کُلسِیوں 2:16
متن
پولس ایک ہی سانس میں صلیب کے فتح کے جلوس سے اُتر کر کھانے کی میز اور کیلنڈر تک آ جاتا ہے۔ ابھی اُس نے کہا تھا کہ قرض کی رسید کیلوں سے صلیب پر جڑ دی گئی، اور اب وہ لکھتا ہے: ”چنانچہ کوئی آپ کو اِس وجہ سے مجرم نہ ٹھہرائے کہ آپ کیا کیا کھاتے پیتے یا کون کون سی عیدیں مناتے ہیں۔“ وہ ہلال کی عید اور سبت کا نام بھی لیتا ہے، یعنی وہ تمام مقدّس وقت جس پر اسرائیل کی زندگی کی تال قائم تھی۔ یہ آیت کسی نئے موضوع کا آغاز نہیں بلکہ صلیب کا نتیجہ ہے: جہاں مسیح نے قرض چکا دیا، وہاں کسی اور کو عدالت کی کرسی پر بیٹھنے کا حق نہیں رہا۔
مرکز
غور کیجیے کہ پولس یہ نہیں کہتا کہ کھانا پینا یا عیدیں بُری ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اِن چیزوں کو عدالت کا پیمانہ بنانے والا شخص غلط جگہ کھڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کی پلیٹ میں کیا ہے، سوال یہ ہے کہ آپ کے اوپر کون ہے۔ اگلی ہی آیت اِسے کھول دیتی ہے: ”یہ چیزیں تو صرف آنے والی حقیقت کا سایہ ہی ہیں جبکہ یہ حقیقت خود مسیح میں پائی جاتی ہے۔“ سایہ جھوٹ نہیں ہوتا، مگر وہ خود جسم بھی نہیں ہوتا۔ یہاں خدا کی نجات کی منطق چھپی ہے: فضل کسی اضافی شرط کو برداشت نہیں کرتا۔ جس لمحے میں اپنی قبولیت کسی پرہیز، کسی دن یا کسی رسم سے ناپنے لگتا ہوں، اُسی لمحے میں چپکے سے مسیح کو ناکافی قرار دے دیتا ہوں۔ کیا ہم واقعی اِس آزادی میں سانس لیتے ہیں، یا صرف اُس کے بارے میں بات کرتے ہیں؟
کہانی کا دھاگا
اسرائیل کا کیلنڈر کوئی اتفاقی رواج نہ تھا۔ ہفتہ، مہینہ اور سال خدا کے اپنے ہاتھ سے باندھے ہوئے تھے: سبت تخلیق کی تال تھی، ہلال مہینے کا آغاز، اور سالانہ عیدیں نجات کی یادداشت۔ یہ سب ایک قوم کو وقت کے اندر یہ سکھانے کا طریقہ تھا کہ زندگی اپنی نہیں، دی ہوئی ہے۔ پھر مسیح آئے، اور جس چیز کی طرف یہ سارا نظام اشارہ کر رہا تھا وہ گوشت پوست میں سامنے کھڑی ہو گئی۔ پولس اِن رسموں کی توہین نہیں کرتا؛ وہ اُنہیں اُن کی جگہ واپس بھیجتا ہے۔ سایہ اُس وقت تک قیمتی ہے جب تک وہ جسم کی خبر دیتا ہے۔ مگر جب جسم کمرے میں داخل ہو جائے تو سایے سے لپٹے رہنا عجیب لگتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ہم نے واقعی اُس حضوری کو پہچانا ہے، یا ہم اب بھی دیوار پر پڑتے عکس گن رہے ہیں؟
آئینہ
یہ آیت ہمیں دو طرف سے پکڑتی ہے۔ ایک طرف وہ خوف جو ہمیں چپ کرا دیتا ہے: کوئی پوچھتا ہے کہ آپ روزہ کیوں نہیں رکھتے، آپ کی صبح کی عبادت کتنی لمبی ہے، آپ اتوار کو کیا کرتے ہیں، آپ کے بچے کس اسکول میں پڑھتے ہیں، اور ہم اندر ہی اندر شرمندہ ہو جاتے ہیں جیسے ہماری قبولیت دوبارہ ناپی جا رہی ہو۔ دوسری طرف وہ خفیہ لذت جو ہمیں دوسروں کی پلیٹ، اُن کے کپڑوں، اُن کی عبادت کے انداز پر نظر رکھنے میں ملتی ہے۔ عدالت کی کرسی خالی ہے، مگر ہم بار بار اُس پر بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج ہی ایک کام کیجیے: اُس شخص کا نام کاغذ پر لکھیے جس کے دین داری کے انداز پر آپ خاموشی سے تنقید کرتے ہیں، اور بلند آواز سے کہیے، ”مسیح اِن کے لیے بھی کافی ہے۔“
سوال
اگر سایہ گزر گیا، تو کلیسیا آج بھی اتوار، روزہ، عید اور ایامِ مقدّس کیوں مناتی ہے؟ کیا یہ پیچھے لوٹنا نہیں؟ ایمان داری سے کہوں تو پولس یہاں اِس کا جواب نہیں دیتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ سبت مت مناؤ؛ وہ کہتا ہے کہ کوئی تمہاری عدالت نہ کرے۔ وہ رسم کو نہیں، منصف کی کرسی کو ہٹاتا ہے۔ یہ فرق باریک ہے اور بےچین کرنے والا بھی، کیونکہ ہم صاف اصول چاہتے ہیں: جائز یا ناجائز، لازم یا منسوخ۔ کلام ہمیں وہ فہرست نہیں دیتا۔ وہ ہمیں آزادی دیتا ہے، اور آزادی ہمیشہ خطرناک محسوس ہوتی ہے کیونکہ اُس میں اپنے دل کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ شاید اصل سوال یہ ہے: میں اپنی رسم سے کیا چاہتا ہوں؟ قربت، یا تحفظ؟
ایک باریک بات
”ہلال کی عید“ پر ذرا ٹھہریے۔ نئے چاند کا تہوار ہر مہینے کے آغاز پر منایا جاتا تھا، جب آسمان میں روشنی کی ایک باریک لکیر نمودار ہوتی تھی۔ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں؛ جو کچھ وہ دیتا ہے، اُدھار کا ہے۔ یہی اِن تمام مقدّس اوقات کی حقیقت ہے۔ وہ چمکتے تھے، مگر کسی اور کی روشنی سے، ایک ایسے سورج سے جو ابھی اُفق کے نیچے تھا۔ پولس اِن تینوں کا ذکر کرتا ہے: سالانہ عیدیں، ماہانہ ہلال، ہفتہ وار سبت۔ یعنی وقت کا پورا دائرہ۔ خدا نے صدیوں تک اپنی قوم کو وقت کے ذریعے تعلیم دی۔ اور پھر وہ خود وقت کے اندر داخل ہو گئے۔ جب سورج طلوع ہو جائے تو چاند جھوٹا نہیں ہوتا؛ وہ بس اب ضروری نہیں رہتا کہ ہم اُسے دیکھ کر راستہ ڈھونڈیں۔
دیگر آیات کی گونج
رومیوں 14 اِسی سانس میں بولتا ہے: وہاں بھی کھانے اور دنوں کا جھگڑا ہے، اور پولس کا فیصلہ وہی ہے، کہ ہم میں سے ہر ایک کسی اور کا نہیں بلکہ خداوند کا خادم ہے، اور دوسرے کے نوکر پر فیصلہ سنانا ہمارا کام نہیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ وہاں وہ دونوں فریقوں کو، پرہیز کرنے والے اور آزادی سے کھانے والے کو، ایک ہی بات کہتا ہے۔ دوسری طرف عبرانیوں 4 ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سبت کا وعدہ ختم نہیں ہوا بلکہ گہرا ہو گیا: خدا کے لوگوں کے لیے ایک آرام باقی ہے، اور وہ آرام کسی دن میں نہیں بلکہ کسی شخص میں ملتا ہے۔ یہی دونوں پہلو ہیں: کوئی آپ کی عدالت نہ کرے، اور کوئی آپ سے وہ آرام نہ چھینے۔
غور و فکر
میں اپنے ایمان کی صحت کس پیمانے سے ناپتا ہوں، اور کیا وہ پیمانہ مسیح ہے یا کوئی عادت جو مجھے محفوظ محسوس کراتی ہے؟
جب کوئی مجھ پر فیصلہ سناتا ہے تو میرے اندر کیا ٹوٹتا ہے، اور وہ ٹوٹنا مجھے اپنی قبولیت کے اصل ماخذ کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
Colossians 2:16 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
کُلسِیوں 2:16 کا کیا مطلب ہے؟
کُلسِیوں 2:16 کس بارے میں ہے؟
کُلسِیوں 2:16 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
کُلسِیوں 2:16 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
کُلسِیوں 2:16 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Colossians 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس اُن لوگوں کو لکھ رہا ہے جنہیں کہا جا رہا تھا کہ مسیح کافی نہیں، کچھ اَور بھی چاہئے۔ اُس کا جواب یہ ہے: "اور آپ کو مسیح میں یہ معموری حاصل ہے۔" سوچیں، آج بھی آپ کسی رسم، کسی کامیابی یا کسی کی منظوری سے اپنے اندر کا خلا بھرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جو آپ ڈھونڈ رہے ہیں وہ آپ کو پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ آپ ادھورے نہیں، مسیح میں مکمل ہیں۔
پولس خبردار کرتا ہے، ”میں یہ اِس لئے کہہ رہا ہوں تاکہ کوئی آپ کو بظاہر معقول دلیلوں سے دھوکا نہ دے۔“ غور کریں، دھوکا بدصورت نہیں آتا، وہ خوبصورت اور معقول لگنے والی باتوں میں آتا ہے۔ اِسی لئے پولس نے پہلے مسیح کی بات کی جس میں حکمت کے تمام خزانے پوشیدہ ہیں۔ جو اُسے جانتا ہے، وہ ہر چمکتی ہوئی بات کے پیچھے نہیں بھاگتا۔ آپ کس کی آواز سب سے زیادہ سنتے ہیں؟
اے خدا، میں اکثر جواب کہیں اور ڈھونڈتا پھرتا ہوں، حالانکہ حکمت اور سمجھ کے سارے خزانے مسیح میں چھپے ہیں۔ مجھے اُس کے قریب رہنا سکھا، تاکہ میں جاننے کی بھوک میں بھٹکوں نہیں بلکہ اُسی میں سیر ہو جاؤں۔
پولس اُن لوگوں کے لیے جان توڑ کوشش کر رہا ہے جن کے چہرے اُس نے کبھی دیکھے بھی نہیں۔ اور اُس کی خواہش یہ ہے کہ اُن کے دل مضبوط ہوں اور وہ "محبت میں ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ جائیں۔" غور کریں، حوصلہ تنہائی میں نہیں ملتا بلکہ ایک دوسرے سے جُڑنے میں۔ اور اِس جُڑاؤ کے آخر میں کوئی نصیحت نہیں، ایک شخص ملتا ہے: مسیح۔ کیا آپ کسی ایسے کے لیے دعا میں محنت کر رہے ہیں جس سے آپ کا کوئی فائدہ نہیں؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں