یعقوب 5
متن
فصل کاٹنے والوں کے ہاتھ زخمی ہیں، کمر ٹوٹ رہی ہے، اور شام کو مالک کی مٹھی بند رہ جاتی ہے۔ یعقوب اُس بند مٹھی کی طرف انگلی اٹھا کر کہتا ہے: ”دیکھیں، جو مزدوری آپ نے فصل کی کٹائی کرنے والوں سے باز رکھی ہے وہ آپ کے خلاف چلّا رہی ہے۔“ باب کا پہلا حصہ دولت مندوں کے خلاف ایک نبیانہ فردِ جرم ہے، دوسرا حصہ ستائے ہوئے ایمان داروں کو صبر، سچی زبان اور دعا کی تربیت دیتا ہے، اور آخری آیتیں بھٹکنے والے بھائی کو واپس لانے کی ذمہ داری سونپتی ہیں۔ ایک ہی خط میں انصاف کی گرج اور بیمار کے سرہانے تیل کی نرمی، دونوں موجود ہیں۔
مرکزی بات
یعقوب کے خدا کے کان کھلے ہیں۔ مزدور کی چیخ کہیں ہوا میں تحلیل نہیں ہوتی؛ وہ ”آسمانی لشکروں کے رب کے کانوں تک“ پہنچتی ہے۔ یہ نام اتفاقی نہیں: جس کے پاس شکایت پہنچتی ہے، اُس کے پاس فوجیں بھی ہیں۔ دولت خود گناہ نہیں، لیکن سڑی ہوئی دولت گواہ بن جاتی ہے۔ سونے کا زنگ عدالت میں شہادت دیتا ہے کہ یہ خزانہ اُس وقت جمع کیا گیا جب دینا ممکن تھا۔ اور یہی خدا مصیبت زدہ سے کہتا ہے: صبر کرو، منصف دروازے پر کھڑا ہے۔ نجات کا پیغام یہاں مہربان بھی ہے اور خوفناک بھی: وہی قربت جو مظلوم کے لیے تسلی ہے، ظالم کے لیے دہشت ہے۔ فضل کسی کو اندھا نہیں بناتا۔
سلسلۂ کلام
”آپ نے راست باز کو مجرم ٹھہرا کر قتل کیا ہے، اور اُس نے آپ کا مقابلہ نہیں کیا۔“ یعقوب یہاں عام مظلوموں کی بات کر رہا ہے، مگر جو الفاظ اُس نے چنے ہیں وہ ایک خاص چہرے پر آ کر ٹھہر جاتے ہیں۔ ایک راست باز جسے قانونی طور پر مجرم ٹھہرایا گیا اور جس نے جواب میں مقابلہ نہیں کیا: کلوَری اِن الفاظ کے پیچھے سایہ کی طرح کھڑی ہے۔ پرانے عہد کے انبیا نے ”رب کے نام میں کلام پیش کر کے صبر سے دُکھ اُٹھایا“؛ ایوب نے ثابت قدمی سے برداشت کیا؛ اور مسیح میں یہ سلسلہ اپنی انتہا کو پہنچا۔ اِسی لیے صبر یہاں بےبسی نہیں بلکہ اُس کی پیروی ہے جو خاموش رہا کیونکہ وہ منصف پر بھروسا رکھتا تھا۔
آئینہ
کسان کی مثال آپ کے کیلنڈر پر انگلی رکھتی ہے۔ وہ ”خریف اور بہار کی بارشوں“ کے درمیان مہینوں انتظار کرتا ہے، اور آپ تین دن میں جواب نہ ملنے پر خدا سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ آیت نو زیادہ چبھتی ہے: ”ایک دوسرے پر مت بڑبڑانا۔“ دباؤ میں آ کر ہم اوپر والے سے نہیں لڑتے، ساتھ والے سے لڑتے ہیں، بیوی سے، بھائی سے، جماعت کے اُس شخص سے جس نے ہماری قدر نہ کی۔ اور آیت بارہ ہماری بات چیت کو ننگا کرتی ہے: ہم قَسمیں کھاتے ہیں کیونکہ ہمارا سادہ ”ہاں“ بھروسے کے قابل نہیں رہا۔ آج ہی ایک کام کریں: جس شخص کے بارے میں آپ نے پچھلے ہفتے دل میں یا پیٹھ پیچھے بڑبڑایا ہے، اُس کا نام کاغذ پر لکھیں اور دو منٹ اُس کی برکت کے لیے بلند آواز میں دعا کریں۔
مرکزی کردار
اِس باب کے پیچھے کھڑی شخصیت خدا ہی ہے، اور یعقوب اُس کے دو ہاتھ دکھاتا ہے۔ ایک ہاتھ میں ترازو ہے: وہ سنتا ہے، حساب رکھتا ہے، اور ”ذبح کے دن“ خوب فربہ ہو چکے لوگوں سے پوچھے گا۔ دوسرے ہاتھ میں تیل ہے: بزرگ بیمار کے کمرے میں آتے ہیں، خداوند کے نام میں تیل ملتے ہیں، اور ”خداوند اُسے اُٹھا کھڑا کرے گا“۔ یعقوب اِن دونوں کو الگ خانوں میں نہیں رکھتا، بلکہ ایوب کے ذکر پر ایک جملے میں جوڑ دیتا ہے: ”رب بہت مہربان اور رحیم ہے۔“ یہ اُس خدا کی تصویر ہے جو ظلم پر خاموش نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ رحیم ہے، اور جو زخمی کے پاس جھکتا ہے کیونکہ وہ عادل ہے۔
ایک باریک بات
”الیاس ہم جیسا انسان تھا۔“ یونانی میں یہ ایک ہی لفظ ہے، ہومویوپاتھیس، یعنی ہم جیسے احساسات اور کمزوریوں والا۔ یعقوب یہ جملہ اُس آدمی کے بارے میں لکھ رہا ہے جس نے آسمان بند کر دیا تھا، اور وہ جانتا ہے کہ وہی آدمی بعد میں جھاڑی کے نیچے بیٹھ کر موت مانگ رہا تھا۔ نکتہ یہ نہیں کہ آپ بھی بارش روک سکتے ہیں؛ نکتہ یہ ہے کہ دعا کی طاقت دعا کرنے والے کی روحانی حیثیت سے نہیں، خدا کے کان سے آتی ہے۔ اِسی لیے یہ آیت اُس گزارش کے فوراً بعد آتی ہے کہ ”ایک دوسرے کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کریں“۔ اقرار کرنے والا کمزور آدمی ہی مؤثر دعا کرنے والا بنتا ہے۔
دیگر صحائف کی گونج
آیت بارہ یسوع کے پہاڑی وعظ کی براہِ راست گونج ہے، جہاں وہ قَسموں کو منع کر کے سادہ سچائی کا مطالبہ کرتے ہیں؛ یعقوب اپنے بھائی کی تعلیم کو من و عن جماعت کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اور مزدوری روکنے کے بارے میں شریعت پہلے ہی چیخ چکی تھی: استثنا میں حکم ہے کہ مزدور کی مزدوری اُسی دن دو، ورنہ وہ رب سے فریاد کرے گا اور یہ تمہارا گناہ ٹھہرے گا۔ یعقوب کوئی نئی سختی ایجاد نہیں کر رہا؛ وہ اُس پرانی آواز کو دہرا رہا ہے جسے کلیسیا کے دولت مند بھول بیٹھے تھے۔ کلام اپنی ہی بات یاد دلاتا رہتا ہے، جب تک ہم سن لیں۔
غور و فکر
کس مخصوص معاملے میں آپ کا ”ہاں“ اور ”نہیں“ اب اِتنا بھروسے کے قابل نہیں رہا کہ لوگوں کو آپ سے قَسم مانگنی پڑے؟
آپ کی جماعت میں کون ایسا ہے جو بھٹک رہا ہے، اور آپ نے اُسے واپس بلانے کی ذمہ داری کس کے سپرد کر رکھی ہے؟
James 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یعقوب 5 کا کیا مطلب ہے؟
یعقوب 5 کس بارے میں ہے؟
یعقوب 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یعقوب 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یعقوب 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی James 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یعقوب یہ بات اُن لوگوں سے کہہ رہا ہے جن کی مزدوری مالکوں نے روک لی تھی۔ اُن کے زخم تازہ تھے، اور وہ کہتا ہے: "صبر سے خداوند کی آمد کے انتظار میں رہیں۔" پھر وہ کسان کی مثال دیتا ہے۔ کسان بیج تو بو سکتا ہے، مگر بارش نہیں برسا سکتا۔ شاید آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کھیت ہے جہاں آپ نے سب کچھ کر لیا ہے اور اب بس آسمان کی طرف دیکھنا باقی ہے۔ یہ بےبسی نہیں، یہ ایمان ہے۔
اے خدا، میں اپنی کمزوری اور بیماری تیرے سامنے رکھتا ہوں۔ ایمان سے کی گئی دعا تیرے ہاتھ میں ہے، تُو ہی اُٹھانے والا اور معاف کرنے والا ہے۔ جہاں میرا دل ڈگمگاتا ہے، وہاں تُو تھام لے۔ مجھے شفا دے، اور اگر نہ بھی ملے تو اپنی قربت ضرور دے۔
میرے بھائیو، اگر آپ میں سے کوئی سچائی سے بھٹک جائے اور کوئی اُسے واپس لائے۔“ غور کر، یعقوب یہ ذمہ داری کسی بڑے اُستاد یا پاسبان کے سپرد نہیں کرتا۔ وہ بس ”کوئی“ کہتا ہے۔ شاید وہ کوئی تُو ہی ہے۔ ابھی کسی کا چہرہ تیرے ذہن میں آیا؟ اُس تک پہنچنے میں دیر نہ کر۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو ہمیں وقت پر خبردار کرتا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف بڑبڑاتے نہ رہیں۔ شکر ہے کہ منصف دروازے کے سامنے کھڑا ہے، اِس لئے مجھے اپنے بھائی سے بدلہ لینے یا دل میں شکایت پالنے کی ضرورت نہیں۔ تُو انصاف کرے گا، اور یہ میرے دل کو سکون دیتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
