زبور 23:1
متن
رات کا آخری پہر، پتھریلی ڈھلان، اور ایک لڑکا جو بھیڑوں کی گنتی پوری کر کے لاٹھی کے سہارے بیٹھ جاتا ہے۔ اسی دنیا سے یہ ایک سطر نکلی ہے: "رب میرا چرواہا ہے، مجھے کمی نہ ہو گی۔" داؤد اپنے پورے تجربے کو دو جملوں میں سمیٹ دیتا ہے، ایک دعویٰ خدا کے بارے میں اور ایک نتیجہ اپنے بارے میں۔ پہلا جملہ ایک رشتہ بیان کرتا ہے، دوسرا اُس رشتے سے پھوٹنے والا اطمینان۔ باقی پورا زبور، شاداب چراگاہوں سے لے کر تاریک ترین وادی تک، اسی پہلی سطر کی تفصیل ہے۔
اصل بات
غور کیجیے کہ داؤد یہ نہیں کہتا کہ رب چرواہا ہے، بلکہ "میرا چرواہا"۔ عبرانی میں یہ لفظ رعی ہے، اور اس کے ساتھ جڑا ہوا "میرا" پورے فقرے کا وزن اٹھاتا ہے۔ ایک عام مذہبی سچائی اور ایک ذاتی وابستگی میں یہی فرق ہے۔ قدیم مشرق میں چرواہا بادشاہ کا لقب تھا؛ حکمران خود کو اپنی رعایا کا گلہ بان کہتے تھے۔ داؤد، جو خود بادشاہ بنا، کہتا ہے کہ میرے اوپر بھی ایک چرواہا ہے۔ اور دوسرا جملہ محض خوش گمانی نہیں: "مجھے کمی نہ ہو گی" کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے سب کچھ مل جائے گا، بلکہ یہ کہ جو ضروری ہے وہ اُس کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ضرورت کی تعریف چرواہا کرتا ہے، بھیڑ نہیں۔
سلسلۂ کلام
اسرائیل کی یادداشت میں چرواہے کی تصویر ہمیشہ خروج سے جڑی رہی: خدا اپنے گلے کو مصر سے نکال کر بیابان میں سے چَراتا ہوا لے گیا۔ نبیوں نے بعد میں شکایت کی کہ اسرائیل کے چرواہوں نے گلہ لوٹ لیا، اور وعدہ دیا کہ خدا خود آ کر چَرائے گا۔ اسی پس منظر میں یسوع کا یہ کہنا کہ "مَیں اچھا چرواہا ہوں" ایک نرم تشبیہ نہیں بلکہ ایک دعویٰ ہے: وہ وعدہ آ پہنچا۔ اور مسیح اس تصویر میں ایک ایسی چیز شامل کرتے ہیں جو زبور ۲۳ میں چھپی ہوئی تھی، یعنی چرواہا اپنی جان دے کر بھیڑوں کو بچاتا ہے۔ داؤد کی "کمی نہ ہو گی" کی قیمت صلیب پر ادا ہوئی۔
آئینہ
یہ آیت ہمارے حساب کتاب پر انگلی رکھتی ہے۔ ہم میں سے اکثر خدا پر بھروسے کا اقرار کرتے ہیں اور ساتھ ہی رات کو جاگ کر تنخواہ، بچوں کے مستقبل، رپورٹوں اور مکان کے کرائے کا حساب لگاتے رہتے ہیں۔ "مجھے کمی نہ ہو گی" ہمارے اُس خوف کو بے نقاب کرتا ہے کہ اگر مَیں خود انتظام نہ کروں تو کچھ بھی محفوظ نہیں۔ اور یہ ہمارے فخر کو بھی چھوتا ہے، کیونکہ بھیڑ ہونا قبول کرنا اپنی خودمختاری چھوڑنا ہے۔ داؤد بادشاہ بن کر بھی بھیڑ رہا۔ آج ایک کام کیجیے: ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیے جس کی کمی کا آپ کو اِن دنوں سب سے زیادہ ڈر ہے، پھر اُس کے نیچے یہ سطر لکھ کر بلند آواز میں پڑھیے: "رب میرا چرواہا ہے، مجھے کمی نہ ہو گی۔"
مرکزی کردار
اس آیت کا اصل کردار داؤد نہیں، رب ہے، اور اُس کی تصویر حیران کن حد تک زمینی ہے۔ چرواہا کوئی شاندار عہدہ نہ تھا؛ یہ گرد آلود، بے آرام اور کم درجے کا کام تھا، اکثر گھر کے سب سے چھوٹے لڑکے کے سپرد۔ خدا اپنے آپ کو اسی روپ میں پیش ہونے دیتا ہے: وہ جو گنتا ہے، ڈھونڈتا ہے، رات بھر جاگتا ہے، اور بھیڑ کی رفتار سے چلتا ہے۔ اگلی آیتوں میں یہی خدا چَراتا ہے، لے جاتا ہے، تازہ دم کرتا ہے، قیادت کرتا ہے؛ سارے فعل اُسی کے ہیں۔ بھیڑ کچھ نہیں کرتی سوائے ساتھ چلنے کے۔ یہ خدا فاصلے پر بیٹھا منتظم نہیں بلکہ ساتھ چلنے والا مالک ہے۔
ایک باریک نکتہ
"مجھے کمی نہ ہو گی" کے پیچھے عبرانی فعل کا مطلب ہے کسی چیز کا گھٹ جانا، ادھورا رہ جانا۔ یہی لفظ اُس وقت استعمال ہوا جب اسرائیل بیابان میں من جمع کرتا تھا اور کسی کے پاس نہ زیادہ نکلا نہ کم۔ یعنی داؤد کا دعویٰ کثرت کا نہیں، کفایت کا ہے۔ چرواہے کے ساتھ بھیڑ امیر نہیں ہوتی، وہ صرف بھوکی نہیں مرتی۔ یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ ہم اکثر اس آیت کو خوشحالی کا وعدہ سمجھ لیتے ہیں۔ زبور خود آگے چل کر دشمنوں اور تاریک ترین وادی کا ذکر کرتا ہے۔ کمی نہ ہونے کا مطلب مشکل کا نہ ہونا نہیں، بلکہ مشکل کے اندر بھی خالی ہاتھ نہ رہ جانا ہے۔
سوال
پھر اُن لوگوں کا کیا جو واقعی بھوکے رہے؟ جو ایمان دار تھے اور پھر بھی بچہ دفن کیا، نوکری کھو دی، دوا خریدنے کی سکت نہ رہی؟ اس آیت کو اُن کے سامنے دہرانا آسان نہیں، اور اسے جلدی سے "روحانی ضرورتیں" کہہ کر ہلکا کر دینا بھی بددیانتی ہو گی، کیونکہ داؤد چراگاہ اور پانی کی بات کر رہا ہے، مجرد تسلی کی نہیں۔ میرے پاس مکمل جواب نہیں۔ مگر یہ ضرور دیکھتا ہوں کہ داؤد نے یہ سطر آرام کی کرسی پر نہیں لکھی؛ وہی آدمی غاروں میں چھپا اور اپنے بیٹے سے بھاگا۔ اُس نے یہ جملہ حالات سے نہیں، چرواہے کی ذات سے نکالا۔ کبھی کبھی گلہ صرف اتنا کہہ سکتا ہے: تُو میرے ساتھ ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا حصہ ہے جہاں آپ عملاً اپنے آپ کو اپنا چرواہا سمجھتے ہیں، اور اُسے چھوڑنا کیوں مشکل لگتا ہے؟
اگر "کمی نہ ہونے" کا مطلب کفایت ہے نہ کہ کثرت، تو آپ کی ضروریات کی فہرست میں سے کیا واقعی ضرورت ہے اور کیا صرف خواہش؟
Psalms 23:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 23:1 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 23:1 کس بارے میں ہے؟
زبور 23:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 23:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 23:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Psalms 23 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
When I read Psalm 23 with the loss of my father still fresh in my memory, verse 4 struck me most of all: even though I walk through the valley of the shadow of death, I will fear no evil, for You are with me. It was not a band-aid but a hand on my shoulder.
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں