متی 9
متن
عیسیٰ جھیل پار کر کے اپنے شہر لوٹتے ہیں، اور وہاں ایک مفلوج کو چارپائی سمیت اُن کے سامنے رکھا جاتا ہے؛ وہ پہلے جسم کو نہیں بلکہ ضمیر کو چھوتے ہیں: ”بیٹا، حوصلہ رکھ۔ تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔“ پھر وہ ٹیکس چوکی پر بیٹھے متی کو بلاتے ہیں، اُس کے گھر گناہ گاروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، روزے کے سوال کا جواب دُولھے اور نئی مشکوں کی تصویروں سے دیتے ہیں، ایک راہنما کی مری ہوئی بیٹی کو ہاتھ پکڑ کر اُٹھاتے ہیں، بارہ سال سے خون بہنے کی مریضہ کو ”بیٹی“ کہہ کر شفا دیتے ہیں، دو اندھوں کی آنکھیں کھولتے ہیں اور ایک گونگے کی زبان۔ باب کے آخر میں وہ ہجوم کو دیکھتے ہیں اور اُن کا دل بھر آتا ہے: ”پِسے ہوئے اور بےبس… ایسی بھیڑوں کی طرح جن کا چرواہا نہ ہو۔“
اصل بات
اِس باب کا دھڑکتا ہوا دل وہ ایک جملہ ہے جو عیسیٰ فریسیوں کے منہ پر رکھتے ہیں: ”مَیں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں۔“ یہ محض ایک نرم مزاجی کی سفارش نہیں، یہ خدا کی ترجیحات کا اعلان ہے۔ اختیار اور رحم یہاں ایک ہی شخص میں جڑے ہوئے ہیں: وہی جو گناہ معاف کرنے کا حق رکھتا ہے، وہی ٹیکس لینے والے کی میز پر بیٹھتا ہے۔ اگر اختیار رحم کے بغیر ہو تو وہ کچلتا ہے؛ اگر رحم اختیار کے بغیر ہو تو وہ صرف ہمدردی ہے جو کسی کو چارپائی سے نہیں اُٹھا سکتی۔ بادشاہی اِن دونوں کو ملا کر آتی ہے، اور اِسی لئے وہ پرانی مشکوں میں نہیں سما سکتی۔ یہ ہمارے لئے بےآرام کرنے والی بات ہے: خدا اُن سے زیادہ خوش نہیں ہوتا جو صحیح رسمیں ادا کرتے ہیں، بلکہ اُن سے جو رحم کرتے ہیں، خاص کر وہاں جہاں رحم مہنگا پڑتا ہے۔
مشترکہ دھاگا
جب متی لکھتا ہے کہ ہجوم ”پِسے ہوئے اور بےبس تھے، ایسی بھیڑوں کی طرح جن کا چرواہا نہ ہو“، تو وہ اسرائیل کی پرانی شکایت دہرا رہا ہے۔ حزقی ایل نبی کے ہاں خدا اُن چرواہوں پر غصہ اُتارتا ہے جو ریوڑ کو کھا جاتے ہیں اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ خود آ کر بھیڑوں کو ڈھونڈے گا۔ باب ۹ میں وہ وعدہ چلتا پھرتا نظر آتا ہے: چرواہا گلی گلی جا رہا ہے، ٹیکس چوکی تک، ماتم کے شور تک، اُس عورت تک جو بارہ سال سے ناپاک شمار ہوتی تھی۔ اور بادشاہی کا یہی چرواہا آخرکار خود دُولھا ہے جو ”لے لیا جائے گا“ — صلیب کی طرف پہلا اشارہ، جو رحم کی قیمت بتاتا ہے۔
آئینہ
یہ باب اُن سوالوں پر ہاتھ رکھتا ہے جو ہم اونچی آواز میں نہیں پوچھتے۔ آپ کس کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں؟ فریسیوں کا اعتراض دینی نہیں، سماجی تھا: میز کون سا خاندان، کون سا طبقہ، کون سی ساکھ ظاہر کرتی ہے۔ ہم بھی محتاط ہیں کہ کس کے ساتھ دیکھے جائیں، دفتر میں کس گروپ کے ساتھ بیٹھیں، کس رشتہ دار کو گھر بلائیں جس کے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں۔ اور مفلوج کے دوستوں کو دیکھیے: اُن کا ایمان چارپائی اُٹھانے کی محنت میں ظاہر ہوا۔ رحم بغیر وقت اور جسمانی زحمت کے صرف ایک خیال رہتا ہے۔ ”پہلے جاؤ اور… جان لو“ — عیسیٰ نے اُنہیں سوچنے نہیں، جانے کا کہا۔
آج ہی، دس منٹ میں: اُس ایک شخص کو، جس کے بارے میں آپ کے حلقے میں سرگوشیاں ہوتی ہیں، پیغام بھیج کر اپنے کھانے کی میز پر بلائیں، تاریخ کے ساتھ۔
پس منظر
کفرنحوم عیسیٰ کا ”اپنا شہر“ بن چکا تھا، جھیل کے کنارے ایک تجارتی قصبہ جہاں سرحد پار سے آنے والے مال پر ٹیکس وصول ہوتا تھا۔ متی وہاں چوکی پر بیٹھتا تھا: رومی نظام کا کارندہ، اپنے ہی لوگوں کی جیب سے کمانے والا، عبادت خانے میں ناقابلِ اعتبار۔ اُسے بلانا محض ایک شاگرد کا اضافہ نہیں تھا، یہ ایک سیاسی اشتعال تھا۔ اُسی طرح خون بہنے کی مریضہ برسوں سے ہر مجلس اور ہر عبادت سے کٹی ہوئی تھی، اِسی لئے وہ پیچھے سے، چپکے سے، صرف کنارہ چھوتی ہے۔ اور یائیر جیسا راہنما عوام کے سامنے ایک متنازع مبلغ کے قدموں میں گرتا ہے: باپ کی محبت نے اُس کی عزت کا حساب توڑ دیا۔
سوال
اگر رحم اتنا مرکزی ہے، تو عیسیٰ ہر مفلوج کو کیوں نہیں اُٹھاتے؟ اُسی جھیل کے کنارے بہت سے بیمار رہ گئے، اور آخر میں وہ خود کہتے ہیں: ”فصل بہت ہے، لیکن مزدور کم۔“ یہ اعتراف ہے کہ ضرورت اُن کے قدموں کی رفتار سے بڑی ہے۔ ہمیں یہ بات ہضم نہیں ہوتی، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ خدا مسئلہ ایک ہی جھٹکے میں حل کرے۔ مگر وہ اپنے اختیار کو دوسروں کے ہاتھوں میں سونپنا چنتے ہیں، اور ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر دعا کا حکم دیتے ہیں۔ اِس میں تسلی کم اور ذمہ داری زیادہ ہے: کچھ لوگ آج بھی چارپائی پر پڑے ہیں کیونکہ اُٹھانے والے چار ہاتھ موجود نہیں۔
دیگر کلام کی گونج
”مَیں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں“ عیسیٰ ہوسیع نبی سے لیتے ہیں، جہاں خدا ایک ایسی قوم سے بات کر رہا ہے جو قربانیاں تو ٹھیک ادا کرتی تھی مگر وفاداری کھو چکی تھی۔ عیسیٰ یہ آیت علما کے سامنے رکھ کر کہتے ہیں: تم کتاب جانتے ہو، مطلب نہیں۔ اور جب ہجوم کو بےچرواہا بھیڑیں کہا جاتا ہے تو حزقی ایل ۳۴ کی گونج سنائی دیتی ہے، جہاں خدا ناکارہ چرواہوں کو ہٹا کر خود ریوڑ سنبھالنے آتا ہے۔ دونوں حوالے ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں: دین داری کا امتحان رسم کی درستی نہیں، بلکہ یہ کہ کمزور کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
غور و فکر
آپ کے ہفتے میں وہ کون سا لمحہ ہے جہاں ”صحیح“ کرنا آسان اور رحم کرنا مہنگا پڑتا ہے، اور آپ عموماً کیا چنتے ہیں؟
آپ کی زندگی میں کون چارپائی پر پڑا ہے اور کس کے پاس اُسے اُٹھانے کا وقت نہیں؟ کیا وہ ہاتھ آپ کے ہو سکتے ہیں؟
Matthew 9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 9 کا کیا مطلب ہے؟
متی 9 کس بارے میں ہے؟
متی 9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Matthew 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یسوع نے مفلوج آدمی سے کہا تھا، "حوصلہ رکھ بیٹا، تیرے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔" اور فقیہوں نے دل میں کہا، "یہ کفر بکتا ہے۔"
غور کریں، وہ چپ چاپ سوچ رہے تھے۔ زبان خاموش، مگر دل شور مچا رہا تھا۔ اور یسوع نے وہ خاموش الزام بھی سن لیا۔
آج آپ کے دل میں جو باتیں چھپی ہیں، وہ بھی اُس سے پوشیدہ نہیں۔ سوال یہ ہے: اگر وہ آپ کے دل کی سنتا ہے، تو کیا وہاں ایمان ہے یا اعتراض؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
