یوحنا 8:34
متن
ابراہیم کی اولاد ہونے کے دعوے داروں نے ابھی ابھی کہا تھا، ”ہم کبھی بھی کسی کے غلام نہیں رہے۔“ اِسی فخر کے جواب میں خداوند یسوع مسیح ایک ایسا جملہ رکھتے ہیں جو کسی دلیل کی طرح نہیں بلکہ تشخیص کی طرح آتا ہے: ”مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ جو بھی گناہ کرتا ہے وہ گناہ کا غلام ہے۔“ یعنی غلامی کا سوال قومی تاریخ یا نسب نامے کا سوال نہیں، بلکہ اُس چیز کا سوال ہے جو انسان کے اندر حکم چلا رہی ہے۔ آپ آزاد شہری ہو سکتے ہیں، عبادت گاہ میں بیٹھے ہو سکتے ہیں، شریعت کے وارث ہو سکتے ہیں، اور پھر بھی ایک ایسے آقا کے تابع ہوں جس کا نام آپ زبان پر لانا پسند نہیں کرتے۔
اصل بات
یہاں گناہ کو کسی فہرست کی خلاف ورزی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک طاقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یونانی لفظ دولوس (غلام) کسی ملازم یا مزدور کے لیے نہیں، بلکہ اُس شخص کے لیے ہے جس کی ملکیت کوئی اور رکھتا ہے؛ جس کے پاس اپنی مرضی سے کہیں جانے کا اختیار ہی نہیں۔ مسیح کی بات یہ ہے کہ گناہ کرنے والا محض غلط قدم نہیں اُٹھاتا، وہ اپنے اوپر ایک مالک کو تسلیم کر لیتا ہے۔ اِسی لیے نجات کو یہاں معافی سے بھی بڑھ کر کچھ کہا گیا ہے: رہائی، مالکانہ حق کی تبدیلی۔ اور یہ بھی کہ کوئی غلام اپنے آپ کو آزاد نہیں کر سکتا؛ اُسے وہی آزاد کر سکتا ہے جو گھر میں بیٹا ہے، جیسا کہ اگلی ہی سانس میں کہا جاتا ہے: ”اگر فرزند تم کو آزاد کرے تو تم حقیقتاً آزاد ہو گے۔“
سلسلۂ نجات
اِن لوگوں کا جملہ ”ہم کبھی بھی کسی کے غلام نہیں رہے“ تاریخی لحاظ سے حیران کن حد تک غلط ہے۔ اُن کی پوری قومی یاد مصر کی اینٹوں، فرعون کے کوڑوں اور فسح کی رات پر کھڑی ہے۔ ہر سال وہ خود کہتے تھے: ہم غلام تھے اور خدا نے ہمیں چھڑایا۔ خداوند یسوع مسیح اُس یاد کو ایک قدم اور اندر لے جاتے ہیں: اصل مصر سرحد کے باہر نہیں، دل کے اندر ہے۔ فدیہ اور رہائی کی وہ ساری زبان جو خروج سے شروع ہوئی، جو یوبلی کے سال میں قرض داروں اور غلاموں کی آزادی میں دہرائی گئی، یہاں اپنی آخری منزل پر پہنچتی ہے۔ نجات کا مطلب صرف عذاب سے بچنا نہیں؛ اِس کا مطلب مالک بدلنا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ صلیب کو کلامِ مقدّس میں قیمت ادا کرنے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، کیونکہ غلام خریدے جاتے ہیں، صرف سمجھائے نہیں جاتے۔
آئینہ
غور کریں کہ آپ کس چیز کے بارے میں یہ کہتے ہیں: ”یہ میری عادت ہے“، ”میرا مزاج ہی ایسا ہے“، ”سب کرتے ہیں“۔ وہ رات گیارہ بجے کی سکرین جس پر آپ ہاتھ رکھے بغیر نہیں سو سکتے۔ وہ خرچ جس کا حساب آپ گھر میں کسی کو نہیں بتاتے۔ وہ لہجہ جو آپ اپنے بچے کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اور پھر تھکن کو ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔ وہ ناراضی جو آپ کسی رشتہ دار کے خلاف بار بار دل میں دہراتے ہیں، کیونکہ اُسے دہرانے میں ایک عجیب مزہ ہے۔ مسیح یہ نہیں کہتے کہ آپ کمزور ہیں؛ وہ کہتے ہیں کہ آپ کسی کے قبضے میں ہیں۔ اور یہ بات آزاد شہری، کلیسیا کے خدمت گزار اور بائبل پڑھنے والے پر بھی اِسی طرح لاگو ہوتی ہے۔ آج ہی، تنہائی میں، اُس ایک چیز کا نام بلند آواز سے کہیے اور اُسے ”عادت“ کہنے کے بجائے اُس کے اصل نام سے پکاریے: ”یہ میری غلامی ہے“، اور پھر فرزند سے رہائی مانگیے۔
سیاق و سباق
ہم یروشلیم میں ہیں، عید کے دنوں کے بعد، ہیکل کے اُس صحن کے قریب جہاں لوگ ہدیہ ڈالتے تھے۔ شہر رومی قبضے میں ہے؛ گلی میں رومی سپاہی چلتے ہیں، ٹیکس روم کو جاتا ہے، سردار کاہن کا تقرر بھی بیرونی طاقت کی مرضی سے ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ کہنا کہ ”ہم کبھی بھی کسی کے غلام نہیں رہے“ سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک روحانی دعویٰ ہے: ہمارے پاس ابراہیم کا نسب اور موسیٰ کی شریعت ہے، اِس لیے ہم اندر سے آزاد ہیں، خواہ باہر سے مقبوضہ ہوں۔ اور خاص بات یہ ہے کہ مسیح یہ سخت جملہ دشمنوں سے نہیں، اُن سے کہتے ہیں جن کے بارے میں لکھا ہے: ”جو یہودی اُس کا یقین کرتے تھے“۔ سب سے چبھنے والی بات ہمیشہ سب سے قریب والوں کے لیے ہوتی ہے۔
ایک باریک نکتہ
اردو ترجمہ ”جو بھی گناہ کرتا ہے“ یونانی کے اُس پہلو کو محفوظ رکھتا ہے جو اہم ہے: یہ ایک لمحاتی لڑکھڑاہٹ نہیں بلکہ جاری عمل ہے، وہ کام جو آدمی کرتا رہتا ہے۔ مسیح یہ نہیں کہہ رہے کہ ایک غلطی آپ کو غلام بنا دیتی ہے؛ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جس چیز کی آپ مسلسل خدمت کرتے ہیں، وہی آپ کا مالک ہے۔ غلامی کی پہچان زنجیر نہیں، بلکہ حاضری ہے: آپ روز کہاں حکم بجا لانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ یہ نکتہ دو غلط راستوں کو بند کرتا ہے۔ ایک اُس کے لیے جو ہر ٹھوکر پر خود کو ناامیدی میں دھکیل دیتا ہے، اور دوسرا اُس کے لیے جو اپنی مستقل روش کو ”سب انسان ہیں“ کہہ کر ڈھانپ لیتا ہے۔ مسئلہ گنتی کا نہیں، وفاداری کا ہے۔
مرکزی کردار
اِس آیت میں مسیح ایک ماہر طبیب کی طرح بولتے ہیں، مدعی کی طرح نہیں۔ چند ہی آیتیں پہلے اُنہوں نے کہا تھا: ”مَیں کسی کا بھی فیصلہ نہیں کرتا“، اور اِس باب کے شروع میں اُس عورت کو، جسے سب مجرم ٹھہرا رہے تھے، اُنہوں نے کہا: ”مَیں بھی تجھ پر فتویٰ نہیں لگاتا۔“ یعنی جو شخص گناہ کو غلامی کہتا ہے، وہی شخص گناہ گار کو پتھر سے بچاتا ہے۔ یہ توازن انسانی مذہب میں شاذ ہی ملتا ہے؛ ہم عموماً یا نرمی کے لیے سچائی کم کر دیتے ہیں یا سچائی کے لیے نرمی۔ اور یہ سختی اُن کی ذات کے یقین سے آتی ہے: ”مَیں جانتا ہوں کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں کو جا رہا ہوں۔“ جو خود گھر کا بیٹا ہے، وہی غلاموں کو رہائی کی بات کہنے کا حق رکھتا ہے، اور اُسے اپنی بات نرم کرنے کی ضرورت نہیں۔
کلام سے کلام کی روشنی
پولس رسول رومیوں کے چھٹے باب میں بالکل یہی نقشہ کھینچتے ہیں: انسان یا گناہ کا غلام ہے یا راستبازی کا؛ غیر جانب دار آزادی کوئی مقام نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ تم اُسی کے غلام ہو جس کی فرمانبرداری کرتے ہو، اور یہی مسیح کے جملے کا تفصیلی بیان ہے۔ فرق یہ ہے کہ پولس اُس رہائی کا انجام بھی دکھاتے ہیں: پرانے مالک سے آزادی نئے مالک کی خدمت میں ملتی ہے۔ اِسے یوحنا کے اِسی باب کی اگلی آیتوں کے ساتھ پڑھیے، جہاں گھر، غلام اور بیٹے کی تصویر آتی ہے۔ غلام گھر میں ”عارضی طور پر“ رہتا ہے؛ بیٹا ”ہمیشہ تک“۔ نجات کا مقصد صرف زنجیر کٹنا نہیں، بلکہ گھر میں مستقل جگہ پانا ہے، یعنی محض معافی نہیں بلکہ گود لیا جانا۔
پہلے سننے والے
پہلی صدی کے سننے والوں کے لیے غلامی کوئی استعارہ نہیں تھی؛ وہ بازار میں غلام دیکھتے تھے، اُن کے پڑوس میں غلام رہتے تھے، اور وہ جانتے تھے کہ غلام اور بیٹے میں فرق محبت کا نہیں بلکہ حق کا ہے۔ غلام اچھا سلوک پا سکتا تھا، پھر بھی کسی دن بیچا جا سکتا تھا۔ اِس لیے اُن کے کانوں میں مسیح کا جملہ صرف اخلاقی نصیحت نہیں تھا، ایک ہولناک قانونی حقیقت تھا: تمہاری حیثیت وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو۔ اور اُن کے لیے نسب سب کچھ تھا؛ ابراہیم کی اولاد ہونا شناختی کارڈ، عزت اور نجات کی ضمانت تھا۔ اُس ضمانت پر ہاتھ رکھ کر مسیح کہتے ہیں کہ خاندانی کاغذات آپ کو مالک سے نہیں چھڑا سکتے۔ ہمارے زمانے میں یہی بات کلیسیائی پس منظر، بپتسمہ کی تاریخ اور دین دار گھرانے کے بارے میں کہی جائے گی۔
ایک مشکل سوال
اگر انسان واقعی غلام ہے، تو وہ ذمہ دار کیسے ہے؟ غلام سے تو حساب نہیں لیا جاتا، مالک سے لیا جاتا ہے۔ کلامِ مقدّس اِس تناؤ کو حل نہیں کرتا، اور نہ ہمیں کرنا چاہیے۔ یہ متن دونوں باتیں ایک ساتھ کہتا ہے: تم قابو میں ہو، اور تم خود کرتے ہو۔ غلامی کی سب سے اندھیری بات یہی ہے کہ اُس میں قید شخص اپنی زنجیر سے محبت کرتا ہے؛ اُسے زبردستی نہیں گھسیٹا جاتا، وہ روز اپنے پیروں سے چل کر جاتا ہے۔ اِسی لیے آزادی کوئی معلوماتی مسئلہ نہیں جسے سمجھا کر حل کیا جا سکے۔ ہمیں یہ اطمینان نہیں ملتا کہ سب کچھ منطقی طور پر جوڑ دیا جائے؛ ہمیں صرف ایک دروازہ ملتا ہے، اور وہ ایک شخص ہے: ”اگر فرزند تم کو آزاد کرے تو تم حقیقتاً آزاد ہو گے۔“
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سی روش ہے جسے آپ ”عادت“ کہہ کر ہلکا کر دیتے ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ آپ روز اُس کی خدمت میں حاضری دیتے ہیں؟
جس طرح اُن لوگوں نے ابراہیم کے نسب پر بھروسا کیا، آپ کس مذہبی شناخت یا خاندانی ورثے پر بھروسا کر کے یہ فرض کر لیتے ہیں کہ آپ آزاد ہیں؟
”غلام عارضی طور پر گھر میں رہتا ہے، لیکن مالک کا بیٹا ہمیشہ تک“: آپ خدا کے گھر میں ملازم کی طرح جیتے ہیں یا فرزند کی طرح، اور یہ فرق آپ کی دعا میں کہاں دکھائی دیتا ہے؟
John 8:34 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 8:34 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 8:34 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 8:34 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 8:34 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 8:34 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
John 8 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں