فِلپّیوں 1
متن
پولس، جو خود کو "مسیح عیسیٰ کے غلاموں" میں شمار کرتا ہے، فلپی کی جماعت کو قید سے لکھتا ہے۔ وہ اُن کے لئے شکر ادا کرتا ہے، اُن کی محبت میں بصیرت کے اضافے کی دعا کرتا ہے، اور پھر ایک حیران کن بات کہتا ہے: اُس کی گرفتاری خوش خبری کے پھیلاؤ کا سبب بن گئی ہے۔ آخر میں وہ زندگی اور موت کے درمیان کھڑا ہو کر جماعت کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ "آسمان کے شہریوں کے لائق زندگی" گزاریں اور مخالفت سے نہ ڈریں۔
مرکزی بات
اِس باب کا دل آیت 21 ہے: "میرے لئے مسیح زندگی ہے اور موت نفع کا باعث۔" یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ ایک قیدی کا حساب کتاب ہے جو جانتا ہے کہ فیصلہ اُس کے ہاتھ میں نہیں۔ روم کی عدالت اُس کی جان لے سکتی ہے، مگر اُس سے کچھ چھین نہیں سکتی، کیونکہ اُس کی زندگی کا مرکز اُس کے جسم سے باہر ہے۔ اِسی لئے پولس آیت 6 میں کہہ سکتا ہے کہ جو کام اللہ نے شروع کیا وہ اُسی کی ذمہ داری ہے، ہماری کارکردگی کی نہیں۔ نجات ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا آغاز، تسلسل اور انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔
کہانی کا دھاگا
فلپی کے مسیحی رومی شہریت پر فخر کرتے تھے؛ یہ شہر رومی فوجیوں کی آبادکاری کی کالونی تھا اور شہریت وہاں کا سب سے بڑا سماجی سرمایہ۔ پولس اُسی لفظ کو اُٹھا کر کہتا ہے: "آسمان کے شہریوں کے لائق زندگی گزاریں۔" یہ وہی پرانا دھاگا ہے جو ابرہام سے چلا آ رہا ہے: خدا کے لوگ ہمیشہ کسی اور بادشاہت کے نمائندے رہے ہیں، خواہ وہ مصر میں ہوں، بابل میں یا رومی کالونی میں۔ مسیح میں یہ وعدہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے۔ قیصر کی کالونی کے بیچ میں ایک اور بادشاہ کی کالونی وجود میں آ چکی ہے، اور اُس کا بادشاہ مصلوب ہوا اور جی اُٹھا۔
آئینہ
ہم عموماً یوں دعا کرتے ہیں: خداوند، رکاوٹ ہٹا دے۔ پولس دعا نہیں کرتا کہ زنجیر ٹوٹ جائے؛ وہ گنتا ہے کہ زنجیر نے کیا کام کر دیا۔ یہ بات کھٹکتی ہے، خاص کر جب آپ کی نوکری غیر یقینی ہو، رپورٹ ہاتھ میں ہو، یا گھر میں کوئی رشتہ ٹوٹ رہا ہو۔ اور آیت 15 سے 18 تو اور بھی چبھتی ہے: کچھ لوگ حسد سے منادی کر رہے ہیں تاکہ پولس کی تکلیف بڑھے، اور وہ کہتا ہے "اِس سے کیا فرق پڑتا ہے!" ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ کہہ سکیں جب ہمارا نام مٹا کر کوئی اور ہمارے کام کا سہرا لے لے؟ یہاں آزادی کی ایک قسم ہے جو زنجیروں سے زیادہ گہری ہے۔
سوال
آیت 28 آسانی سے ہضم نہیں ہوتی: مخالفوں کے لئے یہ "ایک نشان ہو گا کہ وہ ہلاک ہو جائیں گے۔" یعنی جماعت کی بےخوفی خود ہی عدالت کا اعلان بن جاتی ہے۔ اور آیت 29 اِس سے بھی سخت ہے: دُکھ اُٹھانا بھی "فضل" ہے، تحفہ۔ ہم فضل کو راحت سمجھتے ہیں؛ پولس اُسے شراکت سمجھتا ہے۔ کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تکلیف بھیجتا ہے؟ متن یہ نہیں کہتا اور ہمیں بھی یہ کہنے سے بچنا چاہئے۔ متن صرف اِتنا کہتا ہے کہ جو دُکھ مسیح کی خاطر آتا ہے وہ سزا نہیں بلکہ رفاقت کی علامت ہے۔ یہ جواب درد کو ختم نہیں کرتا؛ یہ اُسے تنہائی سے نکال دیتا ہے۔
پس منظر
تصور کریں: ایک کرائے کا کمرہ یا فوجی چوکی، ہاتھ میں زنجیر، اور دن رات بدلتے پہرے دار جو مجبوراً پولس کی باتیں سنتے ہیں۔ "پریٹوریُم" شہنشاہ کا محافظ دستہ تھا، سلطنت کے دل کی حفاظت کرنے والے چنیدہ سپاہی۔ اُن کی بیرکوں میں یہ خبر پھیل رہی ہے کہ ایک یہودی قیدی کسی اور خداوند کا اعلان کر رہا ہے۔ دوسری طرف فلپی، رومی سلطنت کی ایک سبکدوش فوجیوں کی کالونی، جہاں لاطینی زبان، رومی قانون اور قیصر کی پرستش سماجی زندگی کا ڈھانچہ تھے۔ وہاں ایک چھوٹی جماعت، جس کے "بزرگوں اور خادموں" کا ذکر پولس کرتا ہے، ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہی ہے جو اُن کے وفاداری کے سوال کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
پہلے سننے والے
فلپی کے لوگ جانتے تھے کہ زنجیر کا مطلب کیا ہے۔ اُنہوں نے پولس اور سیلاس کو اپنے ہی شہر میں مارتے اور قید ہوتے دیکھا تھا۔ اُن کے کانوں میں "خوشی" کا لفظ سستا نہیں تھا۔ جب پولس لکھتا ہے کہ اُنہوں نے اُس کے "خاص فضل میں" شراکت کی، تو وہ سمجھتے تھے کہ اِس کی قیمت کیا ہے: پیسہ بھیجنا، ایک بدنام قیدی سے تعلق تسلیم کرنا، پڑوسیوں کی نظروں میں مشکوک ہو جانا۔ اور جب وہ سنتے ہیں "آسمان کے شہری"، تو یہ اُن کے لئے استعارہ نہیں بلکہ ایک متبادل پاسپورٹ تھا۔ رومی شہریت جان بچا سکتی تھی؛ یہ نئی شہریت جان لے بھی سکتی تھی، اور اُس سے آگے لے جاتی تھی۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کی کون سی "زنجیر" ہے جسے آپ ہٹانے کی دعا کرتے رہے ہیں، اور اگر پولس کی طرح آپ پوچھیں کہ اِس نے خوش خبری کے لئے کیا دروازہ کھولا ہے تو جواب کیا ہو گا؟
جب کوئی آپ کے کام کا سہرا لے لے یا غلط نیت سے وہی خدمت کرے جو آپ کرتے ہیں، تو کیا آپ سچ مچ کہہ سکتے ہیں "اِس سے کیا فرق پڑتا ہے"؟ اگر نہیں، تو آپ کی خوشی اصل میں کس چیز پر ٹکی ہوئی ہے؟
Philippians 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
فِلپّیوں 1 کا کیا مطلب ہے؟
فِلپّیوں 1 کس بارے میں ہے؟
فِلپّیوں 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
فِلپّیوں 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
فِلپّیوں 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Philippians 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ آپ نے ہم میں اپنا نیک کام خود شروع کیا اور اُسے عیسیٰ مسیح کے دن تک جاری رکھیں گے۔ شکریہ کہ ہماری ادھوری کوششیں آپ کے ہاتھ میں محفوظ ہیں، اور جہاں ہم تھک کر رُک جاتے ہیں وہاں بھی آپ کام کرتے رہتے ہیں۔
اے خدا، پولس کی زنجیریں بھی تیری گواہی بن گئیں۔ میری تنگیاں اور بند دروازے بھی ایسے ہی بول اٹھیں کہ لوگ جان لیں کہ میں مسیح کا ہوں۔ جہاں میں خود کو بے بس سمجھتا ہوں، وہیں تو اپنا کام کر۔ مجھے ہمت دے کہ شکایت نہیں، تیرا نام ظاہر کروں۔
اے خدا، میری خواہش یہی ہے کہ شرمندہ نہ ہوؤں بلکہ ہر حال میں تیرا نام میری زندگی سے ظاہر ہو۔ کبھی ہمت ٹوٹتی ہے اور ڈر گھیر لیتا ہے، تو مجھے وہ دلیری دے جو تجھ سے آتی ہے۔ جیوں یا مروں، میرا یہ جسم تیری بزرگی دکھائے۔
پولس قید میں بیٹھا ہے، زنجیریں ہاتھ میں ہیں، اور وہ لکھتا ہے، ”خدا ہمارے باپ اور خداوند یسوع مسیح آپ کو فضل اور سلامتی عطا کرے۔“ پہلے فضل، پھر سلامتی۔ ترتیب بدلتی نہیں۔ جب تک آپ یہ نہ مان لیں کہ سب کچھ مفت ملا ہے، دل کو چین نہیں آتا۔ آج آپ کس چیز کی قیمت ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو خدا آپ کو مفت دینا چاہتا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
