یوحنا 10:30
متن
سردیوں کا موسم ہے، حنوکا کی عید ہے، اور خداوند یسوع مسیح بیت المُقدّس کے اُس ستون دار برآمدے میں ٹہل رہے ہیں جسے لوگ سلیمان کا برآمدہ کہتے تھے۔ یہودی اُنہیں گھیر لیتے ہیں اور صاف صاف جواب مانگتے ہیں: ”اگر آپ مسیح ہیں تو ہمیں صاف صاف بتا دیں۔“ وہ اپنے کاموں کی گواہی پیش کرتے ہیں، اپنی بھیڑوں کا ذکر کرتے ہیں جنہیں کوئی اُن کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا، اور باپ کے ہاتھ کا حوالہ دیتے ہیں جو سب سے بڑا ہے۔ پھر، اِس سارے استدلال کے سرے پر، ایک ایسا مختصر فقرہ آتا ہے جو ہر اُلجھن کو ختم کر دیتا ہے: ”مَیں اور باپ ایک ہیں۔“ اگلی ہی آیت میں سننے والوں کے ہاتھ پتھروں کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں؛ وہ سمجھ گئے تھے کہ کیا کہا گیا ہے۔
مرکزی نکتہ
اِس فقرے کی تہہ میں دو باتیں ایک ساتھ کھلتی ہیں۔ پہلی یہ کہ مسیح اپنی ذات کو باپ کے ساتھ اُس سطح پر رکھتے ہیں جہاں کوئی نبی، کوئی فرشتہ، کوئی مسیحائی اُمیدوار خود کو نہیں رکھ سکتا۔ یہودیوں کا الزام اِس کی تصدیق کرتا ہے: ”تم جو صرف انسان ہو اللہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہو۔“ دوسری بات، جو اکثر نظر سے اوجھل رہ جاتی ہے، یہ ہے کہ یہ دعویٰ کسی خلا میں نہیں کیا گیا بلکہ بھیڑوں کی سلامتی کے سلسلے میں کیا گیا۔ آیت 28 اور 29 میں دو ہاتھوں کا ذکر ہے، بیٹے کا ہاتھ اور باپ کا ہاتھ، اور آیت 30 بتاتی ہے کہ یہ دو گرفتیں نہیں، ایک ہی گرفت ہے۔ نجات کی بنیاد یہی ہے: جو آپ کو تھامے ہوئے ہے وہ خدا سے کم کوئی درمیانی واسطہ نہیں، بلکہ خود خدا ہے جو جسم میں چرواہا بن کر آیا۔
مشترکہ دھاگا
حنوکا کی عید یاد دلاتی تھی کہ کس طرح ایک غیر ملکی بادشاہ نے بیت المُقدّس کو ناپاک کیا اور خود کو دیوتا کہلوایا، اور کس طرح خدا نے اپنے لوگوں کو بحال کیا۔ اُسی عید کے چراغوں کے نیچے، اُسی صحن میں، ایک گلیلی نجار کا بیٹا کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ وہ اور باپ ایک ہیں۔ اِس سے بڑا اشتعال شاید ممکن نہ تھا۔ لیکن قصہ یہاں سے پیچھے جاتا ہے: حزقی ایل کی کتاب کے چونتیسویں باب میں خدا اسرائیل کے ناکارہ چرواہوں کو معزول کر کے اعلان کرتے ہیں کہ اب وہ خود آ کر اپنی بھیڑوں کی گلہ بانی کریں گے۔ آیت 11 کا ”اچھا چرواہا مَیں ہوں“ اُس وعدے کا پورا ہونا ہے۔ آیت 30 صرف یہ بتاتی ہے کہ وعدہ کرنے والا اور وعدہ نبھانے والا ایک ہی ہے۔
آئینہ
ہم گرفت کی زبان جلدی سمجھ لیتے ہیں، کیونکہ ہماری زندگی کا بڑا حصہ تھامے رکھنے کی کوشش میں گزرتا ہے۔ وہ بیٹا جو کلیسیا چھوڑ چکا ہے اور جس کے پیغام کا جواب مہینوں سے نہیں آیا۔ وہ رپورٹ جو ڈاکٹر نے لفافے میں دی ہے۔ وہ نوکری جو اگلی سہ ماہی تک رہے گی یا نہیں، کوئی نہیں جانتا۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے ہاتھ ڈھیلا کیا تو سب گر جائے گا، اور یہی خیال ہمیں رات کو جگاتا ہے۔ مسیح کا فقرہ اِس خوف کو رومانوی نہیں بناتا، وہ اُس کی جگہ بدل دیتا ہے: آپ کا ہاتھ آخری ہاتھ نہیں ہے۔ آج ایک کاغذ پر اُس شخص کا نام لکھیں جس کے کھو جانے سے آپ سب سے زیادہ ڈرتے ہیں، اُس نام پر اپنی ہتھیلی رکھیں اور بلند آواز میں یہ الفاظ کہیں: ”کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔“
باریک نکتہ
یونانی میں یہاں ”ایک“ کے لیے لفظ ہے ہین (hen)، اور یہ مذکر نہیں بلکہ غیر جنسی صیغہ ہے۔ فرق باریک ہے مگر فیصلہ کن۔ مسیح یہ نہیں فرما رہے کہ ”مَیں اور باپ ایک ہی شخص ہیں“، جیسے دو نام ایک ہی ہستی کے ہوں۔ وہ فرما رہے ہیں کہ ”ہم ایک چیز ہیں“، یعنی ایک ہی ذات، ایک ہی طاقت، ایک ہی ارادہ، ایک ہی گرفت، جبکہ باپ باپ ہے اور بیٹا بیٹا۔ اِسی لیے آیت 38 میں وہ اِسے یوں کھولتے ہیں کہ ”باپ مجھ میں ہے اور مَیں باپ میں ہوں“۔ دو الگ شخص، مگر الگ ہو کر کام نہیں کرتے۔ جو بیٹے کے ہاتھ سے چھیننا چاہے، وہ دراصل باپ کے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش کر رہا ہے۔
بین المتون
ہر یہودی دن میں دو بار شمع کا اقرار دہراتا تھا، وہی اقرار جو استثنا کی کتاب کے چھٹے باب میں ہے: خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔ یہ اسرائیل کی شناخت تھی، بتوں کی بھیڑ کے خلاف اُس کی ڈھال۔ اب سوچیں کہ اُن کانوں میں ”مَیں اور باپ ایک ہیں“ کیسا گونجا ہو گا۔ کوئی اِسے صرف قربت کا دعویٰ سمجھ کر نظرانداز نہیں کر سکتا تھا؛ یہ اُس ایک ہی خدا کی وحدت کے اندر جگہ لینے کا دعویٰ تھا۔ سننے والوں کا ردِعمل اِسی لیے قانونی تھا، جذباتی نہیں: ”ہم تم کو کسی اچھے کام کی وجہ سے سنگسار نہیں کر رہے بلکہ کفر بکنے کی وجہ سے۔“ یا وہ ٹھیک تھے، یا مسیح واقعی وہی ہیں جو وہ کہتے ہیں۔ تیسرا راستہ اِس متن میں موجود نہیں۔
مرکزی کردار
تصور کریں: سردیوں کی ہوا، پتھر کے ستونوں کے درمیان ٹہلتا ایک آدمی، اور اُس کے گرد سکڑتا ہوا ہجوم۔ وہ مکالمہ نرم کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا، بلکہ اُنہیں یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ ”تم میری بھیڑیں نہیں ہو“۔ یہ جملہ چبھتا ہے، اور چبھنا ہی چاہیے۔ پھر جب ہاتھوں میں پتھر آ جاتے ہیں تو وہ بھاگتا نہیں، سوال کرتا ہے: کس نشان کی وجہ سے؟ یہاں ہم مسیح کے باطن کی جھلک دیکھتے ہیں۔ وہ اپنی حفاظت کے لیے دعویٰ واپس نہیں لیتا، کیونکہ اُس کی جان اُس سے چھینی نہیں جا سکتی، وہ اُسے اپنی مرضی سے دیتا ہے۔ یہی وہ چرواہا ہے جو بھیڑیے کو دیکھ کر بھاگنے والا مزدور نہیں۔ اُس کی سلامتی اپنی جان میں نہیں، باپ کے ساتھ اپنی وحدت میں ہے، اور اِسی لیے وہ ہماری سلامتی بن سکتا ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں کون سی چیز ہے جسے آپ اپنی مٹھی میں تھامے ہوئے ہیں، اور آیت 30 اُس گرفت کے بارے میں آپ سے کیا کہتی ہے؟
اگر مسیح کا یہ دعویٰ سچ ہے تو اُن کی آواز کو سننا آپ کے اِس ہفتے کے کسی ایک فیصلے میں عملاً کیا بدلے گا؟
John 10:30 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 10:30 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 10:30 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 10:30 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 10:30 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 10:30 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 10 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے میرے چرواہے، میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو خطرے کے وقت چھوڑ کر چلے گئے، اور مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تُو بھی ایسا ہی ہو۔ مگر تُو بھاڑے کا نہیں، تُو میرا ہے۔ جب بھیڑیا قریب آئے، مجھے یاد دلا کہ تُو ٹھہرا رہتا ہے۔
اے خدا، تیرے بارے میں لوگوں کی رائے بٹی ہوئی ہے، اور کبھی میرا دل بھی الجھ جاتا ہے۔ شور کے درمیان مجھے اپنی آواز پہچاننے کی توفیق دے۔ جہاں سمجھ کم پڑ جائے، وہاں بھروسہ بڑھا دے، اور مجھے تیرے پیچھے چلتے رہنے کا حوصلہ دے۔
اے خدا، جب لوگوں کی مخالفت اور شور بڑھ جاتا ہے تو مجھے بھی وہ جگہ یاد آتی ہے جہاں تُو نے پہلی بار مجھے اپنا بنایا تھا۔ مجھے وہیں لوٹا لے، اپنی خاموشی میں، اپنی حضوری میں۔ مجھے سکون دے کہ میں تیرے ساتھ ٹھہر سکوں اور نئی طاقت پاؤں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں