متی 25
متن
متی ۲۵ تین تصویریں ایک ساتھ رکھتا ہے، اور تینوں ایک ہی سوال کے گرد گھومتی ہیں: جب مالک لوٹ آئے گا تو کیا تم واقعی تیار ہو گے؟ پہلے دس کنواریاں ہیں جو دُولھے کے استقبال کے لئے چراغ لے کر نکلتی ہیں؛ پانچ نے فالتو تیل رکھ لیا، پانچ نے نہیں، اور جب آدھی رات کو شور مچتا ہے تو ناسمجھ کنواریاں بند دروازے کے سامنے کھڑی رہ جاتی ہیں اور سنتی ہیں، ”یقین جانو، مَیں تم کو نہیں جانتا۔“ پھر وہ مالک ہے جو سفر پر جاتے ہوئے اپنے نوکروں کو اپنی ملکیت سونپ دیتا ہے؛ دو نوکر اُسے کام میں لگاتے ہیں، تیسرا ڈر کے مارے زمین میں گڑھا کھود کر چھپا دیتا ہے۔ آخر میں ابنِ آدم اپنے جلالی تخت پر بیٹھتا ہے اور قوموں کو بھیڑوں اور بکریوں کی طرح الگ کرتا ہے، اور فیصلہ اِس ایک بات پر ہوتا ہے: بھوکے، پیاسے، اجنبی، ننگے، بیمار اور قید میں پڑے لوگوں کے ساتھ تم نے کیا کیا۔
مرکزی بات
اِس باب کی سب سے چبھنے والی بات یہ ہے کہ تینوں تمثیلوں میں کسی کو بھی اُس چیز پر جانچا نہیں گیا جو وہ مانتا تھا، بلکہ اُس پر جو وہ کرتا رہا جب مالک نظر نہیں آ رہا تھا۔ تیل کوئی جذبہ نہیں، وہ ذخیرہ ہے: ایسی وفاداری جو انتظار کے لمبے، بورنگ عرصے میں جمع ہوتی ہے۔ سِکے کوئی انعام نہیں، وہ امانت ہیں: خدا نے جو کچھ تمہارے ہاتھ میں دیا ہے، وہ چلانے کے لئے دیا ہے، دفن کرنے کے لئے نہیں۔ اور تیسری تصویر میں تو خداوند خود اُن لوگوں کے ساتھ اپنی شناخت جوڑ لیتے ہیں جنہیں دنیا گنتی میں نہیں لاتی: ”جو کچھ تم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے لئے کیا وہ تم نے میرے ہی لئے کیا۔“ یہ اعمال سے نجات کی تعلیم نہیں؛ یہ فضل کی جانچ ہے۔ جو فضل واقعی دل میں اُترا ہے وہ ہاتھوں تک پہنچتا ہے، ورنہ وہ صرف ایک خالی چراغ تھا جو موقع آنے پر بجھ گیا۔
مشترکہ سلسلہ
تینوں تمثیلوں کے پیچھے وہی نمونہ ہے جو پوری بائبل میں چلتا ہے: خدا اپنی چیز انسان کے ہاتھ میں دیتے ہیں اور پھر حساب لینے آتے ہیں۔ باغِ عدن میں زمین آدم کے سپرد ہوئی، اسرائیل کو ملک اور شریعت امانت میں ملی، اور نبیوں نے بار بار پوچھا: تم نے یتیم، بیوہ اور اجنبی کے ساتھ کیا کیا؟ متی ۲۵ اُسی سوال کو آخری شکل دیتا ہے، مگر ایک حیرت انگیز موڑ کے ساتھ۔ منصف خود بھوکا، ننگا اور قیدی بن کر ہمارے دروازے پر آ چکا ہے۔ جو مسیح آنے والے باب میں پکڑا جائے گا، برہنہ کیا جائے گا اور مصلوب ہو گا، وہی یہاں کہتا ہے کہ چھوٹوں کے ساتھ کیا گیا سلوک اُس کے ساتھ کیا گیا سلوک ہے۔ یعنی صلیب صرف ہماری نجات کا ذریعہ نہیں، وہ عدالت کا پیمانہ بھی ہے۔
آئینہ
یہ باب ہمارے اُس حساب کو بےنقاب کرتا ہے جو ہم چپکے چپکے لگاتے رہتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں: میرا ایمان درست ہے، میں کلیسیا جاتا ہوں، میں کسی کا نقصان نہیں کرتا۔ مگر تیسرا نوکر بھی کسی کا نقصان نہیں کرتا؛ وہ صرف کچھ نہیں کرتا، اور اُس کی وجہ خوف ہے۔ ”مَیں ڈر گیا اور جا کر آپ کے پیسے زمین میں چھپا دیئے۔“ ہم بھی ڈرتے ہیں: پیسہ دینے سے ڈرتے ہیں کہ کل کیا ہو گا، وقت دینے سے ڈرتے ہیں کہ تھک جائیں گے، اُس رشتہ دار کے قریب جانے سے ڈرتے ہیں جو بیمار ہے کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کیا کہیں گے۔ اور بکریوں کا جرم بھی کوئی بھیانک ظلم نہیں؛ وہ صرف موجود نہ تھے۔ غیر حاضری بھی ایک فیصلہ ہے۔ آج ہی اپنے فون کی فہرست میں سے اُس ایک شخص کا نام نکالیں جو بیمار ہے، اکیلا ہے یا قید میں ہے، اور آج سونے سے پہلے اُسے فون کر کے دس منٹ اُس کی بات سنیں۔
مرکزی کردار
اِس باب کا مرکزی کردار وہ لوٹنے والا مالک ہے، اور اُس کی تصویر آرام دہ نہیں۔ وہ دیر سے آتا ہے، بند دروازے کے پیچھے سے صاف انکار کرتا ہے، سُست نوکر کو ”شریر“ کہتا ہے، اور تخت پر بیٹھ کر دائیں اور بائیں الگ کرتا ہے۔ مگر اُسی مالک کی زبان سے یہ الفاظ بھی نکلتے ہیں: ”اندر آؤ اور اپنے مالک کی خوشی میں شریک ہو جاؤ۔“ وہ اجرت نہیں دیتا، اپنی خوشی میں شراکت دیتا ہے۔ اور بادشاہی اُن کے لئے ”دنیا کی تخلیق سے“ تیار ہے، یعنی یہ کوئی آخری لمحے کا انعامی فیصلہ نہیں بلکہ ازل کا ارادہ ہے۔ سختی اور کشادگی ایک ہی چہرے پر ہیں؛ جو خداوند سب کچھ دینے کو تیار ہے، وہ لاپروائی پر خفا ہونے کا حق بھی رکھتا ہے۔
پس منظر
یہ باتیں یسوع نے زیتون کے پہاڑ پر، اپنی گرفتاری سے چند دن پہلے، اپنے شاگردوں سے کہیں۔ ہیکل کی تباہی کی پیشین گوئی ہو چکی ہے اور فضا میں بےچینی ہے۔ سننے والوں کے لئے تصویریں روزمرہ کی تھیں: یہودی شادی میں دُولھا رات کو آتا تھا اور اُس کے آنے کا ٹھیک وقت مقرر نہ ہوتا، تیل مہنگا اور محدود تھا، اور غلاموں کو مالک کی غیر حاضری میں کاروبار سونپنا عام رواج تھا۔ رومی قبضے کے نیچے زندہ لوگ ”آنے والے بادشاہ“ کے تصور کو سیاسی طور پر سمجھتے تھے، اِس لئے یسوع کا زور اِس بات پر ہے کہ اِس بادشاہ کا انتظار نعروں سے نہیں بلکہ خاموش وفاداری اور ٹھوس رحم سے کیا جاتا ہے، اور انتظار لمبا ہو گا۔
سوال
سب سے تکلیف دہ آیت وہی ہے جہاں سمجھ دار کنواریاں تیل دینے سے انکار کرتی ہیں۔ کیا یہ خودغرضی نہیں؟ متن اِس کا جواب نرم نہیں کرتا، اور شاید یہی اُس کا مقصد ہے: کچھ چیزیں واقعی منتقل نہیں ہو سکتیں۔ آپ اپنی ماں کے ایمان، اپنے پادری کی دعا یا اپنی بیوی کی وفاداری کے سہارے دروازے میں داخل نہیں ہو سکتے۔ فضل مفت ہے، مگر کسی دوسرے کے فضل سے آپ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اور پھر وہ فقرہ: ”مَیں تم کو نہیں جانتا۔“ ہم چاہتے ہیں کہ اِس کے ساتھ کوئی نرم وضاحت جوڑ دی جائے، مگر یسوع نے نہیں جوڑی۔ یہاں راز کو راز رہنے دینا ہی ایمانداری ہے، اِس شرط پر کہ ہم یہ بند دروازہ نظر انداز نہ کریں بلکہ آج ہی اپنی کُپّی میں تیل ڈالنا شروع کریں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ ایک امانت کون سی ہے جو آپ نے خوف کے مارے زمین میں دفن کر رکھی ہے، اور اُس خوف کا اصل چہرہ کیا ہے؟
پچھلے ہفتے میں کون آپ کے سامنے ”سب سے چھوٹے بھائیوں“ میں سے ایک بن کر آیا، اور آپ نے اُسے کیوں نہ دیکھا؟
Matthew 25 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 25 کا کیا مطلب ہے؟
متی 25 کس بارے میں ہے؟
متی 25 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 25 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 25 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Matthew 25 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
مالک نے اُس نوکر سے یہ نہیں کہا کہ تُو نے پانچ توڑے کیوں نہ کمائے۔ اُس نے کہا، ”کیوں نہ تُو نے میرے پیسے بینک میں جمع کرائے؟ پھر واپسی پر مجھے کم از کم وہ رقم سود سمیت مل جاتی۔“ یعنی تھوڑا سا قدم بھی کافی تھا۔ ڈر نے اُسے بڑا نہیں، صفر بنا دیا۔ آج تُو جو کر سکتا ہے، وہ چھوٹا سہی، مگر کر۔ مٹی میں دبا دینا ہی اصل نقصان ہے۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو ہمیں نیند سے جگاتا ہے، جیسے وہ کنواریاں جاگ کر اپنی مشعلیں تیار کرنے لگیں۔ شکریہ کہ تُو ہمیں پکارتا ہے، ہوش دلاتا ہے، اور دولھے کے استقبال کے لیے ہمارے دلوں کی مشعل سنوارتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
