زکریاہ 13
متن
باب کا آغاز ایک چشمے سے ہوتا ہے جو داؤد کے گھرانے اور یروشلم کے باشندوں کے لئے "کھولا جائے گا" تاکہ وہ اپنے گناہوں اور ناپاکی کو دُور کر سکیں۔ اِس کے بعد خدا ملک سے بُتوں، جھوٹے نبیوں اور "ناپاکی کی روح" کو مٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ جھوٹا نبی اپنا لباس چھوڑ کر کہتا ہے، "مَیں نبی نہیں بلکہ کاشت کار ہوں۔" پھر آواز بدل جاتی ہے: تلوار جاگ اُٹھتی ہے، گلہ بان مارا جاتا ہے، گلہ تتر بتر ہوتا ہے، دو تہائی لوگ ہلاک ہوتے ہیں، اور جو بچتے ہیں اُنہیں آگ میں ڈال کر چاندی کی طرح صاف کیا جاتا ہے، جب تک کہ عہد کے وہ دو جملے نہ بول دیئے جائیں: "یہ میری قوم ہے" اور "رب ہمارا خدا ہے۔"
اصل بات
غور کیجئے کہ چشمہ کون کھودتا ہے۔ فعل مجہول ہے: "کھولا جائے گا۔" کوئی توبہ کی مہم، کوئی قربانی کی نئی ترتیب، کوئی قومی اصلاح اِس پانی کو زمین سے نہیں نکالتی۔ خدا خود اُسے کھولتا ہے، اور تب لوگ دھل سکتے ہیں۔ یہ فضل کی ترتیب ہے جو پوری بائبل میں ایک جیسی ہے: پاکیزگی خدا تک پہنچنے کی شرط نہیں بلکہ خدا کے قریب آنے کا نتیجہ ہے۔ لیکن یہاں فضل نرم نہیں ہے۔ وہی خدا جو چشمہ کھولتا ہے، تلوار کو بھی جگاتا ہے اور بچے ہوئے حصے کو آگ میں ڈالتا ہے۔ معافی اور تطہیر ایک ہی ہاتھ کے دو کام ہیں۔ جو خدا گناہ دھوتا ہے، وہ گناہ کے سرچشمے بھی مٹاتا ہے: بُت، جھوٹی نبوّت، ناپاکی کی روح۔ یہ نجات کا پورا مفہوم ہے، نہ صرف قصور کی منسوخی بلکہ اُس دل کی جراحی جس نے قصور پیدا کیا۔
سنہری تار
آیت 7 کو یسوع نے گتسمنی کے راستے میں اپنے اوپر لاگو کیا: "مَیں چرواہے کو ماروں گا اور گلہ کی بھیڑیں تتر بتر ہو جائیں گی" (متی 26:31)۔ یہ حوالہ اہم ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسیح نے اپنی موت کو کسی حادثے کے طور پر نہیں بلکہ اِسی نبوّت کی تکمیل کے طور پر پڑھا: تلوار اُس پر گری جو خدا کے "قریب" تھا۔ اور پچھلے باب میں وہ آیت کھڑی ہے جہاں لوگ اُس پر نظر کرتے ہیں "جسے اُنہوں نے چھیدا" (زکریاہ 12:10)، جس کے فوراً بعد یہ چشمہ کھلتا ہے۔ ترتیب بامعنی ہے: چھیدا جانا پہلے، چشمہ بعد میں۔ یوحنا کی انجیل میں صلیب پر بھالے سے نکلنے والا خون اور پانی اِسی تصویر کو مکمل کرتا ہے۔ زکریاہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کیسے ہوگا، مگر اُس نے سچ دیکھا: گلہ بان کا زخم ہی ریوڑ کا غسل ہے۔
آئینہ
آیت 5 بے رحم حد تک پہچانی ہوئی ہے۔ وہ جھوٹا نبی جو اپنا بالوں والا لباس اُتار کر کہتا ہے، "مَیں نبی نہیں بلکہ کاشت کار ہوں۔" آپ جانتے ہیں یہ آدمی کون ہے۔ وہ ہم میں سے ہر وہ شخص ہے جو اپنی روحانی شناخت کو ایک پیشے کی طرح پہنتا ہے اور دباؤ پڑنے پر اُتار دیتا ہے۔ وہ گروپ لیڈر جو دعا میں ایسے الفاظ بولتا ہے جن پر وہ خود یقین نہیں کرتا۔ وہ باپ جو اتوار کو لباس پہنتا ہے اور منگل کو اپنے ملازم سے جھوٹ بولتا ہے۔ اور زخم؟ "مَیں اپنے دوستوں کے گھر میں زخمی ہوا۔" یعنی: اصل کہانی چھپا لو، کوئی اور وضاحت گھڑ لو۔ خدا اِس لباس کو برداشت نہیں کرتا، کیونکہ جس چیز کو ہم چھپاتے ہیں وہ چشمے تک نہیں پہنچ سکتی۔ آج ہی دس منٹ نکالیں: ایک کاغذ پر وہ ایک بات لکھیں جس کے بارے میں آپ دوسروں کو غلط وضاحت دیتے آئے ہیں، اور اُسے خدا کے سامنے اُس کے اصلی نام سے پکار کر کہیں۔
پہلے سننے والے
جلاوطنی سے لوٹی ہوئی ایک چھوٹی سی جماعت یہ سن رہی تھی۔ ہیکل دوبارہ کھڑی تھی مگر پرانی شان کے مقابلے میں معمولی؛ یروشلم کی آبادی کم؛ قومی طاقت صفر۔ اُن کی اجتماعی یادداشت میں وہ نبی تازہ تھے جنہوں نے 586 ق م سے پہلے سلامتی کی جھوٹی ضمانتیں دی تھیں اور شہر کو تباہی تک لے گئے تھے۔ اِس لئے آیت 3 کا وہ ہولناک منظر، جس میں ماں باپ خود اپنے بیٹے کو چھیدتے ہیں، اُن کے کانوں میں اتنا وحشیانہ نہیں تھا جتنا ہمارے لئے ہے؛ شریعت میں جھوٹی نبوّت کی سزا ہی یہی تھی۔ اور "دو حصے ہلاک ہو جائیں گے" کوئی مجرد عدد نہیں تھا، وہ لوگ یہ گن چکے تھے: کتنے گھرانے بابل جاتے ہوئے راستے میں ختم ہوئے۔ اُن کے لئے یہ باب خوفناک پیشین گوئی سے زیادہ اُن کی اپنی تاریخ کی تفسیر تھا، جس کے آخر میں پہلی بار امید رکھی گئی۔
مشکل سوال
"دو حصے ہلاک ہو جائیں گے اور صرف ایک ہی حصہ بچا رہے گا۔" اِس حساب کو خوبصورت بنانے کی کوشش بے ایمانی ہوگی۔ یہ دو تہائی کون ہیں؟ متن نہیں بتاتا۔ اور بچ جانے والا تہائی کوئی انعام یافتہ گروہ نہیں: اُسے آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ یعنی بچنا آسانی کا نہیں، گہری تکلیف کا راستہ ہے۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں: کیا خدا ایسا نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی ضائع نہ ہو؟ متن جواب نہیں دیتا، صرف اتنا بتاتا ہے کہ خدا خود اپنا ہاتھ اُٹھاتا ہے، یہ کوئی اندھا سانحہ نہیں۔ شاید یہی واحد تسلی ہے جو یہاں دستیاب ہے، اور وہ سستی نہیں: جو آگ آپ کو جلا رہی ہے وہ کسی اجنبی کے ہاتھ میں نہیں۔ باقی سوال کھلا رہتا ہے، اور ہمیں اُسے کھلا رکھنے کی دیانت دکھانی ہوگی۔
مرکزی کردار
اِس پورے باب میں فاعل ایک ہی ہے: رب الافواج۔ وہ چشمہ کھولتا ہے، بُتوں کا نام و نشان مٹاتا ہے، تلوار کو جگاتا ہے، اپنا ہاتھ چھوٹوں کے خلاف اُٹھاتا ہے، سونا آگ میں ڈالتا ہے۔ مگر سب سے چونکا دینے والی بات آیت 7 میں وہ چھوٹا سا جملہ ہے: گلہ بان "میرے قریب ہے۔" تلوار کسی دشمن پر نہیں، سب سے نزدیکی پر گرتی ہے۔ یہاں ہم خدا کے باطن میں جھانکتے ہیں: وہ اپنی قوم کو پاک کرنے کے لئے اپنے قریب ترین کو قربان کرتا ہے۔ اور پھر، آگ کے دوسری طرف، وہ وہ جملہ بولتا ہے جس کے لئے یہ سب ہوا: "یہ میری قوم ہے۔" عہد کی زبان، شروع سے آخر تک وہی۔ خدا کو کوئی تماشا نہیں چاہئے؛ اُسے ایک ایسی قوم چاہئے جو آگ سے نکل کر اُس کا نام پکارے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ "بالوں والا لباس" کیا ہے، یعنی وہ تاثر جو آپ دوسروں کے سامنے قائم رکھتے ہیں مگر خدا کے سامنے قائم نہیں رہ سکتا؟
اگر تطہیر کی آگ وہی ہاتھ جلاتا ہے جس نے چشمہ کھولا، تو اِس وقت آپ کی زندگی کی کون سی تکلیف آپ کو دوبارہ پڑھنی چاہئے؟
Zechariah 13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زکریاہ 13 کا کیا مطلب ہے؟
زکریاہ 13 کس بارے میں ہے؟
زکریاہ 13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زکریاہ 13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زکریاہ 13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Zechariah 13 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، مجھے دکھاوے سے بچا۔ میں وہ بننے کی کوشش نہ کروں جو میں نہیں ہوں۔ جو کام تُو نے میرے ہاتھوں میں دیا ہے، وہ سادگی اور دیانت سے کرنے دے۔ مٹی سے جُڑی محنت بھی تیری نظر میں قیمتی ہے۔ میری پہچان میرے عہدے میں نہیں، تیری محبت میں ہو۔
اے خدا، تُو جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا کیا چھپا ہے، وہ چھوٹے چھوٹے بُت جن سے میں چمٹا رہتا ہوں۔ اُن کے نام میرے اندر سے مٹا دے، اور جو کچھ ناپاک ہے اُسے نکال باہر کر۔ میرا دل صاف کر تاکہ اُس میں صرف تیری جگہ رہے۔
اے خدا، تیرا کلام کبھی کبھی بھاری لگتا ہے اور دل ڈر جاتا ہے۔ پھر بھی مَیں جانتا ہوں کہ تُو بچانے والا ہے، اور جنہیں تُو باقی رکھتا ہے اُنہیں چھوڑ نہیں دیتا۔ مشکل وقتوں میں مجھے تھامے رکھ، اور آگ سے گزرتے ہوئے بھی مجھے اپنا بنا رہنے دے۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو ہمیں آگ میں ڈال کر ضائع نہیں کرتا بلکہ چاندی کی طرح صاف اور سونے کی طرح آزماتا ہے۔ شکر کہ آزمائش کے بیچ جب ہم تیرا نام پکارتے ہیں تو تُو سنتا ہے اور فرماتا ہے، ”یہ میری قوم ہے۔“ اور ہم دل سے کہہ سکتے ہیں، ”رب ہمارا خدا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
