یوحنا 20
متن
اندھیرا ابھی چھٹا نہیں تھا جب مریم مگدلینی قبر کے پاس پہنچی اور پتھر ہٹا ہوا پایا۔ اُس کی خبر پر پطرس اور دوسرا شاگرد دوڑ پڑے، خالی قبر میں کفن کی پٹیاں اور تہہ کیا ہوا کپڑا دیکھا، اور واپس چلے گئے۔ مریم روتی رہی، جب تک ایک آواز نے اُس کا نام نہ لیا۔ اُسی شام مقفل دروازوں کے پیچھے ڈرے ہوئے شاگردوں کے درمیان عیسیٰ آ کھڑے ہوئے، سلامتی دی، زخم دکھائے، روح پھونکی، اور بھیجا۔ ایک ہفتے بعد توما کے شک کو بھی اُسی نرمی سے چھوا گیا، اور یوحنا اپنی کتاب کا مقصد کھول کر بیان کرتا ہے: تاکہ آپ ایمان لائیں اور زندگی پائیں۔
مرکزی بات
غور کریں کہ جی اُٹھا ہوا خداوند کسی کو ملامت نہیں کرتا۔ نہ مریم کو، جو اُسے مالی سمجھ بیٹھی؛ نہ اُن شاگردوں کو، جنہوں نے تالے لگا رکھے تھے کیونکہ وہ ڈرتے تھے؛ نہ توما کو، جس نے صاف کہا، ”مجھے یقین نہیں آتا۔“ قیامت کا پہلا پھل عدالت نہیں، سلامتی ہے: ”تمہاری سلامتی ہو۔“ یہی انجیل کا مرکز ہے۔ صلیب پر گناہ کا حساب چکایا گیا، اِس لیے قبر سے نکلنے والا بدلہ لینے نہیں آتا بلکہ بحال کرنے آتا ہے۔ اور جو ہاتھ وہ دکھاتے ہیں وہ نئے ہاتھ نہیں، زخموں والے ہاتھ ہیں۔ نجات ماضی کو مٹا کر نہیں، اُسے اپنے جسم میں اُٹھا کر آتی ہے۔
سلسلۂ نجات
باغ میں سب کچھ ٹوٹا تھا؛ باغ ہی میں سب کچھ جڑتا ہے۔ مریم ایک باغبان سے بات کر رہی ہے، اور وہ واقعی نئی خلقت کا باغبان ہے۔ پھر وہ لفظ آتا ہے جو پیدائش کی کتاب سے گونجتا ہے: ”اُن پر پھونک کر اُس نے فرمایا، ’روح القدس کو پا لو۔‘“ جس طرح خدا نے مٹی کے پُتلے میں دم پھونکا اور وہ جیتا انسان ہوا، اُسی طرح مسیح اپنی جماعت میں دم پھونکتے ہیں اور وہ گواہ بن جاتی ہے۔ اور پہلی بار وہ کہتے ہیں ”بھائیوں کے پاس جا“ اور ”اپنے باپ اور تمہارے باپ کے پاس“: صلیب سے پہلے وہ شاگرد تھے، اب رشتہ دار ہیں۔ یہی وہ گود لینا ہے جس کا وعدہ پرانے عہد نامے نے کیا تھا۔
آئینہ
مریم قبر پر رو رہی ہے، اور مسیح اُس کے پیچھے کھڑے ہیں۔ یہ منظر آپ کی زندگی میں بھی کہیں چل رہا ہے: وہ رشتہ جو ٹھنڈا پڑ گیا، وہ رپورٹ جو ڈاکٹر نے دی، وہ نوکری جو ہاتھ سے نکل گئی، وہ بچہ جو دور ہو گیا۔ ہم آنسوؤں کو غلط نہیں سمجھتے، مسیح نے بھی نہیں سمجھا؛ اُنہوں نے صرف نام لیا۔ لیکن آئینہ اِس سے آگے بھی دکھاتا ہے: شاگردوں کے تالے۔ ہم بھی ڈر کے مارے دروازے بند کرتے ہیں، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ زندگی تنگ کیوں لگتی ہے۔ آج ایک کام کریں: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جسے آپ نے ابھی تک دل سے معاف نہیں کیا، اور بلند آواز سے کہیں، ”میں تمہیں مسیح کے نام میں معاف کرتا ہوں۔“ آیت ۲۳ آپ کے ہاتھ میں یہی اختیار رکھتی ہے۔
پہلے سننے والے
یوحنا جن کے لیے لکھ رہا ہے وہ عینی گواہ نہیں تھے۔ وہ دوسری، تیسری نسل کے ایماندار تھے، اکثر عبادت گاہ سے نکالے ہوئے، خاندان میں تنہا، رومی حکومت کے سائے میں مشکوک۔ اُن کے دل میں ایک تیز سوال تھا: ہم نے تو کچھ نہیں دیکھا، ہمارا ایمان اُن سے کمتر تو نہیں؟ اِسی لیے آیت ۲۹ اُن کے لیے سونے کی طرح تھی: ”مبارک ہیں وہ جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لاتے ہیں۔“ یہ توما کی توہین نہیں، بعد میں آنے والوں کی برکت ہے۔ اور جب اُنہوں نے سنا کہ شاگردوں نے یہودیوں کے ڈر سے دروازوں پر تالے لگائے تھے، تو اُنہیں اپنے چھپ کر جمع ہونے والے کمرے یاد آئے، اور یہ یقین کہ مقفل دروازے مسیح کو نہیں روکتے۔
ایک باریک نکتہ
”یہ کپڑا تہہ کیا گیا تھا اور پٹیوں سے الگ پڑا تھا۔“ یہ جملہ بےمقصد تفصیل نہیں۔ قبر لُٹی ہوئی نہیں لگتی۔ چور جلدی میں کفن کھول کر لاش نہیں اُٹھاتے؛ اور اگر اُٹھاتے، تو سر کا کپڑا سلیقے سے تہہ کر کے الگ نہ رکھتے۔ اِسی ترتیب نے دوسرے شاگرد کے اندر ایمان جگایا: ”جب اُس نے یہ دیکھا تو وہ ایمان لایا۔“ لعزر کو جب باہر بلایا گیا تھا تو وہ کفن میں بندھا ہوا نکلا تھا، اُسے کھولنا پڑا۔ یہاں کوئی بندھن باقی نہیں۔ لعزر موت سے چھٹی پر آیا تھا؛ مسیح موت سے باہر نکل گئے۔ اور خالی قبر کا سب سے پُرسکون ثبوت ایک تہہ کیا ہوا رومال ہے۔
کلام کی گواہی
پولس رسول اِسی گواہی کو سب سے پرانی روایت کہہ کر دہراتا ہے کہ مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھے اور بہت سوں کو دکھائی دیے؛ یعنی یوحنا کا یہ باب کوئی تنہا کہانی نہیں بلکہ کلیسیا کی بنیادی خبر ہے۔ دوسری طرف لوقا کی انجیل میں عمواس کے راستے پر بھی وہی نمونہ ہے: دو شاگرد مسیح کے ساتھ چلتے ہیں اور اُنہیں پہچانتے نہیں، جب تک ایک لمحہ آنکھیں نہ کھول دے۔ مریم کے لیے وہ لمحہ ایک لفظ تھا: ”مریم!“ پہچان ہماری تیز نظر سے نہیں آتی، اُس کی پکار سے آتی ہے۔ اِسی لیے یوحنا آخر میں پردہ اُٹھا دیتا ہے: ”جتنے درج ہیں اُن کا مقصد یہ ہے کہ آپ ایمان لائیں۔“
غور و فکر کے سوالات
مریم نے جی اُٹھے خداوند کو پہچانا جب اُنہوں نے اُس کا نام لیا۔ آپ کی زندگی میں وہ کون سا لمحہ تھا جب آپ کو لگا کہ خدا آپ کو نام سے جانتا ہے، اور آپ اُس یاد کے ساتھ آج کیا کرتے ہیں؟
شاگردوں نے ڈر کے مارے دروازوں پر تالے لگائے تھے۔ آپ کی زندگی کا کون سا دروازہ آج بند ہے، اور کیا آپ واقعی چاہتے ہیں کہ مسیح وہاں آ کر کھڑے ہوں؟
John 20 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 20 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 20 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 20 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 20 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 20 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 20 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ توما کے اِن الفاظ کو کہ ”جب تک مَیں اُس کے ہاتھوں میں کیلوں کے نشان نہ دیکھوں... مَیں ہرگز یقین نہیں کروں گا“ تُو نے ٹھکرایا نہیں۔ شکر کہ تُو نے اپنے زخم دکھانے کے لیے دوبارہ آنے کی زحمت اُٹھائی۔ میرے شکوں کے ساتھ بھی تُو ایسا ہی نرمی سے پیش آتا ہے۔
قبر میں سب کچھ ترتیب سے تھا۔ "جبکہ وہ کپڑا جس میں سر لپٹا ہوا تھا کفن کے ساتھ نہیں تھا بلکہ لپٹا ہوا الگ پڑا تھا۔" چور جلدی میں سب کچھ بکھیر دیتے ہیں۔ یہاں کوئی افراتفری نہیں۔ یسوع نے موت کو ایسے اُتارا جیسے کوئی کپڑا تہہ کر کے رکھ دے۔ جس چیز سے تُو کانپتا ہے، وہ اُس کے لئے سمیٹنے کی بات تھی۔
مریم قبر میں جھانکتی ہے اور دو فرشتے دیکھتی ہے، ”ایک اُس کے سرہانے اور دوسرا وہاں جہاں اُس کے پاؤں تھے۔“ اُن کے درمیان خالی جگہ ہے۔ وہی جگہ جہاں موت رکھی گئی تھی، اب رحمت کا تخت بن چکی ہے۔ مریم آنسوؤں میں لاش ڈھونڈ رہی تھی، مگر خدا نے اُسے خالی پن دکھایا جو دراصل جیت تھی۔ تیری زندگی کا وہ خالی کونا بھی شاید قبر نہیں، بلکہ وہ جگہ ہے جہاں سے وہ اُٹھ چکا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں