رومیوں 12
متن
پولس رسول گیارہ باب تک اللہ کے رحم کی داستان سناتا رہا: یہود اور غیریہود، سب گناہ کے نیچے، سب فضل سے بحال۔ اب وہ گھوم کر قاری کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اِس رحم کا جواب کوئی نئی رسم نہیں بلکہ ایک جسم ہے جو اللہ کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہو، ایک ایسی زندہ قربانی جو چلتی پھرتی ہے۔ اِس کے بعد باب میں تین لہریں آتی ہیں: سوچ کی تجدید اور اپنی حقیقی حیثیت کا علم، مسیح کے ایک بدن میں مختلف نعمتوں کا سلیقے سے استعمال، اور آخر میں محبت کا وہ نقشہ جو دشمن تک پھیل جاتا ہے: برکت دینا، انتقام نہ لینا، بھلائی سے بُرائی پر غالب آنا۔
اصل بات
”زندہ اور مُقدّس قربانی“ ایک ایسا جوڑ ہے جو پہلی صدی کے کان میں کھٹکتا تھا۔ قربانی کی پہچان یہ تھی کہ وہ مرتی ہے؛ ذبح ہونے کے بعد اُس کا کوئی کل نہیں ہوتا۔ پولس کہتا ہے کہ اب قربانی مذبح سے اُٹھ کر گھر جاتی ہے، کام پر جاتی ہے، سالن پکاتی ہے۔ عبادت مندر کے صحن سے نکل کر بدن میں منتقل ہو گئی ہے، اور وہی ”معقول عبادت“ ہے، یعنی سوچی سمجھی، ہوش میں کی گئی خدمت۔ غور کیجئے کہ حکم کی بنیاد رحم ہے، نہ کہ خوف: ”اللہ نے آپ پر کتنا رحم کیا ہے!“ پہلے فضل، پھر تقاضا۔ اور تجدید بھی آپ کا کارنامہ نہیں: ”اللہ کو آپ کی سوچ کی تجدید کرنے دینا“ ہے، خود کو بہتر بنانے کی مشق نہیں۔
سلسلۂ نجات
پرانے عہد کی ساری قربانیاں ایک ہی سوال کے گرد گھومتی تھیں: کون میری جگہ مرے گا؟ بیل، بکرا، کبوتر، سب جواب کے اشارے تھے مگر جواب نہیں۔ پولس اِس باب میں لفظ ”قربانی“ اِس لئے استعمال کر سکتا ہے کہ ایک قربانی پہلے ہو چکی ہے؛ مسیح کا بدن دیا گیا، اِس لئے ہمارا بدن زندہ رہ کر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اور دیکھئے، ہم ”مسیح میں ایک ہی بدن ہیں“، یعنی اُسی کا بدن جو توڑا گیا۔ آیت 14 سے 21 تک کی فہرست کوئی نیا شریعتی ضابطہ نہیں؛ یہ مصلوب کی تصویر ہے۔ ایذا دینے والوں کو برکت دینا، لعنت نہ کرنا، بُرائی کا بدلہ نہ لینا، بھلائی سے بُرائی پر غالب آنا: صلیب پر بالکل یہی ہوا۔ مسیحی اخلاق مسیح کی شکل ہے جو ایک جماعت پر نقش کر دی گئی ہے۔
آئینہ
یہ باب ہماری اُس سیاست کو بے نقاب کرتا ہے جو ہم دفتر، خاندان اور کلیسیا میں چلاتے ہیں۔ جس ساتھی نے آپ کی محنت کا سہرا اپنے سر لیا، اُس سے آپ نے جھگڑا نہیں کیا؛ آپ نے صرف لہجہ سرد کر لیا، صرف ایک جملہ کسی تیسرے کو کہہ دیا۔ انتقام کے چھوٹے سکّے۔ جائیداد کے جھگڑے میں وہ رشتہ دار، وہ پیغام جو آپ نے لکھا اور بھیجا نہیں مگر حرف بہ حرف یاد ہے۔ اور آیت 15 تو اور چبھتی ہے: ”خوشی منانے والوں کے ساتھ خوشی منائیں“، خاص طور پر جب اُن کی خوشی وہی چیز ہو جو آپ مانگ رہے تھے، وہی ترقی، وہی اولاد، وہی رشتہ۔ محبت کا ”محض دکھاوے کی“ نہ ہونا یہیں پرکھا جاتا ہے۔ آج ہی ایک کام کیجئے: جس شخص نے آپ کو زخم دیا ہے اُس کا نام کاغذ پر لکھیں اور بلند آواز سے اُس کے لئے برکت کی دعا کہیں، لعنت کا ایک لفظ بھی نہیں۔
کلام کی گواہی
فلپیوں 2 میں پولس یہی بات دوسرے راستے سے کہتا ہے: مسیح نے اپنے آپ کو خالی کیا، خادم کی صورت اختیار کی، موت تک فرمانبردار رہا، اور اُسی سوچ کو وہ جماعت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ رومیوں 12 کی ”اونچی سوچ نہ رکھیں“ اُسی کی بازگشت ہے۔ دوسری طرف 1 پطرس 2 میں لکھا ہے کہ مسیح نے گالی کے بدلے گالی نہ دی بلکہ اپنا معاملہ عادل منصف کے سپرد کر دیا؛ یہ آیت 19 کا عملی نمونہ ہے۔ اور خود پولس دو پرانے اقتباس لاتا ہے: ”انتقام لینا میرا ہی کام ہے“ اور ”اگر تیرا دشمن بھوکا ہو تو اُسے کھانا کھلا“۔ یعنی یہ حکم نیا نہیں؛ یہ اُس خدا کا پرانا مزاج ہے جو صلیب پر پوری طرح ظاہر ہوا۔
سوال
”جلتے ہوئے کوئلوں کا ڈھیر“ پر ایماندار قاری رُک جاتا ہے۔ کیا یہ نفیس قسم کا انتقام ہے؟ دشمن کو روٹی دو تاکہ وہ اندر سے جل جائے؟ متن ہمیں یہ فیصلہ نہیں دیتا کہ کوئلے شرمندگی کی وہ آگ ہیں جو توبہ پیدا کرتی ہے یا آنے والی عدالت کا اشارہ۔ اور آیت 19 بھی آسان نہیں: انتقام چھوڑ دینا انصاف کو رد کرنا نہیں، بلکہ اُسے اپنے ہاتھ سے نکال کر اللہ کے ہاتھ میں رکھنا ہے۔ یہ بات راحت اور بےچینی ساتھ ساتھ دیتی ہے، کیونکہ ہمارے اندر کچھ ایسا ہے جو چاہتا ہے کہ وہ کوئلے واقعی جلائیں۔ پولس اِس خواہش کو صاف نہیں کرتا؛ وہ صرف آیت 21 رکھ دیتا ہے اور مقصد بتا دیتا ہے: بھلائی غالب آئے۔
ایک باریک نکتہ
آیت 10 کا فقرہ آسانی سے نظر سے پھسل جاتا ہے: ”ایک دوسرے کی عزت کرنے میں آپ خود پہلا قدم اُٹھائیں۔“ یونانی لفظ مقابلے کی بو رکھتا ہے، جیسے دوڑ میں آگے نکلنا۔ روم کے معاشرے کی پوری ساخت عزت کی دوڑ پر کھڑی تھی: کون کس کو سلام پہلے کرے، کون کس کی دعوت میں کہاں بیٹھے، کس کا سرپرست زیادہ بڑا ہے۔ پولس دوڑ ختم نہیں کرتا، اُس کا رُخ پلٹ دیتا ہے۔ اب مقابلہ یہ ہے کہ کون دوسرے کو پہلے عزت دے، کون پہلے جھکے۔ یہی انجیل کی واحد جائز حرص ہے، اور اِس کی وجہ سادہ ہے: ہمارے خداوند نے پہل کی، جب ہم دشمن ہی تھے۔
آپ کی زندگی کا کون سا حصہ ابھی تک ”مخصوص“ نہیں کیا گیا، یعنی کہاں آپ کا بدن، وقت یا پیسہ آپ کی ملکیت سمجھا جاتا ہے؟
عزت دینے کی دوڑ میں آپ اِس ہفتے کس شخص سے پہل کر سکتے ہیں، اور کیا چیز آپ کو روک رہی ہے؟
Romans 12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 12 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 12 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Romans 12 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ آپ کی محبت میں کبھی ریاکاری نہیں رہی، آپ نے مجھے بےلوث ہو کر گلے لگایا۔ شکریہ کہ آپ مجھے بُرائی سے نفرت کرنا اور نیکی کے ساتھ لپٹے رہنا سکھاتے ہیں، اور دل کی سچائی خود میرے اندر پیدا کرتے ہیں۔
پولس پہلے گیارہ باب اللہ کے رحم بیان کرتا ہے، اور پھر کہتا ہے، "اللہ کے رحم کے پیشِ نظر مَیں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے بدنوں کو اللہ کے لئے مخصوص و مُقدّس اور پسندیدہ قربانی کے طور پر پیش کریں۔" پہلے رحم، پھر قربانی۔ اور غور کریں، وہ دل نہیں بلکہ بدن مانگتا ہے۔ آپ کے ہاتھ، آپ کا وقت، آپ کی تھکاوٹ۔ یہی وہ عبادت ہے جو پیر کی صبح بھی جاری رہتی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
