یسعیاہ 64
متن
یسعیاہ ۶۴ ایک ایسی دعا ہے جو ادب کے دائرے سے باہر نکل آتی ہے: "کاش تُو آسمان کو پھاڑ کر اُتر آئے، کہ پہاڑ تیرے سامنے تھرتھرائیں۔" نبی چاہتا ہے کہ خدا خاموشی توڑے، جیسے قدیم زمانے میں کیا کرتا تھا۔ پھر لہجہ بدل جاتا ہے: قوم اپنی ناپاکی کا اقرار کرتی ہے، اپنے راست کاموں کو گندے چیتھڑے کہتی ہے، اور بیان کرتی ہے کہ ہیکل جل چکی ہے اور یروشلم ویران ہے۔ باب ایک جواب پر نہیں، دو کھلے سوالوں پر ختم ہوتا ہے: کیا تُو دُور رہے گا؟ کیا تُو خاموش رہے گا؟
مرکزی بات
اس باب کا مرکز آیت ۶ ہے، اور وہ ہمارے اخلاقی حساب کتاب کو تہس نہس کر دیتی ہے: "ہمارے تمام نام نہاد راست کام گندے چیتھڑوں کی مانند ہیں۔" غور کریں، یہ ہمارے گناہوں کے بارے میں نہیں کہا گیا، بلکہ ہماری نیکیوں کے بارے میں۔ وہ چندہ، وہ خدمت، وہ روزہ، وہ سالوں کی وفاداری، جس کے بل پر ہم خدا کے سامنے سیدھا کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ یہ بات مایوسی پھیلانے کے لیے نہیں کہی گئی، بلکہ اس لیے کہ جب انسان کے ہاتھ سے اس کا اپنا سرمایہ چھن جائے تو وہ خدا کو باپ اور کمہار کہنے پر مجبور ہو جائے۔ نجات کی بنیاد ہماری کارکردگی نہیں، خدا کے ہاتھ کی تشکیل ہے۔
سلسلۂ کلام
"کاش تُو آسمان کو پھاڑ کر اُتر آئے" یہ فریاد صدیوں تک بے جواب لٹکی رہی۔ پھر مرقس اپنی انجیل میں یسوع کے بپتسمے کا ذکر کرتے ہوئے وہی لفظ استعمال کرتا ہے: آسمان پھٹ گیا، اور روح اُتر آیا۔ مگر جواب اُس شکل میں نہیں آیا جس کی توقع تھی۔ پہاڑ نہیں کانپے؛ ایک نجّار دریائے یردن سے باہر نکلا۔ یسعیاہ آگ اور لرزش مانگتا ہے، خدا گوشت اور خون میں نازل ہوتا ہے۔ اور جو راست کام ہم چیتھڑوں کی صورت میں پیش کرتے ہیں، اُن کی جگہ مسیح کی راستی ہمیں پہنائی جاتی ہے۔ پرانا عہد یہاں خالی ہاتھ دعا کرتا ہے؛ نیا عہد بتاتا ہے کہ وہ ہاتھ کس نے بھرے۔
آئینہ
یہ متن آپ کے اُس خفیہ کھاتے پر ہاتھ رکھتا ہے جسے آپ خدا کے سامنے کھولنا پسند کرتے ہیں۔ دفتر میں آپ اُس ساتھی سے بہتر ہیں جو گھنٹے چوری کرتا ہے۔ گھر میں آپ نے قربانیاں دی ہیں جن کا کسی نے شکریہ ادا نہیں کیا۔ پیسے کے معاملے میں آپ ایمان دار ہیں، اور آپ یہ جانتے ہیں۔ یسعیاہ اس پورے کھاتے کو چیتھڑا کہتا ہے، نہ اس لیے کہ نیکی بے معنی ہے، بلکہ اس لیے کہ آپ اُسے خدا کے سامنے قیمت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ آیت ۷ اور زیادہ چبھتی ہے: "کوئی نہیں جو تیرا نام پکارے۔" ویرانی کا اصل سبب ہیکل کا جلنا نہیں، دعا کا مر جانا تھا۔
آج شام سے پہلے دس منٹ تنہائی میں بیٹھیں، بلند آواز سے خدا کا نام پکاریں، اور اُس ایک نیک کام کا نام لے کر اُسے خدا کے ہاتھ میں رکھ دیں جس پر آپ چپکے چپکے فخر کرتے آئے ہیں۔
سامعین کا خاکہ
یہ دعا اُن لوگوں کی ہے جن کے پاس اب کوئی مذہبی ڈھانچہ باقی نہیں تھا۔ ہیکل "نذرِ آتش" ہو چکی تھی، قربانیاں بند تھیں، کاہن منتشر تھے، اور جلاوطنی کے بعد لوٹنے والوں کے سامنے ملبے کے ڈھیر تھے۔ جب وہ کہتے ہیں "جو کچھ بھی ہم عزیز رکھتے تھے وہ کھنڈر بن گیا ہے"، تو یہ شاعری نہیں، پتے کا بیان ہے۔ ان کے کان میں آیت ۵ کی بات کہیں زیادہ زور سے بجتی تھی: "ہم شروع سے تیرا گناہ کر کے تجھ سے بےوفا رہے ہیں۔" یعنی وہ اپنی تباہی کو محض بدنصیبی نہیں کہتے۔ وہ الزام بابل پر نہیں، اپنے آپ پر ڈالتے ہیں، اور پھر بھی خدا کو باپ کہنے کی جسارت کرتے ہیں۔
ایک باریک نکتہ
آیت ۷ کا فقرہ "تجھ سے لپٹنے کی کوشش کرے" عبرانی میں اُس لفظ سے بنا ہے جس کا مطلب ہے مضبوطی سے تھامنا، پکڑ کر نہ چھوڑنا؛ یہی لفظ جنگ میں ہتھیار کو کس کر پکڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دعا یہاں کوئی نرم، جذباتی خیال نہیں ہے۔ یہ خدا کے دامن کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لینا ہے، جیسے یعقوب نے فرشتے کو پکڑا تھا۔ اور قوم کا الزام یہ ہے کہ کوئی ایسا کرنے والا نہ رہا۔ سوچیے: ہماری روحانی سستی عموماً بغاوت کی شکل میں نہیں آتی، ڈھیلے ہاتھوں کی شکل میں آتی ہے۔ ہم انکار نہیں کرتے، ہم صرف پکڑ چھوڑ دیتے ہیں۔
ایک مشکل سوال
باب کا اختتام سب سے کھلا زخم ہے: "کیا تُو خاموش رہ کر ہمیں حد سے زیادہ پست ہونے دے گا؟" اور جواب نہیں آتا۔ آیت ۷ صاف کہتی ہے کہ خدا نے اپنا چہرہ چھپا لیا اور اُنہیں اُن کے قصوروں کے حوالے چھوڑ دیا۔ یہ بات ہمارے اُس تصور سے ٹکراتی ہے جس میں خدا ہر پکار پر فوراً بولتا ہے۔ متن یہ تسلی نہیں دیتا کہ خاموشی کی مدت مختصر ہو گی۔ یہ صرف اتنا کرتا ہے کہ خاموشی کے اندر بھی مخاطب بدلتا نہیں: "اے رب، تاہم تُو ہی ہمارا باپ۔" اس "تاہم" میں ایمان رہتا ہے، سمجھ نہیں۔ اور شاید یہی سب سے ایمان دار جگہ ہے جہاں ہم کھڑے ہو سکتے ہیں۔
غور و فکر کے سوالات
میرا کون سا "راست کام" ہے جسے میں خدا کے سامنے قیمت بنا کر پیش کرتا ہوں، اور اُسے چیتھڑا ماننا مجھے کیوں بھاری لگتا ہے؟
خدا کی خاموشی کے دوران میں نے پکڑ ڈھیلی کی ہے یا کَس کر تھاما ہے، اور یہ میرے روزمرہ کے فیصلوں میں کہاں نظر آتا ہے؟
Isaiah 64 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 64 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 64 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 64 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 64 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 64 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Isaiah 64 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
