بائبل کی تشریح

یوحنا 20:17

بائبل

متن

قبر کے سامنے آنسوؤں سے بھرا وہ لمحہ ابھی تھما ہی تھا کہ خداوند نے مریم سے کہا، ”میرے ساتھ چمٹی نہ رہ، کیونکہ ابھی مَیں اوپر، باپ کے پاس نہیں گیا۔“ ایک ہی سانس میں وہ اُسے اپنے آپ سے ہٹاتے بھی ہیں اور بھیجتے بھی ہیں: ”لیکن بھائیوں کے پاس جا اور اُنہیں بتا،“ اور پھر وہ پیغام جو مریم کو یاد رکھنا تھا، ”مَیں اپنے باپ اور تمہارے باپ کے پاس واپس جا رہا ہوں، اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس۔“ یعنی: جو کھویا ہوا سمجھا گیا تھا وہ زندہ ہے، مگر وہ اُسی پرانی صورت میں واپس نہیں آیا۔ وہ اوپر جا رہا ہے، اور جاتے ہوئے اپنے پیچھے چھوڑنے والوں کو ”بھائی“ کہہ کر پکارتا ہے۔

اصل بات

یہ آیت قیامت کی خوشی کو ایک نئے رشتے میں بدل دیتی ہے۔ مریم چاہتی تھی کہ جمعہ کی رات جو چھن گیا تھا وہ واپس مل جائے: وہی اُستاد، وہی قدم، وہی آواز۔ مگر خداوند اُسے ماضی لوٹا کر تسلی نہیں دیتے؛ وہ اُسے آگے کی طرف دھکیلتے ہیں۔ ”اپنے باپ اور تمہارے باپ“ اور ”اپنے خدا اور تمہارے خدا“ میں دو باتیں ایک ساتھ کہی گئی ہیں: مسیح کا بیٹا ہونا اور ہمارا بیٹا بنایا جانا برابر نہیں، لیکن اب جدا بھی نہیں۔ جو رشتہ ازل سے صرف اُس کا تھا، وہ اب اُن لوگوں تک پھیل رہا ہے جو تین دن پہلے ڈر کر بھاگ گئے تھے۔ نجات یہی ہے: خدا کا فرزند اپنے باپ کے پاس جا رہا ہے، اور جاتے وقت ہمیں اپنے ساتھ گھر میں شامل کر لیتا ہے۔ اِسی لیے وہ اُنہیں ”شاگرد“ نہیں، ”بھائیوں“ کہتا ہے۔

مشترکہ سلسلہ

عہدِ عتیق میں خدا اپنی قوم سے بار بار ایک ہی وعدہ دہراتا ہے: مَیں تمہارا خدا ہوں گا اور تم میری قوم ہو گے۔ یہ عہد کی زبان ہے، مصر سے نکلنے والوں کی زبان۔ اب وہی جملہ ایک خالی قبر کے باہر، ایک روتی ہوئی عورت کے کان میں، دو بار ٹوٹ کر بولا جاتا ہے: ”اپنے باپ اور تمہارے باپ کے پاس، اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس۔“ فرق یہ ہے کہ اب یہ عہد کسی پہاڑ پر بجلی اور دھوئیں کے بیچ نہیں باندھا جا رہا، بلکہ ایک زندہ ہوئے آدمی کے زخمی جسم میں مکمل ہو رہا ہے۔ زبور میں مسیح کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کے سامنے خدا کا نام ظاہر کرے گا۔ یہاں وہ عین یہی کر رہے ہیں، اور جنہیں وہ ”بھائی“ کہتے ہیں وہ اُس وقت بند دروازوں کے پیچھے شرمندہ بیٹھے ہیں۔

آئینہ

مریم کی مٹھی ہم سب کو معلوم ہے۔ ہم بھی اُس چیز کو پکڑے رہنا چاہتے ہیں جو ہمیں ایک بار محفوظ لگی تھی: وہ نوکری جو اب ختم ہو چکی، وہ صحت جو چالیس کے بعد ویسی نہیں رہی، وہ بچہ جو اب مشورہ نہیں مانگتا، ایمان کا وہ گرم دور جب دعا آسان لگتی تھی۔ ہم اُس پرانی صورت کو خدا کی موجودگی کا واحد نمونہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور جب وہ صورت بدلتی ہے تو ہمیں لگتا ہے خدا چلا گیا۔ خداوند مریم سے اُس کی محبت نہیں چھینتے، صرف اُس کی گرفت ڈھیلی کرواتے ہیں، اور اُسی ہاتھ کو کام دیتے ہیں: جا، اور بتا۔ آج ایک کام کریں: کسی ایک ایسے شخص کا نام سوچیں جو اِس وقت بند دروازے کے پیچھے بیٹھا ہے، اور اُسے ابھی ایک مختصر پیغام بھیجیں جس میں لکھیں کہ خداوند نے حال ہی میں آپ کی زندگی میں کیا کیا ہے۔

ایک باریک نکتہ

”چمٹی نہ رہ“ کا یونانی فعل ایسا ہے جو جاری عمل کو روکتا ہے: چھونا شروع نہ کر نہیں، بلکہ جو تُو کر رہی ہے وہ بند کر۔ یعنی مریم پہلے ہی اُن کے قدموں سے لپٹی ہوئی ہے۔ منظر کو ذرا سست کر کے دیکھیے: اُس نے آواز پہچانی، ”ربونی!“ کہا، اور آگے بڑھ کر تھام لیا، جیسے ڈر ہو کہ ہاتھ ڈھیلا ہوا تو یہ خواب ٹوٹ جائے گا۔ خداوند کا جواب سرد نہیں، عملی ہے۔ وہ اُسے کہتے ہیں کہ یہ ملاقات منزل نہیں، آغاز ہے؛ اب مجھے قید کرنے کی نہیں، مجھے پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایک ماتم کرنے والی عورت گواہ بن جاتی ہے۔

وہ سوال

پھر یہ کیوں کہ ایک ہفتے بعد وہی خداوند توما سے کہتے ہیں کہ اپنی اُنگلی میرے ہاتھوں اور اپنا ہاتھ میرے پہلو کے زخم میں ڈال؟ تب تک بھی تو وہ اوپر نہیں گئے تھے۔ اگر چھونا ممنوع تھا تو توما کو دعوت کیوں؟ ایمانداری سے کہوں تو یوحنا ہمیں اِس کی صاف وضاحت نہیں دیتا، اور جو تفصیل وہ نہیں دیتا اُسے بھر دینا ہمارا کام نہیں۔ مگر ایک فرق نمایاں ہے: توما کو چھونے کے لیے بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ایمان لائے، جبکہ مریم چھو کر روکنا چاہتی ہے۔ ایک ہاتھ سوال لے کر بڑھتا ہے، دوسرا قبضہ کرنے کے لیے۔ باقی جو کچھ ہے، وہ اُس نئے جسم کا بھید ہے جسے قبر تھام نہ سکی؛ اُس بھید کے سامنے خاموش رہنا بہتر ہے۔

پہلے سننے والے

یوحنا کی جماعت اُس دور میں یہ سن رہی تھی جب مسیح پر ایمان لانے کا مطلب اکثر عبادت گاہ سے، خاندان سے، برادری سے کٹ جانا تھا۔ یتیمی کا احساس اُن کے لیے استعارہ نہیں، روزمرہ کا تجربہ تھا۔ اُن کانوں میں ”تمہارے باپ“ اور ”تمہارے خدا“ کسی نرم تسلی کی طرح نہیں، ایک نئے شناختی کارڈ کی طرح گرے ہوں گے: تمہیں گھر سے نکالا گیا، مگر تمہارا اصل گھر کہیں اور ہے۔ اور یہ خبر اُن تک کس کے ذریعے پہنچی؟ ایک عورت کے، جس کی گواہی اُس زمانے کی عدالت میں وزن نہ رکھتی تھی۔ اگر کوئی کہانی گھڑنی ہوتی تو ایسے گواہ کا انتخاب کوئی نہ کرتا۔ یہی بےترتیبی اِس خبر کی سچائی کی مہر ہے۔

غور و فکر کے سوالات

خداوند کی موجودگی کی کون سی ”پرانی صورت“ آپ اب تک مٹھی میں بند کیے ہوئے ہیں، اور اُسے کھولنے سے آپ کو کس بات کا ڈر ہے؟

اگر خداوند آج آپ کے ساتھ سلوک اپنے ”بھائی“ جیسا کرتے ہیں، تو آپ کی دعا کا لہجہ کس طرح بدلنا چاہیے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

John 20:17 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یوحنا 20:17 کا کیا مطلب ہے؟
قبر کے سامنے آنسوؤں سے بھرا وہ لمحہ ابھی تھما ہی تھا کہ خداوند نے مریم سے کہا، ”میرے ساتھ چمٹی نہ رہ، کیونکہ ابھی مَیں اوپر، باپ کے پاس نہیں گیا۔“ ایک ہی سانس میں وہ اُسے اپنے آپ سے ہٹاتے بھی ہیں اور بھیجتے بھی ہیں: ”لیکن بھائیوں کے پاس جا اور اُنہیں بتا،“ اور پھر وہ پیغام جو مریم کو یاد رکھنا تھا، ”مَیں اپنے باپ اور تمہارے باپ کے پاس واپس جا رہا ہوں، اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس۔“ یعنی: جو کھویا ہوا سمجھا گیا تھا وہ زندہ ہے، مگر وہ اُسی پرانی صورت میں واپس نہیں آیا۔ وہ اوپر جا رہا ہے، اور جاتے ہوئے اپنے پیچھے چھوڑنے والوں کو ”بھائی“ کہہ کر پکارتا ہے۔
یوحنا 20:17 کس بارے میں ہے؟
عہدِ عتیق میں خدا اپنی قوم سے بار بار ایک ہی وعدہ دہراتا ہے: مَیں تمہارا خدا ہوں گا اور تم میری قوم ہو گے۔ یہ عہد کی زبان ہے، مصر سے نکلنے والوں کی زبان۔ اب وہی جملہ ایک خالی قبر کے باہر، ایک روتی ہوئی عورت کے کان میں، دو بار ٹوٹ کر بولا جاتا ہے: ”اپنے باپ اور تمہارے باپ کے پاس، اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس۔“ فرق یہ ہے کہ اب یہ عہد کسی پہاڑ پر بجلی اور دھوئیں کے بیچ نہیں باندھا جا رہا، بلکہ ایک زندہ ہوئے آدمی کے زخمی جسم میں مکمل ہو رہا ہے۔ زبور میں مسیح کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کے سامنے خدا کا نام ظاہر کرے گا۔ یہاں وہ عین یہی کر رہے ہیں، اور جنہیں وہ ”بھائی“ کہتے ہیں وہ اُس وقت بند دروازوں کے پیچھے شرمندہ بیٹھے ہیں۔
یوحنا 20:17 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
”چمٹی نہ رہ“ کا یونانی فعل ایسا ہے جو جاری عمل کو روکتا ہے: چھونا شروع نہ کر نہیں، بلکہ جو تُو کر رہی ہے وہ بند کر۔ یعنی مریم پہلے ہی اُن کے قدموں سے لپٹی ہوئی ہے۔ منظر کو ذرا سست کر کے دیکھیے: اُس نے آواز پہچانی، ”ربونی!“ کہا، اور آگے بڑھ کر تھام لیا، جیسے ڈر ہو کہ ہاتھ ڈھیلا ہوا تو یہ خواب ٹوٹ جائے گا۔ خداوند کا جواب سرد نہیں، عملی ہے۔ وہ اُسے کہتے ہیں کہ یہ ملاقات منزل نہیں، آغاز ہے؛ اب مجھے قید کرنے کی نہیں، مجھے پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایک ماتم کرنے والی عورت گواہ بن جاتی ہے۔
یوحنا 20:17 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا کی جماعت اُس دور میں یہ سن رہی تھی جب مسیح پر ایمان لانے کا مطلب اکثر عبادت گاہ سے، خاندان سے، برادری سے کٹ جانا تھا۔ یتیمی کا احساس اُن کے لیے استعارہ نہیں، روزمرہ کا تجربہ تھا۔ اُن کانوں میں ”تمہارے باپ“ اور ”تمہارے خدا“ کسی نرم تسلی کی طرح نہیں، ایک نئے شناختی کارڈ کی طرح گرے ہوں گے: تمہیں گھر سے نکالا گیا، مگر تمہارا اصل گھر کہیں اور ہے۔ اور یہ خبر اُن تک کس کے ذریعے پہنچی؟ ایک عورت کے، جس کی گواہی اُس زمانے کی عدالت میں وزن نہ رکھتی تھی۔ اگر کوئی کہانی گھڑنی ہوتی تو ایسے گواہ کا انتخاب کوئی نہ کرتا۔ یہی بےترتیبی اِس خبر کی سچائی کی مہر ہے۔
یوحنا 20:17 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر خداوند آج آپ کے ساتھ سلوک اپنے ”بھائی“ جیسا کرتے ہیں، تو آپ کی دعا کا لہجہ کس طرح بدلنا چاہیے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی John 20 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 16

اے خداوند، میں بھی کبھی آنسوؤں میں تجھے پہچان نہیں پاتی، تُو قریب ہوتا ہے اور مجھے خبر نہیں ہوتی۔ مجھے میرے نام سے پکار، تاکہ میرا دل مُڑ جائے اور تجھے دیکھ سکے۔ میری اداسی کے بیچ اپنی آواز سنا دے، یہی کافی ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 2

مریم قبر پر کھڑی ہو کر یہ نہیں کہتی کہ ”وہ جی اُٹھا“ بلکہ ”وہ خداوند کو قبر سے نکال کر کہیں اَور رکھ گئے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ کہاں۔“ سب سے پہلی گواہ اپنی اُلجھن لے کر بھاگی، یقین لے کر نہیں۔ اور پھر بھی یسوع نے اُسی کو سب سے پہلے اپنا چہرہ دکھایا۔ تیرے نہ سمجھنے سے وہ ناراض نہیں ہوتا۔ بس تُو قبر کے پاس سے بھاگ کر اُن کے پاس جا جو تیرے ساتھ ڈھونڈیں۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 18

خداوند، شکر ہے کہ تُو نے مریم مگدلینی کو سب سے پہلے اپنا دیدار بخشا اور اُس کی زبان پر یہ خوشخبری رکھی، ”مَیں نے خداوند کو دیکھا ہے۔“ شکر کہ تُو آج بھی ٹوٹے دلوں سے ملتا اور اُنہیں اپنی زندہ گواہی سونپ دیتا ہے۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 25

خداوند، شکر ہے کہ توما کے اِن الفاظ کو کہ ”جب تک مَیں اُس کے ہاتھوں میں کیلوں کے نشان نہ دیکھوں... مَیں ہرگز یقین نہیں کروں گا“ تُو نے ٹھکرایا نہیں۔ شکر کہ تُو نے اپنے زخم دکھانے کے لیے دوبارہ آنے کی زحمت اُٹھائی۔ میرے شکوں کے ساتھ بھی تُو ایسا ہی نرمی سے پیش آتا ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟