نحمیاہ 4
متن
سنبلّط اور طوبیاہ کو خبر ملتی ہے کہ یروشلم کی فصیل واقعی اُٹھ رہی ہے، اور اُن کا پہلا ہتھیار طنز ہے: ”یہ ضعیف یہودی کیا کر رہے ہیں؟“ اور ”دیوار اِتنی کمزور ہو گی کہ اگر لومڑی بھی اُس پر چھلانگ لگائے تو گر جائے گی۔“ نحمیاہ جواب میں لڑنے کے بجائے دعا کرتا ہے، اور کام جاری رہتا ہے یہاں تک کہ دیوار آدھی اونچائی تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر دشمن مذاق سے سازش کی طرف بڑھتے ہیں، اندر مزدور تھکن سے کراہنے لگتے ہیں، اور نحمیاہ لوگوں کو ہتھیار دے کر خاندانوں کے مطابق کھڑا کر دیتا ہے۔ آخر میں ایک ہاتھ میں اوزار، دوسرے میں تلوار، صبح سے ستاروں تک، اور کپڑے تک نہیں اُتارے جاتے۔
اصل بات
یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ خدا اپنا کام کن چیزوں سے کرتا ہے: ”جلے ہوئے پتھروں“ اور ”ملبے کے ڈھیر“ سے۔ سنبلّط کا طنز دراصل ایک درست مشاہدہ تھا؛ سامان واقعی ردی تھا اور کام کرنے والے واقعی کمزور تھے۔ غلطی اُس کے اعداد و شمار میں نہیں، اُس کے حساب میں تھی، کیونکہ اُس نے خدا کو شمار نہیں کیا۔ نحمیاہ کا جواب فوجی نہیں بلکہ الٰہیاتی ہے: ”رب کو یاد کریں جو عظیم اور مہیب ہے۔“ خوف کو دلیل سے نہیں، بلکہ ایک بڑے خوف سے، یعنی خدا کی ہیبت سے شکست دی جاتی ہے۔ اور مقابلہ برابر کا نہیں: ”ہمارا خدا ہمارے لئے لڑے گا۔“ بحالی انسانی کوشش اور الٰہی حفاظت کا ایسا امتزاج ہے جسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
سلسلۂ کلام
یہ دیوار محض اینٹ گارا نہیں تھی۔ یہ اُس شہر کے گرد حد بندی تھی جہاں سے مسیح آنا تھا؛ اگر یروشلم بکھر جاتا تو وہ قوم ختم ہو جاتی جس میں وعدہ محفوظ رکھا گیا تھا۔ اِس لیے سنبلّط اور طوبیاہ کی مخالفت صرف علاقائی سیاست نہیں، نجات کی تاریخ کے خلاف مزاحمت ہے۔ اور غور کریں: مذاق اُڑانا وہی ہتھیار ہے جو صدیوں بعد صلیب کے نیچے دوبارہ استعمال ہوا، جہاں تماشائیوں نے یسوع کی بےبسی پر ہنسا، بےخبر کہ اُس وقت اصل تعمیر ہو رہی تھی۔ خداوند یسوع نے فرمایا کہ وہ اپنی کلیسیا بنائے گا اور موت کے دروازے اُس پر غالب نہ آئیں گے (متی ۱۶)۔ نحمیاہ ایک سایہ ہے: ایسا معمار جو بناتا اور لڑتا ہے۔ مسیح وہ حقیقت ہے جس نے ایک ہی وقت میں یہ دونوں کام مکمل کیے، اور اپنے جسم سے دیوار اور قربانی دونوں بنا۔
آئینہ
آپ جانتے ہیں کہ آدھی اونچائی کہاں ہوتی ہے۔ وہ رشتہ جس کی مرمت آپ نے شروع کی اور اب دونوں تھک چکے ہیں۔ وہ چھوٹی جماعت جہاں ہر ہفتے آپ ہی کرسیاں لگاتے ہیں۔ وہ عادت جسے چھوڑنے کے چار مہینے بعد پرانی آواز واپس آ جاتی ہے۔ یہوداہ کے لوگوں کی شکایت شکایت نہیں، تشخیص تھی: ”مزدوروں کی طاقت ختم ہو رہی ہے، اور ابھی تک ملبے کے بڑے ڈھیر باقی ہیں۔“ سب سے خطرناک لمحہ آغاز نہیں، درمیان ہے، جب جوش ٹھنڈا ہو چکا ہو اور کام باقی ہو۔ نحمیاہ نے اُنہیں شرمندہ نہیں کیا اور نہ جھوٹی تسلی دی؛ اُس نے اُنہیں اپنے خاندانوں کے سامنے کھڑا کیا اور کہا کہ لڑائی بیویوں، بیٹوں بیٹیوں اور گھروں کے لیے ہے۔ تھکن کا علاج آرام سے پہلے مقصد ہے۔
کلام کی گونج
آیت ۴ اور ۵ کی دعا زبور کی اُن دعاؤں کی گونج ہے جو دشمن پر خدا کے انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں، جیسے زبور ۶۹۔ یہ دعائیں بدلہ لینے سے انکار ہیں: نحمیاہ ہاتھ نہیں اُٹھاتا، معاملہ خدا کے ہاتھ میں دیتا ہے۔ دوسری گونج پولوس رسول کے پاس ملتی ہے، جہاں ایمان دار کو خدا کے ہتھیار پہننے کو کہا گیا (افسیوں ۶)۔ نحمیاہ کے مزدور اِس کی جسمانی تصویر ہیں: ”سامان اُٹھانے والے ایک ہاتھ سے ہتھیار پکڑے کام کرتے تھے۔“ کلیسیا کی زندگی ہمیشہ دوہری رہتی ہے، تعمیر اور مدافعت ساتھ ساتھ، کیونکہ جو کچھ خدا بناتا ہے اُس کی مخالفت ہوتی ہے۔ جو صرف بناتا ہے وہ غافل ہے؛ جو صرف لڑتا ہے وہ کچھ نہیں چھوڑتا۔
مرکزی کردار
نحمیاہ کی سب سے حیران کن بات اُس کی رفتار نہیں، اُس کا توازن ہے۔ وہ دعا کرتا ہے اور پہرے دار بھی لگاتا ہے: ”ہم نے اپنے خدا سے التماس کر کے پہرے دار لگائے۔“ دونوں ایک ہی سانس میں۔ وہ ایسا رہنما نہیں جو محل سے حکم دے؛ وہ رات یروشلم میں گزارتا ہے، اور اُن دنوں میں نہ اُس نے، نہ اُس کے بھائیوں نے کبھی اپنے کپڑے اُتارے۔ اُس کے غصے کو بھی چھپایا نہیں گیا؛ آیت ۴ کی دعا مہربان نہیں، مگر ایمان دار ہے۔ وہ خدا سے وہ بات کہتا ہے جو دل میں ہے، اور یہی اُسے دشمن کی طرح بننے سے بچاتا ہے۔ مگر باب کا اصل کردار وہ نہیں؛ آیت ۱۵ صاف کہتی ہے کہ ”اللہ نے اُن کے منصوبے کو ناکام ہونے دیا۔“ نحمیاہ منتظم ہے، خدا محافظ۔
سوال
پھر اُس دعا کا کیا کریں جو مانگتی ہے کہ ”لوگ اُنہیں لُوٹ لیں“ اور ”اُن کے گناہ تجھے یاد رہیں“؟ ہم اِسے آسانی سے نرم نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ صلیب پر کہی گئی اُس دعا کے بالکل برعکس لگتی ہے جس میں یسوع نے اپنے قاتلوں کی بخشش مانگی۔ ایماندارانہ بات یہ ہے کہ نحمیاہ اُس مقام پر کھڑا ہے جہاں انصاف کا انتظار ہے اور کفارہ ابھی نہیں دیا گیا۔ اُس کی دعا گناہ کو ہلکا نہیں کرتی، اور یہ صحیح ہے؛ خدا واقعی حساب لیتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں وہ حساب کہاں چکایا گیا۔ اِس لیے ہم اپنے دشمنوں کی بخشش مانگ سکتے ہیں، مگر بےوزنی سے نہیں: بخشش سستی نہیں، وہ کسی کے کندھوں پر پڑی ہے۔ اور کبھی، جب ظلم تازہ ہو، آپ کی دعا نحمیاہ کی طرح نکلے گی۔ ایسی دعا کو دبانے سے بہتر ہے اُسے خدا کے سامنے رکھ دینا۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سا کام ہے جو ”آدھی اونچائی“ پر رُکا ہوا ہے، اور وہاں تھکن کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟
آپ کے ہاتھ میں اِس وقت اوزار کیا ہے اور تلوار کیا، یعنی کہاں آپ بنا رہے ہیں اور کہاں آپ کو جاگتے رہنا ہے؟
Nehemiah 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
نحمیاہ 4 کا کیا مطلب ہے؟
نحمیاہ 4 کس بارے میں ہے؟
نحمیاہ 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
نحمیاہ 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نحمیاہ 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Nehemiah 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
دشمنوں کا اصل نشانہ لوگ نہیں بلکہ کام تھا: "اُنہیں قتل کر کے کام رُکوا دیں گے۔" اور اُن کا سب سے بڑا ہتھیار خاموشی تھی، "اُنہیں پتا ہی نہیں چلے گا۔" آج بھی جو چیز آپ کو خدا کے کام سے ہٹاتی ہے وہ شور مچا کر نہیں آتی۔ وہ آہستہ آہستہ دل میں سرکتی ہے۔ ذرا رُک کر پوچھیں: میرے ہاتھ کی اینٹ کب سے نیچے رکھی ہے، اور کیوں؟
اے خدا، ہم صبح سے رات کے تاروں تک محنت کرتے ہیں اور کبھی تھک جاتے ہیں۔ تُو ہمارے ہاتھوں کو مضبوط کر، جہاں کام کرنا ہے وہاں ہمت دے اور جہاں پہرہ دینا ہے وہاں چوکسی۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری حفاظت تیری ہی ہے، اِس لیے ہم بے خوف ہو کر اپنا کام کرتے رہیں گے۔
نحمیاہ کی یہ دعا سُن کر دل ٹھٹھک جاتا ہے: ”اُن کا قصور نہ ڈھانپ اور اُن کا گناہ اپنے حضور سے مٹنے نہ دے۔“ کوئی نرم الفاظ نہیں، کھرا غصہ ہے۔ مگر غور کرو، اُس نے پتھر نہیں اُٹھایا، دعا اُٹھائی۔ اپنا زخم اُس نے مذاق اُڑانے والوں پر نہیں، خدا کے سامنے اُنڈیل دیا اور پھر دیوار بناتا رہا۔ تیرا غصہ آج کہاں جا رہا ہے؟
اے خدا، ایسے دن آتے ہیں جب آرام کا وقت نہیں ملتا اور ہمیں چوکس رہنا پڑتا ہے۔ تھکن میں بھی ہمیں سنبھالے رکھ۔ ہمارے ہاتھ کام سے اور دل تجھ پر بھروسے سے بھرے رہیں، اور ہم جانیں کہ اس تعمیر میں تُو ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
