۔ جو آدمی یہ یاد رکھتا ہے کہ اُس کا سارا قرض معاف ہوا، وہ دوسروں سے وصولی کے لیے اتنا بے چین نہیں رہتا۔ فضل صرف داخلے کا دروازہ نہیں، پورے گھر کی ہوا ہے۔

اور کام کی جگہ پر؟ نجات آپ کی شناخت بدل دیتی ہے، اس لیے آپ کی کارکردگی آپ کی قیمت مقرر نہیں کرتی۔ جو شخص اپنی نجات کا محتاج نہیں رہا، وہ باس کی تعریف کا بھی محتاج نہیں رہتا۔ فِلپّیوں 2:12-13 اسی لیے ڈرتے کانپتے اپنی نجات کا کام کیے جانے کی بات کرتا ہے اور فوراً وضاحت کرتا ہے کہ نیک ارادے اور نیک کام پیدا کرنے والا خدا ہے۔ وہ کام کرواتا ہے جو وہ خود کرتا ہے۔

آئینہ

آپ سے ایک سیدھا سوال۔ اگر آج رات آپ کی سانس رک جائے اور خدا پوچھے، "میں تجھے اپنے پاس کیوں آنے دوں؟"، آپ کا جواب کس چیز پر ٹکے گا؟ اگر آپ کے ذہن میں یہ آتا ہے کہ "میں نے کبھی کسی کا مال نہیں کھایا، میں کلیسیا جاتا ہوں، میں نے ماں باپ کی خدمت کی"، تو ذرا رُک جائیں۔ یہ سب اچھی باتیں ہیں، مگر یہ سب آپ کے ہاتھ کا کام ہے، اور افسیوں 2:8 آپ کے ہاتھ کے کام کو مسترد کر دیتی ہے۔ صرف ایک جواب کھڑا رہ سکتا ہے: "کیونکہ تیرا بیٹا میرے لیے مرا۔"

اب دوسری طرف دیکھیں۔ ممکن ہے آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جو کبھی خود کو معاف نہیں کر پائے۔ وہ رات، وہ فیصلہ، وہ لفظ جو آپ نے کہا اور واپس نہ لے سکے۔ آپ اتوار کو عبادت میں بیٹھتے ہیں مگر اندر سے ایک آواز کہتی ہے، "تُو یہاں کا نہیں ہے۔" میں آپ سے کہتا ہوں: وہ آواز انجیل کی نہیں ہے۔ انجیل یہ کہتی ہے کہ خدا نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا، اور تیطس 3:5 یہ کہتی ہے کہ اُس نے آپ کو آپ کی راستبازی کے سبب سے نہیں، اپنی رحمت کے مطابق بچایا۔ آپ کی شرم آپ کے کفارے کی قیمت نہیں بڑھاتی؛ وہ صرف آپ کو صلیب سے دور رکھتی ہے۔

اور شاید آپ کا مسئلہ کوئی تیسرا ہے: آپ کو یہ سب معلوم ہے۔ آپ نے یہ آیتیں یاد کی ہوئی ہیں، آپ اتوار اسکول میں یہی سکھاتے ہیں، اور پھر بھی پیر سے جمعہ آپ ایسے جیتے ہیں جیسے سب کچھ آپ کے کندھوں پر ہو۔ آپ تھکے ہوئے ہیں۔ آپ کا جسم آپ کو بتا رہا ہے، آپ کا خاندان آپ کو بتا رہا ہے۔ نجات کا راستہ آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ آپ نیچے اتریں، اُس سڑک پر بیٹھ جائیں جو خدا نے آپ کی طرف بنائی ہے، اور کہیں: خداوند، میں پھر شروع سے آیا ہوں، فضل کے سوا میرے پاس کچھ نہیں۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو نجات سمجھانے میں سب سے بڑی غلطی ڈر کو اوزار بنانا ہے۔ بچہ ڈر سے مان لیتا ہے، مگر محبت سے بدلتا ہے۔ اس لیے شروعات جہنم سے نہ کریں، شروعات اُس خدا سے کریں جو ڈھونڈنے آتا ہے۔

ایک آسان تصویر یہ ہے: فرض کرو تم میلے میں امی ابو سے بچھڑ گئے ہو۔ تم بہت ڈر گئے، اور تم نے خود راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کی، مگر ہر گلی اور اجنبی لگی۔ پھر تمہیں دور سے ابو کی آواز آئی، اور وہ بھیڑ چیرتے ہوئے تمہاری طرف آئے، اور تمہیں گود میں اٹھا لیا۔ تم نے راستہ نہیں ڈھونڈا؛ راستہ تمہیں ڈھونڈتا ہوا آیا۔ خداوند یسوع مسیح یہی کرنے آئے تھے: "کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈھُونڈنے اور نجات دینے آیا ہے" (لوقا 19:10)۔ اور جب بچہ پوچھے کہ اُسے کیا کرنا ہے، تو یوحنا 3:16 کے سادے الفاظ کافی ہیں: خدا نے تم سے اتنی محبت رکھی کہ اپنا بیٹا دے دیا؛ تمہیں صرف اُس کی بانہوں میں آنا ہے، یعنی اُن پر بھروسا کرنا اور اُن سے کہنا "مجھے معاف کر دیں، میں آپ کا ہونا چاہتا ہوں"۔

بچوں کی عمر کے مطابق زبان اور گہرائی بدلتی ہے، اور اسی لیے ہمارے پاس اس موضوع پر الگ الگ عمر کے لیے مخصوص وضاحتیں موجود ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال) تصویروں اور کہانی پر مبنی سادہ بیان، اسکول جانے والے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال) گناہ، صلیب اور معافی کی صاف ترتیب کے ساتھ، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر) اُن سوالوں کے جواب جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، جیسے دوسرے مذاہب، شک، اور خودی کا مسئلہ۔ آپ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ چن سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

بائبل میں نجات کا مطلب کیا ہے؟

نجات کا مطلب ہے گناہ کی سزا، طاقت اور بالآخر گناہ کی موجودگی سے چھڑایا جانا، اور خدا کے ساتھ ایک زندہ رشتے میں بحال کیا جانا۔ رومیوں 6:23 کے مطابق گناہ کی مزدوری موت ہے، اس لیے نجات صرف اخلاقی بہتری نہیں بلکہ موت سے زندگی میں منتقل ہونا ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے یوحنا 5:24 میں فرمایا کہ ایمان لانے والا "موت سے نِکل کر زِندگی میں داخل ہو گیا ہے"۔ یعنی نجات ایک مستقبل کی امید ہے اور ایک موجودہ حقیقت بھی۔

کیا نجات پانے کے لیے صرف ایمان کافی ہے؟

جی ہاں، نجات ایمان کے وسیلے سے فضل ہی سے ملتی ہے، جیسا کہ افسیوں 2:8 صاف کہتی ہے۔ مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بائبل جس ایمان کی بات کرتی ہے وہ صرف ذہنی تصدیق نہیں بلکہ بھروسا اور سپردگی ہے۔ رومیوں 10:9 دل کے ایمان کے ساتھ زبان کے اقرار کو بھی جوڑتی ہے، اور یعقوب 2:17 بتاتی ہے کہ اعمال کے بغیر ایمان مُردہ ہے۔ اعمال نجات کماتے نہیں، مگر سچے ایمان کا ثبوت ہوتے ہیں۔

کیا اچھے کام کرنے سے نجات مل سکتی ہے؟

نہیں۔ تیطس 3:5 اس سوال کا براہِ راست جواب دیتی ہے: خدا نے ہمیں راستبازی کے اُن اعمال کے سبب سے نہیں بچایا جو ہم نے خود کیے، بلکہ اپنی رحمت کے مطابق۔ اور افسیوں 2:9 وجہ بتاتی ہے کہ ایسا کیوں ہے، "تاکہ کوئی فخر نہ کرے"۔ اچھے کام مسیحی زندگی کا لازمی پھل ہیں اور خدا اُن کی قدر کرتا ہے، مگر وہ اُس بنیاد کا حصہ نہیں جس پر ہماری نجات کھڑی ہے۔ بنیاد صرف مسیح کا کامل کام ہے۔

رومیوں 10:9 میں "اقرار" کرنے کا کیا مطلب ہے؟

اقرار کا مطلب کھلے عام یہ مان لینا ہے کہ یسوع خداوند ہیں، یعنی وہ آپ کے مالک اور بادشاہ ہیں۔ پہلی صدی میں یہ اقرار خطرناک تھا، کیونکہ رومی سلطنت میں "خداوند" قیصر کہلاتا تھا؛ یسوع کو خداوند کہنا وفاداری بدلنے کا اعلان تھا۔ آج بھی یہ محض ایک جملہ دہرانا نہیں، بلکہ اپنی زندگی کی کمان اُن کے ہاتھ میں دینا ہے۔ اور یہ اقرار خفیہ نہیں رہتا؛ وہ خاندان، دوستوں اور کلیسیا کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص مسیح کا نام سنے بغیر مر جائے تو کیا ہوگا؟

بائبل ہمیں یہ اختیار نہیں دیتی کہ ہم انفرادی مقدر کا فیصلہ کریں؛ وہ خدا کے ہاتھ میں ہے جو "ساری زمین کا اِنصاف کرنے والا" ہے (پیدایش 18:25)۔ ہمیں جو بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ نجات صرف مسیح کے وسیلے سے ہے (اعمال 4:12)، اور یہی وجہ ہے کہ خوشخبری سنانا اتنا ضروری ہے۔ اس سوال کا جواب قیاس آرائی میں نہیں، بلکہ ذمہ داری میں ہے: خدا نے یہ پیغام پہنچانے کا کام اپنی کلیسیا کو سونپا ہے۔

کیا بپتسمہ نجات کے لیے ضروری ہے؟

بپتسمہ خداوند کا صاف حکم ہے اور ہر ایماندار کو لینا چاہیے، مگر بائبل نجات کی بنیاد بپتسمے پر نہیں، مسیح پر ایمان پر رکھتی ہے۔ صلیب پر لٹکے چور نے بپتسمہ نہیں لیا تھا اور خداوند نے اُس سے فرمایا، "آج ہی تُو میرے ساتھ فِردوس میں ہو گا" (لوقا 23:43)۔ بپتسمہ اُس اندرونی حقیقت کا بیرونی اعلان اور تدفین و قیامت کی تصویر ہے۔ اسے ٹالنا نافرمانی ہے، مگر اسے نجات کی قیمت بنانا انجیل کو بگاڑنا ہے۔

مجھے کیسے یقین ہو کہ میری نجات ہو گئی ہے؟

یقین احساسات پر نہیں، خدا کے وعدے پر ٹکتا ہے۔ یوحنا 3:16 کہتی ہے کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے؛ اگر آپ نے مسیح پر بھروسا کیا ہے تو وہ وعدہ آپ پر لاگو ہے، خواہ آج دل بھاری ہو۔ اس کے ساتھ روحُ القدس اندرونی گواہی دیتا ہے (رومیوں 8:16) اور زندگی میں بدلاؤ، گناہ سے نفرت، خدا کے کلام کی بھوک اور بھائیوں سے محبت، اُس گواہی کی تصدیق کرتے ہیں۔ نظر اپنے دل پر نہیں، صلیب پر رکھیں۔

کیا نجات کھو سکتی ہے؟

بائبل ایماندار کی حفاظت کے بارے میں بہت تسلی بخش بات کرتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے یوحنا 10:28 میں فرمایا کہ کوئی اُن کی بھیڑوں کو اُن کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا، اور فِلپّیوں 1:6 کہتی ہے کہ جس نے کام شروع کیا وہی اُسے پورا کرے گا۔ ساتھ ہی کلام سنجیدہ تنبیہ بھی دیتا ہے کہ ایمان میں قائم رہو، کیونکہ صرف زبانی اعتراف نجات نہیں۔ محفوظ ہونے کا مطلب لاپرواہ ہونا نہیں؛ سچا ایمان قائم رہتا ہے، اور یہی اُس کی پہچان ہے۔

توبہ اور ایمان میں کیا فرق ہے؟

یہ ایک ہی موڑ کے دو رخ ہیں۔ توبہ کا مطلب گناہ سے منہ موڑنا ہے، اور ایمان کا مطلب مسیح کی طرف رخ کرنا ہے؛ آپ ایک کے بغیر دوسرا نہیں کر سکتے۔ اسی لیے خداوند یسوع مسیح کی پہلی منادی یہ تھی: "توبہ کرو اور اِنجیل پر اِیمان لاؤ" (مرقس 1:15)۔ توبہ صرف افسوس نہیں بلکہ سمت کی تبدیلی ہے، اور یہ بھی خدا کی مہربانی سے پیدا ہوتی ہے، کیونکہ رومیوں 2:4 کے مطابق خدا کی مہربانی ہی توبہ کی طرف لے جاتی ہے۔

پرانے عہد نامے کے لوگ کیسے نجات پاتے تھے؟

اُسی طرح جیسے ہم، یعنی خدا کے وعدے پر ایمان کے وسیلے سے، فرق صرف یہ ہے کہ وہ آنے والے نجات دہندہ کی طرف دیکھ رہے تھے اور ہم اُس کی طرف جو آ چکا۔ رومیوں 4 میں پولس رسول ابرہام کی مثال دیتے ہیں کہ اُس نے خدا کا یقین کیا اور یہ اُس کے لیے راستبازی گنا گیا۔ قربانیاں گناہ کو مٹا نہیں سکتی تھیں (عبرانیوں 10:4)؛ وہ صرف اُس ایک قربانی کی طرف اشارہ کرتی تھیں۔ ایمان کی سڑک ہمیشہ ایک ہی رہی ہے، اور اُس کا مرکز ہمیشہ مسیح ہے۔

نجات کے لیے دعا کیسے کی جائے؟

اس کے لیے کوئی مقرر شدہ الفاظ نہیں ہیں؛ خدا رٹے ہوئے جملے نہیں، ٹوٹا دل سنتا ہے۔ آپ سادگی سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ گنہگار ہیں اور اپنی کوشش سے خود کو نہیں بچا سکتے، کہ آپ ایمان لاتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح آپ کے گناہوں کے لیے مرے اور تیسرے دن جی اٹھے، اور کہ آج آپ اپنی زندگی اُن کے حوالے کرتے ہیں۔ 1 یوحنا 1:9 کے وعدے پر بھروسا رکھیں کہ وہ معاف کرنے میں سچا اور عادل ہے۔ پھر یہ فیصلہ کسی ایماندار کو بتائیں اور کلیسیا سے جڑیں۔

یوحنا 14:6 کیا دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے سخت نہیں؟

پہلی نظر میں یہ سخت لگتا ہے، مگر غور کریں کہ خداوند نے وہاں کوئی شرط عائد نہیں کی بلکہ اپنا آپ پیش کیا: "راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہُوں"۔ یہ جملہ دروازہ بند کرنے کے لیے نہیں، بلکہ یہ بتانے کے لیے ہے کہ دروازہ کہاں کھلا ہے۔ سختی اُس دعوت میں نہیں جو مکاشفہ 22:17 میں ہر پیاسے کو مفت پانی دیتی ہے؛ سختی اُس صلیب میں تھی جو خدا نے خود اٹھائی۔ یہ خصوصیت انسان کی نہیں، خدا کی محبت کی قیمت ہے۔

اختتام میں

اگر آپ اس پورے صفحے سے صرف ایک بات لے جا سکیں، تو یہ لے جائیں: نجات کا راستہ وہ سڑک نہیں جو آپ خدا کی طرف بناتے ہیں، بلکہ وہ سڑک ہے جس پر خدا آپ کی طرف چلا۔ باغ میں وہ پکارتا ہوا آیا، مصر میں وہ برّے کے خون کے پیچھے آیا، بیت لحم میں وہ جسم لے کر آیا، صلیب پر وہ آخری قدم تک آیا، اور مکاشفہ میں وہ ہمیشہ کے لیے ہمارے درمیان بسنے آتا ہے۔ ہمیں چڑھنے کے لیے نہیں کہا گیا؛ ہمیں قبول کرنے کے لیے کہا گیا۔ مذہب کہتا ہے "کرو"، انجیل کہتی ہے "ہو گیا"۔

آگے کے مطالعے کے لیے میں مشورہ دوں گا کہ آپ رومیوں کے خط کے پہلے آٹھ باب آرام سے، قلم ہاتھ میں لے کر پڑھیں، اور ساتھ یوحنا کی انجیل کا تیسرا باب دوبارہ پڑھیں جہاں نیکودیمس رات کے اندھیرے میں یہی سوال لے کر آیا تھا۔ اور جب پڑھیں تو ایک عادت بنائیں: ہر آیت پر ٹھہر کر پوچھیں، یہاں کام کون کر رہا ہے؟ جواب آپ کو حیران کر دے گا، اور آپ کو آرام بھی دے گا۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.071 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.740
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 168 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو ۲-سموئیل 9:2

داؤد تختِ سلطنت پر بیٹھا ہے، اور وہ ایک گرے ہوئے گھرانے کے نوکر کو بُلا کر پوچھتا ہے، ”کیا…

دعا ادارتی کو قُضاۃ 18:13

اے خدا، ہم بھی راستوں پر چلتے ہیں اور ہر دروازے پر رک کر پوچھتے ہیں کہ یہاں ہمارے لیے…

بصیرت ادارتی کو ۱-سموئیل 1:17

عیلی نے پہلے حنّہ کو شرابی سمجھا، پھر اُسے برکت دی: "سلامتی سے چلی جا۔ اسرائیل کا خدا تجھے وہ…

شکرگزاری ادارتی کو متی 27:20

خداوند، شکر ہے کہ جب راہنما اماموں اور بزرگوں نے ہجوم کو اُکسایا کہ بریبا کو مانگیں اور عیسیٰ کو…

بصیرت ادارتی کو ۲-کُرِنتِھیوں 8:5

مکدُنیہ کے ایمان دار غریب تھے، مصیبت میں تھے، پھر بھی پولس لکھتا ہے: "اُنہوں نے اپنے آپ کو پہلے…

دعا ادارتی کو ۱-سلاطِین 11:37

اے خدا، تُو ہی ہے جو اُٹھاتا اور بٹھاتا ہے۔ جہاں تُو نے مجھے رکھا ہے، وہاں دیانت سے کھڑا…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟