لوقا 15
متن
لوقا 15 میں تین تمثیلیں ہیں جو ایک ہی جواب دیتی ہیں۔ فریسی اور شریعت کے عالِم بڑبڑا رہے ہیں کہ عیسیٰ گناہ گاروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ اِس پر خداوند تین کہانیاں سناتے ہیں: کھوئی ہوئی بھیڑ، گم شدہ سِکہ، اور وہ باپ جس کے دو بیٹے تھے، ایک جو دُور چلا گیا اور ایک جو گھر میں رہ کر بھی دُور تھا۔
مرکزی نکتہ
اِس باب کا اصل جھٹکا یہ نہیں کہ خدا کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈتا ہے، بلکہ یہ کہ وہ اُنہیں ڈھونڈ کر خوشی مناتا ہے، اور توقع کرتا ہے کہ ہم بھی خوشی منائیں۔ فریسیوں کا مسئلہ اُن کی اخلاقیات نہیں تھی؛ اُن کا مسئلہ اُن کی ناراضی تھی کہ غلط لوگ عیسیٰ کی میز پر بیٹھے ہیں۔ یہاں ایک تلخ اخلاقی سچائی سامنے آتی ہے: آدمی ظاہر میں فرمانبردار ہو سکتا ہے اور دل میں اُس فضل سے نفرت کر سکتا ہے جو دوسروں کو دیا جا رہا ہے۔ خدا کا فضل ہمیں صرف معاف نہیں کرتا، وہ ہمارے دل کی وہ ترازو بھی توڑ دیتا ہے جس سے ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ کون قابلِ رحم ہے اور کون نہیں۔
مشترک دھاگا
یہ تینوں تمثیلیں پوری بائبل کی کہانی کو ایک ہی نقطے پر لاتی ہیں: خدا وہ ہے جو ڈھونڈنے آتا ہے۔ آدم باغ میں چھپا تو خدا نے پکارا "تُو کہاں ہے؟" اسرائیل جلاوطنی میں گیا تو خدا نے چرواہے کا وعدہ دیا کہ "مَیں خود اپنی بھیڑوں کو ڈھونڈوں گا" (حزقی ایل 34)۔ اور اب وہی چرواہا جسم میں آ کر ٹیکس لینے والوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے۔ صلیب اِسی تلاش کی انتہا ہے: کھوئی ہوئی بھیڑ کو کندھوں پر اُٹھا کر گھر لانا مفت نہیں تھا۔ اور بڑے بیٹے کو بھی باپ خود باہر نکل کر منانے آتا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے مسیح آج بھی مذہبی دلوں کے دروازے پر کھڑا ہے۔
آئینہ
سوچیے: دفتر میں وہ ساتھی جو ہمیشہ دیر سے آتا ہے، آخرکار نکال دیا گیا۔ آپ کے اندر جو ہلکی سی تسلی اُٹھتی ہے، وہ بڑے بیٹے کی آواز ہے۔ یا وہ رشتہ دار جس نے خاندان کا پیسہ ضائع کیا اور اب توبہ کر کے واپس آیا ہے؛ کیا آپ اُس کے لیے بچھڑا ذبح کر سکتے ہیں، یا آپ چاہتے ہیں کہ وہ کم از کم چند سال شرمندگی میں گزارے؟ کلیسیا میں وہ شخص جس کا ماضی سب کو معلوم ہے اور جو اب اگلی صف میں بیٹھتا ہے: کیا آپ کے دل میں خوشی ہے یا شک؟ یہ باب ہماری بھلائی پر حملہ نہیں کرتا، وہ ہماری بھلائی کے پیچھے چھپی حسد پر حملہ کرتا ہے۔ اور پیسے کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے: چھوٹا بیٹا میراث مانگتا ہے یعنی عملاً باپ سے کہتا ہے "میرے لیے آپ مر چکے ہیں۔" ہم اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کن رشتوں کو عملی طور پر دفن کر چکے ہیں؟
ایک تفصیل
آیت 20 میں ایک لفظ ہے جو پوری کہانی کا رخ بدل دیتا ہے: باپ "بھاگ کر" بیٹے کے پاس آیا۔ اُس زمانے کے مشرقی معاشرے میں بزرگ آدمی کبھی نہیں بھاگتے تھے؛ یہ بےعزتی کی بات تھی، اُنہیں اپنا لمبا چوغہ اُٹھانا پڑتا جس سے ٹانگیں ننگی ہو جاتیں۔ باپ نے اپنی عزت قربان کر دی تاکہ بیٹا گاؤں والوں کی نظر سے پہلے اُس کی بانہوں میں آ جائے۔ اخلاقی طور پر یہ ہمیں کچھ سکھاتا ہے: معافی کبھی سستی نہیں ہوتی۔ جب ہم کسی کو معاف کرتے ہیں تو ہمیں بھی کچھ چھوڑنا پڑتا ہے، اپنی عزت، اپنا حق، اپنا موقف۔ باپ نے پہلے دوڑ لگائی، پھر بات کی۔
سامعین کا پس منظر
عیسیٰ کے ارد گرد دو گروہ کھڑے ہیں۔ ایک طرف ٹیکس لینے والے، یعنی وہ یہودی جو رومی حکومت کے لیے اپنی ہی قوم سے پیسہ نکالتے تھے، معاشرتی طور پر غدار سمجھے جاتے تھے۔ دوسری طرف فریسی، جو دن رات شریعت کی حفاظت کرتے تھے اور جن کے لیے کسی گناہ گار کے ساتھ کھانا کھانا رسمی ناپاکی تھی۔ فریسیوں نے یہ تمثیلیں سن کر فوراً پہچان لیا کہ بڑا بیٹا وہ خود ہیں۔ اور یہ بھی غور کریں: کہانی ختم نہیں ہوتی۔ ہم نہیں جانتے کہ بڑا بیٹا اندر گیا یا باہر ہی رہا۔ عیسیٰ نے یہ سوال جان بوجھ کر کھلا چھوڑا، فریسیوں کے لیے، اور ہمارے لیے۔
سیاق و سباق
لوقا اپنی انجیل میں بار بار وہ لوگ دکھاتا ہے جنہیں معاشرہ باہر رکھتا ہے: عورتیں، غیر یہودی، بیمار، غریب۔ باب 15 اِس پورے موضوع کا مرکز ہے۔ یہ سفر کے بیچ میں پیش آتا ہے جب عیسیٰ
Luke 15 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 15 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 15 کس بارے میں ہے؟
لوقا 15 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 15 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 15 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 15 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
Reading Luke 15 about the prodigal son, I only noticed it this time: the father runs. An old man running through the village, robe lifted, dignity abandoned. That is not a story about repentance. That is a story about how we are sought.
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
