بائبل کی تشریح

زبور 10

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یہ زبور ایک سوال سے شروع ہوتا ہے جو دعا کی کتاب میں رکھا جانا ہی حیرت انگیز ہے: ”اے رب، تُو اِتنا دُور کیوں کھڑا ہے؟“ اِس کے بعد گیارہ آیتیں اُس آدمی کی تصویر کھینچتی ہیں جو خدا کے بغیر جیتا ہے: وہ کامیاب ہے، پُرغرور ہے، شیرببر کی طرح تاک میں بیٹھا ہے، اور دل میں کہتا ہے کہ خدا بھول گیا ہے۔ پھر اچانک لہجہ بدلتا ہے: ”اے رب، اُٹھ!“ اور آخری آیتوں میں دعا کرنے والا وہ بات کہہ دیتا ہے جو اُس نے آیت 1 میں محسوس نہیں کی تھی: ”اے اللہ، حقیقت میں تُو یہ سب کچھ دیکھتا ہے۔“

مرکزی نکتہ

غور کریں کہ ایک ہی جملہ دو زبانوں سے نکلتا ہے۔ دعا کرنے والا کہتا ہے کہ خدا اپنے آپ کو پوشیدہ رکھتا ہے؛ بےدین کہتا ہے، ”اُس نے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔“ الفاظ تقریباً ایک جیسے ہیں، مگر نتیجہ ایک دوسرے کے برعکس ہے۔ ایک اِسی خاموشی کو لے کر خدا کے سامنے جھگڑتا ہے، دوسرا اُسی خاموشی کو اپنے ظلم کا لائسنس بنا لیتا ہے۔ یہی اِس زبور کا دینیاتی مرکز ہے: خدا کی خاموشی بےخبری نہیں۔ ”رب ابد تک بادشاہ ہے“ اُس وقت بھی سچ ہے جب بادشاہ کا تخت نظر نہ آ رہا ہو۔ ایمان اِس فرق میں جیتا ہے: جو دکھائی نہیں دیتا، اُسے ہم موجود مانتے ہیں اور اُس سے شکایت بھی کر لیتے ہیں۔

سلسلۂ کلام

بائبل کی پوری کہانی میں خدا اپنی بادشاہی کو ایک خاص نشانی سے پہچنواتا ہے: وہ ”یتیموں کا مددگار“ ہے۔ جہاں کمزور کا انصاف ہوتا ہے، وہاں اُس کا ملک قائم ہے۔ اِسی لیے یہ زبور مسیح تک لے جاتا ہے، مگر اُس راستے سے نہیں جس کی ہم توقع کرتے ہیں۔ صلیب پر خداوند یسوع نے زبور 22 کا وہی سوال دہرایا جو یہاں آیت 1 میں ہے: تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ یعنی وہ اُس بےدین کے بازو کو توڑنے کے لیے نہیں آیا بلکہ پہلے خود اُس ”بدقسمت“ کی جگہ کھڑا ہوا جس پر شیر جھپٹتا ہے۔ آیت 15 کی دعا رد نہیں ہوئی، مگر اُس کا جواب قیامت کے ذریعے آیا: ظلم کا اثر مٹنے لگا۔

آئینہ

اِس زبور کا بےدین کوئی سینگوں والا عفریت نہیں۔ وہ ”کامیاب“ ہے، منصوبہ بند ہے، اور اُس کی بنیادی سوچ صرف یہ ہے: ”اللہ مجھ سے جواب طلبی نہیں کرے گا۔“ یہ عقیدے کی نہیں، عملی زندگی کی بےخدائی ہے۔ وہ اُس معاہدے میں چھپی ہوتی ہے جس کی شرطیں کمزور فریق کو پیس دیتی ہیں؛ اُس لہجے میں جو گھر میں صرف اِس لیے چلتا ہے کہ کوئی جواب نہیں دے سکتا؛ اُس خاموشی میں جو ہم اپنے محلے کے کسی بےسہارا کے بارے میں اختیار کر لیتے ہیں۔ آج ایک کام کریں: کاغذ پر اُس ایک شخص کا نام لکھیں جو آپ کے دائرے میں سب سے کم طاقت رکھتا ہے، اور اُس نام کے ساتھ آیت 12 بلند آواز میں پڑھیں: ”اے رب، اُٹھ!“

مرکزی کردار

اِس نظم میں بےدین تین بار ”دل میں“ بولتا ہے، اور ہر بار وہ خدا کو وقت کے دائرے سے باہر دھکیل دیتا ہے: جواب طلبی نہیں ہوگی، مَیں کبھی نہیں ڈگمگاؤں گا، اللہ بھول گیا ہے۔ یہ آدمی بہت طاقتور دکھتا ہے مگر اُس کی پوری عمارت ایک اندرونی مکالمے پر کھڑی ہے، ایک ایسی سرگوشی پر جس کی تصدیق کوئی نہیں کرتا۔ اور جب دعا کرنے والا اُس کے خلاف دعا مانگتا ہے تو وہ اُس کا خاتمہ نہیں مانگتا، صرف اُس کا بازو: ”شریر اور بےدین آدمی کا بازو توڑ دے!“ یعنی اُس کی ساری دہشت ایک بازو کی طاقت جتنی ہے۔ غرور خود کو ابدی سمجھتا ہے؛ اصل میں وہ ایک ہڈی پر ٹکا ہوا ہے۔

ایک باریک بات

آیت 17 کا فعل غور سے دیکھیں: ”تُو نے ناچاروں کی آرزو سن لی ہے۔“ ماضی۔ ابھی تک کچھ بدلا نہیں، شیر ابھی تاک میں ہے، جال ابھی بچھے ہیں، اور یتیم کا مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے۔ مگر دعا کرنے والا سننے کو ماضی میں رکھ دیتا ہے اور انصاف کو مستقبل میں: ”انصاف کرے گا۔“ گویا سنائی جانا خود ایک واقعہ ہے جو ہو چکا، چاہے اُس کا نتیجہ ابھی راستے میں ہو۔ یہی زبور کی خاموش تبدیلی ہے۔ آیت 1 میں خدا دُور کھڑا تھا؛ آیت 17 میں وہ اِتنا قریب ہے کہ دل کو مضبوط کر رہا ہے۔ کیا بیچ میں خدا بدلا، یا دیکھنے والی آنکھ؟ زبور جواب نہیں دیتا۔

سامعین کا نقشہ

پہلے سننے والوں کے لیے یہ کوئی نظریاتی مسئلہ نہ تھا۔ اُن کے دیہات میں پولیس نہیں تھی، اور یتیم اور بیوہ کے پاس وہ رشتہ دار نہ تھا جو زمین کے جھگڑے میں اُن کی طرف سے کھڑا ہو۔ ”آبادیوں کے قریب تاک میں بیٹھ کر“ کی تصویر اُن کے لیے حقیقی تھی: سڑک پر لُوٹ، قرض کے جال، رات کو غائب ہونے والے لوگ۔ اور شریعت اُنہیں سکھاتی تھی کہ خدا خود یتیم کا رشتہ دار ہے۔ اِس لیے آخری فقرہ اُن کے کانوں میں پوری امید کی طرح گونجا: ”تاکہ آئندہ کوئی بھی انسان ملک میں دہشت نہ پھیلائے۔“ یہ ملک کے لیے دعا تھی، ہوا میں بلند کوئی نعرہ نہیں بلکہ اُس زمین کے لیے جس پر وہ ہل چلاتے تھے۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سی صورتِ حال ہے جہاں آپ نے خدا کی خاموشی کو ”وہ دیکھ نہیں رہا“ سمجھ لیا ہے، اور اُسے دوبارہ ”تُو یہ سب کچھ دیکھتا ہے“ کہنے کے لیے آپ کو کیا چھوڑنا پڑے گا؟

اگر بےدین کی ساری طاقت ایک بازو جتنی ہے، تو آپ کے خوف کی فہرست میں کیا چیز اپنے اصل قد سے بڑی بن کر بیٹھی ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Psalms 10 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

زبور 10 کا کیا مطلب ہے؟
یہ زبور ایک سوال سے شروع ہوتا ہے جو دعا کی کتاب میں رکھا جانا ہی حیرت انگیز ہے: ”اے رب، تُو اِتنا دُور کیوں کھڑا ہے؟“ اِس کے بعد گیارہ آیتیں اُس آدمی کی تصویر کھینچتی ہیں جو خدا کے بغیر جیتا ہے: وہ کامیاب ہے، پُرغرور ہے، شیرببر کی طرح تاک میں بیٹھا ہے، اور دل میں کہتا ہے کہ خدا بھول گیا ہے۔ پھر اچانک لہجہ بدلتا ہے: ”اے رب، اُٹھ!
زبور 10 کس بارے میں ہے؟
بائبل کی پوری کہانی میں خدا اپنی بادشاہی کو ایک خاص نشانی سے پہچنواتا ہے: وہ ”یتیموں کا مددگار“ ہے۔ جہاں کمزور کا انصاف ہوتا ہے، وہاں اُس کا ملک قائم ہے۔ اِسی لیے یہ زبور مسیح تک لے جاتا ہے، مگر اُس راستے سے نہیں جس کی ہم توقع کرتے ہیں۔ صلیب پر خداوند یسوع نے زبور 22 کا وہی سوال دہرایا جو یہاں آیت 1 میں ہے: تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ یعنی وہ اُس بےدین کے بازو کو توڑنے کے لیے نہیں آیا بلکہ پہلے خود اُس ”بدقسمت“ کی جگہ کھڑا ہوا جس پر شیر جھپٹتا ہے۔ آیت 15 کی دعا رد نہیں ہوئی، مگر اُس کا جواب قیامت کے ذریعے آیا: ظلم کا اثر مٹنے لگا۔
زبور 10 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِس نظم میں بےدین تین بار ”دل میں“ بولتا ہے، اور ہر بار وہ خدا کو وقت کے دائرے سے باہر دھکیل دیتا ہے: جواب طلبی نہیں ہوگی، مَیں کبھی نہیں ڈگمگاؤں گا، اللہ بھول گیا ہے۔ یہ آدمی بہت طاقتور دکھتا ہے مگر اُس کی پوری عمارت ایک اندرونی مکالمے پر کھڑی ہے، ایک ایسی سرگوشی پر جس کی تصدیق کوئی نہیں کرتا۔ اور جب دعا کرنے والا اُس کے خلاف دعا مانگتا ہے تو وہ اُس کا خاتمہ نہیں مانگتا، صرف اُس کا بازو: ”شریر اور بےدین آدمی کا بازو
زبور 10 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پہلے سننے والوں کے لیے یہ کوئی نظریاتی مسئلہ نہ تھا۔ اُن کے دیہات میں پولیس نہیں تھی، اور یتیم اور بیوہ کے پاس وہ رشتہ دار نہ تھا جو زمین کے جھگڑے میں اُن کی طرف سے کھڑا ہو۔ ”آبادیوں کے قریب تاک میں بیٹھ کر“ کی تصویر اُن کے لیے حقیقی تھی: سڑک پر لُوٹ، قرض کے جال، رات کو غائب ہونے والے لوگ۔ اور شریعت اُنہیں سکھاتی تھی کہ خدا خود یتیم کا رشتہ دار ہے۔ اِس لیے آخری فقرہ اُن کے کانوں میں پوری امید کی طرح گونجا: ”تاکہ آئندہ کوئی بھی انسان ملک میں دہشت نہ پھیلائے۔“ یہ ملک کے لیے دعا تھی، ہوا میں بلند کوئی نعرہ نہیں بلکہ اُس زمین کے لیے جس پر وہ ہل چلاتے تھے۔
زبور 10 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر بےدین کی ساری طاقت ایک بازو جتنی ہے، تو آپ کے خوف کی فہرست میں کیا چیز اپنے اصل قد سے بڑی بن کر بیٹھی ہے؟

Psalms 10 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟