۲-تیمُتھیُس 2:20
متن
پولس رسول قاری کو کسی بڑے رئیس کے گھر میں لے جاتے ہیں: ایک ایسا گھر جہاں سامان کی کمی نہیں۔ وہاں مہمان خانے میں سونے چاندی کے برتن سجے ہیں، مگر اُسی گھر کے پچھلے صحن میں لکڑی کے پیالے اور مٹی کے مٹکے بھی پڑے ہیں۔ ”بڑے گھروں میں نہ صرف سونے اور چاندی کے برتن ہوتے ہیں بلکہ لکڑی اور مٹی کے بھی۔“ اور پھر وہ ایک جملے میں فرق کھول دیتے ہیں: ”کچھ شریف کاموں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ کم قدر کاموں کے لئے۔“ بات صاف ہے: ایک ہی چھت کے نیچے، ایک ہی مالک کی ملکیت میں، سب برتن ایک جیسے نہیں۔ کلیسیا بھی ایسی ہی ہے۔
بنیادی بات
یہ تمثیل سب سے پہلے ہمیں تسلی نہیں، سچائی دیتی ہے۔ تیمُتھیُس اُس جماعت میں بےچین ہے جہاں ہمنیُس اور فلیتس جیسے لوگ تعلیم کو کینسر کی طرح پھیلا رہے ہیں (آیت ۱۷)، اور شاید وہ سوچتا ہو: اگر خدا کا گھر سچ مچ خدا کا گھر ہے، تو ایسے برتن اندر کیوں ہیں؟ پولس گھر کے دروازے پر تالا نہیں لگاتے، وہ گھر کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ خدا کی ٹھوس بنیاد قائم ہے (آیت ۱۹)، مگر اُس بنیاد پر کھڑے گھر میں مٹی کے برتن بھی ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کس مواد کے بنے ہیں، بلکہ یہ کہ مالک ہمیں کس کام کے لائق پاتا ہے؛ اور اگلی آیت بتاتی ہے کہ یہ فیصلہ ہماری پیدائش نہیں، ہماری پاکیزگی کرتی ہے۔
مشترکہ دھاگا
برتن کی تصویر بائبل میں نئی نہیں۔ انسان کی کہانی مٹی سے شروع ہوتی ہے: خدا نے زمین کی خاک سے آدم کو گھڑا، اور نبیوں نے بار بار اسرائیل کو کمہار کے ہاتھ میں مٹی کہا۔ پولس اُسی دھاگے کو پکڑتے ہیں، مگر ایک نئے موڑ کے ساتھ۔ وہ جس مالک کے گھر کی بات کر رہے ہیں وہ خود مٹی کے برتن میں آیا: ”مسیح عیسیٰ کو یاد رکھیں، جو داؤد کی اولاد میں سے ہے اور جسے مُردوں میں سے زندہ کر دیا گیا“ (آیت ۸)۔ جسم، خاک، قبر، اور پھر جی اُٹھنا۔ اِسی لئے پولس اپنی زنجیروں پر شرمندہ نہیں؛ ایک بےعزت کیا ہوا قیدی بھی خدا کے ہاتھ میں عزت کا برتن ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ مالک گھٹیا مادّے سے گھن نہیں کھاتا، وہ اُسے پاک کر کے میز پر رکھتا ہے۔
آئینہ
یہ آیت دو مختلف لوگوں کو چبھتی ہے۔ پہلا وہ جو جماعت میں خود کو لکڑی کا پیالہ سمجھتا ہے: نہ اچھی گواہی، نہ تعلیم، نہ وہ خاندان جس کا نام لیا جائے۔ آپ اتوار کو پچھلی قطار میں بیٹھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ مالک کو میری کیا ضرورت۔ دوسرا وہ جو خود کو سونے کا برتن سمجھتا ہے: منبر، کمیٹی، بائبل کا علم، اور دل میں یہ خاموش یقین کہ باقی لوگ خدا کے گھر کا پچھلا سامان ہیں۔ پولس دونوں کا جواب ایک ہی جملے سے دیتے ہیں: فرق مواد کا نہیں، پاکیزگی کا ہے۔ جو چیز آپ کے دفتر میں، آپ کے موبائل پر، آپ کے پیسوں کے معاملے میں آپ کو میلا کر رہی ہے، وہی آپ کو الماری میں رکھوا دیتی ہے۔ آج ہی رسوئی میں جا کر سب سے معمولی برتن اُٹھائیں، اُسے ہاتھ میں پکڑ کر بلند آواز سے خدا کا نام لیں، اور ایک نام لے کر وہ ایک گندگی بتائیں جس سے آپ آج پاک ہونا چاہتے ہیں۔
مرکزی کردار
اِس آیت کا اصل کردار نظر نہیں آتا، مگر پورا منظر اُسی کے گرد گھومتا ہے: گھر کا مالک۔ برتن خود فیصلہ نہیں کرتے کہ وہ میز پر جائیں گے یا صحن میں؛ ہاتھ مالک کا ہے۔ اور یہی اِس تصویر کی تسلی اور چبھن دونوں ہے۔ تسلی اِس لئے کہ آیت ۱۹ پہلے ہی کہہ چکی ہے، ”خداوند نے اپنے لوگوں کو جان لیا ہے“؛ وہ اپنی الماری کا سامان بھولتا نہیں۔ چبھن اِس لئے کہ مالک کی نظر میں افادیت کا معیار ہماری قابلیت نہیں بلکہ صفائی ہے۔ ہم سوچتے ہیں خدا ہنرمندوں کو ڈھونڈتا ہے؛ پولس کہتے ہیں وہ صاف برتن ڈھونڈتا ہے، ”مالک کے لئے مفید اور ہر نیک کام کے لئے تیار“ (آیت ۲۱)۔ یہ ایسا مالک ہے جو کوڑا نہیں کرتا، دھوتا ہے۔
ایک باریکی
اُردو ترجمہ ”شریف کاموں“ اور ”کم قدر کاموں“ کہتا ہے، اور یہ خوب ہے، مگر یونانی لفظ یہاں تیمے (τιμή) ہے، یعنی عزت، وہی لفظ جو کسی شخص کے مرتبے اور قیمت کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ پولس برتنوں کی بات کرتے ہوئے دراصل عزت اور بےعزتی کی بات کر رہے ہیں، اور یہ اُس معاشرے کا سب سے حساس نقطہ تھا۔ غور کیجئے: وہ یہ نہیں کہتے کہ سونے کا برتن عزت کا ہے اور مٹی کا بےعزتی کا۔ آیت ۲۱ میں مٹی کا برتن بھی ”شریف کاموں کے لئے استعمال ہونے والا“ بن جاتا ہے۔ یعنی عزت مادّے سے نہیں، استعمال سے جڑی ہے۔ خدا کے گھر میں مرتبہ وراثت میں نہیں ملتا، وہ پاکیزگی سے ملتا ہے۔
پہلے سننے والے
افسس کے مسیحی یہ خط کسی عمارت میں نہیں، کسی کے گھر میں بیٹھ کر سنتے تھے، اور اکثر وہ گھر جماعت کے کسی مال دار سرپرست کا ہوتا تھا۔ جب خط پڑھنے والے نے ”بڑے گھروں“ کہا، تو سننے والوں کو کچھ تصور نہیں کرنا پڑا؛ اُن کے سامنے ہی طاق میں چاندی کا جام رکھا تھا اور دروازے کے پاس مٹی کا گھڑا۔ اُسی کمرے میں غلام اور آزاد، تاجر اور مزدور ایک ساتھ بیٹھے تھے، اور ہر ایک جانتا تھا کہ اصل زندگی میں وہ کس قطار میں کھڑا ہے۔ پولس کا جملہ اُس کمرے میں بم کی طرح گرا ہوگا: مالک تمہیں تمہارے مادّے سے نہیں، تمہاری صفائی سے ناپتا ہے۔ یہ محض تھیولوجی نہیں تھی، یہ بیٹھک کی ترتیب بدل دینے والی بات تھی۔
غور و فکر
آپ خود کو کس برتن میں دیکھتے ہیں، اور وہ تصویر آپ کے اندازے سے بنی ہے یا مالک کے اعلان سے؟
وہ ایک چیز کون سی ہے جسے آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ کو میلا کر رہی ہے، مگر آپ نے اب تک اُسے نام دینے سے گریز کیا ہے؟
2 Timothy 2:20 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-تیمُتھیُس 2:20 کا کیا مطلب ہے؟
۲-تیمُتھیُس 2:20 کس بارے میں ہے؟
۲-تیمُتھیُس 2:20 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-تیمُتھیُس 2:20 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-تیمُتھیُس 2:20 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Timothy 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس گھر کے برتنوں کی مثال دیتا ہے: ’’اگر کوئی اپنے آپ کو اِن سے پاک صاف کرے تو وہ ایسا برتن بنے گا جو خاص مواقع کے لئے مخصوص و مُقدّس اور مالک کے کام آنے والا ہے۔‘‘ برتن خود کو قیمتی نہیں بناتا، وہ بس خالی اور صاف رہتا ہے، اور مالک اُسی کو اُٹھاتا ہے۔ آج تیرے اندر کیا پڑا ہے جو اُس کے ہاتھ کو روکے ہوئے ہے؟
خداوند، شکر ہے کہ تیری مضبوط بنیاد قائم رہتی ہے، چاہے میرے ارد گرد سب کچھ ہلتا نظر آئے۔ شکریہ کہ تُو مجھے نام سے جانتا ہے، کیونکہ لکھا ہے کہ "رب اُنہیں جانتا ہے جو اُس کے اپنے ہیں۔" اور شکر کہ تُو مجھے ناراستی سے دُور رہنے کی طاقت بھی دیتا ہے۔
پولس نے یہاں غلط تعلیم کو ناسور سے تشبیہ دی، ایسا زخم جو چپ چاپ پھیلتا ہے اور شروع میں تکلیف بھی نہیں دیتا۔ باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ایک جملہ جو ہم نے بےپروائی سے کہا، وہ کسی کے دل میں بیٹھ کر ایمان کو اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔ آج ذرا سوچ، تیری زبان سے جو نکل رہا ہے وہ شفا دے رہا ہے یا خاموشی سے کسی کو کمزور کر رہا ہے؟
پولس تیمُتھیُس کو تین تصویریں دیتا ہے: فوجی، کھلاڑی اور کسان۔ آخری سب سے سست ہے۔ "لازم ہے کہ محنت کرنے والا کسان ہی پہلے فصل کا پھل کھائے۔" کسان بیج بونے کے دن ہی کچھ نہیں کاٹتا۔ وہ مہینوں انتظار کرتا ہے، مٹی میں کام کرتا رہتا ہے جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں۔ تُو بھی شاید ایسے ہی موسم میں ہے۔ پھل آئے گا، مگر پہلے محنت۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں