میکاہ 7:19
متن
میکاہ کی کتاب کا آخری حصہ ایک دعا کی صورت میں ختم ہوتا ہے، اور آیت 19 اُس دعا کا سب سے جرات مند جملہ ہے: ”تُو دوبارہ ہم پر رحم کرے گا، دوبارہ ہمارے گناہوں کو پاؤں تلے کچل کر سمندر کی گہرائیوں میں پھینک دے گا۔“ نبی یہ نہیں کہتا کہ خدا گناہ کو نظرانداز کر دے گا یا بھول جائے گا، بلکہ یہ کہ وہ اُسے پاؤں تلے کچلے گا، یعنی ایک شکست خوردہ دشمن کی طرح روندے گا، اور پھر اُس کچلی ہوئی چیز کو وہاں پھینک دے گا جہاں سے کوئی اُسے نکال نہیں سکتا۔ یہ اُس قوم کے لئے کہا جا رہا ہے جس کے بارے میں اِسی باب کی شروع کی آیتوں میں لکھا تھا کہ ”ملک میں سے دیانت دار مٹ گئے ہیں، ایک بھی ایمان دار نہیں رہا۔“
مرکزی نکتہ
یہاں دو تصویریں ایک ساتھ رکھی گئی ہیں، اور یہی اِس آیت کی اصل طاقت ہے۔ پہلی تصویر جنگ کی ہے: گناہ کوئی معمولی داغ نہیں جسے دھویا جائے، بلکہ ایک باغی طاقت ہے جسے کچلنا پڑتا ہے۔ دوسری تصویر سمندر کی ہے: جو چیز کچلی جا چکی ہے، اُسے خدا اپنی نظروں سے دُور، گہرائیوں میں پھینک دیتا ہے۔ عبرانی میں جو لفظ ”رحم“ کے لئے استعمال ہوا ہے (رخمیم) اُس کی جڑ ماں کے پیٹ کے لئے استعمال ہونے والے لفظ سے ملتی ہے؛ یہ ٹھنڈی معافی نہیں بلکہ جسمانی، تڑپنے والی ممتا ہے۔ آیت 18 میں سوال اُٹھایا گیا تھا، ”اے رب، تجھ جیسا خدا کہاں ہے؟“ اور جواب یہی ہے: وہ ایسا خدا ہے جو گناہ کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور گنہگار کو بھی، اور دونوں کو ایک ہی وقت میں۔ معافی یہاں کوئی نرمی نہیں، ایک فتح ہے۔
سلسلۂ نجات
میکاہ یہ بات ہوا میں نہیں کہہ رہا۔ آیت 15 میں خدا خود فرماتے ہیں: ”مصر سے نکلتے وقت کی طرح مَیں تجھے معجزات دکھا دوں گا۔“ اور مصر سے نکلتے وقت کیا ہوا تھا؟ فرعون کا لشکر سمندر کی گہرائیوں میں ڈوب گیا تھا۔ میکاہ اِسی تصویر کو اُٹھا کر گناہ پر لاگو کرتا ہے: جو کچھ کبھی مصری رتھوں کے ساتھ ہوا تھا، وہی خدا اب اُن طاقتوں کے ساتھ کرے گا جو اُس کی قوم کو غلام بنائے ہوئے ہیں، یعنی خود اُن کے اپنے گناہوں کے ساتھ۔ قوم کا سب سے بڑا دشمن اب باہر نہیں، اندر ہے۔ اور یہی وہ لکیر ہے جو صلیب تک جاتی ہے، جہاں مسیح نے گناہ کو محض ڈھانپا نہیں بلکہ اُسے شکست دی، اور خدا کا غضب برداشت کر کے اُس ”مقدمے“ کو جیتا جس کا ذکر آیت 9 کرتی ہے۔
آئینہ
ہم میں سے اکثر لوگ ایک خاص گناہ کے ساتھ جیتے ہیں جو کبھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ وہ برسوں پہلے کا کوئی فیصلہ ہو سکتا ہے، کسی رشتے میں کی گئی بے وفائی، پیسوں کے معاملے میں کی گئی خاموش بددیانتی، یا وہ غصہ جو آپ نے اپنے بچوں پر نکالا اور جس کی یاد آج بھی رات کو آپ کو جگاتی ہے۔ آپ اُسے مان چکے ہیں، اقرار کر چکے ہیں، اور پھر بھی وہ واپس آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ میکاہ کہتا ہے: خدا نے اُسے پاؤں تلے کچل دیا اور سمندر میں پھینک دیا۔ غوطہ خور اُسے نکالنے نہیں جا سکتا، اور نہ آپ کو جانا چاہئے۔ آج ایک کاغذ پر وہ ایک گناہ لکھیں جو بار بار آپ کے ذہن میں لوٹ آتا ہے، پھر بلند آواز سے کہیں کہ خدا نے اِسے گہرائیوں میں پھینک دیا ہے، اور وہ کاغذ پھاڑ کر پھینک دیں۔
دوسرے صحیفوں کی گونج
یہ آیت تنہا نہیں کھڑی۔ خروج کی کتاب میں سمندر کے کنارے گایا گیا گیت بتاتا ہے کہ خدا نے فرعون کے رتھوں کو سمندر میں ڈال دیا؛ میکاہ وہی فعل گناہ کے لئے استعمال کرتا ہے، اور یوں نجات کی سب سے بڑی قومی یاد ایک ذاتی تجربہ بن جاتی ہے۔ دوسری طرف زبور 103 میں داؤد کہتا ہے کہ خدا نے ہماری خطاؤں کو ہم سے اِتنا دُور کر دیا جتنا مشرق مغرب سے دُور ہے۔ دونوں تصویریں فاصلے کی بات کرتی ہیں، لیکن میکاہ کی تصویر زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اُس میں تشدد ہے۔ گناہ کو صرف ہٹایا نہیں جاتا، اُسے مارا جاتا ہے۔ اور یہیں ایک تناؤ بھی پیدا ہوتا ہے: باب کی پہلی آیتیں کہتی ہیں کہ ”ایک بھی ایمان دار نہیں رہا“، پھر بھی آیت 19 امید سے بھری ہے۔ معافی کا واحد سہارا خدا کا کردار ہے، قوم کی حالت نہیں۔
مرکزی کردار
اِس آیت کا اصل کردار خدا ہے، اور اُس کی تصویر یہاں دوہری ہے۔ ایک طرف وہ جنگجو ہے جو اپنے پاؤں تلے کچلتا ہے، دوسری طرف وہ ماں کی سی تڑپ رکھنے والا رب ہے جو ”ہمیشہ تک غصے نہیں رہتا بلکہ شفقت پسند کرتا ہے۔“ ہم اکثر اِن دونوں کو الگ کر دیتے ہیں اور یا تو ایک سخت منصف کو مانتے ہیں یا ایک نرم بزرگ کو۔ میکاہ اجازت نہیں دیتا۔ اُس کا خدا اِس لئے گناہ کو کچلتا ہے کیونکہ وہ گنہگار سے محبت کرتا ہے؛ اُس کا قہر اُس کی وفاداری کا ہی دوسرا رُخ ہے۔ آیت 20 اِسی کو ختم کرتی ہے: ابراہام سے کی گئی قسم آج بھی قائم ہے۔ خدا اپنے وعدے کا قیدی نہیں، اپنے وعدے کا وفادار ہے۔
ایک باریک بات
لفظ ”دوبارہ“ پر ٹھہریئے، جو آیت میں دو بار آتا ہے۔ یہ چھوٹا سا لفظ مان لیتا ہے کہ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔ قوم پہلے بھی گر چکی، پہلے بھی معافی پا چکی، اور اب پھر اُسی جگہ کھڑی ہے۔ میکاہ اِس شرمندگی کو چھپاتا نہیں بلکہ اُسے دعا میں شامل کر لیتا ہے۔ ”دوبارہ“ اُن لوگوں کا لفظ ہے جو جانتے ہیں کہ وہ پہلی بار نہیں آ رہے۔ اور یہی آیت 8 کی گواہی سے ملتا ہے: ”گو مَیں گر گیا ہوں تاہم دوبارہ کھڑا ہو جاؤں گا۔“ ایمان کی زندگی میں گرنا فیصلہ کن نہیں؛ فیصلہ کن یہ ہے کہ اُٹھانے والا کون ہے۔
غور و فکر کے سوالات
کون سا گناہ ہے جسے خدا نے سمندر میں پھینک دیا ہے مگر آپ بار بار غوطہ لگا کر واپس نکال لاتے ہیں، اور ایسا کرنے سے آپ کو کیا ملتا ہے؟
اگر خدا کی معافی ایک فتح ہے نہ کہ نرمی، تو یہ اُس شخص کے بارے میں آپ کے رویے کو کیسے بدلتا ہے جسے آپ نے ابھی تک معاف نہیں کیا؟
Micah 7:19 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
میکاہ 7:19 کا کیا مطلب ہے؟
میکاہ 7:19 کس بارے میں ہے؟
میکاہ 7:19 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
میکاہ 7:19 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
میکاہ 7:19 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Micah 7 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
قومیں جو کبھی خدا کے لوگوں کا مذاق اُڑاتی تھیں، آخر میں اپنی پناہ گاہوں سے نکل کر آتی ہیں: "وہ ڈرتے ڈرتے تیرے حضور آئیں گے اور تجھ سے خوف کھائیں گے۔" غور کریں کہ وہ بھاگتی نہیں، آتی ہیں۔ خوف اُنہیں دُور نہیں کرتا بلکہ قریب لے آتا ہے۔ اور جس کے حضور وہ کانپتے ہوئے پہنچتے ہیں، وہی ہے جو گناہ معاف کرنا پسند کرتا ہے۔ آپ کا ڈر بھی آپ کو اُس کے قدموں تک لا سکتا ہے۔
میکاہ کا یہ جملہ کتنا تلخ ہے: "اپنے پڑوسی پر اعتماد مت کرنا، اپنے دوست پر بھروسا مت رکھنا۔" یہ کوئی مشورہ نہیں بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے دل کا نوحہ ہے۔ جب رشتے زخم دینے لگیں تو دل بند ہو جاتا ہے۔ مگر میکاہ وہیں نہیں رکا۔ دو آیتوں بعد وہ کہتا ہے کہ مَیں خداوند کی راہ دیکھوں گا۔ جس بھروسے کی جگہ خالی ہو گئی، اُسے خدا سے بھرو۔
اُس دن لوگ اسور اور مصر کے شہروں سے، ایک سمندر سے دوسرے سمندر تک اور ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک تیرے پاس آئیں گے۔“ غور کریں کہ یہ نام کن کے ہیں: اسور اور مصر، وہی جنہوں نے اسرائیل کو غلام بنایا اور اُجاڑا۔ جہاں سے قوم کو زخم ملے، وہیں سے لوگ گھر لوٹ رہے ہیں۔ خدا کے پاس ایسا کوئی فاصلہ نہیں جو واپسی کے لیے بہت زیادہ ہو۔ آپ کی زندگی کا وہ حصہ جو سب سے دور نکل گیا ہے، اُسے بھی وہ بلا سکتا ہے۔
شکر ہے کہ تُو وہی خدا ہے جو مصر سے نکلتے وقت اپنی قوم کو معجزے دکھاتا رہا، اور آج بھی وعدہ کرتا ہے کہ ہمیں معجزے دکھائے گا۔ تیرا بازو چھوٹا نہیں ہوا۔ شکریہ کہ تُو نے میری زندگی میں بھی بند راستے کھولے اور مجھے قید سے نکالا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں