لوقا 12:50
متن
مسیح ابھی ابھی آگ کی بات کر چکے ہیں، اور اچانک لہجہ بدل جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اُن کے سامنے ایک بپتسمہ باقی ہے جسے لینا ضروری ہے، اور جب تک وہ پورا نہ ہو جائے تب تک اُن پر ایک دباؤ ہے جو اُنہیں چین نہیں لینے دیتا: ”لیکن اب تک میرے سامنے ایک بپتسمہ ہے جسے لینا ضروری ہے۔ اور مجھ پر کتنا دباؤ ہے جب تک اُس کی تکمیل نہ ہو جائے۔“ یہ پانی کا بپتسمہ نہیں جو یوحنا نے یردن میں دیا تھا۔ یہ وہ ڈوبنا ہے جو صلیب پر پیش آنے والا ہے، اور خداوند اُس کے سائے میں چل رہے ہیں، اُس سے بھاگ نہیں رہے۔ یہ آیت ہمیں مسیح کے اندر جھانکنے دیتی ہے، وہاں جہاں عام طور پر پردہ پڑا رہتا ہے۔
مرکزی بات
ہم خدا کے بارے میں چپکے چپکے یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اُس کے لیے سب کچھ آسان ہے، کہ نجات اُس کی طرف سے ایک بےدرد فیصلہ تھی جو آسمان پر دستخط ہو کر زمین پر نافذ ہو گیا۔ یہ آیت اُس تصور کو توڑ دیتی ہے۔ نجات دلانے والا خود دباؤ میں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آگے کیا ہے، اور وہ اُسے چاہتے بھی ہیں اور اُس کا بوجھ بھی محسوس کرتے ہیں۔ فضل مفت ہے، مگر مفت اِس لیے کہ قیمت کسی اور نے چکائی، اور وہ چکانا اُس کے لیے حقیقی تکلیف تھا۔ یہاں یہ بھی کھلتا ہے کہ مسیح کی اطاعت کوئی مشین کی اطاعت نہیں تھی بلکہ ایک ایسے دل کی جو کانپتے ہوئے بھی آگے بڑھتا رہا۔ جو خدا ہمیں بچاتا ہے، وہ ہمیں دور سے نہیں بچاتا۔
سلسلۂ نجات
بائبل میں پانی کبھی صرف پانی نہیں ہوتا۔ طوفانِ نوح، بحرِ قلزم، یردن: ہر بار پانی وہ جگہ ہے جہاں پرانی دنیا ڈوبتی ہے اور نئی دنیا خشک زمین پر قدم رکھتی ہے۔ زبور نویس بار بار پکارتا ہے کہ سیلاب اُس کے گلے تک آ پہنچا ہے، اور یہ محاورہ موت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جب خداوند یسوع اپنی موت کو ”بپتسمہ“ کہتے ہیں تو وہ اِسی پرانی زبان میں بول رہے ہیں۔ وہ اُس گہرے پانی میں اُتریں گے جس میں ہم سب ڈوب رہے تھے، اور وہ اکیلے اُتریں گے۔ فرق یہ ہے کہ نوح کشتی میں بچا اور اسرائیل خشک راستے سے گزرا، مگر مسیح کے لیے کوئی کشتی نہیں، کوئی خشک راستہ نہیں۔ وہ سیدھے سیلاب کے بیچ میں چلے جاتے ہیں تاکہ ہمارے لیے دوسری طرف کنارہ بن جائے۔
آئینہ
آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایک ایسا کام ہے جسے آپ ”ضروری“ جانتے ہیں مگر ٹال رہے ہیں۔ وہ گفتگو جو باپ کے ساتھ کرنی ہے۔ وہ معافی جو مانگنی ہے اور جس کے تصور سے ہی گلا سوکھ جاتا ہے۔ وہ سچ جو دفتر میں بولنا ہے اور جس کی قیمت شاید نوکری ہو۔ وہ رپورٹ جو ڈاکٹر سے لینی ہے۔ ہم اپنے التوا کو روحانی نام دے دیتے ہیں: ابھی وقت مناسب نہیں، میں دعا کر رہا ہوں، خدا راستہ کھولے گا۔ مگر یہ آیت ہمارے بہانوں کو ننگا کر دیتی ہے، کیونکہ یہاں خداوند دباؤ محسوس کرتے ہوئے بھی رُکتے نہیں۔ وہ بےخوف نہیں ہیں؛ وہ وفادار ہیں۔ اور یہی فرق ہمیں آزاد کرتا ہے: آپ کو پہلے اپنا خوف ختم کرنے کی ضرورت نہیں، آپ کو کانپتے ہوئے چلنے کی اجازت ہے۔
آج، ابھی، ایک کاغذ پر وہ ایک کام لکھیں جسے آپ ڈر کے مارے مہینوں سے ٹال رہے ہیں۔ پھر اُس کاغذ کو دیکھتے ہوئے بلند آواز میں کہیں: ”خداوند، آپ اپنے بپتسمے سے پیچھے نہیں ہٹے، اِس لیے میں بھی اِس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔“ اور کاغذ کو وہاں رکھ دیں جہاں کل صبح سب سے پہلے آپ کی نظر پڑے۔
پس منظر
یہ باب سفر کے دوران کی تعلیم ہے۔ لوقا نے باب نو میں لکھا کہ خداوند نے یروشلم جانے کا پکا ارادہ کر لیا، اور تب سے ہر قدم اُسی شہر کی طرف اُٹھ رہا ہے۔ ہزاروں کا ہجوم ہے، لوگ ایک دوسرے پر گرے پڑ رہے ہیں، اور اِسی رش کے بیچ وہ ریاکاری، لالچ، فکرمندی اور مالک کی واپسی پر بات کر رہے ہیں۔ ہجوم شاید یہ سمجھ رہا ہے کہ یروشلم پہنچ کر کچھ شاندار ہونے والا ہے، کوئی سیاسی موڑ، کوئی تخت۔ اور عین اُس لمحے میں خداوند اُنہیں بتاتے ہیں کہ منزل پر جو اُن کا انتظار کر رہا ہے وہ تاجپوشی نہیں بلکہ ڈوبنا ہے۔ ہجوم جوش میں ہے؛ اُن کا رہنما بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہی تضاد اِس آیت کی چبھن ہے۔
ایک باریک نکتہ
جس لفظ کا ترجمہ ”دباؤ“ ہوا ہے، یونانی میں وہ ہے سُونیخومائی، یعنی چاروں طرف سے گھیرا جانا، بھینچا جانا۔ یہی لفظ لوقا اُس بخار کے لیے استعمال کرتا ہے جس نے پطرس کی ساس کو جکڑ رکھا تھا، اور اُس بھیڑ کے لیے جو یسوع کو دبائے جا رہی تھی۔ یہ ہلکی سی بےچینی نہیں ہے؛ یہ ایسی گرفت ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ غور کیجیے کہ یہ لفظ خوف کا مترادف نہیں۔ یہ تنگی کا لفظ ہے، اُس کیفیت کا جس میں راستہ اِتنا تنگ ہو چکا ہو کہ صرف آگے بڑھا جا سکے۔ خداوند صلیب کی طرف اِس طرح نہیں جا رہے جیسے کوئی مجبور قیدی گھسیٹا جا رہا ہو، بلکہ اِس طرح جیسے کوئی گلی کے آخری سرے تک پہنچ چکا ہو اور جانتا ہو کہ دروازہ کھلنے ہی والا ہے۔
مرکزی کردار
یہاں ہمیں مسیح کا وہ چہرہ نظر آتا ہے جو انجیلوں میں کم دکھایا جاتا ہے۔ باب کے شروع میں وہ شاگردوں سے کہتے ہیں کہ مت ڈرو، تمہارے سر کے سب بال گنے ہوئے ہیں؛ وہ کہتے ہیں ”اے چھوٹے گلے، مت ڈرنا“۔ اور اب وہی معلم اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ اُن پر دباؤ ہے۔ یہ تضاد نہیں، یہ گہرائی ہے۔ وہ دوسروں کو تسلی اُس جگہ سے نہیں دے رہے جہاں سب کچھ آسان ہے، بلکہ اُس جگہ سے جہاں سب سے زیادہ بھاری ہے۔ اُن کی خواہش اور اُن کی گھبراہٹ ایک ساتھ چل رہی ہیں: ”کاش وہ پہلے ہی بھڑک رہی ہوتی!“ اور پھر یہ اعتراف کہ آگ سے پہلے پانی آئے گا۔ ایسا نجات دہندہ ہمارے دُکھ کو باہر سے نہیں دیکھتا۔
کلام کی گونج
مرقس کی انجیل میں زبدی کے بیٹے تخت کے دائیں بائیں جگہ مانگتے ہیں، اور خداوند اُن سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اُس بپتسمے سے بپتسمہ لے سکتے ہیں جو وہ لینے والے ہیں۔ وہاں یہی استعارہ عزت کے طلبگاروں کے منہ پر مارا جاتا ہے: میرا راستہ ڈوبنے کا راستہ ہے، کیا تم ساتھ چلو گے؟ اور پھر خود لوقا میں، باب بائیس میں، گتسمنی کا باغ آتا ہے، جہاں یہی دباؤ آنسوؤں اور پسینے کی صورت باہر نکل آتا ہے اور خداوند باپ سے پیالہ ہٹانے کی درخواست کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی اپنی مرضی کو باپ کی مرضی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ گویا باب بارہ گتسمنی کی پہلی سرگوشی ہے۔ جو بوجھ باغ میں پھٹ پڑا، وہ مہینوں پہلے سے اُن کے سینے میں موجود تھا۔
پہلے سننے والے
لوقا جن کے لیے لکھ رہا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جن کے لیے ”بپتسمہ“ محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک خطرہ تھا۔ بپتسمہ لینے کا مطلب تھا خاندان سے کٹ جانا، محلے میں مشکوک ہو جانا، اور بعض اوقات عدالت میں گھسیٹا جانا، جیسا کہ اِسی باب میں لکھا ہے کہ لوگ اُنہیں حاکموں کے سامنے گھسیٹ کر لے جائیں گے۔ اگلی ہی آیتوں میں باپ بیٹے کے خلاف اور ساس بہو کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔ اُن کانوں کے لیے یہ آیت تسلی سے زیادہ رفاقت تھی: ہمارا خداوند بھی اُسی راستے سے گزرا جس پر ہمیں چلنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے لیے بپتسمہ اکثر ایک خوشی کی تقریب ہے؛ اُن کے لیے یہ اپنی موت پر دستخط تھے۔ اِس فرق کو جانے بغیر ہم اِس آیت کی آواز کو ہلکا سن لیتے ہیں۔
ایک مشکل سوال
اگر خدا قادرِ مطلق ہے تو کیا وہ صلیب کے بغیر معاف نہیں کر سکتا تھا؟ ”جسے لینا ضروری ہے“ میں یہ ”ضروری“ کس نے مقرر کیا؟ ایماندار جواب یہ ہے کہ متن ہمیں یہ نہیں بتاتا۔ ہم اِتنا جانتے ہیں کہ خدا گناہ کو نظرانداز کر کے معاف نہیں کرتا، کیونکہ جو محبت بُرائی کو کندھے اُچکا کر چھوڑ دے وہ محبت نہیں بلکہ بےپروائی ہے۔ مگر یہ سوال کہ آیا کوئی اور راستہ ممکن تھا، ہمارے سامنے کھلا رہ جاتا ہے۔ اور شاید یہی بہتر ہے۔ کیونکہ اگر ہم اِس کا صاف حساب لگا لیتے تو صلیب ایک فارمولا بن جاتی۔ یہاں فارمولا نہیں، ایک شخص ہے جس نے کہا کہ یہ ضروری ہے اور پھر خود اُس ضرورت میں اُتر گیا۔ جواب کی جگہ ہمیں شکرگزاری دی گئی ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ اِس وقت کس ”ضروری“ کام کو روحانی زبان میں لپیٹ کر ٹال رہے ہیں، اور آپ اصل میں کس چیز سے ڈر رہے ہیں؟
کیا آپ کے تصور کا خدا وہ ہے جس کے لیے سب کچھ آسان ہے؟ یہ آیت اُس تصور کو کہاں سے توڑتی ہے؟
مسیح کا دباؤ اُنہیں رُکنے پر نہیں بلکہ آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ آپ کا دباؤ آپ کے ساتھ کیا کرتا ہے، اور کیوں؟
Luke 12:50 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 12:50 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 12:50 کس بارے میں ہے؟
لوقا 12:50 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 12:50 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 12:50 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 12 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، کئی بار میں تیرے پاس آ کر چاہتا ہوں کہ تو میرے حق میں فیصلہ سنا دے، میرے جھگڑے میرے مطابق نمٹا دے۔ مجھے معاف کر۔ میرا دل چیزوں کے بٹوارے سے زیادہ تیری محبت کا پیاسا ہو جائے۔ میری خواہشوں کو سنبھال، اور مجھے سکھا کہ اصل دولت تُو ہی ہے۔
اے باپ، میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ تیری ہی بخشش ہے۔ مجھے اِس دھوکے سے بچا کہ بڑے گودام میری زندگی کو محفوظ بنا دیں گے۔ مجھے سکھا کہ کھلے دل سے بانٹوں اور اپنی دولت تجھ میں ڈھونڈوں، کیونکہ اصل امیری تیرے قریب رہنے میں ہے۔
اے خدا، تُو میرے دل کے چھپے کونے بھی جانتا ہے۔ مجھے ایسا بننے سے بچا جو باہر سے کچھ اور اور اندر سے کچھ اور ہو۔ ریاکاری تھوڑی سی بھی ہو تو پورے وجود میں پھیل جاتی ہے، اِس لیے مجھے سچائی میں جینا سکھا، تیرے سامنے اور لوگوں کے سامنے بھی۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں