یرمیاہ 1
متن
خداوند کا کلام ایک نوجوان پر نازل ہوتا ہے جو ابھی اپنی زبان پر بھروسا نہیں کر سکتا۔ یرمیاہ، عنتوت کے ایک امام کا بیٹا، سنتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں تشکیل پانے سے پہلے ہی اُسے جانا گیا، مخصوص کیا گیا، اور اقوام کے لئے نبی مقرر کیا گیا۔ وہ اعتراض کرتا ہے، اور رب اُس کے اعتراض کو رد نہیں کرتا بلکہ اُس سے آگے گزر جاتا ہے: ہونٹوں کو چھوتا ہے، الفاظ منہ میں ڈالتا ہے، اور اُسے اُکھاڑنے اور لگانے کے لئے قوموں پر مقرر کرتا ہے۔ پھر دو مناظر: بادام کی ایک شاخ، اور شمال کی طرف سے جھکی ہوئی اُبلتی ہوئی دیگ۔
مرکزی بات
یہاں سب سے پہلے یرمیاہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاتا، بلکہ خدا کے بارے میں۔ ”مَیں تجھے ماں کے پیٹ میں تشکیل دینے سے پہلے ہی جانتا تھا“ کوئی رومانوی جملہ نہیں ہے؛ یہ ایک ایسے خدا کا اعلان ہے جس کا ارادہ ہماری رضامندی سے پہلے موجود ہے۔ یرمیاہ کی بلاہٹ اُس کی صلاحیت، تربیت یا تیاری پر کھڑی نہیں۔ وہ خود کہتا ہے کہ اُس کے پاس ”صحیح علم“ نہیں۔ اور رب اُسے قائل نہیں کرتا کہ وہ دراصل قابل ہے۔ وہ صرف یہ کہتا ہے: جہاں بھیجوں گا، جاؤ گے؛ جو کہوں گا، کہو گے۔ فضل یہاں حوصلہ افزائی کی شکل میں نہیں آتا بلکہ حکم کی شکل میں۔ اور اُس حکم کے اندر ہی وعدہ چھپا ہے: ”مَیں تیرے ساتھ ہوں۔“ یہ بات ٹھہر کر سوچنے کی ہے: کیا ہم اُس خدا کو چاہتے ہیں جو ہمیں پہلے سے جانتا ہو، یا اُسے جو ہماری منظوری کا انتظار کرے؟
مشترکہ دھاگا
بلاہٹ کا یہ نمونہ کتابِ مقدّس میں بار بار لوٹتا ہے: موسیٰ کی ہکلاہٹ، جدعون کی چھوٹائی، یسعیاہ کے ناپاک ہونٹ۔ ہر بار انسان پیچھے ہٹتا ہے اور ہر بار خدا منہ کو چھوتا ہے۔ مگر یرمیاہ کا کام خاص طور پر دوہرا ہے: ”جڑ سے اُکھاڑ کر گرا دینا“ اور ”تعمیر کر کے پودے کی طرح لگا دینا“۔ کلام صرف تسلی نہیں دیتا، وہ توڑتا بھی ہے، اور یہی ترتیب ہے: پہلے اُکھاڑنا، پھر لگانا۔ مسیح میں یہی ترتیب جسم اختیار کرتی ہے۔ وہ کلام جو منہ میں ڈالا گیا تھا، اب خود ایک شخص بن کر آتا ہے؛ وہ صلیب پر اُکھاڑا جاتا ہے تاکہ ایک نئی قوم لگائی جا سکے۔ یرمیاہ اکیلا کھڑا رہا، پیٹا گیا، کنویں میں پھینکا گیا۔ وہ اُس کا پیش خیمہ ہے جو اپنی ہی قوم کے ہاتھوں رد ہوا اور پھر بھی اُن کے لئے روتا رہا۔
آئینہ
”مَیں تو بچہ ہی ہوں“ ایک ایسا جملہ ہے جو ہم عمر بھر دہراتے ہیں، صرف الفاظ بدل جاتے ہیں۔ میں اتنا پڑھا لکھا نہیں۔ میرا ماضی داغدار ہے۔ میرا وقت نہیں۔ میری آواز کانپتی ہے۔ ان میں سے کئی باتیں سچ بھی ہوتی ہیں۔ یرمیاہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔ مگر غور کیجئے: رب نے اُس کی کمزوری کا انکار نہیں کیا، اُس نے صرف یہ کہا کہ اب اِس جملے کو مت دہرانا۔ ہماری عاجزی اکثر فرمانبرداری کو ٹالنے کا شائستہ طریقہ بن جاتی ہے۔ دفتر میں وہ بات جو کہی جانی چاہئے تھی، گھر میں وہ معافی جو مانگی جانی چاہئے تھی، وہ دوست جس سے ایمان کا ذکر کرنا تھا: ہم نے سب کچھ ”مَیں تو بچہ ہی ہوں“ کے نیچے دفن کر دیا۔ آج ایک کام کیجئے: اپنے وہ الفاظ لکھ کر سامنے رکھیں جن سے آپ خود کو نااہل ثابت کرتے ہیں، اور اُن کے نیچے لکھیں: ”مَیں تیرے ساتھ ہوں۔“
تفصیل
بادام کی شاخ کا منظر عجیب ہے، تقریباً معمولی۔ ایک ٹہنی، بس۔ مگر عبرانی میں بادام کے درخت کا نام (شاقید) اور ”دھیان دینا، جاگتے رہنا“ (شوقید) کی آواز ایک جیسی ہے۔ اِسی لئے اُردو ترجمہ اُسے ”دیکھنے والا“ درخت کہتا ہے: بادام سب سے پہلے جاگتا ہے، سردی ختم ہونے سے پہلے ہی پھول دیتا ہے۔ رب کہتا ہے، ”مَیں اپنے کلام کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔“ یعنی وہ کلام جو ابھی صرف ایک نوجوان کے منہ میں ہے، لاوارث نہیں۔ کوئی اُس پر جاگ رہا ہے۔ سالوں تک یرمیاہ کو لگے گا کہ کچھ نہیں ہو رہا، کوئی نہیں سن رہا۔ یہ ننھی شاخ اُس خاموش عرصے کے لئے دی گئی ہے۔ کلام سست نہیں ہے؛ وہ بادام کی طرح وقت سے پہلے جاگتا ہے۔
پس منظر
یرمیاہ کے پہلے سننے والے یروشلم کے وہ لوگ تھے جو خود کو محفوظ سمجھتے تھے۔ یوسیاہ کی اصلاحات جاری تھیں، ہیکل آباد تھی، اور صدیوں سے یہ یقین پختہ تھا کہ خداوند صیون کو کبھی گرنے نہیں دے گا۔ ایسے میں شمال کی طرف جھکی ہوئی اُبلتی دیگ کا منظر ناقابلِ برداشت تھا۔ شمال کا مطلب اسوری اور بابلی لشکر تھا، اور ”اپنا تخت یروشلم کے دروازوں کے سامنے ہی کھڑا کرے گا“ کا مطلب تھا کہ فاتح بادشاہ اُسی جگہ عدالت لگائے گا جہاں یہوداہ کے بزرگ فیصلے کیا کرتے تھے۔ اور سب سے چبھتی بات یہ کہ آفت کا اصل سبب بابل نہیں بلکہ خود رب ہے: ”مَیں شمالی ممالک کے تمام گھرانوں کو بُلا لوں گا۔“ یہ سیاسی تجزیہ نہیں، عدالت ہے، اور اُس کی جڑ ایک ہی ہے: ”اُنہوں نے مجھے ترک کر کے اجنبی معبودوں کے لئے بخور جلایا۔“
بین المتون
خروج 4 میں موسیٰ بھی یہی کہتا ہے کہ وہ بولنے کے قابل نہیں، اور وہاں بھی رب منہ کا ذکر کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ موسیٰ کو ہارون دیا گیا؛ یرمیاہ کو کوئی نہیں دیا جاتا، صرف ایک ہاتھ جو ہونٹوں کو چھوتا ہے۔ دوسری گونج پولس رسول کے ہاں ہے، جو گلتیوں 1 میں لکھتا ہے کہ خدا نے اُسے ماں کے پیٹ سے مخصوص کیا۔ وہ یرمیاہ کی زبان جان بوجھ کر اُدھار لیتا ہے، کیونکہ اُسے بھی قوموں کے پاس بھیجا گیا اور اُسے بھی مخالفت ملی۔ دونوں جگہ وہی منطق کام کرتی ہے: جب بلاہٹ ہماری پیدائش سے پہلے کی ہو، تو لوگوں کی رائے اُسے نہ دے سکتی ہے، نہ چھین سکتی ہے۔ اِسی لئے باب کا آخری لفظ خوف کا نہیں، حفاظت کا ہے: ”مَیں تیرے ساتھ ہوں، مَیں ہی تجھے بچائے رکھوں گا۔“
غور و فکر کے سوالات
رب نے یرمیاہ کو قلعہ بند شہر اور لوہے کا ستون بنایا، مگر لڑائی سے نہیں بچایا۔ کیا میں ایسی حفاظت کو حفاظت ماننے کو تیار ہوں؟
اگر میری زندگی میں کوئی چیز ”اُکھاڑی“ جا رہی ہے، تو کیا میں یہ تصور کر سکتا ہوں کہ وہی ہاتھ بعد میں لگانے والا بھی ہے؟
Jeremiah 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یرمیاہ 1 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ 1 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یرمیاہ 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Jeremiah 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خدا یرمیاہ کو سیدھا بتا بھی سکتا تھا، لیکن اُس نے پوچھا، ”تجھے کیا نظر آتا ہے؟“ وہ اپنے نبی کی آنکھیں کھولنا چاہتا تھا۔ اور جو دکھایا وہ ڈراؤنا تھا: ایک اُبلتی ہوئی دیگ، ٹیڑھی ہو کر اُنڈیلنے کو تیار۔ مگر سوچ، خدا خطرہ پہلے سے دکھا رہا ہے، تاکہ اُس کے لوگ بےخبر نہ پکڑے جائیں۔ آج تیری زندگی میں وہ کیا دکھا رہا ہے جسے تُو دیکھنا نہیں چاہتا؟
اُس نے مجھے ترک کر کے اجنبی معبودوں کے سامنے بخور جلایا اور اپنے ہاتھوں کے بنے ہوئے بُتوں کی پوجا کی ہے۔" غور کریں: جو چیز اُنہوں نے خود بنائی، اُسی کے آگے جھک گئے۔ آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم اپنی محنت، اپنے کاروبار، اپنی عزت خود بناتے ہیں، اور پھر اُسی کے غلام بن جاتے ہیں۔ آپ کے ہاتھوں نے کیا بنایا ہے جو اب آپ کے دل پر حکومت کرتا ہے؟ خدا ناراض نہیں کہ آپ کچھ بناتے ہیں، بلکہ دُکھی ہے کہ آپ نے اُسے چھوڑ دیا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
