لوقا 22:36
متن
خداوند یسوع نے پہلے اپنے شاگردوں کو یاد دلایا کہ جب اُس نے اُنہیں بٹوے، سامان کے بیگ اور جوتوں کے بغیر بھیجا تھا تو وہ کسی چیز سے محروم نہ رہے تھے۔ اب وہ اُسی بات کو اُلٹ دیتا ہے: ”لیکن اب جس کے پاس بٹوا یا بیگ ہو وہ اُسے ساتھ لے جائے، بلکہ جس کے پاس تلوار نہ ہو وہ اپنی چادر بیچ کر تلوار خرید لے۔“ یعنی وقت بدل گیا ہے۔ جو مہمان نوازی، کھلے دروازے اور بےفکری کا موسم تھا، وہ ختم ہو رہا ہے؛ اب ایک ایسی رات آ رہی ہے جس میں شاگرد اپنے آپ کو دشمن کی سرزمین میں پائیں گے۔ اور اگلی ہی آیت میں وہ اِس تبدیلی کی وجہ بتا دیتا ہے: ”اُسے مجرموں میں شمار کیا گیا۔“
اصل بات
یہ آیت ہتھیار اُٹھانے کا حکم نہیں، بلکہ گھڑی بدلنے کا اعلان ہے۔ گلیل کے دنوں میں اُس کے بھیجے ہوئے لوگ حفاظت کے دائرے میں چل رہے تھے؛ اب اُن کا اُستاد باغی اور مجرم کے طور پر گنا جائے گا، اور جو اُس سے جُڑا ہے وہ اُسی بدنامی میں شامل ہو جائے گا۔ اِسی لئے جب شاگرد لفظوں کو لفظی معنوں میں لیتے ہیں اور کہتے ہیں ”یہاں دو تلواریں ہیں“، تو وہ تھکے دل سے جواب دیتا ہے، ”بس! کافی ہے!“ اور تھوڑی دیر بعد جب کان کاٹا جاتا ہے تو وہی آواز روکتی ہے: ”بس کر!“ خدا کی بادشاہی تلوار سے نہیں، بلکہ اُس مسیح کے دُکھ سے آگے بڑھتی ہے جو اپنے آپ کو مجرموں میں شمار ہونے دیتا ہے۔ ہمارے لئے اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی زندگی ہمیشہ آسان موسم میں نہیں گزرتی، اور مشکل موسم میں بھی ہمارا ہتھیار وہی رہتا ہے جو خداوند کا تھا۔
مشترکہ دھاگا
آیت 36 کو آیت 37 سے الگ کر دیں تو وہ ایک عجیب اور خطرناک فقرہ بن جاتی ہے؛ ساتھ رکھیں تو وہ نجات کی پوری کہانی کا حصہ بن جاتی ہے۔ خداوند تلوار کا ذکر اِس لئے کرتا ہے کہ ”کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، ’اُسے مجرموں میں شمار کیا گیا‘“۔ یشعیاہ 53 کے خادم کی وہ آخری سطر، جہاں خدا کا بےگناہ بندہ باغیوں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، یہاں تاریخ میں اُتر رہی ہے۔ دو تلواروں کا ہونا ہی کافی ہے کہ باہر سے دیکھنے والوں کو یہ ٹولہ ایک مسلح گروہ لگے، اور مسیح مجرموں کے درمیان گنا جائے۔ یہ وہی دھاگا ہے جو قربانی کے لیلے سے شروع ہو کر اُس صلیب تک جاتا ہے جہاں وہ دو مجرموں کے بیچ لٹکایا گیا۔ پرانے عہدنامے کا وعدہ یہاں کوئی خوبصورت تشبیہ نہیں، بلکہ ایک ایسا بوجھ ہے جو مسیح اپنے کندھوں پر اُٹھاتا ہے۔
آئینہ
ہم میں سے اکثر اُس پہلے موسم کے عادی ہیں: بٹوے کے بغیر بھی سب کچھ مل جاتا تھا۔ نوکری چلتی رہی، خاندان میں عزت رہی، ایمان کی قیمت کبھی ادا نہ کرنی پڑی۔ پھر موسم بدلتا ہے۔ دفتر میں آپ کی دیانت کسی کو مہنگی پڑنے لگتی ہے، رشتہ داروں میں آپ کا مسیح پر ایمان طعنہ بن جاتا ہے، بیماری یا بےروزگاری ایمان کو ننگا کر دیتی ہے۔ اور اُس لمحے دل کے اندر ایک تلوار خریدنے کا خیال جاگتا ہے: تیز جواب، خاموش انتقام، وہ فون کال جو کسی کو نیچا دکھا دے۔ شاگردوں کی طرح ہم بھی خداوند کی بات کو اپنی مرضی کے معنی پہنا لیتے ہیں۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک ”تلوار“ لکھیں جو آپ اِن دنوں اُٹھانے کو تیار بیٹھے ہیں، اور اُس پر اونچی آواز میں خداوند کے وہی الفاظ کہہ دیں: ”بس کر!“
مرکزی کردار
اِس پوری رات میں خداوند یسوع اکیلا وہ شخص ہے جو جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے، اور پھر بھی وہ اپنے شاگردوں کو جھوٹی تسلی نہیں دیتا۔ وہ اُنہیں یہ نہیں کہتا کہ سب ٹھیک رہے گا؛ وہ اُنہیں سچ بتاتا ہے کہ اب زمین اُن کے پاؤں تلے سے کھسک رہی ہے۔ یہی وہ چرواہا ہے جو پطرس سے کہتا ہے، ”مَیں نے تیرے لئے دعا کی ہے تاکہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے۔“ اپنی موت سے چند گھنٹے پہلے وہ دوسروں کی گرتی ہوئی ہمت کی فکر کر رہا ہے۔ اور جب شاگرد اُس کی بات کا مطلب چوک جاتے ہیں تو وہ اُنہیں ڈانٹتا نہیں، صرف بحث بند کر دیتا ہے۔ یہ تھکن، صبر اور شفقت کا ملا جلا لہجہ ہے، اُس آدمی کا لہجہ جو پیالہ پینے جا رہا ہے۔
کلام کی گونج
تین آوازیں یہاں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ پہلی یشعیاہ کی، جسے لوقا خود نقل کرتا ہے: خادم گنہگاروں میں شمار ہوتا ہے، اور یہی مسیح کی گرفتاری کا الٰہی منطق ہے۔ دوسری آواز خود لوقا 22 کے اندر سے آتی ہے: ”خداوند، کیا ہم تلوار چلائیں؟“ اور جواب، ”بس کر!“ یعنی جس تلوار کا ذکر آیت 36 میں ہے، وہ اُسی باب میں چند آیتوں بعد میان میں واپس ڈال دی جاتی ہے۔ تیسری آواز پولس رسول کی ہے، جو کرنتھیوں کو لکھتا ہے کہ ہماری جنگ کے ہتھیار جسمانی نہیں۔ یہ کوئی نرمی نہیں بلکہ اُسی رات سے سیکھا ہوا سبق ہے۔ کلام خود اپنی تشریح کر رہا ہے: تلوار نشانی ہے، حکم نہیں۔
سوال
پھر بھی سوال باقی رہتا ہے: اگر خداوند تلوار چلانے کے خلاف تھا تو اُس نے چادر بیچ کر تلوار خریدنے کی بات کیوں کی؟ آسان جواب یہ ہے کہ یہ محض تمثیل تھی، مگر شاگردوں نے اُسے تمثیل نہیں سمجھا اور خداوند نے اُن کی غلط فہمی کو مکمل طور پر دُور بھی نہ کیا۔ وہ صرف اِتنا کہتا ہے، ”بس! کافی ہے!“ شاید یہی اُس کا مقصد تھا: دو تلواریں نبوّت پوری کرنے کے لئے کافی ہیں، لڑائی کے لئے مضحکہ خیز۔ مگر ایمانداری سے کہیں تو یہاں ایک دھند باقی رہتی ہے، اور کلام اُسے صاف نہیں کرتا۔ ہمیں اِسی دھند میں کھڑے ہو کر فیصلہ کرنا ہے کہ ہم مسیح کے الفاظ کی تشریح اُس کے عمل سے کریں گے، یا اپنی خواہش سے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں موسم بدل چکا ہے، یعنی جہاں مسیح کے پیچھے چلنا اب واقعی کچھ مانگ رہا ہے، اور آپ اب تک پرانے موسم کی سہولت کو یاد کر رہے ہیں؟
جب خداوند کہتا ہے ”بس کر!“ تو آپ کے ہاتھ میں کون سی چیز ہے جسے رکھنا آپ کو سب سے مشکل لگتا ہے؟
Luke 22:36 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 22:36 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 22:36 کس بارے میں ہے؟
لوقا 22:36 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 22:36 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 22:36 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 22 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
راہنما امام اور شریعت کے عالم کوئی ایسا موقع ڈھونڈ رہے تھے کہ عیسیٰ کو قتل کریں، کیونکہ وہ عوام سے ڈرتے تھے۔“ دیکھ، انہیں خدا کا خوف نہیں تھا، لوگوں کا تھا۔ عبادت گاہ کے یہ خادم قتل کا منصوبہ بنا رہے تھے، بس بدنامی سے بچنا چاہتے تھے۔ کیا میرے اندر بھی کوئی ایسا گناہ ہے جو میں اِس لیے نہیں کرتا کہ لوگ دیکھ لیں گے؟ دل تو خدا دیکھتا ہے۔
یسوع یہ بات اُن لوگوں سے کہہ رہا ہے جو ابھی چند لمحے پہلے بڑا بننے پر جھگڑ رہے تھے اور جو کچھ ہی دیر بعد اُسے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ پھر بھی وہ کہتا ہے، "تم ہی میری تمام آزمائشوں میں میرے ساتھ رہے ہو۔" وہ تمہاری کمزوری نہیں گنتا، وہ تمہارا ساتھ گنتا ہے۔ سوچو، جو تھوڑی سی وفا تم نے دی، وہ اُس کی نظر میں محفوظ ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں