اِستِثنا 14:21
متن
آیت میں تین جملے ہیں جو بظاہر بےجوڑ لگتے ہیں مگر ایک ہی دھاگے سے بندھے ہیں۔ پہلا: "جو جانور خود بہ خود مر جائے اُسے نہ کھانا" یعنی جو مویشی بیماری، حادثے یا کسی درندے کے حملے سے مرا ہو، وہ اسرائیلی کے دسترخوان پر نہیں آ سکتا۔ دوسرا: وہی لاش شہر میں بسنے والے پردیسی کو دی جا سکتی ہے یا کسی اجنبی کے ہاتھ بیچی جا سکتی ہے۔ اور اِس ممانعت کی وجہ کوئی صحتِ عامہ کا مشورہ نہیں بلکہ شناخت ہے: "کیونکہ تُو رب اپنے خدا کے لئے مخصوص و مُقدّس قوم ہے۔" تیسرا جملہ اچانک باورچی خانے کی ایک باریک عادت پر آ جاتا ہے: "بکری کے بچے کو اُس کی ماں کے دودھ میں پکانا منع ہے۔" مرنے کا طریقہ، بیچنے کا طریقہ، پکانے کا طریقہ، تینوں خدا کے دائرے میں ہیں۔
مرکزی نکتہ
یہ آیت خدا کے بارے میں ایک ایسی بات کہتی ہے جو ہمیں بےچین کرتی ہے: وہ ہمارے ایمان کے ساتھ ساتھ ہمارے فریج، ہمارے سودے اور ہمارے چولہے پر بھی حق جتاتا ہے۔ "مخصوص و مُقدّس" ہونے کا مطلب یہاں کوئی اندرونی جذبہ نہیں، بلکہ ایک عملی فرق ہے جو روزمرہ کے سب سے معمولی فیصلوں میں نظر آتا ہے۔ اسرائیل کے ارد گرد کی قومیں بھی گوشت کھاتی تھیں؛ فرق یہ تھا کہ اسرائیل ہر لقمے پر یاد کرتا تھا کہ وہ کس کی ملکیت ہے۔ اور یہاں ایک کھٹکنے والی بات بھی ہے: جو تُو نہیں کھا سکتا، وہ پردیسی کو دے دے۔ یہ ہمیں بےچین کرتا ہے، اور ہونا بھی چاہئے، کیونکہ پاکیزگی کبھی دوسرے کی قیمت پر اپنی صفائی بچانے کا بہانہ بن سکتی ہے۔ آخری جملہ اِسی خطرے کا توڑ ہے: جو دودھ زندگی دینے کے لئے تھا، اُسے موت پکانے کا ذریعہ مت بنا۔ خدا کی قدوسیت میں ہمیشہ رحم شامل ہے۔
مشترکہ دھاگا
اسرائیل کے لئے کھانے کے یہ قاعدے سرحد کی باڑ تھے۔ جو قوم چاروں طرف سے کنعانی رسم و رواج میں گھری ہوئی تھی، اُسے ہر روز، دن میں تین بار، اپنی الگ شناخت یاد دلائی جاتی تھی۔ مگر باڑ ہمیشہ کے لئے نہیں تھی۔ جب خداوند یسوع نے فرمایا کہ آدمی کو باہر سے جانے والی چیز ناپاک نہیں کرتی بلکہ جو دل سے نکلتا ہے (مرقس ۷)، تو اُنہوں نے یہ قاعدہ توڑا نہیں بلکہ اُس کی جڑ کھول دی۔ اور جب پطرس کو چھت پر وہ رویا دکھائی گئی (اعمال ۱۰) اور اُس کے فوراً بعد ایک غیریہودی کے دروازے پر بھیجا گیا، تو معلوم ہوا کہ گوشت کی فہرست اصل میں لوگوں کی فہرست کے بارے میں تھی۔ جو "پردیسی" یہاں لاش کا حق دار تھا، مسیح میں وہی میز پر برابر کا مہمان بن گیا۔ باڑ گر گئی، مگر قدوسیت کا مطالبہ باقی ہے: اب وہ فریج سے دل کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔
آئینہ
سوچ کہ تُو کیا کیا آگے سرکا دیتا ہے۔ وہ پرانا فون جو خراب ہے مگر "ملازمہ کے بچے کے لئے چل جائے گا"۔ وہ کام جو تُو خود کرنا نہیں چاہتا، سو جونیئر کے سر ڈال دیا۔ وہ سستا سودا جس کی قیمت کوئی اَور کہیں دور اپنی صحت سے ادا کر رہا ہے، اور تُو جانتا ہے، مگر پوچھتا نہیں۔ آیت کا پہلا حصہ ہمیں یہ آسانی دیتا نظر آتا ہے، اور آخری حصہ اُسے چھین لیتا ہے: جو دودھ زندگی کے لئے تھا، اُسے ہانڈی نہ بنا۔ یہی سب سے باریک گناہ ہے، جو کسی نے بھروسے میں دیا اُسے ہتھیار بنا لینا۔ بیوی کی وہ کمزوری جو اُس نے تنہائی میں بتائی اور تُو نے جھگڑے میں استعمال کی۔ دوست کا وہ راز جو محفل میں دلچسپ لطیفہ بن گیا۔ بچے کا وہ اعتماد جو شرمندہ کرنے کے لئے کام آیا۔
آج شام کے کھانے سے پہلے کاغذ پر وہ ایک بات لکھ جو کسی نے تجھ پر اعتماد کر کے تجھے بتائی اور جسے تُو اُس کے خلاف استعمال کر سکتا ہے؛ پھر وہ کاغذ پھاڑ دے اور بلند آواز سے کہہ: "یہ دودھ ہے، ہانڈی نہیں۔"
مرکزی کردار
اِس آیت میں بولنے والا ایک ہی ہے، اور وہ خدا ہے۔ پورا باب اُسی آواز میں چلتا ہے، اور اُس آواز کا لہجہ باب کے پہلے فقرے سے طے ہوتا ہے: "تم رب اپنے خدا کے فرزند ہو۔" یہ کسی قانون ساز ادارے کی خشک زبان نہیں، یہ باپ کی زبان ہے جو بچوں کے کھانے پر نظر رکھتا ہے۔ اور یہاں خدا کا مزاج کھلتا ہے: وہ بڑی بڑی باتوں کا خدا ہے مگر باریک باتوں سے بےپروا نہیں۔ بکری کے ایک بچے اور اُس کی ماں کے دودھ جیسی معمولی چیز پر وہ توجہ دیتا ہے، کیونکہ ظلم کی ابتدا ہمیشہ معمولی جگہوں سے ہوتی ہے۔ ایسا خدا ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، "اپنی ملکیت بنا لیا" کہتا ہے، اور یہ دعویٰ رشک آمیز ہے، مگر رشک محبت کی قسم کا ہے، مالک کی نہیں۔
کلام کی گواہی
اِس ایک آیت کے دونوں سرے کتابِ مقدس میں دور تک جاتے ہیں۔ ایک سرا پطرس کی چھت والی رویا تک پہنچتا ہے (اعمال ۱۰)، جہاں ناپاک جانوروں کی چادر کے پیچھے اصل مسئلہ ناپاک سمجھے جانے والے لوگ نکلے، اور خدا نے جسے پاک کیا اُسے ناپاک کہنے کی ممانعت ہوئی۔ دوسرا سرا اِسی باب کے آخر تک، جہاں وہی پردیسی جسے لاش دی جا سکتی تھی، اب دسویں حصے کا حق دار بنتا ہے: "اپنے شہروں میں آباد پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں کو دینا۔ وہ آئیں اور کھانا کھا کر سیر ہو جائیں۔" یعنی وہی اجنبی، جسے آیت ۲۱ میں تیرے بچے ہوئے سے کام چلانا تھا، آٹھ آیتوں بعد تیری میز پر سیر ہونے آتا ہے۔ شریعت خود اپنی سختی کو رحم سے متوازن کرتی ہے۔
سیاق و سباق
موسیٰ یہ باتیں موآب کے میدانوں میں کہہ رہے ہیں، اُس نسل سے جو ریگستان میں پلی اور اب یردن پار کرنے والی ہے۔ سامنے کنعان ہے: مندروں، رسموں اور دیوتاؤں سے بھرا ملک، جہاں ہر عادت ایک عقیدے سے جُڑی ہوتی تھی۔ اِس دنیا میں گوشت روز کا کھانا نہیں تھا؛ ایک مرا ہوا بَیل خاصا مالی نقصان تھا، اور اُسے ضائع کرنا ایک غریب کسان کے لئے حقیقی قربانی۔ چنانچہ حکم صرف مذہبی نہیں، معاشی چبھن بھی رکھتا ہے۔ "پردیسی" وہ غیراسرائیلی ہے جو اسرائیل میں بس گیا مگر عہد کے تمام قاعدوں کا پابند نہیں؛ اُس کے لئے یہ گوشت ناپاک نہیں تھا۔ اور بکری کے بچے کو ماں کے دودھ میں پکانا غالباً پڑوسی قوموں کی زرخیزی کی رسموں سے تعلق رکھتا تھا۔ اسرائیل کو ہر روز، چولہے پر، فیصلہ کرنا تھا: میں کس کا ہوں۔
غور و فکر
کون سی چیز میں نے حال ہی میں کسی ایسے شخص کو "دے دی" جس کے پاس انکار کرنے کی گنجائش نہیں تھی، اور کیوں مجھے اِس پر سکون رہا؟
کس رشتے میں مَیں نے وہ استعمال کیا جو مجھے پرورش کے لئے سونپا گیا تھا، اور آج اُس کی مرمت کا پہلا قدم کیا ہو سکتا ہے؟
Deuteronomy 14:21 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اِستِثنا 14:21 کا کیا مطلب ہے؟
اِستِثنا 14:21 کس بارے میں ہے؟
اِستِثنا 14:21 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِستِثنا 14:21 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِستِثنا 14:21 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Deuteronomy 14 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خُداوند، تیرا شکر ہے کہ تُو نے اپنی محبت میں ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں تک کی ہدایت دی۔ لق لق، ہُدہُد اور چمگادڑ جیسی چیزوں میں بھی تُو نے اپنے لوگوں کو پاکیزگی سکھائی۔ شکر ہے کہ تُو آج بھی ہماری زندگی کے ہر گوشے میں راہنمائی کرتا ہے، تاکہ ہم تیرے حضور مُقدّس ٹھہریں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں