نوحہ 2
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
نوحہ کی یہ دوسری فصل پڑھنا آسان نہیں۔ یرمیاہ نبی، یا کوئی اور جو یہ نوحہ لکھ رہا ہے، یروشلم شہر کی تباہی کو دیکھ کر رو رہا ہے۔ صیون بیٹی، یعنی یروشلم شہر، پہلے بہت شان دار تھی۔ اب اُس پر خدا کا غضب ایسے چھا گیا ہے جیسے کالے بادل آسمان پر چھا جاتے ہیں۔ شہر کی دیواریں گرا دی گئی ہیں، محل اور مقدِس تک تباہ ہو گئے ہیں، بادشاہ اور امام دونوں کو رد کر دیا گیا ہے۔
سب سے تکلیف دہ حصہ وہ ہے جب لکھنے والا گلیوں کی طرف دیکھتا ہے۔ بچے بھوک سے بےحال ہو کر گر رہے ہیں، وہ اپنی ماں سے روٹی مانگتے ہیں مگر کچھ نہیں ملتا۔ نبیوں نے پہلے جھوٹی باتیں سنائی تھیں، یہ کہہ کر لوگوں کو سکون دیا تھا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، حالانکہ اُنہیں سچ بتانا چاہیے تھا۔ راہ چلنے والے اب شہر کا مذاق اڑاتے ہیں۔ دشمن خوش ہو رہے ہیں کہ آخرکار وہ دن آ گیا جس کا اُنہیں انتظار تھا۔
آخری آیتوں میں لکھنے والا خود خدا سے بات کرنے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے، رات کے ہر پہر میں اُٹھ کر رو، اپنے دل کی بات خداوند کے سامنے پانی کی طرح اُنڈیل دے۔ وہ خدا سے سوال بھی کرتا ہے، کیا واقعی ایسا ہونا چاہیے تھا کہ ماؤں کے لاڈلے بچے بھوک سے مریں؟
اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ فصل ہمیں بتاتی ہے کہ خدا کا غصہ کھلونے کی بات نہیں۔ اسرائیل کی قوم نے بار بار خدا سے بےوفائی کی تھی، اُس کے عہد کو یعنی اُس وعدے کو جو خدا نے اپنی قوم کے ساتھ باندھا تھا، توڑا تھا۔ اور جب یہ نوحہ لکھا گیا تو نتیجہ سامنے تھا، شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا۔
مگر اس فصل کی خاصیت یہ ہے کہ یہ درد کو چھپاتی نہیں۔ لکھنے والا خدا کے سامنے شکایت کرنے سے نہیں ڈرتا۔ وہ نہیں کہتا کہ سب کچھ ٹھیک ہے حالانکہ کچھ ٹھیک نہیں۔ وہ اپنی آنکھوں کے آنسو، اپنے دل کا درد، سب کچھ کھلے دل سے بیان کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دکھ کو خدا کے سامنے لانا ٹھیک بات ہے، اُسے چھپانے کی ضرورت نہیں۔
یہ سوال کہ کیوں معصوم بچے بھوکے مرے، اس فصل میں کھلا رہ جاتا ہے۔ متن خود اس کا جواب نہیں دیتا۔ شاید ہمیں بھی ایمانداری سے یہ ماننا پڑے کہ کچھ سوالات ابھی جواب کے بغیر رہتے ہیں۔
بڑی کہانی سے تعلق
یہ فصل عہدِ عتیق کی اُس بڑی کہانی کا حصہ ہے جہاں خدا اپنی قوم سے پیار کرتا ہے مگر انصاف کو بھی ہلکا نہیں لیتا۔ لیکن نوحہ کی کتاب یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اگلی فصل میں یہی لکھنے والا اُمید کی بات بھی کرے گا، کہ خداوند کی رحمتیں ختم نہیں ہوتیں۔
جب ہم یسوع مسیح کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک اور بات نظر آتی ہے۔ یسوع نے بھی یروشلم کے لیے آنسو بہائے۔ وہ بھی سولی پر لٹکتے ہوئے تنہا اور رد کیا گیا محسوس ہوا۔ لیکن اُس نے وہ سزا خود اپنے اوپر لے لی جو ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہم پر آنی چاہیے تھی۔ نوحہ کی فصل ہمیں دکھاتی ہے کہ گناہ کا نتیجہ کتنا بھاری ہو سکتا ہے، اور اسی لیے یسوع کی قربانی اتنی بڑی بات ہے۔
آپ کے لیے
جب تمہاری زندگی میں بھی کوئی چیز واقعی بگڑ جائے، تمہیں خدا سے شکایت کرنے کا حق ہے۔ تم اُسے بتا سکتے ہو کہ یہ تکلیف دہ ہے، کہ سمجھ نہیں آتی، کہ سوال ہیں جن کا جواب نہیں ملتا۔ خدا اُن بچوں سے نہیں بھاگتا جو اُس کے سامنے روتے ہیں، وہ تو اُنہیں سننے کے لیے موجود ہے۔ اس فصل کے لکھنے والے کی طرح تم بھی اپنے دل کی بات پوری طرح خدا کے سامنے کھول سکتے ہو۔
بات کریں
کیا تمہیں لگتا ہے کہ خدا سے شکایت کرنا یا اُس سے سوال پوچھنا غلط بات ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
اس فصل میں معصوم بچوں کی تکلیف کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس بارے میں تمہارے دل میں کیا خیال آتا ہے؟
دعا
اے خداوند، یہ فصل پڑھنا مشکل ہے۔ اس میں بہت درد اور بہت آنسو ہیں۔ ہمیں سکھا کہ جب ہمارے دل میں بھی درد ہو تو ہم اُسے چھپائیں نہیں بلکہ تیرے سامنے کھول کر رکھ دیں۔ شکریہ کہ یسوع مسیح نے ہمارے لیے وہ بھاری قیمت اپنے اوپر لی۔ ہمارے ساتھ رہ، خاص طور پر اُس وقت جب سوالوں کے جواب نہیں ملتے۔ آمین۔
نوحہ 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نوحہ 2 کس بارے میں ہے؟
نوحہ 2 کیا کہتا ہے؟
نوحہ 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے نوحہ 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نوحہ 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
اُس نے اپنی کمان کو دشمن کی طرح تان لیا۔“ غور کر، یرمیاہ یہ نہیں کہتا کہ خدا دشمن ہے، بلکہ ”دشمن کی طرح“۔ درد اِتنا گہرا ہے کہ محبت کرنے والا باپ بھی مخالف لگنے لگا ہے۔ اور پھر بھی وہ یہ بات خدا سے ہی کہہ رہا ہے۔ تیرے دل میں بھی ایسی شکایت ہو تو اُسے دبا مت، اُسی کے سامنے رکھ دے جو تجھے سمجھتا ہے۔
شہر کے بزرگ جو کبھی پھاٹک پر بیٹھ کر فیصلے سناتے تھے، اب زمین پر خاموش بیٹھے ہیں: "صیون بیٹی کے بزرگ خاموشی سے زمین پر بیٹھ گئے ہیں۔" جن کے پاس ہر سوال کا جواب تھا، اُن کے پاس اب لفظ نہیں رہے۔ کبھی کبھی غم اِتنا گہرا ہوتا ہے کہ تشریح کرنا بےادبی لگتی ہے۔ کیا تُو بھی کسی کے دُکھ کے پاس چپ چاپ بیٹھ سکتا ہے، بغیر کچھ سمجھائے؟
یروشلم کی دیواریں گرتے وقت ماتم کرنے والے کو ایک بات سمجھ آئی: ”جو کچھ اُس نے فرمایا تھا اُسے اُس نے پورا کیا، وہ کچھ جس کا حکم اُس نے قدیم زمانے میں دیا تھا۔“ صدیوں سے خدا خبردار کر رہا تھا، اور لوگ سمجھتے رہے کہ یہ محض باتیں ہیں۔ سوچ، کیا خدا کی کوئی بات تُو بھی سالوں سے شور سمجھ کر نظرانداز کر رہا ہے؟ مگر یاد رکھ، جو اپنی تنبیہ پوری کرتا ہے وہ اپنے رحم کے وعدے بھی ضرور پورے کرے گا۔
یروشلم کے دشمن اُس کی راکھ کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے ہیں، ”ہم نے اُسے ہڑپ کر لیا ہے۔ لو، یہ وہی دن ہے جس کے انتظار میں ہم رہے۔“ کتنا کڑوا ہے کہ کوئی برسوں سے تیری تباہی کا دن گِنتا رہا ہو۔ لیکن غور کر: شہر اُن کے ہاتھ سے نہیں گرا تھا۔ جو تجھ پر ہنستے ہیں، وہ تیری کہانی کے مالک نہیں۔ تیرا معاملہ اُس کے ساتھ ہے جو توڑتا بھی ہے اور بحال بھی کرتا ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں