بپتسمہ کیا ہے اور کیوں ضروری ہے؟
تعارف
نہر کے کنارے صبح ٹھنڈی تھی۔ ایک نوجوان پانی میں اُتر رہا تھا، اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور کنارے پر کھڑے لوگوں میں اُس کی ماں نہیں تھی، کیونکہ ماں نے کہا تھا کہ "بپتسمہ لے گا تو گھر واپس نہ آنا۔" پادری صاحب نے اُس سے پوچھا، "کیا تُو یسوع مسیح کو اپنا خداوند مانتا ہے؟" اُس نے سر ہلایا، اور اگلے لمحے پانی اُس کے اوپر سے گزر گیا۔
یہ منظر ہزاروں بار دہرایا گیا ہے، برف کے دریاؤں میں، جیل کی بالٹیوں میں، گاؤں کے تالابوں میں، شہر کی کلیسیاؤں کے حوض میں۔ سوال یہ ہے کہ پانی کے اُن چند لمحوں میں ایسا کیا ہوتا ہے جو ماں کی ناراضی، برادری کا بائیکاٹ اور جان کا خطرہ مول لینے کے قابل ہو؟
اس صفحے پر ہم بپتسمہ کو ایک "رسم" کے خانے سے نکال کر وہاں رکھیں گے جہاں بائبل اُسے رکھتی ہے: ایک جنازے اور ایک نئے لباس کے درمیان۔ آپ جانیں گے کہ بپتسمہ کیا ہے، کیوں ضروری ہے، کہاں لوگ غلطی کھاتے ہیں، اور یہ آپ کی روزمرہ زندگی کو کس طرح بدلتا ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
بہت سے لوگ بپتسمہ کو "میرا فیصلہ، میری گواہی، میرا وعدہ" کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ ہم یہاں ایک اور زاویے سے چلیں گے: بپتسمہ سب سے پہلے آپ کا اعلان نہیں، خدا کا اعلان ہے۔ پانی میں دو چیزیں ہوتی ہیں جو بائبل بار بار جوڑ کر پیش کرتی ہے: ایک قبر اور ایک پوشاک۔ رومیوں 6:4 کہتی ہے کہ ہم دفن ہوئے؛ گلتیوں 3:27 کہتی ہے کہ ہم نے مسیح کو پہن لیا۔ یعنی پرانی شناخت گاڑ دی جاتی ہے اور مسیح کی راستبازی ہمیں اوڑھا دی جاتی ہے۔ یہ زاویہ اہم ہے کیونکہ جب بپتسمہ صرف میری کارکردگی بن جائے تو وہ بوجھ ہے؛ جب وہ خدا کا کام ہو تو وہ آزادی ہے۔
بائبل بپتسمہ کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
بپتسمہ کے لیے نئے عہد نامے میں جو یونانی لفظ استعمال ہوا ہے اُس کا بنیادی مفہوم ڈبونا، غرق کرنا اور کسی چیز کو مکمل طور پر کسی مائع میں شامل کر دینا ہے۔ کپڑا رنگ میں ڈبویا جاتا ہے تو وہ کپڑا رنگ کی ملکیت بن جاتا ہے۔ یہی تصویر بائبل بپتسمہ کے پیچھے رکھتی ہے: ایک شخص پانی میں ڈوبتا ہے اور مسیح کی ملکیت بن کر باہر آتا ہے۔ اسی لیے پولوس رسول لکھتے ہیں، "ایک ہی خداوند ہے، ایک ہی ایمان، ایک ہی بپتسمہ" (افسیوں 4:5)۔ بپتسمہ کوئی اضافی، اختیاری زیور نہیں؛ یہ اُس ایک ایمان کی مہر ہے۔
سب سے پہلے خود خداوند یسوع مسیح کو دیکھیں۔ یوحنا اصطباغی کا بپتسمہ توبہ کا بپتسمہ تھا، اور یسوع کو توبہ کی ضرورت نہ تھی، پھر بھی وہ اُردن میں اُترے۔ متی 3:16 بتاتی ہے، "اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی سے اوپر گیا اور دیکھو اُس کے لیے آسمان کھل گیا اور اُس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔" یہاں تین چیزیں ایک ساتھ ہوتی ہیں: پانی، روح اور آسمان سے آنے والی آواز۔ یسوع نے گناہگاروں کی صف میں کھڑے ہو کر ہماری جگہ لی، تاکہ ہم پانی میں اُتریں تو ہمارے لیے بھی آسمان بند نہ رہے۔ بپتسمہ کا مرکز ہماری نیکی نہیں، اُس کی نیابت ہے۔
پھر جی اُٹھنے کے بعد وہ اپنی کلیسیا کو ایک واضح حکم دیتے ہیں: "پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو" (متی 28:19)۔ غور کریں کہ بپتسمہ شاگرد بنانے کے عمل کا حصہ ہے، کوئی الگ تقریب نہیں۔ اور یہ "نام سے" دیا جاتا ہے، یعنی کسی کی ملکیت اور خاندان میں منتقل کیا جانا۔ جیسے نکاح میں نام بدلتا ہے، ایسے ہی بپتسمہ میں ایک شخص پر تینِ اقدس کا نام رکھا جاتا ہے۔
پنتیکُست کے دن یہ حکم عمل میں آتا ہے۔ بھیڑ دل پر چوٹ کھا کر پوچھتی ہے، "ہم کیا کریں؟" اور جواب ملتا ہے: "توبہ کرو اور تم میں سے ہر ایک اپنے گناہوں کی معافی کے لیے یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے تو تم روح القدس کی بخشش پاؤ گے" (اعمال 2:38)۔ توبہ، بپتسمہ، معافی اور روح، یہ چار چیزیں ابتدائی کلیسیا میں ایک ہی گٹھری میں بندھی تھیں۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ ایمان لے آؤ اور بپتسمے کے بارے میں بعد میں سوچیں گے۔
اسی لیے حبشی خواجہ سرا کا ردِعمل اتنا فطری لگتا ہے۔ فلپس نے اُسے یسعیاہ نبی کے صحیفے سے یسوع کی خوشخبری سنائی، اور راستے میں پانی نظر آتے ہی اُس نے کہا: "دیکھ پانی موجود ہے۔ اب مجھے بپتسمہ لینے سے کون سی چیز روکتی ہے؟" (اعمال 8:36)۔ یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔ اکثر لوگ رکاوٹیں گنتے ہیں: خاندان، نوکری، شرم، ماضی۔ خواجہ سرا نے، جو شریعت کی رُو سے ہیکل کی جماعت سے باہر رکھا جاتا تھا، اُلٹا سوال کیا کہ مجھے کون روک سکتا ہے۔ فضل کے دروازے پر کوئی دربان نہیں بیٹھا۔
اور پھر مطلب کھلتا ہے۔ رومیوں 6:4 میں لکھا ہے: "پس ہم بپتسمہ کے وسیلہ سے اُس کے ساتھ گاڑے گئے تاکہ جس طرح مسیح مُردوں میں سے باپ کے جلال کے وسیلہ سے جِلایا گیا اُسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں چلیں۔" بپتسمہ ایک تدفین ہے۔ پرانا آدم، پرانی وفاداریاں، پرانا حساب، سب اُس پانی میں چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اور گلتیوں 3:27 دوسرا رُخ دکھاتی ہے: "کیونکہ تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا مسیح کو پہن لیا۔" جو قبر سے نکلا وہ نیا لباس پہن کر نکلا۔ ننگا نہیں، شرمندہ نہیں، مسیح میں ملبوس۔
بپتسمہ آپ کی گواہی سے پہلے خدا کا اعلان ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
پانی بائبل کی پہلی آیتوں سے ہی موجود ہے۔ پیدائش کے شروع میں خدا کا روح پانی کی سطح پر جنبش کرتا ہے اور بےترتیبی سے زندگی نکلتی ہے۔ یہی نمونہ دہرایا جاتا ہے: پانی، روح، نئی سرگرمی۔ نوح کے زمانے میں سیلاب آیا اور پرانی، بگڑی ہوئی دنیا اُس پانی میں دفن ہو گئی، مگر ایک کشتی اُٹھائی گئی اور آٹھ جانیں دوسری طرف نکلیں۔ پطرس رسول اسی واقعے کو بپتسمے کا پیش خیمہ کہتے ہیں، کیونکہ وہاں بھی پانی نے ایک دنیا کو قبر دی اور ایک خاندان کو نئی زمین دی۔
خروج میں یہی سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ اسرائیل بحرِ قلزم میں سے گزرا، فرعون کی فوج پانی میں دفن ہو گئی، اور قوم دوسری طرف آزاد ہو کر باہر آئی۔ پولوس رسول 1 کرنتھیوں 10 میں اسے صاف صاف بپتسمہ کہتے ہیں۔ ذرا زاویے پر غور کریں: وہاں بھی ایک تدفین تھی اور ایک نئی شناخت۔ غلام مصری بستیوں میں سوئے تھے، آزاد قوم بن کر جاگے۔ اُن کے پیروں کے نیچے پانی ایک قبر تھا، مگر اُن کے سر پر بادل کا سایہ نئی وفاداری کا نشان تھا۔
کاہنوں کی مخصوصیت میں یہی دو حرکتیں ایک ساتھ آتی ہیں۔ ہارون اور اُس کے بیٹوں کو پہلے پانی سے دھویا گیا، پھر مقدس لباس پہنایا گیا۔ زکریاہ نبی کی رویا میں یہوسوع سردار کاہن میلے کپڑوں میں کھڑا ہے اور خداوند کا فرشتہ فرماتا ہے: "دیکھ میں نے تیری بدکرداری تجھ سے دور کی اور میں تجھے نفیس پوشاک پہناؤں گا" (زکریاہ 3:4)۔ پرانا عہد نامہ ہمیں یہی سکھاتا رہتا ہے کہ خدا کے حضور آنے والے کو صرف صاف نہیں کیا جاتا، اُسے نیا لباس بھی دیا جاتا ہے۔
انبیا نے اس دھلائی کو ایک دن کے وعدے میں بدل دیا۔ حزقی ایل 36:25 میں خداوند فرماتے ہیں: "اور میں تم پر صاف پانی چھڑکوں گا اور تم پاک صاف ہو جاؤ گے۔ میں تم کو تمہاری ساری نجاست اور تمہارے سب بتوں سے پاک کروں گا۔" یہ محض بیرونی غسل نہیں تھا، اگلی آیتوں میں خدا نیا دل اور نیا روح دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ یہی وہ وعدہ ہے جسے یسوع نیکدیمس کے سامنے دہراتے ہیں: "جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا" (یوحنا 3:5)۔
سب کچھ صلیب اور خالی قبر پر آ کر پورا ہوتا ہے۔ یسوع نے اپنی موت کو خود ایک بپتسمہ کہا، ایک ایسا غرق ہونا جس میں وہ ہمارے گناہ کے تمام سیلاب کے نیچے چلے گئے۔ اُس دن اصل تدفین ہوئی، اور تیسرے دن اصل قیامت۔ اسی لیے کلسیوں 2:12 کہتی ہے کہ ہم اُس کے ساتھ بپتسمے میں دفن ہوئے اور ایمان کے وسیلے سے اُس کے ساتھ جِلائے بھی گئے۔ نوح کی کشتی، بحرِ قلزم، کاہن کا غسل، نبیوں کا صاف پانی، سب تیر تھے جو ایک ہی نشانے کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ اور بائبل کے آخری اوراق میں ہمیں وہی دو تصویریں دوبارہ ملتی ہیں: ایک صاف دریا جو تختِ الٰہی سے نکلتا ہے، اور سفید جامے پہنے ہوئے لوگوں کی بھیڑ جنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون میں دھو کر سفید کیے ہیں۔ قبر اور پوشاک، پیدائش سے مکاشفہ تک۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی: بپتسمہ محض ایک رسم اور خالی علامت ہے، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اگر ایسا ہوتا تو خداوند یسوع اسے اپنے آخری حکم میں شامل نہ کرتے، اور پطرس رسول یہ نہ کہتے کہ اِسی کے مطابق بپتسمہ بھی تمہیں بچاتا ہے، یعنی یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کے باعث۔ بائبل بپتسمے کو خالی نشان نہیں کہتی بلکہ ایسا نشان کہتی ہے جس کے ساتھ وعدہ جُڑا ہوا ہے۔ نکاح کی انگوٹھی صرف دھات ہے، مگر اُسے پھینک دینے والا شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ خدا مادی نشانوں کے ذریعے اپنے فضل کو ہمارے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم جسم رکھتے ہیں اور بھول جانے والے ہیں۔
دوسری غلط فہمی: پانی خود جادوئی طور پر نجات دیتا ہے، بس ڈُبکی لگ جائے تو معاملہ ٹھیک ہے۔ یہ دوسری انتہا ہے اور اتنی ہی خطرناک۔ پطرس رسول نے صاف کیا کہ بپتسمے سے مراد جسم کی نجاست کا دور کرنا نہیں۔ اعمال 2:38 میں توبہ بپتسمے سے پہلے آتی ہے، اور فلپس نے خواجہ سرا کو پہلے مسیح کی خوشخبری سنائی۔ سمُعان جادوگر کا بپتسمہ ہوا مگر اُس کا دل پرانی حالت میں تھا اور پطرس نے اُسے سختی سے ٹوکا۔ پانی بچانے والا نہیں، پانی اُس کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بچاتا ہے۔ نجات مسیح کی موت اور قیامت میں ہے، اور بپتسمہ وہ دروازہ ہے جس سے ایمان اُس حقیقت میں داخل ہوتا ہے۔
تیسری غلط فہمی: بپتسمہ میری روحانی ترقی کا سرٹیفکیٹ ہے، لہٰذا پہلے میں خود کو سنبھالوں، عادتیں چھوڑوں، پھر بپتسمہ لوں گا۔ یہاں ہمارا زاویہ سب سے زیادہ کام آتا ہے۔ اگر بپتسمہ ایک قبر ہے تو قبر میں جانے کے لیے کسی کو خوبصورت ہونے کی ضرورت نہیں، مُردہ ہونا کافی ہے۔ اور اگر بپتسمہ ایک نیا لباس ہے تو لباس اُسے دیا جاتا ہے جس کے پاس اپنا کوئی ڈھنگ کا کپڑا نہ ہو۔ اعمال کی کتاب میں لوگ ایک ہی دن میں، ایک ہی رات میں بپتسمہ لیتے ہیں: تین ہزار سننے والے، فلپی کا داروغہ اپنے سارے گھرانے سمیت، لُدیہ اور اُس کے گھر والے۔ کسی نے چھ ماہ کی آزمائشی مدت نہیں مانگی۔
چوتھی غلط فہمی: میں نے بپتسمہ لے لیا، اب معاملہ مکمل ہو گیا، فائل بند۔ رومیوں 6:4 اس سے صاف انکار کرتی ہے، کیونکہ وہاں مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ "ہم بھی نئی زندگی میں چلیں۔" بپتسمہ اختتام نہیں، آغاز کی مہر ہے۔ لوتھر جب مایوسی سے لڑتے تھے تو اپنے آپ کو یاد دلاتے تھے کہ میں بپتسمہ یافتہ ہوں۔ یہ ماضی کی تاریخ نہیں بلکہ آج کی زمین تھی جس پر وہ کھڑے ہوتے تھے۔ آپ کا بپتسمہ ہر روز آپ سے کہتا ہے کہ پرانا آدمی دفن ہو چکا، اُسے قبر سے واپس نہ بلائیں۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
فرض کریں دفتر میں آپ سے جھوٹ بولنے کو کہا جاتا ہے، محض ایک چھوٹا سا جھوٹ جو سب بولتے ہیں۔ پرانا آدمی فوراً حساب لگاتا ہے: نوکری، ترقی، گھر کا کرایہ۔ مگر آپ بپتسمہ یافتہ ہیں، یعنی وہ شخص جو حساب لگاتا تھا اُس دن پانی میں چھوڑ دیا گیا۔ بپتسمہ اخلاقی فیصلوں کو کتاب کے اصولوں سے نکال کر شناخت کے سوال میں بدل دیتا ہے: میں کون ہوں اور کس کا ہوں؟ گلتیوں 3:27 کے مطابق آپ نے مسیح کو پہن رکھا ہے، اور مسیح کے لباس میں جھوٹ نہیں سجتا۔
خاندان کے دباؤ میں بھی یہی سچائی کام آتی ہے۔ بہت سے پڑھنے والوں کے لیے بپتسمہ کوئی خوشی کی تقریب نہیں بلکہ ایک قیمت ہے: رشتہ داروں کی طنز، شادی کے معاملات میں رکاوٹ، وراثت سے محرومی، کبھی جان کا خطرہ۔ ایسے موقع پر یہ یاد رکھنا کہ بپتسمہ خدا کا اعلان ہے، آپ کی ہمت کا امتحان نہیں، کمر سیدھی کر دیتا ہے۔ آپ اپنی جرأت پر نہیں، اُس نام پر کھڑے ہیں جو آپ پر رکھا گیا۔ خواجہ سرا نے پوچھا تھا کہ مجھے کون روکتا ہے؛ آپ بھی وہی سوال پوچھ سکتے ہیں، مگر ایمان داری کے ساتھ، اور کلیسیا کے بزرگوں کی حکمت کے ساتھ، کیونکہ ہر ایک کا راستہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
شرم کے ساتھ جینے والوں کے لیے بپتسمہ ایک نہایت عملی تحفہ ہے۔ رات کو جب پرانی یادیں سر اُٹھاتی ہیں، جب کوئی گناہ جس کا آپ نے اقرار کر لیا ہے پھر آپ کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے، تو آپ کے پاس محض ایک احساس نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اُس دن، اُس پانی میں، گواہوں کے سامنے، خدا نے مجھ پر اپنا نام رکھا۔ احساسات بدلتے ہیں، وہ اعلان نہیں بدلتا۔
اور کلیسیا میں یہ ہمیں ایک بدن بناتا ہے۔ 1 کرنتھیوں 12:13 کے مطابق ہم سب نے ایک ہی روح کے وسیلے سے ایک بدن ہونے کے لیے بپتسمہ لیا، خواہ یہودی ہوں خواہ یونانی، خواہ غلام خواہ آزاد۔ اپنے حلقے میں ذرا سوچیں کہ بپتسمے کا حوض ذات، برادری، زبان اور دولت کے فرق کو کیسے دھو دیتا ہے۔ جس کے ساتھ آپ نے ایک ہی نام سے بپتسمہ لیا، اُس سے آپ اپنے دستر خوان کو الگ نہیں رکھ سکتے۔ اسی لیے بپتسمہ صرف نجی ایمان کا معاملہ نہیں، یہ ایک نئی برادری میں شامل ہونا ہے، اور جو بپتسمہ لے چکے ہیں اُن کی ذمہ داری ہے کہ نئے آنے والوں کو خاندان کی طرح تھام لیں۔
آئینہ
آپ نے یہ سب پڑھ لیا۔ اب ایک سیدھا سوال: کیا آپ نے بپتسمہ لیا ہے؟ اگر نہیں، تو ایمان داری سے بتائیے کہ اصل وجہ کیا ہے۔ کیا واقعی الٰہیاتی سوال باقی ہے، یا وجہ یہ ہے کہ گھر والوں کو پتہ چل جائے گا؟ یا یہ کہ ابھی آپ کی زندگی "ٹھیک" نہیں ہوئی، اور آپ خدا کے سامنے صاف ستھرا ہو کر جانا چاہتے ہیں؟ آپ اُس آدمی کی طرح ہیں جو غسل کرنے سے پہلے خود کو دھونا چاہتا ہے۔ فضل اُلٹی ترتیب سے کام کرتا ہے: پہلے قبر، پھر لباس، پھر بدلی ہوئی زندگی۔
اور اگر آپ نے برسوں پہلے بپتسمہ لیا تھا، تو آپ کے لیے سوال دوسرا ہے۔ آپ کے پیسے، آپ کا وقت، آپ کا موبائل، آپ کا غصہ، آپ کے دفتر کے سمجھوتے: کیا اِن میں سے کوئی چیز اُس آدمی کی ہے جو دفن ہو چکا؟ ہم اکثر قبر پر پھول رکھ آتے ہیں اور پھر رات کو چپکے سے مُردے کو گھر بلا لیتے ہیں۔ آپ کا بپتسمہ آپ کے خلاف گواہی نہیں دیتا، وہ آپ کو یاد دلاتا ہے کہ اُس زندگی پر اب آپ کا قانونی حق نہیں ہے۔
اور اگر آپ اکیلے ہیں، اگر بپتسمہ لینے کی قیمت آپ نے تنہائی کی صورت میں چکائی ہے، خالی گھر، ٹھنڈا کھانا، عیدوں پر کوئی فون نہ آنا، تو یہ سنیں۔ متی 3:16 میں جب یسوع پانی سے نکلے تو آسمان کھل گیا اور روح اُن پر اُترا، اور آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے۔ وہ آواز آپ کے لیے بھی گونجی ہے، کیونکہ اب آپ اُسی بیٹے میں شامل ہیں۔ برادری نے آپ کا نام کاٹا ہو گا؛ باپ نے آپ کا نام لکھ لیا ہے۔ برادری نے کاٹا، باپ نے لکھ لیا۔ یہ خالی تسلی نہیں، یہ آپ کی قانونی حیثیت ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو بپتسمہ سمجھانے کا سب سے آسان راستہ وہی دو تصویریں ہیں جن پر یہ صفحہ کھڑا ہے: کچھ پیچھے چھوڑنا اور کچھ نیا پہننا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جیسے مٹی میں کھیل کر آنے والا بچہ نہا کر صاف کپڑے پہنتا ہے، ویسے ہی خدا ہمیں دھو کر مسیح کے صاف کپڑے پہناتے ہیں، اور یہ کپڑے کبھی میلے نہیں ہوتے۔ چھوٹے بچوں کے لیے پانی کا حصہ سب سے دلچسپ ہوتا ہے، اس لیے اُنہیں نوح کی کشتی اور بحرِ قلزم کی کہانی سنائیں اور بتائیں کہ خدا نے پانی میں سے اپنے لوگوں کو نکالا۔
بڑے بچوں کے ساتھ آپ متی 28:19 پڑھ سکتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ بپتسمہ ایک نام رکھنے جیسا ہے: خدا کہتے ہیں، تم میرے ہو۔ اُنہیں یہ بھی سمجھائیں کہ پانی جادو نہیں کرتا، خدا کام کرتا ہے، تاکہ وہ توہمات سے بچے رہیں۔ اگر گھر میں کسی کا بپتسمہ ہونے والا ہے تو بچوں کو ساتھ لے جائیں، اُن سے دعا کروائیں اور بعد میں پوچھیں کہ اُنہیں کیا سمجھ آیا۔ دیکھی ہوئی چیز یاد رہتی ہے۔
نوعمر بچوں کے سوال گہرے ہوتے ہیں: میں کیوں انتظار کروں، کیا میرا ایمان کافی ہے، دوست کیا کہیں گے۔ اُن کے سوالوں کو ٹالیں نہیں، اور اُنہیں یہ نہ محسوس ہو کہ بپتسمہ خاندان کا دباؤ ہے۔ فیتھ نیٹ ورک پر اِسی موضوع کی الگ الگ عمروں کے مطابق وضاحتیں دستیاب ہیں، تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے، سات سے بارہ سال کے اسکول جانے والوں کے لیے، اور بارہ سال سے اوپر کے نوجوانوں کے لیے۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ کھولیے اور مل کر پڑھیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بپتسمہ کا اصل مطلب کیا ہے؟
بپتسمہ کے لیے استعمال ہونے والے یونانی لفظ کا بنیادی مفہوم ڈبونا یا کسی چیز میں مکمل طور پر شامل کر دینا ہے، اور بائبل اسے دو تصویروں سے سمجھاتی ہے: تدفین اور نیا لباس۔ رومیوں 6:4 کہتی ہے کہ ہم بپتسمے کے وسیلے سے مسیح کے ساتھ گاڑے گئے، اور گلتیوں 3:27 کہتی ہے کہ جتنوں نے بپتسمہ لیا اُنہوں نے مسیح کو پہن لیا۔ یعنی بپتسمہ پانی سے نہانا نہیں بلکہ مسیح کی موت اور قیامت میں شامل ہو جانے کا مرئی نشان ہے، جس کے ذریعے خدا اعلان کرتے ہیں کہ یہ شخص اب میرا ہے۔
کیا بپتسمے کے بغیر نجات ممکن ہے؟
نجات مسیح کے کام پر ایمان سے ملتی ہے، نہ کہ پانی کی مقدار سے، اس لیے صلیب پر لٹکے ہوئے ڈاکو کو بغیر بپتسمے فردوس کا وعدہ ملا۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ بپتسمہ اختیاری ہے، کیونکہ خداوند یسوع نے اسے حکم دیا اور اعمال کی کتاب میں ایمان لانے والا ہر شخص فوراً بپتسمہ لیتا ہے۔ درست موقف یہ ہے: بپتسمہ نجات کی قیمت نہیں، بلکہ نجات پانے والے کی فرمانبرداری کا پہلا قدم ہے۔ جو جان بوجھ کر انکار کرے، وہ اپنے ایمان کے دعوے پر سوال اُٹھا رہا ہے۔
کیا بچوں کا بپتسمہ بائبل کے مطابق ہے؟
مسیحی کلیسیائیں یہاں مخلص اختلاف رکھتی ہیں۔ بچوں کے بپتسمے کے حامی اعمال 16 میں پورے گھرانوں کے بپتسمے، عہد کی نشانی کے تصور اور اعمال 2:39 کے وعدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں لکھا ہے کہ یہ وعدہ تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے ہے۔ ایمان داروں کے بپتسمے کے حامی کہتے ہیں کہ نئے عہد نامے میں ہر بپتسمے سے پہلے توبہ اور ایمان کا ذکر ہے۔ دونوں فریق مسیح کو مرکز مانتے ہیں؛ یہ نجات کا نہیں، ترتیب کا سوال ہے، اور اپنی کلیسیا کے بزرگوں سے کھل کر بات کیجیے۔
ڈبکی اور چھڑکاؤ میں کون طریقہ درست ہے؟
لفظ کا مفہوم اور رومیوں 6:4 کی تدفین کی تصویر ڈبکی کی طرف جھکتی ہے، اور یہی ابتدائی کلیسیا کا عام رواج تھا، جیسا کہ متی 3:16 میں یسوع کے پانی سے اوپر آنے سے ظاہر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حزقی ایل 36:25 میں پاک کرنے والا صاف پانی چھڑکاؤ کی صورت میں آتا ہے، اور بیمار، قیدی یا پانی کی کمی والے علاقوں کے لوگوں کے لیے کلیسیا ہمیشہ نرمی برتتی رہی ہے۔ نشان کی طاقت پانی کی مقدار میں نہیں، اُس نام میں ہے جس سے بپتسمہ دیا جاتا ہے۔
کیا مجھے دوبارہ بپتسمہ لینا چاہیے؟
افسیوں 4:5 کہتی ہے کہ ایک ہی خداوند ہے، ایک ہی ایمان، ایک ہی بپتسمہ، اس لیے تینِ اقدس کے نام سے دیا گیا بپتسمہ دہرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اُس کی سچائی آپ کے احساسات پر منحصر نہیں بلکہ خدا کے وعدے پر ہے۔ اگر آپ نے بچپن میں بپتسمہ لیا تھا اور اب زندہ ایمان میں آئے ہیں تو بہت سی کلیسیائیں ایمان کے اقرار اور تجدیدِ عہد کی خوبصورت خدمت پیش کرتی ہیں۔ البتہ جو بپتسمہ مسیح کے نام سے نہ ہوا ہو، وہ بپتسمہ ہی نہیں تھا، اور ایسا شخص بپتسمہ لے۔
یسوع نے بپتسمہ کیوں لیا جب وہ بےگناہ تھے؟
یوحنا کا بپتسمہ توبہ کے لیے تھا اور یسوع کے پاس توبہ کرنے کو کچھ نہ تھا، اسی لیے یوحنا نے پہلے انکار کیا۔ یسوع نے فرمایا کہ اِسی طرح ہمیں ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے، یعنی وہ گناہگاروں کی قطار میں کھڑے ہوئے تاکہ ہماری جگہ لیں۔ متی 3:16 میں پانی سے نکلتے ہی آسمان کھلا اور روح اُن پر اُترا، جس سے اُن کی خدمت کا آغاز ہوا۔ اُن کا بپتسمہ اُن کی صلیب کی طرف پہلا قدم تھا، اور ہمارے بپتسمے کی بنیاد۔
پانی کے بپتسمے اور روح القدس کے بپتسمے میں کیا فرق ہے؟
پانی کا بپتسمہ وہ ظاہری نشان ہے جو کلیسیا دیتی ہے؛ روح کا بپتسمہ وہ باطنی کام ہے جو خدا کرتے ہیں، یعنی ایمان دار کو مسیح کے بدن میں شامل کرنا، جیسا 1 کرنتھیوں 12:13 میں لکھا ہے۔ عام طور پر یہ دونوں ساتھ چلتے ہیں، جیسا اعمال 2:38 میں توبہ، بپتسمہ اور روح القدس کی بخشش ایک ہی وعدے میں بندھی ہیں۔ اعمال کی کتاب میں ترتیب کبھی بدلتی بھی ہے، جس سے ہم سیکھتے ہیں کہ خدا اپنے فضل کو ہمارے شیڈول میں قید نہیں کرتے۔
بپتسمہ کس کے نام سے دیا جانا چاہیے؟
متی 28:19 میں خداوند کا حکم ہے کہ باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو، اور یہی الفاظ کلیسیا صدیوں سے استعمال کرتی آئی ہے۔ اعمال 2:38 میں "یسوع مسیح کے نام پر" کا فقرہ اس کے خلاف نہیں، کیونکہ وہاں بات یہ ہو رہی ہے کہ سننے والے کس شخص کے ساتھ جُڑ رہے ہیں، یعنی مصلوب اور جی اُٹھے ہوئے یسوع کے ساتھ۔ عملی مشورہ یہ ہے کہ الفاظ پر جھگڑنے کے بجائے تینِ اقدس کے نام سے بپتسمہ دیا جائے، جو کلیسیا کی وسیع روایت ہے۔
بپتسمہ کون دے سکتا ہے؟
عام حالات میں بپتسمہ کلیسیا کے ذمہ دار خادموں کے ہاتھ سے دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایک نجی فیصلہ نہیں بلکہ جماعت میں شامل ہونا ہے۔ اس کے باوجود بائبل میں بپتسمہ دینے والا ہمیشہ رسول نہیں تھا؛ فلپس ایک خادم تھا جس نے حبشی خواجہ سرا کو بپتسمہ دیا، جیسا اعمال 8:36 کے فوراً بعد بیان ہوا ہے۔ بپتسمے کی تاثیر دینے والے کی حیثیت پر منحصر نہیں بلکہ خدا کے کلام اور وعدے پر ہے، اِسی لیے سخت مخالفت والے علاقوں میں کلیسیائیں سادہ انتظام بھی کرتی رہی ہیں۔
بپتسمے سے پہلے کیا شرائط پوری کرنا ضروری ہیں؟
نئے عہد نامے کی شرط مختصر ہے: توبہ اور یسوع مسیح پر ایمان، جیسا اعمال 2:38 میں پطرس رسول نے کہا۔ آپ کو پہلے اپنی زندگی سنوارنے، ساری عادتیں چھوڑنے یا الٰہیات کے تمام سوالوں کے جواب حاصل کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ قبر میں جانے کے لیے خوبصورتی نہیں بلکہ مُردہ ہونا ضروری ہے۔ عملی طور پر اچھی کلیسیائیں بپتسمے سے پہلے چند نشستوں میں بنیادی تعلیم دیتی ہیں، تاکہ آپ جانیں کہ آپ کس کے نام سے جُڑ رہے ہیں اور آگے کیا زندگی متوقع ہے۔
کیا بپتسمے سے میرے سب گناہ دھل جاتے ہیں، اور بعد کے گناہوں کا کیا ہوگا؟
بپتسمہ گناہوں کی معافی کا نشان اور مہر ہے، اور یہ معافی مسیح کے خون سے آتی ہے، نہ کہ پانی سے۔ بپتسمے کے بعد بھی ہم گناہ کرتے ہیں، اسی لیے 1 یوحنا 1:9 ہمیں اقرار کی طرف بلاتی ہے اور وعدہ دیتی ہے کہ وہ وفادار اور عادل ہے کہ ہمارے گناہ بخش دے۔ نئے بپتسمے کی ضرورت نہیں؛ ضرورت اُس پہلے بپتسمے کی طرف لوٹنے کی ہے۔ رومیوں 6:4 کے مطابق ہم نئی زندگی میں چلتے ہیں، اور جب گر جائیں تو اُٹھ کر پھر اُسی راستے پر آ جاتے ہیں۔
میرے گھر والے سخت مخالف ہیں، کیا میں چھپ کر بپتسمہ لے سکتا ہوں؟
یہ صرف کتابی سوال نہیں، بہت سے بہن بھائیوں کی روزمرہ حقیقت ہے، اور اِس میں جلد بازی سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔ بپتسمہ اپنی فطرت میں عوامی گواہی ہے، مگر بائبل خود رات کے وقت آنے والے نیکدیمس اور راستے کے کنارے بپتسمہ لینے والے خواجہ سرا کو بھی جانتی ہے۔ اپنی مقامی کلیسیا کے قابلِ اعتماد بزرگوں سے مشورہ کریں، اپنی صورتِ حال کھول کر بتائیں، اور اُن کے ساتھ دعا میں وقت اور طریقہ طے کریں۔ ڈر کو رہنما نہ بنائیں، مگر حکمت کو حقارت سے بھی نہ دیکھیں۔
بپتسمے کے دن اصل میں ہوتا کیا ہے؟
عام طور پر آپ کلیسیا کے سامنے اپنے ایمان کا مختصر اقرار کرتے ہیں، خادم متی 28:19 کے الفاظ کے ساتھ آپ کو پانی میں بپتسمہ دیتا ہے، اور جماعت آپ کے لیے دعا کرتی اور خدا کی حمد کرتی ہے۔ باہر سے یہ ایک سادہ سی خدمت لگتی ہے، مگر اس میں جو کہا جا رہا ہے وہ عظیم ہے: پرانی شناخت دفن ہوئی اور مسیح کی راستبازی آپ کو اوڑھا دی گئی۔ اسی لیے بہت سی کلیسیائیں اُس دن کو تاریخ کے ساتھ لکھ کر دیتی ہیں، تاکہ آپ مشکل دنوں میں اُسے دیکھ کر یاد کر سکیں۔
اختتام میں
بپتسمہ اُس دن آپ کی جرأت کا سرٹیفکیٹ نہیں تھا اور نہ آپ کی روحانی کارکردگی کا انعام۔ وہ ایک قبر تھی جس میں پرانا آدمی چھوڑا گیا، اور ایک لباس تھا جو آپ کو مفت پہنایا گیا۔ اسی لیے بائبل کا پانی ہمیشہ دو طرفہ کہانی سناتا ہے: نوح کے زمانے کی دنیا دفن ہوئی اور کشتی اُٹھی؛ فرعون کی فوج ڈوبی اور اسرائیل آزاد نکلا؛ ہارون دھویا گیا اور پھر مقدس پوشاک پہنائی گئی؛ اور خداوند یسوع اُردن میں اُترے تاکہ آخر میں موت کے سیلاب میں ہماری جگہ لے کر تیسرے دن قبر خالی چھوڑ آئیں۔ پانی قبر ہے، اور قبر خالی ہو گئی۔
اگر آپ نے بپتسمہ نہیں لیا تو خواجہ سرا کا سوال آپ کا سوال بن جائے: مجھے کون سی چیز روکتی ہے؟ اپنی کلیسیا کے کسی بزرگ سے آج بات کیجیے۔ اور اگر آپ بپتسمہ یافتہ ہیں تو رومیوں 6 اور کلسیوں 2 کو مل کر آرام سے پڑھیے، اور ہر صبح ایک جملہ اپنے دل کو یاد دلائیے: میں مسیح میں دفن ہوا، مسیح میں زندہ ہوا، اور مسیح کو پہنے ہوئے ہوں۔ اِسی نام پر آپ کا کل بھی محفوظ ہے۔
