اِفسِیوں 5
متن
پولس رسول ایک ہی سانس میں کہتے ہیں کہ اللہ کے پیارے بچے ہونے کا مطلب ہے اُس کے نمونے پر چلنا، اور مسیح کی قربانی کو اپنی روزمرہ محبت کا پیمانہ بنانا۔ پھر وہ بہت ٹھوس ہو جاتے ہیں: زناکاری، ناپاکی اور لالچ کا ذکر تک نہ ہو؛ گندی باتوں کی جگہ شکرگزاری آئے؛ تاریکی کے کاموں میں شریک ہونے کے بجائے اُنہیں روشنی میں لایا جائے۔ آخری حصے میں یہی محبت گھر کی چاردیواری میں داخل ہوتی ہے: ایک دوسرے کے تابع رہنا، بیویوں کی عزت، شوہروں کی قربان ہونے والی محبت، اور اِن سب کے پیچھے وہ گہرا راز جو مسیح اور اُس کی جماعت کا رشتہ ہے۔
مرکزی بات
آیت 5 کا وہ چھوٹا سا جملہ سب کچھ کھول دیتا ہے: ”لالچ تو ایک قسم کی بُت پرستی ہے۔“ پولس اخلاقیات کو قاعدوں کی فہرست نہیں بناتے بلکہ عبادت کا معاملہ بناتے ہیں۔ جس چیز کو آپ اپنی خوشی اور تحفظ کا اصل سرچشمہ مانتے ہیں، وہی آپ کا خدا ہے، اور بدن، پیسہ اور زبان صرف اُس عبادت کے اوزار ہیں۔ اِسی لئے تبدیلی کی بنیاد ”کوشش کرو“ نہیں بلکہ ”آپ اللہ کے پیارے بچے ہیں“ ہے۔ پہلے شناخت، پھر چال۔ اور شناخت اِتنی حقیقی ہے کہ پولس یہ نہیں کہتے کہ آپ تاریکی میں تھے بلکہ ”پہلے آپ تاریکی تھے، لیکن اب آپ خداوند میں روشنی ہیں“۔ آپ کی ہستی بدل چکی ہے؛ اب چال کو ہستی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہے۔
سلسلۂ کلام
آیت 2 میں قربانی کی ”خوشبو“ کا ذکر پرانے عہدنامے کی قربانگاہ سے آتا ہے، جہاں جانور کا دھواں اللہ کے حضور قبولیت کی علامت تھا۔ پولس کہتے ہیں: وہ سارا نظام مسیح کی اپنی قربانی میں پورا ہو گیا، اور اب مسیحی زندگی اُسی خوشبو کا تسلسل ہے۔ اِسی طرح آیت 31 میں پیدائش کی کتاب کا وہ قدیم فقرہ نقل ہوتا ہے کہ مرد ”اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے“۔ پولس اُسے صرف شادی کا قانون نہیں سمجھتے بلکہ ایک پیشین گوئی: آدم اور حوا کی ایک جانی ابتدا ہی سے اُس رشتے کی طرف اشارہ کر رہی تھی جس میں خداوند اپنی جماعت کو اپنے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔ نجات کی پوری کہانی ایک شادی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
آئینہ
یہ باب ہمیں اُن جگہوں پر چھوتا ہے جہاں ہم سب سے کم دیکھے جانا چاہتے ہیں۔ دفتر کی وہ گفتگو جس میں آپ ہنس دیتے ہیں تاکہ ماحول خراب نہ ہو، حالانکہ اُس مذاق کا نشانہ کوئی انسان ہے۔ فون کی وہ سکرین جو رات کو تنہائی میں روشن ہوتی ہے، کیونکہ ”جو کچھ یہ لوگ پوشیدگی میں کرتے ہیں“ آج پردے کے پیچھے نہیں بلکہ ہاتھ میں ہے۔ بجٹ کی وہ سطر جو ظاہر کرتی ہے کہ آپ کا اصل بھروسہ کہاں ہے۔ اور شادی میں وہ حساب کتاب جو محبت کو سودا بنا دیتا ہے: میں دوں گا اگر وہ پہلے دے۔ پولس اِس پورے حساب کو توڑ دیتے ہیں: مسیح نے پہلے دیا، بےحساب۔
آج ہی، دس منٹ نکالیں اور کاغذ پر ایک ایسا معاملہ لکھیں جسے آپ نے کسی سے چھپا رکھا ہے، پھر وہ بات اونچی آواز میں خدا کے سامنے کہہ کر ایک ایسے شخص کا نام لکھیں جسے آپ اِس ہفتے یہ سچ بتائیں گے، اور آج ہی اُسے ملنے کا وقت مانگنے کا پیغام بھیج دیں۔
سامعین کا خاکہ
اِفسس کے سننے والے زیادہ تر غیریہودی تھے، ایک ایسے شہر میں جہاں دیوی ارتمس کا مندر معیشت اور شناخت دونوں کا مرکز تھا۔ اُن کی پرانی زندگی میں مذہب اور جسمانی بےراہ روی ایک ہی سکے کے دو رُخ تھے؛ ضیافتوں میں شراب اور بےحیائی عبادت کا حصہ سمجھی جاتی تھی۔ جب پولس لکھتے ہیں ”شراب میں متوالے نہ ہو جائیں… اِس کے بجائے روح القدس سے معمور ہوتے جائیں“، تو وہ ایک مانوس تصویر کے مقابل دوسری تصویر رکھ رہے ہیں: خمار سے نہیں، بلکہ خدا کے روح سے بھرے ہوئے لوگوں کی جماعت، جو گیت گاتی ہے اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اُن کے لئے یہ محض اخلاقی نصیحت نہیں تھی؛ یہ شہر کے پورے سماجی نظام سے علیحدگی تھی، جس کی قیمت رشتے اور روزگار تھے۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار مسیح ہے، اور غور کریں کہ وہ کس روپ میں پیش ہوتا ہے: حکم دینے والے آقا کے طور پر نہیں بلکہ اُس دُلہے کے طور پر جو اپنی دُلہن کے لئے اپنے آپ کو قربان کر دیتا ہے۔ آیت 27 میں وہ جماعت کو بےداغ اور بےجھری پیش کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ خوبصورتی اُس کی شرط نہیں، اُس کے کام کا نتیجہ ہے: ”اُس نے اُسے کلامِ پاک سے دھو کر پاک صاف کر دیا۔“ یہاں ایک ایسا خدا نظر آتا ہے جو گندے کو دھو کر خوبصورت بناتا ہے، نہ کہ خوبصورت کو تلاش کرتا ہے۔ اور یہی مسیح کا سربراہ ہونا ہے: اختیار جو خوراک مہیا کرتا اور پالتا ہے، اپنے فائدے کے لئے نہیں بلکہ دوسرے کے پھلنے کے لئے۔
ایک باریک نکتہ
آیت 4 پر رُکیں۔ گندی اور احمقانہ باتوں کے مقابل پولس جو چیز رکھتے ہیں وہ خاموشی نہیں، ”شکرگزاری“ ہے۔ یہ عجیب جوڑ ہے، مگر گہرا۔ فحش مذاق اور طنز اکثر ناشکری کی زبان ہوتے ہیں: وہ انسان کو، جسم کو، رشتوں کو سستا کر کے ہنسی کا سامان بناتے ہیں۔ شکرگزاری اُلٹ کام کرتی ہے؛ وہ ہر چیز کو تحفہ مان کر اُس کا وزن واپس لوٹاتی ہے۔ اِسی لئے آیت 20 میں دوبارہ وہی لفظ آتا ہے: ”ہر چیز کے لئے خدا باپ کا شکر کریں۔“ اپنی زبان کو صاف کرنے کا راستہ محض روک تھام نہیں بلکہ بھر جانا ہے۔ جو دل شکر سے بھرا ہو، اُس میں گندگی کے لئے جگہ کم پڑ جاتی ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں کون سی چیز ایسی ہے جسے آپ ”ضرورت“ کہتے ہیں مگر پولس اُسے ”ایک قسم کی بُت پرستی“ کہتا؟
اگر آپ کی زبان کا پیمانہ شکرگزاری ہو، تو اِس ہفتے آپ کی کون سی گفتگو بدل جائے گی؟
Ephesians 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اِفسِیوں 5 کا کیا مطلب ہے؟
اِفسِیوں 5 کس بارے میں ہے؟
اِفسِیوں 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِفسِیوں 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِفسِیوں 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ephesians 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، تُو اپنی جماعت کا سر ہے اور اُسی کو بچانے والا بھی۔ ہمارے گھروں کو اِسی محبت سے بھر دے، جہاں بڑا ہونا دوسروں کی خدمت کرنا ہو۔ ہمیں سکھا کہ ہم ایک دوسرے کا بوجھ اُٹھائیں اور اپنے آپ کو دیں، جیسے تُو نے ہمارے لیے خود کو دے دیا۔
یہ آیت غالباً ابتدائی کلیسیا کا ایک گیت تھا: "اے سونے والے، جاگ اُٹھ! مُردوں میں سے جی اُٹھ! تو مسیح تجھے روشن کرے گا۔" غور کر، مسیح روشنی دینے سے پہلے تجھے جگاتا ہے۔ نیند میں پڑا آدمی اندھیرے کو اندھیرا بھی نہیں سمجھتا، اُسے آرام لگتا ہے۔ کیا کوئی ایسی بات ہے جسے تُو نے سلا رکھا ہے، اور اب اُس کے جاگنے سے ڈرتا ہے؟ آواز محبت سے آ رہی ہے، ڈانٹ سے نہیں۔
پولس کہتا ہے، ”چنانچہ بڑی احتیاط سے اپنی زندگی گزاریں، غیرداناؤں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی طرح۔“ غور کریں، وہ یہ نہیں کہتا کہ زیادہ جانو، بلکہ یہ کہ احتیاط سے چلو۔ جیسے کوئی اندھیری رات میں پتھریلے راستے پر قدم دیکھ کر رکھتا ہے۔ آپ کا آج کا ایک قدم، ایک بات، ایک فیصلہ، سب کچھ اہم ہے۔ کیا آپ زندگی جی رہے ہیں یا صرف گزار رہے ہیں؟
پولس ایک سیدھی سی بات یاد دلاتا ہے: "کسی نے بھی کبھی اپنے جسم سے نفرت نہیں کی بلکہ وہ اُسے خوراک مہیا کرتا اور پالتا ہے، جس طرح مسیح اپنی جماعت کو۔" غور کریں، مسیح آپ کو صرف بچاتا نہیں، وہ آپ کو پالتا بھی ہے۔ جیسے کوئی زخمی ہاتھ کو خود ہی سنبھالتا ہے، ویسے ہی وہ آپ کے کمزور حصوں کو تھامے ہوئے ہے۔ کیا آپ خود سے وہ نرمی برت پاتے ہیں جو وہ آپ سے برتتا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
