عبرانیوں 1:2
متن
ماضی میں اللہ نے ٹکڑوں میں بات کی: کبھی ایک نبی کے ذریعے، کبھی دوسرے کے، کبھی خواب میں، کبھی آگ اور آندھی میں۔ لیکن اب، "اِن آخری دنوں میں"، وہ کسی پیغامبر کے وسیلے سے نہیں بلکہ اپنے فرزند کے وسیلے سے ہم سے ہم کلام ہوا ہے۔ اور یہ فرزند کوئی نیا نمائندہ نہیں: وہی ہے جسے باپ نے "سب چیزوں کا وارث" بنا دیا، اور وہی ہے جس کے وسیلے سے اللہ نے شروع میں کائنات کو خلق کیا۔ یعنی جو کہانی کے آخر میں سب کچھ وراثت میں پائے گا، وہی کہانی کے پہلے صفحے پر معمار کے طور پر موجود تھا۔ آغاز اور انجام ایک ہی شخص کے ہاتھ میں ہیں۔
اصل بات
یہاں سب سے پہلی اور سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ خدا خاموش خدا نہیں۔ وہ بولتا ہے۔ لیکن اِس آیت کا اصل دھماکہ یہ ہے کہ اُس کا آخری کلام کوئی جملہ، کوئی اصول یا کوئی کتاب نہیں، بلکہ ایک شخص ہے۔ نبیوں نے پیغام پہنچایا؛ فرزند خود پیغام ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ خدا کو جاننا کسی معلومات کو جمع کرنا نہیں بلکہ کسی کو پہچاننا ہے۔ اور دوسری بات: وہ فرزند جس کے ہاتھوں سے ستارے نکلے، وہی وارث ہے، یعنی یہ کائنات بےمالک، بےمقصد ملبہ نہیں جو کسی دن ٹھنڈی ہو کر بجھ جائے گی۔ اِس کا ایک وارث ہے، اور اُس وارث کا نام مسیح ہے۔ جو آپ کے دفتر، آپ کے گھر، آپ کے بیمار جسم پر بھی حق رکھتا ہے۔
کہانی کا دھاگا
عبرانیوں کا مصنف اپنے خط کا آغاز کسی سلام سے نہیں بلکہ ایک تاریخ سے کرتا ہے: "ماضی میں اللہ مختلف موقعوں پر اور کئی طریقوں سے ہمارے باپ دادا سے ہم کلام ہوا۔" یہ جملہ پوری پرانی عہد نامہ کی کہانی کو ایک سانس میں سمیٹ لیتا ہے۔ ابراہام کو ایک وعدہ، موسیٰ کو ایک شریعت، داؤد کو ایک تخت کا اقرار، یسعیاہ کو ایک رویا۔ ہر بار روشنی کی ایک کرن، مگر کبھی پورا سورج نہیں۔ نبی خود بھی اُس چیز کی طرف جھکے رہتے تھے جو ابھی نہیں آئی تھی۔ اور اب مصنف کہتا ہے: وہ گھڑی آ گئی۔ "اِن آخری دنوں میں" کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کل ختم ہو رہی ہے، بلکہ یہ کہ خدا کی کہانی اپنے فیصلہ کن باب میں داخل ہو چکی ہے۔ فرزند کوئی اضافی صفحہ نہیں؛ وہ وہ صفحہ ہے جس کی طرف باقی سب صفحے اشارہ کرتے تھے۔
آئینہ
آپ شاید اُن لوگوں میں سے ہیں جو سالوں سے دعا میں ایک ہی سوال دہرا رہے ہیں: "خدایا، بول تو سہی۔" نوکری کے بارے میں، بیمار والد کے بارے میں، اُس رشتے کے بارے میں جو ٹوٹنے کے قریب ہے۔ اور آسمان خاموش لگتا ہے۔ یہ آیت آپ کی خاموشی کی شکایت کو نہ جھٹلاتی ہے نہ ہلکا کرتی ہے، مگر وہ آپ کا رخ موڑ دیتی ہے: خدا نے پہلے ہی اپنا سب سے بھاری، سب سے آخری لفظ بول دیا ہے، اور وہ لفظ کوئی ہدایت نہیں بلکہ ایک شخص ہے۔ سوال یہ نہیں رہ جاتا کہ خدا کب بولے گا، بلکہ یہ کہ کیا آپ اُس کے بولے ہوئے کو سننے پر تیار ہیں جب وہ وہ نہ کہے جو آپ چاہتے تھے۔
اور دوسری چوٹ لفظ "وارث" میں ہے۔ آپ کے پاس جو کچھ ہے، وہ اصل میں کسی اَور کے نام لکھا ہوا ہے۔ آپ کی تنخواہ، آپ کی ڈگری، آپ کے بچے، آپ کا وقت۔ ہم اِنہیں مٹھی میں دبا کر جیتے ہیں اور اُسی مٹھی سے تھک جاتے ہیں۔
آج ایک کاغذ کے پرزے پر وہ ایک چیز لکھیں جسے کھونے سے آپ سب سے زیادہ ڈرتے ہیں، اُس کے نیچے لکھیں "سب چیزوں کا وارث"، اور بلند آواز میں ایک جملہ کہیں: "یہ تیری میراث ہے، میری نہیں۔" پھر وہ پرزہ اپنی جیب میں رکھ لیں۔
پس منظر
یہ خط اُن لوگوں کے لیے لکھا گیا جو یہودی پس منظر سے مسیح پر ایمان لائے تھے اور اب دباؤ میں تھے۔ خاندان سے کٹ چکے، عبادت خانے سے نکالے گئے، شاید مال و جائیداد سے محروم، اور رومی سلطنت کے سائے میں بےعزت۔ اُن کے سامنے واپسی کا راستہ کھلا تھا: پرانی، معزز، ہیکل والی، فرشتوں اور موسیٰ اور شریعت والی روایت کی طرف لوٹ جاؤ، اور زندگی آسان ہو جائے گی۔ اُس دنیا میں قدامت ہی سچائی کی سند تھی؛ نئی چیز مشکوک تھی۔ اِسی لیے مصنف پہلے ہی جملے میں یہ ثابت نہیں کرتا کہ مسیحی ایمان نیا اور بہتر ہے، بلکہ یہ کہ وہ اُسی پرانے خدا کا تسلسل اور تکمیل ہے جس نے باپ دادا سے کلام کیا تھا۔ کچھ چھوڑنے کو نہیں کہا جا رہا؛ بلکہ اُسی سفر کی منزل پر پہنچنے کو کہا جا رہا ہے۔
ایک باریک نکتہ
غور کیجیے کہ آیت میں ترتیب اُلٹی ہے۔ پہلے مصنف کہتا ہے کہ فرزند کو "سب چیزوں کا وارث بنا دیا"، اور اُس کے بعد کہتا ہے کہ اُسی کے وسیلے سے "اُس نے کائنات کو بھی خلق کیا۔" تاریخی طور پر تخلیق پہلے ہے اور وراثت آخر میں۔ مگر لکھنے والا آخر کو پہلے رکھتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ اُن قارئین سے بات کر رہا ہے جن کے لیے حال ناکامی کا لگتا ہے: مسیح صلیب پر ذلیل ہوا، اُس کے پیروکار ستائے جا رہے ہیں، دنیا بدستور ظالموں کے قبضے میں ہے۔ اُن سے کہا جا رہا ہے کہ انجام پہلے ہی طے ہو چکا ہے، اور جو انجام کا مالک ہے وہی آغاز کا معمار تھا۔ آپ ایسی کہانی کے بیچ میں کھڑے ہیں جس کا پہلا اور آخری صفحہ ایک ہی ہاتھ نے لکھا ہے۔
مرکزی کردار
اِس آیت میں مرکزی کردار فرزند ہے، مگر جو بات فوراً نظر نہیں آتی وہ یہ ہے کہ وہ اِس آیت میں کچھ کرتا نہیں: اُسے وارث "بنا دیا" گیا، اُس کے "وسیلے سے" خلق ہوا، اُس کے "وسیلے سے" خدا بولا۔ سب کچھ باپ کی طرف سے، اور سب کچھ فرزند کے ذریعے۔ یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ اُس گہرے رشتے کی جھلک ہے جو تین آیت آگے کھل کر سامنے آتی ہے: وہ "اللہ کا شاندار جلال منعکس کرتا اور اُس کی ذات کی عین شبیہ ہے۔" یعنی جب آپ فرزند کو دیکھتے ہیں تو آپ کوئی نقل نہیں دیکھ رہے، کوئی نمائندہ نہیں، بلکہ خدا کا اپنا چہرہ۔ اور یہی چہرہ ہمارے لیے "گناہوں سے پاک صاف ہو جانے کا انتظام" کرنے کے لیے جھکا۔ کائنات کا وارث اپنی میراث کو خریدنے کے لیے خود قیمت بنا۔
کلامِ مقدّس کی گونج
خود مصنف چند آیتوں بعد زبور کے الفاظ اُٹھاتا ہے: "تُو میرا فرزند ہے، آج مَیں تیرا باپ بن گیا ہوں۔" یہ بادشاہ داؤد کی نسل کے لیے تاج پوشی کا اعلان تھا؛ اب یہ مسیح پر لاگو ہوتا ہے، اور اِس سے "فرزند" کا مطلب صاف ہو جاتا ہے: صرف رشتہ نہیں، بلکہ تخت اور حکومت۔ دوسری گونج خداوند یسوع کی اُس تمثیل میں ہے جہاں باغ کا مالک آخرکار اپنے بیٹے کو بھیجتا ہے اور کاشتکار ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہی وارث ہے، آؤ اِسے مار ڈالیں تاکہ میراث ہماری ہو جائے۔ خداوند نے خود کو وارث کہا، اور جانتے تھے کہ وارث ہونے کی قیمت کیا ہو گی۔ عبرانیوں کا مصنف وہی لفظ اُٹھا کر جلال میں رکھ دیتا ہے۔
پہلے سننے والے
جن لوگوں نے یہ خط پہلی بار سنا، اُنہوں نے "آخری دنوں" کا فقرہ ہمارے کانوں سے بہت مختلف سنا۔ اُن کے لیے یہ نبیوں کی وہ اصطلاح تھی جو اُس فیصلہ کن دور کے لیے استعمال ہوتی تھی جب خدا اپنی قوم کو بحال کرے گا اور تمام قوموں کا فیصلہ ہو گا۔ اور مصنف کہتا ہے: وہ دور شروع ہو چکا ہے، تمہارے حالات کے باوجود۔ جو لوگ اپنے گھروں سے نکالے گئے تھے، جن کے پاس ہیکل کی شان و شوکت نہیں رہی تھی، اُن سے کہا جا رہا تھا کہ تم تاریخ کے حاشیے پر نہیں بلکہ اُس کے اصل موڑ پر کھڑے ہو۔ جو کچھ تم نے کھویا وہ عارضی ہے؛ جس سے تم جُڑے ہو وہ "سب چیزوں کا وارث" ہے۔ یہ تسلی نہیں تھی، یہ حوصلہ تھا۔
ایک مشکل سوال
اگر خدا نے اپنا آخری کلام بول دیا ہے، تو اِتنی خاموشی کیوں ہے؟ ایمان دار ماں بیٹے کی موت پر دعا کرتی ہے اور کوئی جواب نہیں آتا۔ کلیسیا سالوں تک ایک ظلم کے خلاف پکارتی ہے اور آسمان بند رہتا ہے۔ اِس آیت کو تسلی کے طور پر استعمال کرنا آسان ہے، مگر ایمان داری یہ کہتی ہے کہ یہ آیت خاموشی کو ختم نہیں کرتی۔ وہ صرف اِتنا کہتی ہے کہ خاموشی بےخبری نہیں۔ خدا نے اپنے آپ کو کہیں دور نہیں رکھا؛ اُس نے اپنا فرزند دے دیا، اور اُس فرزند کی زندگی بھی صلیب پر ایک خاموش آسمان کے نیچے گزری۔ اِس سے آپ کا درد ہلکا نہیں ہوتا، مگر آپ اکیلے نہیں رہتے۔ باقی سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں۔ اُس کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے، اُسے سلجھانا نہیں۔
غور و فکر کے سوالات
آپ خدا سے کون سا جواب اِتنے عرصے سے مانگ رہے ہیں کہ اُس نے مسیح میں جو جواب پہلے ہی دے دیا ہے وہ آپ کو کم لگنے لگا ہے؟
اگر مسیح واقعی "سب چیزوں کا وارث" ہے، تو آپ کی زندگی کی کون سی ایک چیز ہے جسے آپ اب بھی اپنی ملکیت کی طرح سنبھالے ہوئے ہیں؟
جن لوگوں نے یہ خط پہلی بار سنا وہ سب کچھ کھو چکے تھے مگر پھر بھی خود کو تاریخ کے مرکز میں کھڑا پایا۔ آپ کے نقصانات کو یہ نظر کیسے بدلتی ہے؟
Hebrews 1:2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
عبرانیوں 1:2 کا کیا مطلب ہے؟
عبرانیوں 1:2 کس بارے میں ہے؟
عبرانیوں 1:2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
عبرانیوں 1:2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
عبرانیوں 1:2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Hebrews 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خداوند، تیرا شکر ہے کہ تُو وہی ہے اور تیرے برس ختم نہ ہوں گے۔ جب سب کچھ لباس کی طرح پرانا ہو کر بدل جاتا ہے، تُو نہیں بدلتا۔ اسی ناقابلِ تبدیل ذات میں میرا دل آج آرام پاتا ہے، کیونکہ میری زندگی کی ہر تبدیلی میں تُو میرا قائم رہنے والا سہارا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں