۱-کُرِنتِھیوں 5
متن
پولس رسول کو کرنتھس سے ایک ایسی خبر ملی ہے جو اُن کے بقول غیریہودی معاشرہ بھی برداشت نہیں کرتا: جماعت کے ایک فرد نے اپنی سوتیلی ماں سے شادی کر رکھی ہے۔ حیرت اِس گناہ پر اُتنی نہیں جتنی جماعت کے ردِعمل پر ہے، کیونکہ وہ شرمندہ ہونے کے بجائے "پھولے پھر رہے ہیں"۔ پولس حکم دیتا ہے کہ جب وہ خداوند یسوع کے نام میں جمع ہوں تو اِس شخص کو "ابلیس کے حوالے" کریں، اور پھر خمیر اور فسح کی تصویر کے ذریعے سمجھاتا ہے کہ تھوڑا سا خمیر سارے آٹے کو خمیر کر دیتا ہے۔ آخر میں وہ وضاحت کرتا ہے: دنیا کے گنہگاروں سے نہیں، بلکہ اُس شخص سے فاصلہ رکھو جو "مسیح میں بھائی کہلاتا" ہے مگر کھلے عام ایسی زندگی گزارتا ہے۔
اصل بات
یہ باب نظم و ضبط کا نہیں، شناخت کا باب ہے۔ پولس کی دلیل کا رُخ ملاحظہ کیجیے: وہ یہ نہیں کہتا "پاک بنو تاکہ خدا تمہیں قبول کرے"، بلکہ کہتا ہے "در حقیقت آپ ہیں بھی پاک، کیونکہ ہمارا عیدِ فسح کا لیلا مسیح ہمارے لئے ذبح ہو چکا ہے"۔ یعنی پاکیزگی حاصل کرنے کی شرط نہیں، عطا کی گئی حقیقت ہے، اور اُسی حقیقت کے مطابق جینا جماعت کا فرض ہے۔ گناہ کو نظرانداز کرنا یہاں رحم نہیں، بلکہ اُس قربانی کی توہین ہے جس پر جماعت کھڑی ہے۔ اور خارج کرنے کا مقصد بھی سزا نہیں: "تاکہ… اُس کی روح خداوند کے دن رِہائی پائے"۔ سخت فیصلے کے پیچھے بھی نجات کی اُمید دھڑک رہی ہے۔
وہ ایک دھاگا
خمیر کی تصویر اتفاقی نہیں۔ مصر سے نکلتے وقت اسرائیل کو حکم ملا تھا کہ فسح کے لیلے کے ساتھ بےخمیری روٹی کھائیں اور گھروں سے خمیر کا نام و نشان مٹا دیں۔ پولس اُسی رسم کو اُٹھا کر جماعت کے اندر رکھ دیتا ہے: مسیح ذبح ہو چکا، اب پوری زندگی ایک مسلسل عید ہے، اور اِس عید میں پرانا خمیر یعنی "بُرائی اور بدی" کی گنجائش نہیں۔ یوں خروج کی رات، صلیب اور کرنتھس کی مقامی کلیسیا ایک ہی لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔ نجات کی کہانی ہمیشہ دو رُخ رکھتی ہے: غلامی سے نکالا جانا، اور غلامی کی عادتوں کو پیچھے چھوڑ دینا۔ دوسرا رُخ پہلے کا نتیجہ ہے، اُس کی قیمت نہیں۔
آئینہ
ہم گناہ پر فخر کیسے کر سکتے ہیں؟ آسانی سے۔ جب ہم رواداری کو روحانیت کا نشان سمجھ لیں، جب کسی بااثر یا مالدار رُکن کے بارے میں سب جانتے ہوں اور کوئی بات نہ کرے، جب ہم کہیں "یہ اُس کا ذاتی معاملہ ہے" حالانکہ پورا محلہ جانتا ہے۔ پولس کا پہلا مطالبہ کارروائی نہیں، غم ہے: "کیا مناسب نہ ہوتا کہ آپ دُکھ محسوس کرتے؟" آج ہم یا تو بےحس ہوتے ہیں یا بےرحم؛ رونا بھول گئے ہیں۔ ساتھ ہی آیت ۱۰ ہمیں ایک دوسری بیماری سے بچاتی ہے: باہر والوں پر فتویٰ بازی، جن کے بارے میں پولس صاف کہتا ہے کہ اُن کی عدالت خدا ہی کرے گا۔ آج ہی ایک کام کیجیے: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیے جس کی گرتی ہوئی زندگی پر آپ نے خاموشی سے کندھے اُچکا دیے تھے، اور اُس نام کے لیے پانچ منٹ دُکھ کے ساتھ دعا کیجیے، فیصلہ سنائے بغیر۔
پس منظر
کرنتھس ایک بندرگاہی شہر تھا: پیسہ، تجارت، اور اخلاقی لچک۔ مگر دھیان دیجیے کہ پولس کہتا ہے یہ فعل "غیریہودی بھی روا نہیں سمجھتے"۔ رومی قانون میں بھی سوتیلی ماں سے نکاح ممنوع تھا، یعنی یہ جماعت اپنے پڑوسیوں کے معیار سے بھی نیچے گر چکی تھی۔ یونانی ذہن کے لیے "روحانی" ہونے کا مطلب اکثر یہ تھا کہ جسم کے ساتھ جو کچھ ہو وہ بےمعنی ہے؛ شاید اِسی لیے وہ اپنی بےغیرتی کو کشادہ دلی سمجھ رہے تھے۔ اور چونکہ جماعتیں گھروں میں، کھانے کی میز کے گرد جمع ہوتی تھیں، اِس لیے "ایسے شخص کے ساتھ کھانا تک بھی نہ کھائیں" کا مطلب عملاً ربّانی میز سے علیحدگی تھا، یعنی ایک عوامی، نظر آنے والا فیصلہ۔
کلام میں گونج
آخری جملہ پولس کا اپنا نہیں: "شریر کو اپنے درمیان سے نکال دو" استثنا کی کتاب سے ہے، جہاں یہ حکم بار بار اسرائیل کی پاکیزگی کے لیے دہرایا جاتا ہے، اور سوتیلی ماں سے تعلق پر پابندی احبار ۱۸ میں درج ہے۔ یعنی پولس یونانی جماعت کو اسرائیل کی جگہ پر کھڑا کر رہا ہے: تم خدا کی نئی قوم ہو، لہٰذا تمہارا کیمپ بھی پاک ہو۔ مگر یہاں تناؤ بھی ہے۔ یسوع نے خمیر کو بادشاہی کی مثبت تصویر کے طور پر بھی استعمال کیا، اور گیہوں اور کڑوے دانوں کی تمثیل میں وقت سے پہلے چھانٹی سے منع فرمایا۔ دونوں باتیں ساتھ چلتی ہیں: جماعت دنیا کی عدالت نہیں کرتی، مگر اپنے اندر کھلے، بےتوبہ گناہ کو تحفظ بھی نہیں دیتی۔ اور ۲-کرنتھیوں میں پولس اُسی طرح کے ایک شخص کو دوبارہ قبول کرنے کی تاکید کرتا ہے: دروازہ کبھی مستقل بند نہیں ہوتا۔
پہلے سننے والے
تصور کیجیے کہ یہ خط کسی کے گھر میں بلند آواز سے پڑھا جا رہا ہے اور وہ شخص وہیں موجود ہے، شاید میزبان ہی ہو۔ سننے والوں نے وہ سب سنا جو ہم اکثر نہیں سنتے: اپنے شہر کے فسح کے تہوار کی یاد، جب ہر یہودی گھر سے خمیر نکالا جاتا تھا؛ عدالت کی مجلس کا ماحول، جس میں پولس خود کو "روح کے لحاظ سے" حاضر بتاتا ہے؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فیصلہ "ہمارے خداوند عیسیٰ کی قدرت" کے ساتھ ہو رہا ہے، کسی انسانی کمیٹی کے زور پر نہیں۔ اُن کے لیے یہ صرف ایک نظم و ضبط کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ سوال تھا کہ کیا ہم واقعی وہ قوم ہیں جس کے لیے لیلا ذبح ہوا۔
غور و فکر کے سوالات
کیا میرے دل میں کسی کے گناہ پر فخر یا بےحسی چھپی ہے، اور دُکھ محسوس کرنے میں کیا چیز رکاوٹ بن رہی ہے؟
پولس باہر والوں اور اندر والوں میں فرق کرتا ہے؛ میری زبان اور میرے فیصلے کس طرف زیادہ سخت ہیں، اور کیا یہ ترتیب درست ہے؟
1 Corinthians 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-کُرِنتِھیوں 5 کا کیا مطلب ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 5 کس بارے میں ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 Corinthians 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، میرے دل میں جو پرانا خمیر چھپا ہے، وہ تو جانتا ہے۔ اُسے نکال دے تاکہ میں نیا بن سکوں۔ تیرے برّے نے میرے لیے اپنی جان دی، اِس محبت کے لائق زندگی جینے میں میری مدد کر۔ مجھے پاک اور سچا رکھ۔
پولس کی بات ہمیں الٹا لگتی ہے: ”کیونکہ مجھے باہر کے لوگوں کی عدالت کرنے سے کیا واسطہ؟“ ہم عام طور پر دنیا کے گناہوں پر بہت بولتے ہیں اور اپنے گھر، اپنی جماعت کی خرابی پر خاموش رہتے ہیں۔ سوچ کر دیکھ، تیری سب سے سخت باتیں کن کے بارے میں ہیں؟ محبت پہلے اپنوں سے سچ بولنے کی ہمت مانگتی ہے۔
پولس کا مقصد اُس آدمی کو تباہ کرنا نہیں تھا۔ وہ لکھتا ہے، "تو ایسے شخص کو شیطان کے حوالے کریں تاکہ اُس کی جسمانی فطرت ہلاک ہو جائے اور اُس کی روح خداوند کے دن نجات پائے۔" سختی کے پیچھے بھی ایک اُمید دھڑک رہی ہے۔ کیا آپ کی سرزنش میں بھی کسی کی نجات کی تڑپ شامل ہے، یا صرف غصہ؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
