فِلپّیوں 2
متن
پولس فلپّی کی جماعت سے التجا کرتا ہے کہ وہ ایک دل، ایک ذہن ہو کر رہیں، خود غرضی چھوڑ دیں، اور دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھیں۔ اِس کے بعد وہ مسیح کے اُس شاندار سفر کا ذکر کرتا ہے جو اللہ کی صورت سے شروع ہو کر صلیبی موت تک اُترا، اور پھر سب سے اعلیٰ مقام تک بلند ہوا۔ باب کا آخری حصہ تیمُتھیُس اور اِپَفرُدِتس کی زندہ مثالوں سے بھرا ہے، دو ایسے لوگ جنہوں نے دوسروں کے لئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا۔
مرکز
اِس باب کا دل آیت 5 میں ہے: "وہی سوچ رکھیں جو مسیح عیسیٰ کی بھی تھی۔" پولس یہاں محض اخلاقی نصیحت نہیں دے رہا، وہ ایک مکمل الٰہیاتی نقشہ کھینچ رہا ہے۔ مسیح نے اللہ کے برابر ہونے کو ایسی چیز نہیں سمجھا جس سے چمٹے رہنا ہو۔ یہ جملہ حیرت انگیز ہے۔ جس چیز کا وہ حق دار تھا، اُسے اُس نے کھلے ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ نجات کوئی خلاصہ نظریہ نہیں، یہ ایک حرکت ہے: نیچے، اَور نیچے، صلیب تک۔ اور پھر اللہ نے اُسے سرفراز کیا۔ فروتنی اور جلال ایک ہی راستے کے دو کنارے ہیں، اور اُلٹی ترتیب میں کوئی نہیں پہنچ سکتا۔
مشترک دھاگہ
یہ باب پوری کتاب مقدس کی اُس داستان کو سمیٹتا ہے جو باغ عدن سے شروع ہوئی تھی۔ آدم نے چاہا کہ "خدا کے برابر" ہو جائے، اور اُس نے اُس چیز کو زبردستی پکڑنا چاہا جو اُس کی نہ تھی۔ مسیح، دوسرا آدم، اُلٹا راستہ چلا: جو حقیقتاً اللہ کے برابر تھا، اُس نے اُس مقام کو چھوڑ دیا۔ یسعیاہ کی کتاب میں جو "دُکھ اُٹھانے والا خادم" ہمیں دِکھایا گیا ہے، وہ یہاں چہرے کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ اور آیت 10-11 میں یسعیاہ 45 کی وہ آواز گونجتی ہے جہاں یَہُوَہ فرماتا ہے کہ ہر گھٹنا اُس کے سامنے جھکے گا۔ پولس یہ الفاظ بےدھڑک عیسیٰ پر لاگو کرتا ہے۔ یہ محض شاعری نہیں، یہ اعلان ہے کہ عیسیٰ ہی خداوند ہے۔
آئینہ
اب ذرا رُکیں۔ "خود غرض نہ ہوں، نہ باطل عزت کے پیچھے پڑیں بلکہ فروتنی سے دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھیں۔" یہ جملہ آپ کے دفتر کی اُس میٹنگ میں کیسے چلے گا جہاں آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے آئیڈیا کو کریڈٹ ملے؟ اُس رشتہ دار کے ساتھ جو ہمیشہ آپ کو نیچا دِکھاتا ہے، کیا آپ اُسے واقعی اپنے سے بہتر سمجھ سکتے ہیں؟ ہم میں سے اکثر مسیح کی فروتنی کی تعریف کرتے ہیں مگر اپنی زندگی میں اُس چھوٹے سے حق کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتے، وہ تعریف جو ہمارا حق ہے، وہ عزت جو ہماری بنتی ہے، وہ آخری لفظ جو ہمیں کہنا ہے۔ متن یہاں چوٹ لگاتا ہے۔ مسیح نے اللہ کے برابر ہونے کو چھوڑ دیا؛ آپ اپنی معمولی سی حیثیت کو کیوں اِتنی مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں؟
تفصیل
آیت 7 میں ایک لفظ ہے جو یونانی میں "کینوسِس" کہلاتا ہے، اُردو ترجمہ "اپنے آپ کو محروم کر کے" اُس کی جھلک دیتا ہے۔ مسیح نے اپنے آپ کو خالی کیا۔ یہ لفظ بہت گہرا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اُس نے کیا چھوڑا، سوال یہ ہے کہ اُس نے کیا اپنایا: "غلام کی صورت۔" غور کریں، وہ محض انسان نہیں بنا، وہ غلام بنا۔ اُس زمانے میں غلام کے پاس کوئی حق نہ تھا، کوئی عزت نہ تھی، کوئی آواز نہ تھی۔ خدا کا بیٹا اُس مقام تک اُترا جہاں معاشرہ کہتا ہے کہ کوئی انسانی وقار باقی نہیں رہتا۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے آسمان کا سب سے اعلیٰ نام اُٹھتا ہے۔
بین المتن
یوحنا 13 میں یسوع خود ایک غلام کی طرح شاگردوں کے پاؤں دھوتا ہے۔ فلپّی 2 اُس منظر کی الٰہیاتی وضاحت ہے: پاؤں دھونا کوئی وقتی ڈرامہ نہ تھا، یہ اُس کی پوری ہستی کا نمونہ تھا۔ دوسری طرف یسعیاہ 14 میں شیطان کا وہ اعلان یاد کریں: "میں آسمان پر چڑھوں گا، میں اپنے آپ کو اعلیٰ کروں گا۔" اُس کا انجام گرنا ہے۔ اور 1 پطرس 5:6 اِس اصول کو دہراتا ہے: "اللہ کے قوی ہاتھ کے نیچے اپنے آپ کو پست کریں تاکہ وہ آپ کو مناسب وقت پر سرفراز کرے۔" کتاب مقدس کا یہ قانون بار بار سامنے آتا ہے: نیچے جانا ہی اوپر جانے کا واحد راستہ ہے۔
سوال
آیت 12 مشکل ہے: "ڈرتے اور کانپتے ہوئے جاں فشانی کرتے رہیں تاکہ آپ کی نجات تکمیل تک پہنچے۔" کیا نجات ہمارا کام ہے؟ کیا فضل ناکافی ہے؟ ن
Philippians 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
فِلپّیوں 2 کا کیا مطلب ہے؟
فِلپّیوں 2 کس بارے میں ہے؟
فِلپّیوں 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
فِلپّیوں 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
فِلپّیوں 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Philippians 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
تاکہ یسوع کے نام پر ہر گھٹنا جھکے، خواہ وہ آسمان پر ہو، زمین پر یا زمین کے نیچے۔" جس کے آگے سب جھکیں گے، وہی ہے جو پہلے خود جھکا تھا، صلیب تک۔ عزت اُس نے چھینی نہیں، نیچے اُتر کر پائی۔ سوچ، آج تُو کس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے شرماتا ہے؟ اور کس کے سامنے جھکنے کی عادت ڈال رہا ہے جو مالک نہیں؟
جو کچھ بھی کریں وہ بڑبڑائے اور بحث کئے بغیر کریں۔" یہ حکم اُس کے فوراً بعد آتا ہے جہاں پولس لکھتا ہے کہ خدا خود آپ میں کام کر رہا ہے۔ سوچیں، جس کام میں خدا کا ہاتھ ہو، اُس پر ہم زیرِ لب شکایت کرتے رہتے ہیں۔ آج جو کام آپ کو بوجھ لگ رہا ہے، کیا آپ اُسے بغیر بڑبڑائے کر سکیں گے؟ شاید مسیح کی خاکساری وہیں سے آپ میں دکھائی دے۔
اے خدا، پولس کی طرح مجھے بھی یہ دل عطا کر کہ اپنی زندگی دوسروں کے ایمان کے لیے انڈیل دوں اور اِس میں شکایت نہیں بلکہ خوشی پاؤں۔ جہاں دینا مہنگا پڑتا ہے، وہاں تُو ہی میری طاقت اور میری خوشی بن جا۔ مجھے سکھا کہ خدمت بوجھ نہیں، تیرے ساتھ چلنے کا راستہ ہے۔
پولس تیمُتھیُس کے بارے میں لکھتا ہے، ”میرے پاس کوئی اَور نہیں ہے جو اُس جیسا ہو اور آپ کی خیریت کی اِتنی حقیقی فکر کرے۔“ سوچیں، قید میں بیٹھا آدمی اپنے ساتھی کی سب سے بڑی خوبی یہ بتاتا ہے کہ وہ دوسروں کی فکر کرتا ہے۔ نہ صلاحیت، نہ رتبہ۔ کیا کوئی آپ کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
