بائبل کی تشریح

اِفسِیوں 5:1

پڑھیں

متن

ایک لمحے کے لئے تصور کریں: ایک چھوٹا بچہ صحن میں اپنے باپ کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے، اپنے ننھے قدم اُن بڑے نقشِ قدم میں رکھنے کی کوشش کرتا ہوا، کبھی لڑکھڑاتا، کبھی ہنستا۔ کسی نے اُسے حکم نہیں دیا کہ ایسا کرے؛ وہ ایسا اِس لئے کرتا ہے کہ وہ اُس باپ کا ہے اور اُس سے پیار کرتا ہے۔ پولس رسول یہی منظر ہمارے سامنے رکھتے ہیں: ”چونکہ آپ اللہ کے پیارے بچے ہیں اِس لئے اُس کے نمونے پر چلیں۔“ پہلے رشتہ، پھر رویّہ۔ پہلے یہ حقیقت کہ آپ محبوب ہیں، پھر یہ دعوت کہ اُس محبت کی نقل اُتاریں۔ اور اگلی ہی آیت بتاتی ہے کہ نقل کس چیز کی: اُس محبت کی جس نے مسیح کو قربان گاہ تک پہنچا دیا۔

اصل بات

یہاں مسیحی زندگی کی پوری منطق ایک جملے میں سمٹ آئی ہے۔ ہم اِس لئے فرماں برداری نہیں کرتے کہ کسی طرح خدا کے بچے بن جائیں؛ ہم اِس لئے فرماں برداری کرتے ہیں کہ ہم پہلے ہی بنائے جا چکے ہیں۔ لفظ ”پیارے“ (یونانی میں اگاپیتا، یعنی وہ جن سے محبت کی گئی ہے) کوئی جذباتی سجاوٹ نہیں، یہ ہماری شناخت کا بنیادی پتھر ہے۔ اِس ترتیب کو الٹ دیجئے تو ایمان فوراً مذہبی مشقت بن جاتا ہے: ہم اچھے بنیں گے تاکہ قبول کئے جائیں۔ پولس اِس کے برعکس کہتے ہیں: آپ قبول کئے جا چکے ہیں، اب اُس باپ کی مشابہت اختیار کیجئے جس نے آپ کو گود لیا۔ اور یہ مشابہت مبہم نہیں: اللہ کا نمونہ وہی ہے جو صلیب پر ظاہر ہوا، خود کو دے دینے والی محبت۔ خدا کے خاندان کا شجرہ نسب اخلاق پیدا کرتا ہے، نہ کہ اخلاق شجرہ نسب۔

نجات کا سلسلہ

یہ منظر بائبل میں نیا نہیں۔ خدا نے مصر سے ایک قوم کو نکالا اور اُسے اپنا بیٹا کہا، اور پھر سینا پر اُسے احکام دیئے: تم پاک رہو، کیونکہ میں پاک ہوں۔ ترتیب وہی ہے، پہلے چھڑایا، پھر بلایا۔ لیکن اسرائیل بار بار اُن نقشِ قدم سے بھٹکا۔ تب یردن کے کنارے آسمان سے وہی لفظ سنائی دیا جو یہاں پولس ہم پر لگاتے ہیں: یہ میرا پیارا بیٹا ہے۔ مسیح وہ بیٹا ہیں جو پوری طرح باپ کے نمونے پر چلے، اور یہی وجہ ہے کہ آیت 2 فوراً صلیب کی طرف مڑ جاتی ہے۔ ہمیں خدا کی نقل کرنے کا حکم اِس لئے دیا جا سکتا ہے کہ وہ نقل ایک انسان میں مجسم ہو چکی ہے۔ ہم خلا میں نہیں، ایک زندہ چہرے کے پیچھے چلتے ہیں۔

آئینہ

یہ آیت اُس جگہ ہاتھ رکھتی ہے جہاں ہم سب دُکھتے ہیں: قبولیت کی بھوک۔ آپ دفتر میں اِس لئے حد سے زیادہ محنت کرتے ہیں کہ کوئی آپ کو دیکھے۔ آپ جماعت میں اِس لئے خدمت کرتے ہیں کہ کہیں پیچھے نہ رہ جائیں۔ گھر میں بچوں پر آپ کا لہجہ اُس دن سخت ہوتا ہے جس دن آپ خود کو ناکام محسوس کرتے ہیں۔ پولس اِس ساری دوڑ کے سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں: آپ پہلے ہی پیارے ہیں۔ یہ خبر آپ کو سُست نہیں کرتی، آزاد کرتی ہے، اور آزاد آدمی ہی بغیر حساب کے دے سکتا ہے۔ آج ایک کام کیجئے: اُس ایک شخص کا نام لکھئے جس کے ساتھ اِس ہفتے آپ کا لہجہ سخت رہا، اور سونے سے پہلے اُسے ایک سطر بھیجئے جس میں معافی ہو اور کوئی صفائی نہ ہو۔

ایک باریک بات

اردو کا ”نمونے پر چلیں“ یونانی کے ایک لفظ کو کھولتا ہے: میمیتائی، یعنی نقل کرنے والے، وہی لفظ جس سے انگریزی کا ”مِمِک“ نکلا ہے۔ پوری بائبل میں یہ واحد مقام ہے جہاں ہمیں سیدھا خدا کی نقل کرنے کو کہا گیا ہے۔ یہ عجیب حد تک جسورانہ ہے، تقریباً گستاخانہ، اگر یہ آیت اُس فقرے سے شروع نہ ہوتی جو اِس سے پہلے آتا ہے۔ نقل اُتارنے کا حق صرف بچے کو حاصل ہے۔ اجنبی جب کسی کی نقل کرے تو وہ مذاق یا فریب بنتا ہے؛ بیٹا جب باپ کی نقل کرے تو وہ محبت بنتی ہے۔ اور بچے کی نقل کبھی کامل نہیں ہوتی، وہ لڑکھڑاتی ہے۔ یہی رعایت اِس حکم کے اندر چھپی ہوئی ہے۔

مشکل سوال

اگر ہم پیارے بچے ہیں تو پھر چند آیتوں بعد یہ سخت جملہ کیوں: ”زناکار، ناپاک یا لالچی مسیح اور اللہ کی بادشاہی میں میراث نہیں پائیں گے“؟ محبت اور تنبیہ ایک ہی سانس میں کیوں؟ اِسے نرم کرنے کی کوشش نہ کیجئے۔ پولس یہ نہیں کہتے کہ آپ گرنے پر بےدخل ہو جائیں گے؛ وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک ایسی زندگی ممکن ہے جو اُس خاندان سے کوئی مشابہت ہی نہ رکھے جس کا وہ دعویٰ کرتی ہے۔ لالچ کو وہ بُت پرستی کہتے ہیں، یعنی ایک اور باپ کے پیچھے چلنا۔ سوال یہ نہیں کہ خدا کی محبت کتنی مشروط ہے، بلکہ یہ کہ میں کس کے نقشِ قدم پر چل رہا ہوں۔ یہ تناؤ ختم نہیں ہوتا، اور شاید ختم ہونا بھی نہیں چاہئے۔

پہلے سننے والے

افسس کے اکثر سننے والے غیریہودی تھے، اور کئی غلام۔ اُن کے شہر میں دیوی ارتمس کا عظیم مندر تھا اور اُن کی مذہبی یادداشت میں ایسے دیوتا تھے جو غصیلے، لالچی اور بےاعتبار تھے؛ اُن کی نقل کرنا کوئی نہیں چاہتا تھا۔ رومی معاشرے میں گود لینا ایک قانونی، ناقابلِ واپسی عمل تھا: گود لیا ہوا بیٹا نام، قرض، وراثت اور عزت سب پا لیتا تھا۔ ایک غلام جس کا اپنا باپ کبھی اُس کے کام نہ آیا تھا، جب یہ خط اجتماع میں پڑھا گیا اور اُس نے سنا کہ وہ خدا کا پیارا بچہ ہے، تو یہ اُس کے لئے اخلاقی نصیحت نہیں، سماجی زلزلہ تھا۔ اُس کی نئی شناخت اُس کی زنجیروں سے زیادہ سچی تھی۔

غور و فکر کے سوالات

آپ کی روزمرہ زندگی کے کن فیصلوں میں یہ نظر آتا ہے کہ آپ محبت کمانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کن میں کہ آپ محبت پا چکے ہیں؟

اگر کوئی آپ کے پچھلے ہفتے کو غور سے دیکھے، تو اُسے کس کے نقشِ قدم کی جھلک دکھائی دے گی؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Ephesians 5:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

اِفسِیوں 5:1 کا کیا مطلب ہے؟
ایک لمحے کے لئے تصور کریں: ایک چھوٹا بچہ صحن میں اپنے باپ کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے، اپنے ننھے قدم اُن بڑے نقشِ قدم میں رکھنے کی کوشش کرتا ہوا، کبھی لڑکھڑاتا، کبھی ہنستا۔ کسی نے اُسے حکم نہیں دیا کہ ایسا کرے؛ وہ ایسا اِس لئے کرتا ہے کہ وہ اُس باپ کا ہے اور اُس سے پیار کرتا ہے۔ پولس رسول یہی منظر ہمارے سامنے رکھتے ہیں: ”چونکہ آپ اللہ کے پیارے بچے ہیں اِس لئے اُس کے نمونے پر چلیں۔“ پہلے رشتہ، پھر رویّہ۔ پہلے یہ حقیقت کہ آپ محبوب ہیں، پھر یہ دعوت کہ اُس محبت کی نقل اُتاریں۔ اور اگلی ہی آیت بتاتی ہے کہ نقل کس چیز کی: اُس محبت کی جس نے مسیح کو قربان گاہ تک پہنچا دیا۔
اِفسِیوں 5:1 کس بارے میں ہے؟
یہ منظر بائبل میں نیا نہیں۔ خدا نے مصر سے ایک قوم کو نکالا اور اُسے اپنا بیٹا کہا، اور پھر سینا پر اُسے احکام دیئے: تم پاک رہو، کیونکہ میں پاک ہوں۔ ترتیب وہی ہے، پہلے چھڑایا، پھر بلایا۔ لیکن اسرائیل بار بار اُن نقشِ قدم سے بھٹکا۔ تب یردن کے کنارے آسمان سے وہی لفظ سنائی دیا جو یہاں پولس ہم پر لگاتے ہیں: یہ میرا پیارا بیٹا ہے۔ مسیح وہ بیٹا ہیں جو پوری طرح باپ کے نمونے پر چلے، اور یہی وجہ ہے کہ آیت 2 فوراً صلیب کی طرف مڑ جاتی ہے۔ ہمیں خدا کی نقل کرنے کا حکم اِس لئے دیا جا سکتا ہے کہ وہ نقل ایک انسان میں مجسم ہو چکی ہے۔ ہم خلا میں نہیں، ایک زندہ چہرے کے پیچھے چلتے ہیں۔
اِفسِیوں 5:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اردو کا ”نمونے پر چلیں“ یونانی کے ایک لفظ کو کھولتا ہے: میمیتائی، یعنی نقل کرنے والے، وہی لفظ جس سے انگریزی کا ”مِمِک“ نکلا ہے۔ پوری بائبل میں یہ واحد مقام ہے جہاں ہمیں سیدھا خدا کی نقل کرنے کو کہا گیا ہے۔ یہ عجیب حد تک جسورانہ ہے، تقریباً گستاخانہ، اگر یہ آیت اُس فقرے سے شروع نہ ہوتی جو اِس سے پہلے آتا ہے۔ نقل اُتارنے کا حق صرف بچے کو حاصل ہے۔ اجنبی جب کسی کی نقل کرے تو وہ مذاق یا فریب بنتا ہے؛ بیٹا جب باپ کی نقل کرے تو وہ محبت بنتی ہے۔ اور بچے کی نقل کبھی کامل نہیں ہوتی، وہ لڑکھڑاتی ہے۔ یہی رعایت اِس حکم کے اندر چھپی ہوئی ہے۔
اِفسِیوں 5:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
افسس کے اکثر سننے والے غیریہودی تھے، اور کئی غلام۔ اُن کے شہر میں دیوی ارتمس کا عظیم مندر تھا اور اُن کی مذہبی یادداشت میں ایسے دیوتا تھے جو غصیلے، لالچی اور بےاعتبار تھے؛ اُن کی نقل کرنا کوئی نہیں چاہتا تھا۔ رومی معاشرے میں گود لینا ایک قانونی، ناقابلِ واپسی عمل تھا: گود لیا ہوا بیٹا نام، قرض، وراثت اور عزت سب پا لیتا تھا۔ ایک غلام جس کا اپنا باپ کبھی اُس کے کام نہ آیا تھا، جب یہ خط اجتماع میں پڑھا گیا اور اُس نے سنا کہ وہ خدا کا پیارا بچہ ہے، تو یہ اُس کے لئے اخلاقی نصیحت نہیں، سماجی زلزلہ تھا۔ اُس کی نئی شناخت اُس کی زنجیروں سے زیادہ سچی تھی۔
اِفسِیوں 5:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر کوئی آپ کے پچھلے ہفتے کو غور سے دیکھے، تو اُسے کس کے نقشِ قدم کی جھلک دکھائی دے گی؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Ephesians 5 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 29

پولس ایک سیدھی سی بات یاد دلاتا ہے: "کسی نے بھی کبھی اپنے جسم سے نفرت نہیں کی بلکہ وہ اُسے خوراک مہیا کرتا اور پالتا ہے، جس طرح مسیح اپنی جماعت کو۔" غور کریں، مسیح آپ کو صرف بچاتا نہیں، وہ آپ کو پالتا بھی ہے۔ جیسے کوئی زخمی ہاتھ کو خود ہی سنبھالتا ہے، ویسے ہی وہ آپ کے کمزور حصوں کو تھامے ہوئے ہے۔ کیا آپ خود سے وہ نرمی برت پاتے ہیں جو وہ آپ سے برتتا ہے؟

دعا ادارتی کو آیت 31

اے خدا، تُو نے دو زندگیوں کو جوڑ کر ایک بنانے کا خواب دیکھا۔ ہمیں ایک دوسرے کو تھامے رکھنے کی طاقت دے، جب محبت آسان نہ ہو تب بھی وفادار رہنے کی ہمت دے۔ ہمارے رشتوں میں معافی اور نرمی بھر دے، تاکہ ہمارا ساتھ تیری محبت کی جھلک دکھائے۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 27

خداوند، تیرا شکر ہے کہ تُو اپنی جماعت کو جلال کی حالت میں اپنے سامنے پیش کرے گا، ایسی جماعت جس میں نہ داغ نہ جھری نہ کوئی اَور نقص ہو۔ شکر کہ میرے سب داغ تیرے خون سے دھل گئے ہیں اور تُو مجھے مُقدّس اور بےالزام بنا رہا ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 20

ہمیشہ اور ہر بات کے لئے ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے نام میں خدا باپ کا شکر کریں۔“ پولس یہ بات روح سے معمور ہونے کے سلسلے میں لکھتا ہے۔ یعنی شکرگزاری کوئی مہذب عادت نہیں بلکہ اِس بات کی نشانی ہے کہ خدا کا روح آپ کے اندر کام کر رہا ہے۔ آج جو بات آپ کو سب سے زیادہ چبھ رہی ہے، کیا آپ اُس کے لئے بھی شکر کر سکتے ہیں؟ شاید یہیں سے آپ کا دل بدلنا شروع ہو۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network